مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 26220
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ ثَابِتٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ دَاوُدَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ وَعُمْرَتِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حج اور عمرے میں سب سے بہترین اور عمدہ خوشبو لگائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26220]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف بهذه السياقة
حدیث نمبر: 26221
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ , عَنْ مَنْصُورٍ الْحَجَبِيِّ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ , فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26221]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 301
حدیث نمبر: 26222
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصُّبْحَ , فَيَنْصَرِفُ نِسَاءُ الْمُؤْمِنِينَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ , مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ" , أَوْ قَالَ: لَا يَعْرِفُ بَعْضُهُنَّ بَعْضًا.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں اس طرح لپٹ کر نکلتی تھیں کہ انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26222]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 872، م: 645
حدیث نمبر: 26223
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْفَأْرَةُ , وَالْعَقْرَبُ , وَالْغُرَابُ , وَالْحُدَيَّا , وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26223]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3314، م: 1198
حدیث نمبر: 26224
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَهُوَ يُخَاصِمُ فِي دَارٍ , فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا أَبَا سَلَمَةَ , اجْتَنِبْ الْأَرْضَ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ" .
ابو سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس زمین کا ایک جھگڑا لے کر حاضر ہوئے، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا اے ابوسلمہ! زمین چھوڑ دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص ایک بالشت بھر زمین بھی کسی سے ظلماً لیتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گلے میں سات زمینوں کا وہ حصہ طوق بنا کر ڈالے گا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26224]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع لأن يحيى لم يسمع هذا الحديث من أبى سلمة
حدیث نمبر: 26225
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، هو مكرر سابقه
حدیث نمبر: 26226
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنِ ابْنِ سِيرِينَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی بالغ لڑکی کی نماز دوپٹے کے بغیر قبول نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26226]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 26227
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنِ الْحَسَنِ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ،: قَالَ حَسَنٌ: عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي , إِذْ احْتَفَزَ جَالِسًا وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ , فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي , مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَسْتَرْجِعُ؟ قَالَ: " جَيْشٌ مِنْ أُمَّتِي يَجِيئُونَ مِنْ قِبَلِ الشَّامِ , يَؤُمُّونَ الْبَيْتَ لِرَجُلٍ يَمْنَعُهُ اللَّهُ مِنْهُمْ , حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ , خُسِفَ بِهِمْ , وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ يُخْسَفُ بِهِمْ جَمِيعًا , وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى؟ فَقَالَ:" إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ , إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ ," ثَلَاثًا .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے کہ اچانک ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے اور انا للہ پڑھنے لگے، میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! کیا بات ہے کہ آپ انا للہ پڑھ رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امت کا ایک لشکر شام کی جانب سے آئے گا اور ایک آدمی کو گرفتار کرنے کے لئے بیت اللہ کا قصد کرے گا، اللہ اس آدمی کی اس لشکر سے حفاظت فرمائے گا اور جب وہ لوگ ذوالحلیفہ سے مقام بیداء کے قریب پہنچیں گے تو ان سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور انہیں مختلف جگہوں سے قیامت کے دن اٹھایا جائے گا، میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیا بات ہوئی کہ ان سب کو دھنسایا تو اکٹھے جائے گا اور اٹھایا مختلف جگہوں سے جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کہ اس لشکر میں بعض لوگوں کو زبر دستی شامل کرلیا گیا ہوگا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26227]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف بهذه السياقة لاضطراب حماد فيه
حدیث نمبر: 26228
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لاضطراب حماد بن سلمة فيه
حدیث نمبر: 26229
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ.
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لاضطراب حماد