مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 26190
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ , وَأَبُو الْمُنْذِرِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ" , قَالَ أَبُو الْمُنْذِرِ: فِي رَمَضَانَ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26190]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1927، م: 1106
حدیث نمبر: 26191
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ أَوْصَى بِثَلَاثِ مَسَاكِنَ لَهُ , فَقَالَ: الْقَاسِمُ يُخْرَجُ ذَاكَ حَتَّى يُجْعَلَ فِي مَسْكَنٍ وَاحِدٍ , وَقَدْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26191]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1718
حدیث نمبر: 26192
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا أَفْلَحُ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ وَهُوَ جُنُبٌ , فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ يَوْمَهُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وجوبِ غسل کی حالت میں ہی سو گئے جب صبح ہوئی تو غسل کرلیا اور اس دن کا روزہ رکھ لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26192]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1925، م: 1109
حدیث نمبر: 26193
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَأَبُو الْمُنْذِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ مَوْلَى عُرْوَةَ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ أَذَلَّ لِي وَلِيًّا , فَقَدْ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِي , وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِمِثْلِ أَدَاءِ الْفَرَائِضِ , وَمَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ , إِنْ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ , وَإِنْ دَعَانِي أَجَبْتُهُ , مَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ وَفَاتِهِ , لِأَنَّهُ يَكْرَهُ الْمَوْتَ , وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ" , قَالَ أَبِي: وَقَالَ أَبُو الْمُنْذِرِ: قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ , وَقَالَ أَبُو الْمُنْذِرِ آذَى لِي.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص میرے کسی دوست کی تذلیل کرتا ہے وہ مجھ سے جنگ کو حلال کرلیتا ہے اور فرائض کی ادائیگی سے زیادہ بندہ کسی چیز سے میرا قرب حاصل نہیں کرتا اور بندہ میرا قرب حاصل کرنے کے لئے مسلسل نوافل پڑھتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پھر اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اسے عطاء کرتا ہوں اور اگر دعاء کرتا ہے تو اسے قبول کرتا ہوں اور مجھے اپنے کسی کام میں ایسا تردد نہیں ہوتا جیسا اپنے بندے کی موت پر ہوتا ہے کیونکہ وہ موت کو پسند نہیں کرتا اور میں اسے تنگ کرنے کو اچھا نہیں سمجھتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26193]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالواحد مولي عروة
حدیث نمبر: 26194
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سُئِلْتُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ:" كَانَ بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ يَفْلِي ثَوْبَهُ , وَيَحْلُبُ شَاتَهُ , وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے سوال پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں ہوتے تو کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک بشر تھے، وہ اپنے کپڑوں کو صاف کرلیتے تھے، بکری کا دودھ دو لیتے تھے اور اپنے کام اپنے ہاتھ سے کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26194]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 26195
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ , وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا , قَالَ: " يَغْتَسِلُ" وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنَّهُ قَدْ احْتَلَمَ , وَلَا يَرَى بَلَلًا , قَالَ:" لَا غُسْلَ عَلَيْهِ" فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِك شَيْءٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ , إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کا حکم پوچھا جو تری دیکھتا ہے لیکن اسے خواب یاد نہیں ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ غسل کرے گا، سائل نے پوچھا کہ جو آدمی سمجھتا ہو کہ اس نے خواب دیکھا ہے لیکن اسے تری نہ آئے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر غسل نہیں ہے، حضرت ام سلیم نے عرض کیا اگر عورت ایسی کوئی چیز دیکھتی ہے تو اس پر بھی غسل واجب ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! کیونکہ عورتیں مردوں کا جوڑا ہی تو ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26195]
الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله العمري
حدیث نمبر: 26196
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، وَصَالِحِ بْنِ أَبِي حَسَّانَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26196]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه اختلاف
حدیث نمبر: 26197
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلا اللَّهُ سورة آل عمران آية 7 فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِذَا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ , فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللَّهُ , أَوْ فَهُمْ , فَاحْذَروْهُمْ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی اللہ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس کی بعض آیتیں محکم ہیں، ایسی آیات ہی اس کتاب کی اصل ہیں اور کچھ آیات متشابہات میں سے بھی ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ تو متشابہات کے پیچھے چل پڑتے ہیں تاکہ فتنہ پھیلائیں اور اس کی تاویل حاصل کرنے کی کوشش کریں، حالانکہ ان کی تاویل اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اور علمی مضبوطی رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت تو عقلمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں۔ اور فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآنی آیات میں جھگڑ رہے ہیں تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کی مراد ہیں، لہذا ان سے بچو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26197]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4547، م: 2665
حدیث نمبر: 26198
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: إِنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ , وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ , فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ , وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي , يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا , فَيُكَلِّمُنِي , فَأَعِي مَا يَقُولُ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ , فَيَفْصِمُ عَنْهُ , وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات مجھ پر گھنٹی کی سنسناہٹ کی سی آواز میں وحی آتی ہے، یہ صورت مجھ پر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، لیکن جب یہ کیفیت مجھ سے دور ہوتی ہے تو میں پیغام الٰہی سمجھ چکا ہوتا ہوں اور بعض اوقات فرشتہ میرے پاس انسانی شکل میں آتا ہے اور وہ جو کہتا ہے میں اسے محفوظ کرلیتا ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26198]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2
حدیث نمبر: 26199
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنِي جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ , عَنْ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيِّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ , فَارْفُقْ بِهِ , وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ , فَشُقَّ عَلَيْهِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور انہیں مشقت میں مبتلا کر دے تو یا اللہ اس پر مشقت فرما اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور ان پر نرمی کرے تو تو اس پر نرمی فرما۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26199]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1828