مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 26230
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , وَقَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَمِّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ , يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْغُرَابُ , وَالْحَيَّةُ , وَالْعَقْرَبُ , وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ , وَالْحِدَأَةُ" وَفِي كِتَابِ يَعْقُوبَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مَكَانَ الْحَيَّةِ الْفَأْرَةُ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26230]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1829، م: 1198
حدیث نمبر: 26231
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ النَّوْمَ وَهُوَ يُصَلِّي , فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ نَوْمُهُ , إِنَّ أَحَدَكُمْ عَسَى أَنْ يَذْهَبَ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو اونگھ آئے تو اسے سو جانا چاہیے، یہاں تک کہ اس کی نیند پوری ہوجائے، کیونکہ اگر وہ اسی اونگھ کی حالت میں نماز پڑھنے لگے تو ہوسکتا ہے کہ استغفار کرنے لگے اور بیخبر ی میں اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26231]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 212، م: 786
حدیث نمبر: 26232
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ , فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ , وَبَسَطَ يَدَهُ , ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ شَتَمْتُ , أَوْ آذَيْتُ , فَلَا تُعَاقِبْنِي فِيهِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک تہبند اور ایک چادر میں تشریف لائے، قبلہ کی جانب رخ کیا اور اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذا پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کیجئے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26232]
الحكم على الحديث:
ضعيف بهذه السياقة ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 26233
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ , عَنْ عَمْرٍو , عَنِ الْمُطَّلِبِ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ، بَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ بِنَفَقَةٍ وَكِسْوَةٍ , فَقَالَتْ لِرَسُولِهِ: يَا بُنَيَّ , إِنِّي لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا , فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ: رُدُّوهُ عَلَيَّ , فَرَدُّوهُ , فَقَالَتْ: إِنِّي ذَكَرْتُ شَيْئًا قَالَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ , مَنْ أَعْطَاكِ عَطَاءً بِغَيْرِ مَسْأَلَةٍ , فَاقْبَلِيهِ , فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ عَرَضَهُ اللَّهُ لَكِ" .
مطلب بن حطیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عامر رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کچھ نفقہ اور کپڑے بھجوائے، انہوں نے قاصد سے فرمایا بیٹا! میں کسی کی کوئی چیز قبول نہیں کرتی، جب وہ جانے لگا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے واپس بلا کر لاؤ۔ لوگ اسے بلا لائے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھے ایک بات یاد آگئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سے فرمائی تھی کہ اے عائشہ! جو شخص تمہیں بن مانگے کوئی ہدیہ پیش کرے تو اسے قبول کرلیا کرو، کیونکہ وہ رزق ہے جو اللہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26233]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، المطلب لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 26234
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " إِنْ كَانَ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي لَمُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ اعْتِرَاضَ الْجِنَازَةِ , حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ , مَسَّنِي بِرِجْلِهِ , فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُوتِرُ , تَأَخَّرْتُ شَيْئًا مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی، جب وہ وتر پڑھنا چاہتے تو میرے پاؤں کو چھو دیتے، میں سمجھ جاتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے لگے ہیں لہذا میں پیچھے ہٹ جاتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26234]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 519، م: 744
حدیث نمبر: 26235
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ , وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح نہیں ہوا اور بادشاہ اس کا ولی ہوگا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26235]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج
حدیث نمبر: 26236
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ , عَنْ حَجَّاجٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْنَبَ , فَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ , تَوَضَّأَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26236]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج
حدیث نمبر: 26237
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ , عن عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيِّ ،، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ ارْفُقْ بِمَنْ رَفَقَ بِأُمَّتِي , وَشُقَّ عَلَى مَنْ شَقَّ عَلَيْهَا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! جو شخص میری امت پر نرمی کرے تو اس پر نرمی فرما اور جو ان پر سختی کرے تو اس پر سختی فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26237]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على جعفر بن برقان
حدیث نمبر: 26238
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ ثَنِيَّةِ الْإِذْخِرِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں ثنیہ اذخر سے داخل ہوئے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26238]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عبيدالله بن أبى زياد
حدیث نمبر: 26239
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا سُئِلَتْ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ:" كَانَ يَخِيطُ ثَوْبَهُ , وَيَخْصِفُ نَعْلَهُ , قَالَتْ: وَكَانَ يَعْمَلُ مَا يَعْمَلُ الرِّجَالُ فِي بُيُوتِهِمْ" .
عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے کوئی آدمی کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور اپنے کپڑوں پر خود ہی پیوند لگا لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26239]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 676