🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1325. مِنْ حَدِيثِ أَسْمَاءَ ابْنَةِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27563
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ , عَنْ شَهْرٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ , فَدَنَوْتُ وَعَلَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ , فَبَصُرَ بِبَصِيصِهِمَا , فَقَالَ: " أَلْقِي السِّوَارَيْنِ يَا أَسْمَاءُ , أَمَا تَخَافِينَ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِسِوَارٍ مِنْ نَارٍ؟" , قَالَتْ: فَأَلْقَيْتُهُمَا , فَمَا أَدْرِي مَنْ أَخَذَهُمَا .
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے حاضر ہوئی، جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میرے ان دو کنگنوں کے اوپر پڑی جو میں نے پہنے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسماء! یہ دونوں کنگن اتار دو، کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ اللہ ان کے بدلے میں تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے“، چنانچہ میں نے انہیں اتار دیا اور مجھے یاد نہیں کہ انہیں کس نے لے لیا تھا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27563]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف داود، و شهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27564
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِى ابْنَ يَزِيدَ الْأَوْدِيَّ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَصْلُحُ مِنَ الذَّهَبِ شَيْءٌ وَلَا بَصِيصُهُ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سونا اور ریشم میں سے کچھ بھی چمک کا فائدہ نہیں دیتے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27564]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف داود، و شهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27565
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ , قَالَتْ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جس وقت وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ رہن رکھی ہوئی تھی۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27565]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27566
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27566]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27567
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , عَنْ شَهْرٍ , عَنْ أَسْمَاءَ , قَالَتْ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِلَبَنٍ , فَقَالَ:" أَتَشْرَبِينَ؟" , قُلْنَ: لَا نَشْتَهِيهِ , فَقَالَ: " لَا تَجْمَعْنَ كَذِبًا وَجُوعًا" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ان کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا، انہوں نے عورتوں سے پوچھا: کیا تم بھی پیو گی؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھوک اور جھوٹ کو اکٹھا نہ کرو۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27567]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27568
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ , فَقَالَ: " إِذَا كَانَ قَبْلَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ بِثَلَاثِ سِنِينَ , حَبَسَتْ السَّمَاءُ ثُلُثَ قَطْرِهَا , وَحَبَسَتْ الْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا , فَإِذَا كَانَتْ السَّنَةُ الثَّانِيَةُ , حَبَسَتْ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا , وَحَبَسَتْ الْأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا , فَإِذَا كَانَتْ السَّنَةُ الثَّالِثَةُ , حَبَسَتْ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ وَحَبَسَتْ الْأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ , فَلَا يَبْقَى ذُو خُفٍّ , وَلَا ظِلْفٍ , إِلَّا هَلَكَ , فَيَقُولُ الدَّجَّالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ: أَرَأَيْتَ إِنْ بَعَثْتُ إِبِلَكَ ضِخَامًا ضُرُوعُهَا , عِظَامًا أَسْنِمَتُهَا , أَتَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ , فَتَمَثَّلُ لَهُ الشَّيَاطِينُ عَلَى صُورَةِ إِبِلِهِ فَيَتَّبِعُهُ , وَيَقُولُ لِلرَّجُلِ: أَرَأَيْتَ إِنْ بَعَثْتُ أَبَاكَ وَابْنَكَ , وَمَنْ تَعْرِفُ مِنْ أَهْلِكَ , أَتَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ , فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينَ عَلَى صُوَرِهِمْ فَيَتَّبِعُهُ" , ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَبَكَى أَهْلُ الْبَيْتِ , ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبْكِي , فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكُمْ؟" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا ذَكَرْتَ مِنَ الدَّجَّالِ , فَوَاللَّهِ إِنَّ أَمَةَ أَهْلِي لَتَعْجِنُ عَجِينَهَا , فَمَا تَبْلُغُ حَتَّى تَكَادَ تَفَتَّتُ مِنَ الْجُوعِ , فَكَيْفَ نَصْنَعُ يَوْمَئِذٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَكْفِي الْمُؤْمِنِينَ عَنِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ يَوْمَئِذٍ التَّكْبِيرُ , وَالتَّسْبِيحُ , وَالتَّحْمِيدُ" , ثُمَّ قَالَ:" لَا تَبْكُوا , فَإِنْ يَخْرُجْ الدَّجَّالُ وَأَنَا فِيكُمْ , فَأَنَا حَجِيجُهُ , وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي , فَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے گھر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خروج دجال سے تین سال قبل آسمان ایک تہائی بارش اور زمین ایک تہائی نباتات روک لے گی، دوسرے سال آسمان دو تہائی بارش اور زمین دو تہائی پیداوار روک لے گی اور تیسرے سال آسمان اپنی مکمل بارش اور زمین اپنی مکمل پیداوار روک لے گی اور ہر موزے اور کھر والا ذی حیات ہلاک ہو جائے گا، اس موقع پر دجال ایک دیہاتی سے کہے گا یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہارے اونٹ زندہ کر دوں، ان کے تھن بھرے اور بڑے ہوں اور ان کے کوہان عظیم ہوں تو کیا تم مجھے اپنا رب یقین کر لو گے؟ وہ کہے گا، ہاں! چنانچہ شیاطین اس کے سامنے اونٹوں کی شکل میں آئیں گے اور وہ دجال کی پیروی کرنے لگے گا۔ اسی طرح دجال ایک اور آدمی سے کہے گا یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہارے باپ، تمہارے بیٹے اور تمہارے اہل خانہ میں سے ان تمام لوگوں کو جنہیں تم پہچانتے ہو زندہ کر دوں تو کیا تم یقین کر لو گے کہ میں ہی تمہارا رب ہوں، وہ کہے گا، ہاں! چنانچہ اس کے سامنے شیاطین ان صورتوں میں آ جائیں گے اور وہ دجال کی پیروی کرنے لگے گا“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور اہل خانہ رونے لگے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے ہم اس وقت رو رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم کیوں رو رہے ہو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے دجال کا جو ذکر کیا ہے، واللہ! میرے گھر میں جو باندی ہے، وہ آٹا گوندھ رہی ہوتی ہے، ابھی وہ اسے گوندھ کر فارغ نہیں ہونے پاتی کہ میرا کلیجہ بھوک کے مارے پارہ پارہ ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے، تو اس دن ہم کیا کریں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن مسلمانوں کے لئے کھانے پینے کی بجائے تکبیر اور تسبیح و تحمید ہی کافی ہو گی“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت روؤ، اگر میری موجودگی میں دجال نکل آیا تو میں اس سے مقابلہ کروں گا اور اگر میرے بعد اس کا خروج ہوا تو ہر مسلمان پر اللہ میرا نائب ہے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27568]

الحكم على الحديث:
وهذا إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب، قوله: "ان يخرج الدجال وانا فيكم، فانا حجيجه" فهو صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27569
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ: إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ وَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ: " يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ , لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ , إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا , وَلَا يُبَالِي , إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے: «إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ» اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے: «يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ , لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ , إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا , وَلَا يُبَالِي , إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27569]

الحكم على الحديث:
الشطر الأول حسن بشاهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقد اختلف عليه فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27570
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَخْطُبُ يَقُولُ:" أَيُّهَا النَّاسُ , مَا يَحْمِلُكُمْ عَلَى أَنْ تَتَابَعُوا فِي الْكَذِبِ , كَمَا يَتَتَابَعُ الْفَرَاشُ فِي النَّارِ؟ كُلُّ الْكَذِبِ يُكْتَبُ عَلَى ابْنِ آدَمَ إِلَّا ثَلَاثَ خِصَالٍ: رَجُلٌ كَذَبَ عَلَى امْرَأَتِهِ لِيُرْضِيَهَا , أَوْ رَجُلٌ كَذَبَ فِي خَدِيعَةِ حَرْبٍ , أَوْ رَجُلٌ كَذَبَ بَيْنَ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمَا" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران خطبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے لوگو! تمہیں اس طرح جھوٹ میں گرنے کی ”جیسے پروانے آگ میں گرتے ہیں“ کیا مجبوری ہے؟ ابن آدم کا ہر جھوٹ اس کے خلاف لکھا جاتا ہے، سوائے تین جگہوں کے، ایک تو وہ آدمی جو اپنی بیوی کو خوش رکھنے کے لئے جھوٹ بولے، دوسرے وہ آدمی جو جنگ میں جھوٹ بولے، تیسرے وہ آدمی جو دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے جھوٹ بولے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27570]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، وقد اختلف عليه فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27571
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ شَهْرِ ابْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَمْكُثُ الدَّجَّالُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً , السَّنَةُ كَالشَّهْرِ , وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ , وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ , وَالْيَوْمُ كَاضْطِرَامِ السَّعْفَةِ فِي النَّارِ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دجال زمین میں چالیس سال تک رہے گا، اس کا ایک سال ایک مہینے کے برابر، ایک مہینہ ایک جمعہ کے برابر، ایک جمعہ ایک دن کی طرح اور ایک دن چنگاری بھڑکنے کی طرح ہو گا۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27571]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27572
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ هُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ نِسَاءَ الْمُسْلِمِينَ لِلْبَيْعَةِ، فَقَالَتْ لَهُ أَسْمَاءُ: أَلَا تَحْسُرُ لَنَا عَنْ يَدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَسْتُ أُصَافِحُ النِّسَاءَ، وَلَكِنْ آخُذُ عَلَيْهِنَّ"، وَفِي النِّسَاءِ خَالَةٌ لَهَا , عَلَيْهَا قُلْبَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَخَوَاتِيمُ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا هَذِهِ، هَلْ يَسُرُّكِ أَنْ يُحَلِّيَكِ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ سِوَارَيْنِ وَخَوَاتِيمَ؟"، فَقَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا خَالَتِي، اطْرَحِي مَا عَلَيْكِ، فَطَرَحَتْهُ، فَحَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ: وَاللَّهِ يَا بُنَيَّ لَقَدْ طَرَحَتْهُ، فَمَا أَدْرِي مَنْ لَقَطَهُ مِنْ مَكَانِهِ؟، وَلَا الْتَفَتَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَيْهِ، قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ إِحْدَاهُنَّ تَصْلَفُ عِنْدَ زَوْجِهَا إِذَا لَمْ تُمَلَّحْ لَهُ، أَوْ تَحَلَّى لَهُ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا عَلَى إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ قُرْطَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ، وَتَتَّخِذَ لَهَا جُمَانَتَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ، فَتُدْرِجَهُ بَيْنَ أَنَامِلِهَا بِشَيْءٍ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَإِذَا هُوَ كَالذَّهَبِ يَبْرُقُ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان خواتین کو بیعت کے لئے جمع فرمایا، تو اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمارے لئے اپنا ہاتھ آگے کیوں نہیں بڑھاتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، البتہ زبانی بیعت لے لیتا ہوں“، ان عورتوں میں اسماء رضی اللہ عنہا کی ایک خالہ بھی تھیں جنہوں نے سونے کے کنگن اور سونے کی انگوٹھیاں پہن رکھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خاتون! کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہیں آگ کی چنگاریوں کے کنگن اور انگوٹھیان پہنائے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں، میں نے اپنی خالہ سے کہا: خالہ! اسے اتار کر پھینک دو، چنانچہ انہوں نے وہ چیزیں اتار پھینکیں۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، واللہ! جب انہوں نے وہ چیزیں اتار پھینکیں تو مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کسی نے انہیں ان کی جگہ سے اٹھایا ہو اور نہ ہی ہم میں سے کسی نے اس کی طرف کن اکھیوں سے دیکھا، پھر میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اگر کوئی عورت زیور سے آراستہ نہیں ہوتی تو وہ اپنے شوہر کی نگاہوں میں بےوقعت ہو جاتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تم چاندی کی بالیاں بنا لو اور ان پر موتی لگوا لو اور ان کے سوراخوں میں تھوڑا سا زعفران بھر دو، جس سے وہ سونے کی طرح چمکنے لگے گا۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27572]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، وقوله: "إني لست أصافح النساء" صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں