مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1323. -بقية حديث أبي الدرداء رضي الله عنه
حدیث نمبر: 27523
وحَدَّثَنَاه عَفَّانُ , حَدَّثَنَا أَبَانُ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ," , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 811
حدیث نمبر: 27524
وقَالَ عَفَّانُ , حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ أَبِي السُّمَيْطِ , بِهَذَا الْإِسْنَادِ , بِمِثْلِهِ سَوَاءً.
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 27525
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ , وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ , وَأَرْفَعِهَا لِدَرَجَاتِكُمْ , وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ , وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا رِقَابَهُمْ وَيَضْرِبُونَ رِقَابَكُمْ؟ ذِكْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے مالک کی نگاہوں میں سب سے بہتر عمل " جو درجات میں سب سے زیادہ بلندی کا سبب ہو، تمہارے لئے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہو اور اس سے بہتر ہو کہ مید ان جنگ میں دشمن سے آمنا سامنا ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اڑائیں " نہ بتادوں؟ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کون سا عمل ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ذکر۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27525]
الحكم على الحديث:
هذا اسناد فيه ضعف وانقطاع، وقد سلف باسناد صحيح، انظر: 21702
حدیث نمبر: 27526
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حدثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: مَا تَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة يونس آية 64 , قَالَ: لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ شَيْءٍ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا سَأَلَ عَنْهُ بَعْدَ رَجُلٍ سَأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " بُشْرَاهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ , يَرَاهَا الْمُسْلِمُ , أَوْ تُرَى لَهُ , وَبُشْرَاهُمْ فِي الْآخِرَةِ الْجَنَّةُ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا میں بشری کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو کوئی مسلمان دیکھے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا دیکھے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27526]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبى الدرداء
حدیث نمبر: 27527
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , مِثْلَ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا , دَخَلَ الْجَنَّةَ" , إِلَّا أَنَّ فِيهِ:" وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي الدَّرْدَاءِ".
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے جو شخص اس طرح مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا، یہ حدیث حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ اگرچہ ابودردا کی ناک خاک آلود ہوجائے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27527]
الحكم على الحديث:
صحيح من حديث أبى ذر ، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه بين أبى صالح وأبي الدرداء
حدیث نمبر: 27528
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ , قَالَ: كَانَ فِينَا رَجُلٌ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , قَالَ: فَرَحَلَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27528]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 27529
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , قَالَ: كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ يُرْسِلُ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ , فَتَبِيتُ عِنْدَ نِسَائِهِ , وَيَسْأَلُهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَقَامَ لَيْلَةً فَدَعَا خَادِمَهُ , فَأَبْطَأَتْ عَلَيْهِ , فَلَعَنَهَا , فَقَالَتْ: لَا تَلْعَنْ , فَإِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَنِي , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّ اللَّعَّانِينَ لَا يَكُونُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُهَدَاءَ وَلَا شُفَعَاءَ" .
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ مروان کا بیٹا عبدالمالک حضرت ام دردا کو اپنے یہاں بلا لیتا تھا، وہ اس کی عورتوں کے یہاں رات گذارتی تھیں اور وہ ان سے نبی کے متعلق پوچھتا رہتا تھا ایک رات وہ بیدار ہوا تو خادمہ کو آواز دی، اس نے آنے میں تاخیر کردی تو وہ سے لعنت ملامت کرنے لگا، حضرت ام دردا نے فرمایا لعنت مت کرو کیونکہ ابودردا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے نبی کو کہ یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لعنت ملامت کرنے والے قیامت کے دن گواہ بن سکیں گے اور نہ ہی سفارش کرنے والے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27529]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2598
حدیث نمبر: 27530
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ حُدَيْرُ بْنُ كُرَيْبٍ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ" , فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَجَبَتْ هَذِهِ , فَالْتَفَتَ إِلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ , وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِنْهُ , فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي , مَا أَرَى الْإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلَّا قَدْ كَفَاهُمْ .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی سے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ہر نماز میں قرأت ہوتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! تو ایک انصار نے کہا کہ یہ تو واجب ہوگئی پھر حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے کیونکہ میں ہی سب سے زیادہ ان کے قریب تھا اور فرمایا بھتیجے! میں سمجھتا ہوں کہ جب امام لوگوں کی امامت کرتا ہے تو وہ ان کی طرف سے کفایت کرتا ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27530]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27531
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , أَنَّ مُعَاوِيَةَ اشْتَرَى سِقَايَةً مِنْ فِضَّةٍ بِأَقَلَّ مِنْ ثَمَنِهَا , أَوْ أَكْثَرَ , قَالَ: فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ" .
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ نے چاندی کا ایک پیالہ اس کی قیمت سے کم و بیش میں خریدا تو حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیع سے منع فرمایا ہے الاً یہ کہ برابر سرابر ہو۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27531]
الحكم على الحديث:
صحيح من حديث عبادة بن الصامت، وهذا إسناد منقطع، عطاء لم يسمع من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 27532
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ شُعْبَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّة , عَنْ عَطَاءٍ الْكَيْخَارَانِيِّ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَيْسَ شَيْءٌ أَثْقَلَ فِي الْمِيزَانِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میزان عمل میں اچھے اخلاق سے بھاری کوئی چیز نہ ہوگی۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27532]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح