مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 26210
حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ , عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَلَعَنَتْ بَعِيرًا لَهَا , فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَدَّ , وَقَالَ: " لَا يَصْحَبُنِي شَيْءٌ مَلْعُونٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھیں، اس دوران انہوں نے اپنے اونٹ پر لعنت بھیجی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس بھیج دینے کا حکم دیا اور فرمایا میرے ساتھ کوئی ملعون چیز نہیں جانی چاہیے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26210]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره
حدیث نمبر: 26211
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَاصِمٍ مَوْلَى قُرَيْبَةَ , عَنْ قُرَيْبَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ , فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ؟ قَالَ: " إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ تو اسی طرح روزے رکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ مجھے کھلا پلا دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26211]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة قريبة وعاصم
حدیث نمبر: 26212
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , فَقَالَتْ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: أَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ , فَذَكَرَ قِصَّةً , فَقَالَتْ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي فَرَفَقَ بِهِمْ , فَارْفُقْ بِهِ , وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ , فَاشْقُقْ عَلَيْهِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور انہیں مشقت میں مبتلا کر دے تو یا اللہ تو اس پر مشقت فرما اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ بنے اور ان پر نرمی کرے تو تو اس پر نرمی فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26212]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1828
حدیث نمبر: 26213
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26213]
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك
حدیث نمبر: 26214
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ بَشِيرٍ , عَنْ سَالِمٍ سَبَلَانَ , قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَائِشَةَ إِلَى مَكَّةَ , فَكَانَتْ تَخْرُجُ بِأَبِي يَحْيَى التَّيْمِيِّ يُصَلِّي لَهَا , فَأَدْرَكَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَأَسَاءَ الْوُضُوءَ , فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ , أَسْبِغْ الْوُضُوءَ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ" .
ابو سلمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26214]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، عمران بن بشير مجهول ولكن تابعه يحيى بن أبى كثير
حدیث نمبر: 26215
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ , مَا أَقُولُ فِيهَا؟ قَالَ: " قُولِي: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی! یہ بتائیے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہوجائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ! تو خوب معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے، لہذا مجھے بھی معاف فرما دے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26215]
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 26216
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ , قَالَتْ:" قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ" .
عمرو بن میمون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روزے کی حالت میں بیوی کو بوسہ دینے کا حکم پوچھا، تو انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26216]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1106
حدیث نمبر: 26217
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26217]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 26218
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا , أَنَّهَا رَأَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو رَافِعًا يَدَيْهِ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي بَشَرٌ , فَلَا تُعَاقِبْنِي أَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ وَشَتَمْتُهُ فَلَا تُعَاقِبْنِي فِيهِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ! میں بھی انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذاء پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کیجئے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26218]
الحكم على الحديث:
حديث ضعيف بهذه السياقة لأن رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 26219
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ , سَمِعَهُ مِنْهَا , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَاتَهُ الْقِيَامُ مِنَ اللَّيْلِ , غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ بِنَوْمٍ أَوْ وَجَعٍ صَلَّى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ النَّهَارِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی دن نیند کے غلبے یا بیماری کی وجہ سے تہجد کی نماز چھوٹ جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26219]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 746