مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1323. -بقية حديث أبي الدرداء رضي الله عنه
حدیث نمبر: 27553
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرٍو , عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , يَبْلُغُ بِهِ: " مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ , أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ , وَلَيْسَ شَيْءٌ أَثْقَلَ فِي الْمِيزَانِ مِنَ الْخُلُقِ الْحَسَنِ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جسے نرمی کا حصہ مل گیا، اسے خیر کا حصہ مل گیا اور قیامت کے دن میزان عمل میں اچھے اخلاق سے بھاری کوئی چیز نہ ہوگی۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27553]
الحكم على الحديث:
بعضه صحيح، وبعضه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة يعلي بن مملك
حدیث نمبر: 27554
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , قَالَ: قَدِمْنَا إِلَى الشَّامِ , فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ: أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَيَّ قِرَاءَةَ عَبْدِ اللَّهِ ؟ فَأَشَارُوا إِلَيَّ , قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ أَنَا , فَقَالَ: كَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى سورة الليل آية 1 - 2؟ قَالَ: قُلْتُ: سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ: " وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى , وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى" , قَالَ: وَأَنَا وَاللَّهِ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا , وَهَؤُلَاءِ يُرِيدُونَ أَنْ أَقْرَأَ: وَمَا خَلَقَ , فَلَا أُتَابِعُهُمْ .
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے شام دمشق کی جامع مسجد میں دو رکعتیں پڑھ کر اچھے ہم نشین کی دعاء کی تو وہاں حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ میں نے بتایا کہ میں اہل کوفہ میں سے ہوں انہوں نے فرمایا کیا تم حضرت ابن مسعود کی قرأت کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! انہوں نے فرمایا سورت اللیل کی تلاوت سناؤ، میں نے یوں تلاوت کی انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کی اس طرح اس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں وما خلق بھی پڑھوں لیکن میں ان کی بات نہیں مانوں گا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27554]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3287، م: 824
حدیث نمبر: 27555
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى , عَنْ عَمْرٍو , عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أَثْقَلُ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُلُقٌ حَسَنٌ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میزان عمل میں سب سے افضل اور بھاری چیز اچھے اخلاق ہوں گے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27555]
الحكم على الحديث:
بعضه صحيح، وبعضه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة يعلي بن مملك
حدیث نمبر: 27556
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة يونس آية 64 , فَقَالَ: لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ شَيْءٍ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا سَأَلَ بَعْدَ رَجُلٍ سَأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ , يَرَاهَا الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ , أَوْ تُرَى لَهُ بُشْرَاهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا , وَبُشْرَاهُ فِي الْآخِرَةِ الْجَنَّةُ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا میں بشری کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو کوئی مسلمان دیکھے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا دیکھے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27556]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبى الدرداء
حدیث نمبر: 27557
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ , عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ رَجُلٍ , حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْوَالِ السُّلْطَانِ؟ فَقَالَ: " مَا أَتَاكَ اللَّهُ مِنْهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ , فَكُلْهُ وَتَمَوَّلْهُ" . قَالَ: قَالَ: وقَالَ الْحَسَنُ : لَا بَأْسَ بِهَا مَا لَمْ يَرْحَلْ إِلَيْهَا أَوْ يُشْرِفْ لَهَا .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا میں بشری کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو کوئی مسلمان دیکھے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا دیکھے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27557]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الراوي عن أبى الدرداء
1324. حَدِيثُ أُمِّ الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27558
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ , قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ , قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّهُ يُسْتَجَابُ لِلْمَرْءِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ لِأَخِيهِ , فَمَا دَعَا لِأَخِيهِ , بِدَعْوَةٍ إِلَّا قَالَ الْمَلَكُ: وَلَكَ بِمِثْلٍ" .
حضرت ام درداء بحوالہ ابودرداء نقل کرتی ہیں کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کی غیرموجودگی میں اس کی پیٹھ پیچھے جو دعاء کرتا ہے وہ قبول ہوتی ہے اور اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ اس مقصد کے لئے مقرر ہوتا ہے جب بھی وہ اپنے بھائی کے لئے خیر کی دعاء مانگے تو وہ اس پر آمین کہتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ تہ میں بھی یہی نصیب ہو۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27558]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد وهم ابن نميرفيه بإثبات سماع أم الدرداء من النبيي ﷺ، م: 2732
حدیث نمبر: 27559
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَتْ تَحْتَهُ الدَّرْدَاءِ , فَأَتَاهُمْ , فَوَجَدَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ , فَقَالَتْ لَهُ: أَتُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ , قَالَتْ: فَادْعُ لَنَا بِخَيْرٍ , فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ دَعْوَةَ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ , عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ بِهِ , كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ , قَالَ: آمِينَ , وَلَكَ بِمِثْلٍ" , قَالَ: فَخَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ , فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ.
صفوان بن عبداللہ " جن کے نکاح میں " درداء " تھیں کہتے ہیں کی ایک مرتبہ میں شام آیا اور حضرت ابودردا رضی اللہ عنہء کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن وہ گھر پر نہیں لے البتہ ان کی اہلیہ موجود تھیں، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا اس سال تمہارا حج کا ارداہ ہے؟ میں نے اثبات میں جواب دیا، انہوں نے فرمایا کہ ہمارے لئے بھی خیر کی دعاء کرنا کیونکہ نبی فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان اپنے بھائی کی غیرموجودگی میں اس کی پیٹھ پیچھے جو دعاء کرتا ہے وہ قبول ہوتی ہے اور سکے سر کے پاس ایک فرشتہ اس مقصد کے لئے مقرر ہوتا ہے جب بھی وہ اپنے بھائی کے لئے خیر کی دعاء مانگے تو وہ اس پر آمین کہتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ تہ میں بھی یہی نصیب ہو۔ پھر میں بازار کی طرف نکلا تو حضرت ابودردا رضی اللہ عنہء سے بھی ملاقات ہوگئی، انہوں نے بھی مجھ سے یہی کہا اور یہی حدیث انہوں نے بھی نبی کے حوالے سے سنائی۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27559]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2733
1325. مِنْ حَدِيثِ أَسْمَاءَ ابْنَةِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27560
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ أَبِي: وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي حُسَيْنٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھوک اور جھوٹ کو اکٹھا نہ کرو۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27560]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27561
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , سَمِعَ شَهْرًا , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ , تَقُولُ: مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي نِسْوَةٍ , فَسَلَّمَ عَلَيْنَا , وَقَالَ:" إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنَعَّمِينَ" , فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ؟ قَالَ: " لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطُولَ أَيْمَتُهَا بَيْنَ أَبَوَيْهَا وَتَعْنُسَ , فَيَرْزُقَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ زَوْجًا , وَيَرْزُقَهَا مِنْهُ مَالًا وَوَلَدًا , فَتَغْضَبَ الْغَضْبَةَ , فَرَاحَتْ تَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِنْهُ يَوْمًا خَيْرًا قَطُّ" , وَقَالَ مَرَّةً:" خَيْرًا قَطُّ" .
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا ”جن کا تعلق بنی عبدالاشہل سے ہے“ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے، ہم کچھ عورتوں کے ساتھ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کیا اور فرمایا: ”احسان کرنے والوں کی ناشکری سے اپنے آپ کو بچاؤ“، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! احسان کرنے والوں کی ناشکری سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی عورت اپنے ماں باپ کے یہاں طویل عرصے تک رشتے کے انتظار میں بیٹھی رہے، پھر اللہ اسے شوہر عطاء فرما دے اور اس سے اسے مال و دولت بھی عطاء فرما دے اور وہ پھر کسی دن غصے میں آکر یوں کہہ دے کہ میں نے تو تجھ سے کبھی خیر نہیں دیکھی۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27561]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقد توبع
حدیث نمبر: 27562
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا , فَإِنَّ قَتْلَ الْغَيْلِ يُدْرِكُ الْفَارِسَ , فَيُدَعْثِرُهُ عَنْ ظَهْرِ فَرَسِهِ" .
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنی اولاد کو خفیہ قتل نہ کیا کرو، کیونکہ حالت رضاعت میں بیوی سے قربت کے نتیجے میں دودھ پینے والا بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو گھوڑا اسے اپنی پشت سے گرا دیتا ہے (وہ جم کر گھوڑے پر نہیں بیٹھ سکتا)۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27562]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال مهاجر، وقد انفرد به ، ومثله لا يحتمل تفرده، ثم إنه معارض بحديث صحيح