🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب الْحَثِّ عَلَى إِكْرَامِ الْجَارِ وَالضَّيْفِ وَلُزُومِ الصَّمْتِ إِلاَّ مِنَ الْخَيْرِ وَكَوْنِ ذَلِكَ كُلِّهِ مِنَ الإِيمَانِ:
باب: ہمسایہ اور مہمان کی خاطرداری کرنے کی ترغیب، اور نیکی کی بات کے علاوہ خاموش رہنا ایمان کی نشانیوں میں سے ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 47 ترقیم شاملہ: -- 173
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيى ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کی، آپ نے فرمایا: جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے۔ اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے۔ اور جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 173]
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو انسان اللہ اور قیامت پر ایمان و یقین رکھتا ہے، وہ اچھی بات کرے یا پھر خاموش رہے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے، اور جو آدمی اللہ اور آخری دن پر یقین رکھتا ہے، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 173]
ترقیم فوادعبدالباقی: 47
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أنفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (15339)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 47 ترقیم شاملہ: -- 174
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ ".
ابوحصین نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ پہنچائے، اور جو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے، اور جو شخص اللہ اور قیامت پر یقین رکھتا ہے، وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 174]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ پہنچائے، اور جو آدمی اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے، اور جو انسان اللہ اور قیامت پر یقین رکھتا ہے، وہ اچھی بات کرے یا پھر چپ رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 174]
ترقیم فوادعبدالباقی: 47
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الادب، باب: من كان يومن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره برقم (5672) وابن ماجه فى ((سننه)) فى الفتن، باب: كف اللسان فى الفتنة مختصراً برقم (3971) انظر ((التحفة)) برقم (12843)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 47 ترقیم شاملہ: -- 175
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي حَصِينٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ.
اعمش نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا... آگے ابوحصین کی روایت کے مانند ہے، البتہ اعمش نے (وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ دے کے بجائے) یہ الفاظ کہے ہیں: وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 175]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 175]
ترقیم فوادعبدالباقی: 47
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أنفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (12450)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 48 ترقیم شاملہ: -- 176
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جميعا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو ، أَنَّه سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ يُخْبِرُ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ ".
ابوشریح (خویلد بن عمرو) خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرے، اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے، وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے، اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے یا خاموشی اختیار کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 176]
حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرے، اور جو اللہ اور پچھلے دن پر یقین رکھتا ہے، تو وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے، اور جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموشی اختیار کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 176]
ترقیم فوادعبدالباقی: 48
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الادب، باب: من كان يومن بالله واليوم الآخر فلا يوذ جاره برقم (5673) وفى باب: اكرام الضيف و خدمته اياه بنفسه برقم (5784 و 5785) وفي الرقاق، باب: حفظ اللسان برقم (6111) والمولف - مسلم - فى اللقطة، باب: الضيافة مختصراً برقم (4488 و 4489 و 4490) بلفظ قريب منه۔ والترمذى فى ((جامعه)) فى البر والصلة، باب: ما جاء فى الضيافة كم هو - ولم يذكر قصة الجار - وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (1967 و 1968) مع ذكر قصة الضيافة وابن ماجه فى ((سننه)) فى الادب، باب: حق الضيف برقم (3675) انظر ((التحفة)) برقم (12056)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. باب بَيَانِ كَوْنِ النَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ مِنَ الإِيمَانِ وَأَنَّ الإِيمَانَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ وَأَنَّ الأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاجِبَانِ:
باب: اس بات کا بیان کہ بری بات سے منع کرنا ایمان کی علامت ہے، اور یہ کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے، اور امر بالمعروف والنہی عن المنکر دونوں واجب ہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 49 ترقیم شاملہ: -- 177
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلَاهُمَا، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ، قَبْلَ الصَّلَاةِ، مَرْوَانُ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَقَالَ: قَدْ تُرِكَ مَا هُنَالِكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث سنائی، نیز محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے اور انہیں شعبہ نے حدیث سنائی، ان دونوں (سفیان اور شعبہ) نے قیس بن مسلم سے اور انہوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی، الفاظ ابوبکر بن ابی شیبہ کے ہیں۔ طارق بن شہاب نے کہا کہ پہلا شخص جس نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبے کا آغاز کیا، مروان تھا۔ ایک آدمی اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہا: نماز خطبے سے پہلے ہے؟ مروان نے جواب دیا: جو طریقہ (یہاں پہلے) تھا، وہ ترک کر دیا گیا ہے۔ اس پر ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: اس انسان نے (جس سے صحیح بات کہی تھی) اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: تم میں سے جو شخص منکر (ناقابل قبول کام) دیکھے اس پر لازم ہے کہ اسے اپنے ہاتھ (قوت) سے بدل دے اور اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل سے (اسے برا سمجھے اور اس کے بدلنے کی مثبت تدبیر سوچے) اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 177]
طارق بن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے عید کے دن نماز سے پہلے خطبے کا آغاز مروان نے کیا، ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: نماز خطبے سے پہلے ہے۔ مروان نے جواب دیا کہ یہ طریقہ ترک کر دیا گیا ہے۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: اس انسان نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: تم میں سے جو شخص منکر کام دیکھے اس پر لازم ہے، اگر طاقت رکھتا ہے تو اسے اپنے ہاتھ (یعنی زور و قوت) سے روکنے کی کوشش کرے، اور اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو، تو پھر اپنی زبان ہی سے اس کو بدلنے کی سعی کرے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو، تو اپنے دل میں اس کے بدلنے کی تدبیر سوچے، اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 177]
ترقیم فوادعبدالباقی: 49
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداؤد فى ((سننه)) فى الصلاة، باب: الخطبة يوم العيد برقم (1140) وفى الملاحم، باب: الامر والنهى برقم (4340) مختصراً بدون ذكر القصة والترمذي فى ((جامعه)) فى الفتن، باب: ما جاء فى تغيير المنكر باليد، او باللسان، او بالقلب - وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (2172) والنسائى فى ((المجتبى من السنن)) 111/8-112 فى الايمان، باب: تفاضل اهل الايمان وابن ماجه فى ((سننه)) فى اقامة الصلاة والسنة فيها، باب: ما جاء فى صلاة العيدين برقم (1275) مطولا - وفي الفتن، باب: الامر بالمعروف والنهي عن المنكر - مطولا برقم (4013) انظر ((التحفة)) برقم (4032 و 4085)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 49 ترقیم شاملہ: -- 178
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فِي قِصَّةِ مَرْوَانَ وَحَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ.
اعمش نے اسماعیل بن رجاء سے، انہوں نے اپنے والد (رجاء بن ربیعہ) سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، نیز اعمش نے قیس بن مسلم سے، انہوں نے طارق بن شہاب سے اور انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروان کا مذکورہ بالا واقعہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، اسی طرح بیان کی جس طرح شعبہ اور سفیان نے بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 178]
امام مسلم رحمہ اللہ مذکورہ بالا واقعہ اور حدیث دوسری سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 178]
ترقیم فوادعبدالباقی: 49
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (175)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 50 ترقیم شاملہ: -- 179
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي، إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ، وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ، ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ، يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الإِيمَانِ، حَبَّةُ خَرْدَلٍ "، قَالَ أَبُو رَافِعٍ: فَحَدَّثْتُهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَأَنْكَرَهُ عَلَيَّ، فَقَدِمَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَنَزَلَ بِقَنَاةَ، فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَعُودُهُ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا جَلَسْنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، حَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثْتُهُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ صَالِحٌ: وَقَدْ تُحُدِّثَ بِنَحْوِ ذَلِكَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ
صالح بن کیسان نے حارث بن فضیل سے، انہوں نے جعفر بن عبداللہ بن حکم سے، انہوں نے عبدالرحمن بن مسور سے، انہوں نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام) ابورافع رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مجھ پر پہلے کسی امت میں جتنے بھی نبی بھیجے، ان کی امت میں سے ان کے کچھ حواری اور ساتھی ہوتے تھے جو ان کی سنت پر چلتے اور ان کے حکم کی اتباع کرتے تھے، پھر ایسا ہوتا تھا کہ ان کے بعد نالائق لوگ ان کے جانشین بن جاتے تھے۔ وہ (زبان سے) ایسی باتیں کہتے جن پر خود عمل نہیں کرتے تھے اور ایسے کام کرتے تھے جن کا ان کو حکم نہ دیا گیا تھا، چنانچہ جس نے ان (جیسے لوگوں) کے خلاف اپنے دست و بازو سے جہاد کیا، وہ مومن ہے اور جس نے ان کے خلاف اپنی زبان سے جہاد کیا، وہ مومن ہے اور جس نے اپنے دل سے ان کے خلاف جہاد کیا وہ بھی مومن ہے (لیکن) اس سے پیچھے رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہیں۔ ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سنائی تو وہ اس کو نہ مانے۔ اتفاق سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی (مدینہ) آ گئے اور وادی قتاۃ (مدینہ کی وادی ہے) میں ٹھہرے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے بھی ان کی عیادت کے لیے اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔ میں ان کے ساتھ چلا گیا ہم جب جا کر بیٹھ گئے تو میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث اسی طرح سنائی جس طرح میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سنائی تھی۔ صالح بن کیسان نے کہا: یہ حدیث ابورافع رضی اللہ عنہ سے (براہ راست بھی) اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 179]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جو نبی بھی مجھ سے پہلے کسی امت میں بھیجا، تو اس کے کچھ حواری اور لائق ساتھی ہوتے تھے جو اس کے طریقے اور حکم پر چلتے تھے، پھر ایسا ہوتا تھا کہ ان کے نالائق پسماندگان، ان کے جانشین ہوتے تھے، جو ایسی بات کہتے تھے جو خود نہیں کرتے تھے (لوگوں کو اچھا کام کرنے کو کہتے تھے اور خود وہ کام نہیں کرتے تھے یا کرنے کے جو کام، وہ نہیں کرتے تھے۔ ان کے متعلق لوگوں کو کہتے تھے کہ ہم کرتے ہیں، گویا اپنا تقدس اور اپنی بزرگی قائم رکھنے کے لیے جھوٹ بھی بولتے تھے) اور جن کاموں کا ان کو حکم نہیں دیا گیا تھا ان کو کرتے تھے (یعنی اپنے نبی کی سنتوں اور اس کے اوامر و احکام پر تو عمل پیرا نہ تھے مگر معصیات اور بدعات جن کا ان کو حکم نہیں دیا گیا تھا ان کے دلدادہ تھے، ان کو خوب کرتے تھے)، تو جس نے ان کے خلاف اپنے دست و بازو سے جہاد کیا وہ مومن ہے، اور جس نے (بدرجۂ مجبوری) ان کے خلاف صرف زبان سے جہاد کیا وہ بھی مومن ہے، اور جس نے (زبان سے عاجز رہ کر) صرف دل سے ان کے خلاف جہاد کیا، یعنی دل میں ان سے نفرت کی اور ان کے خلاف غیظ و غضب رکھا، تو وہ بھی ایمان دار ہے، لیکن اس کے بغیر رائی کے دانہ برابر بھی ایمان نہیں ہے۔ ابو رافع کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سنائی تو انہوں نے اس کو نہ مانا، اتفاق سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی آگئے، اور وادی قناۃ (مدینہ کی ایک وادی ہے) میں ٹھہرے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کی عیادت کے لیے مجھے بھی اپنے ساتھ چلنے کو کہا، میں ان کے ساتھ چلا گیا۔ ہم جب جا کر بیٹھ گئے تو میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث اسی طرح سنائی جیسے میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سنائی تھی۔ صالح بن کیسان نے کہا: یہ حدیث ابو رافع سے اسی طرح بیان کی گئی ہے۔ (مقصد یہ ہے کہ ابو رافع نے یہ حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واسطے کے بغیر براہِ راست بیان کی ہے) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 179]
ترقیم فوادعبدالباقی: 50
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (9602)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 50 ترقیم شاملہ: -- 180
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ الْفُضَيْلِ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا كَانَ مِنْ نَبِيٍّ، إِلَّا وَقَدْ كَانَ لَهُ حَوَارِيُّونَ، يَهْتَدُونَ بِهَدْيِهِ، وَيَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِهِ "، مِثْلَ حَدِيثِ صَالِحٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ قُدُومَ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَاجْتِمَاعِ ابْنِ عُمَرَ مَعَهُ.
حارث بن فضیل خطمی سے (صالح بن کیسان کے بجائے) عبدالعزیز بن محمد کی سند کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی نبی گزرا ہے اس کے ساتھ کچھ حواری تھے جو اس (نبی) کے نمونہ زندگی کو اپناتے اور اس کی سنت کی پیروی کرتے تھے.... صالح کی روایت کی طرح۔ لیکن (عبدالعزیز نے) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی آمد اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کی ملاقات کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 180]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نبی بھی گزرا ہے اس کے ساتھ کچھ حواری (معاون، مدد گار) تھے۔ جو اس کی راہ و رسم کو اپناتے اور اس کی سنت کی پیروی کرتے تھے۔ آگے صالح کی روایت کی طرح ہے، لیکن اس میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی آمد اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کی ملاقات کا تذکرہ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 180]
ترقیم فوادعبدالباقی: 50
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (9602)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. باب تَفَاضُلِ أَهْلِ الإِيمَانِ فِيهِ وَرُجْحَانِ أَهْلِ الْيَمَنِ فِيهِ:
باب: ایمان داروں کا ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت، اور یمن والوں کی ایمان میں ترجیح۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 51 ترقیم شاملہ: -- 181
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا يَرْوِي، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: أَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ، فَقَالَ: " أَلَا إِنَّ الإِيمَانَ هَاهُنَا، وَإِنَّ الْقَسْوَةَ، وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الإِبِلِ، حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ، وَمُضَرَ ".
حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: دیکھو! ایمان ادھر ہے۔ اور شقاوت اور سنگ لی اونٹوں کی دموں کی جڑوں کے پاس چیخنے والوں ربیعہ اور مضر میں ہے، جس کی طرف سے شیطان کے دو سینگ نمودار ہوتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 181]
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ یمن کی طرف کر کے اشارہ کیا اور فرمایا: خبردار! ایمان ادھر ہے، درشتی و شدت اور سنگ دلی ان لوگوں میں ہے جو اونٹوں کی دُم کی جڑ میں چیختے چلاتے ہیں، جہاں شیطان کے دو سینگ نکلتے ہیں، ربیعہ و مضر میں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 181]
ترقیم فوادعبدالباقی: 51
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى بدء الخلق، باب: خير مال المسلم غنم يتبع بها شغف الجبال برقم (3126) وفي المناقب، باب: قول الله تعالي: ﴿ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ﴾ برقم (3307) عندالله وفي المغازي، باب: قدوم الاشعريين واهل اليمن برقم (4126) وفي الطلاق، باب: اللعان برقم (4997) انظر ((التحفة)) برقم (1005)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 52 ترقیم شاملہ: -- 182
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ، هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً الإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ ".
ایوب نے کہا: ہمیں محمد (ابن سیرین) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل یمن آئے ہیں۔ یہ لوگ بہت زیادہ نرم دل ہیں۔ ایمان یمنی ہے، فقہ یمنی ہے اور دانائی (بھی) یمنی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 182]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہلِ یمن آئے ہیں، یہ لوگ نرم دل ہیں، ایمان یمنی ہے، فقہ یمنی ہے اور حکمت بھی یمانی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 182]
ترقیم فوادعبدالباقی: 52
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14421)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں