🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1323. -بقية حديث أبي الدرداء رضي الله عنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27533
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ: فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ , كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مرتے وقت کسی غلام کو آزاد کرتا یا صدقہ خیرات کرتا ہے اس کی مثال اسی شخص کی سی ہے جو خوب سیراب ہونے کے بعد بچ جانے والی چیز کو ہدیہ کردے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27533]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أبى حبيبة الطائي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27534
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ أَبِي السَّفَرِ , قَالَ: كَسَرَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ سِنَّ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ مُعَاوِيَةَ , فَقَالَ الْقُرَشِيُّ: إِنَّ هَذَا دَقَّ سِنِّي , قَالَ مُعَاوِيَةُ: كَلَّا , إِنَّا سَنُرْضِيهِ , قَالَ: فَلَمَّا أَلَحَّ عَلَيْهِ الْأَنْصَارِيُّ , قَالَ مُعَاوِيَةُ: شَأْنَكَ بِصَاحِبِكَ , وَأَبُو الدَّرْدَاءِ جَالِسٌ , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ , فَيَتَصَدَّقُ بِهِ , إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً , وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً" , قَالَ: فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ , سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ , وَوَعَاهُ قَلْبِي , يَعْنِي: فَعَفَا عَنْهُ .
ابو سفر کہتے ہیں کہ قریش کے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کا دانت توڑ ڈالا اس نے حضرت معاویہ سے قصاص کی درخواست کی وہ قریشی کہنے لگا کہ اس نے میرا دانت توڑا تھا حضرت معاویہ نے فرمایا ہرگز نہیں ہم اسے راضی کریں گے جب اس انصار نے بڑے اصرار سے اپنی بات دہرائی تو حضرت معاویہ نے فرمایا تم اپنے ساتھی سے اپنا بدلہ لے لو، اس مجلس میں حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس مسلمان کو اس کے جسم میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اس پر صدقہ کی نیت کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے، اس انصار نے پوچھا کہ کیا آپ نے خود نبی سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میرے کانوں نے اس حدیث کو سنا ہے اور میرے دل نے اسے مخفوظ کیا ہے، چنانچہ اس نے اس قریشی کو معاف کردیا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27534]

الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو السفر لم يسمع من أبى الدرداء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27535
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ , وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ عَلْقَمَةَ , قَالَ: لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ فِي حَدِيثِهِ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ , فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , قَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ , قَالَ: هَلْ تَقْرَأُ عَلَيَّ قِرَاءَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ؟ قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: فَاقْرَأْ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , قُلْتُ: " وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى , وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى" , قَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا , قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: فَضَحِكَ.
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام پہنچا اور وہاں حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ میں نے بتایا کہ میں اہل کوفہ میں سے ہوں، انہوں نے فرمایا کیا تم حضرت ابن مسعود کی قرأت کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! انہوں نے فرمایا سورت اللیل کی تلاوت سناؤ، میں نے یوں تلاوت کی انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کی اس طرح اس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے، غالباً وہ اس پر ہنسے بھی تھے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27535]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3287، م: 824
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27536
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ , كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَرُدَّ عَنْهُ نَارَ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس سے قیامت کے دن جہنم کی آگ کو دور کرے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27536]

الحكم على الحديث:
حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث وشهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27537
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: " اسْتَقَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَفْطَرَ , فَأُتِيَ بِمَاءٍ , فَتَوَضَّأَ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کو قئی آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا، پھر ان کے پاس پانی لایا گیا تو انہوں کے وضو کرلیا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27537]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد أخطأ فيه معمر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27538
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , أَنَّهُ قَدِمَ الشَّامَ , فَدَخَلَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ , فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ , وَقَالَ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا , قَالَ: فَجَاءَ , فَجَلَسَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ : مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ , قَالَ: كَيْفَ سَمِعْتَ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ يَقْرَأُ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى سورة الليل آية 1 - 2 , قَالَ عَلْقَمَةُ: " وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى" , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: لَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَمَا زَالَ هَؤُلَاءِ حَتَّى شَكَّكُونِي , ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ يَكُنْ فِيكُمْ صَاحِبُ الْوِسَادِ , وَصَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ غَيْرُهُ , وَالَّذِي أُجِيرَ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! صَاحِبُ الْوِسَادِ: ابْنُ مَسْعُودٍ , وَصَاحِبُ السِّرِّ: حُذَيْفَةُ , وَالَّذِي أُجِيرَ مِنَ الشَّيْطَانِ: عَمَّارٌ .
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام دمشق کی جامع میں دو رکعتیں پڑھ کر اچھے ہم نشین کی دعاء کی تو وہاں حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ میں نے بتایا کہ میں اہل کوفہ میں سے ہوں انہوں نے فرمایا کیا تم حضرت ابن مسعود کی قرأت کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! انہوں نے فرمایا سورت اللیل کی تلاوت سناؤ، میں نے یوں تلاوت کی انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کی اس طرح اس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے، ان لوگوں نے مجھ سے اس پر اتنی بحث کی تھی کہ مجھے شک میں مبتلا کردیا تھا، پھر فرمایا کیا تم میں " تکیے والے " ایسے رازوں کو جاننے والے جنہیں کوئی نہ جانتا ہو اور جنہیں نبی کی زبانی شیطان سے مخفوظ قرار دیا گیا تھا " نہیں ہیں؟ تکیے والے تو ابن مسعود ہیں، رازوں کو جاننے والے حذیفہ ہیں اور شیطان سے محفوظ عمار ہیں۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27538]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27539
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: أَخْبَرَنِي مُغِيرَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِلَى الشَّامِ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27539]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27540
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيُّ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ , عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص سورت کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرلے، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27540]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 809
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27541
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ , عَنْ قَتَادَةَ , قَالَ: حدثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص سورت کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرلے، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27541]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 809
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27542
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حدثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ: كَانَ قَتَادَةُ يَقُصُّ بِهِ عَلَيْنَا , قَالَ: حدثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيُّ , عَنْ حَدِيثِ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ , عَنْ حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ , يَرْوِيهِ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ , قَالَ: حدثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ حَدِيثِ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , يَرْوِيهِ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ".

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 809
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں