صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
90. باب شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي طَالِبٍ وَالتَّخْفِيفِ عَنْهُ بِسَبَبِهِ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 210 ترقیم شاملہ: -- 513
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ، فَقَالَ: لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ نَارٍ، يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ، يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کے چچا ابوطالب کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”امید ہے قیامت کے دن میری سفارش ان کو نفع دے گی اور انہیں اتھلی (کم گہری) آگ میں ڈالا جائے گا جو (بمشکل) ان کے ٹخنوں تک پہنچتی ہو گی، اس سے (بھی) ان کا دماغ کھولے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 513]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کا تذکرہ ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امید ہے، قیامت کے دن میری سفارش اسے نفع دے گی اور اسے ہلکی آگ میں ڈالا جائے گا، جو اس کے ٹخنوں تک پہنچے گی، جس سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 513]
ترقیم فوادعبدالباقی: 210
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في مناقب الانصار، باب: قصة ابي طالب برقم (3885 و 3886) وفي الرقاق، باب: صفة الجنة والنار برقم (6564) انظر ((التحفة)) برقم (4094)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
91. باب أَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا:
باب: آگ کا عذاب جس کو سب سے کم ہو گا۔
ترقیم عبدالباقی: 211 ترقیم شاملہ: -- 514
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا، يَنْتَعِلُ بِنَعْلَيْنِ مِنَ نَارٍ، يَغْلِي دِمَاغُهُ مِنْ حَرَارَةِ نَعْلَيْهِ ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جہنم میں سے سب سے کم عذاب میں وہ ہو گا جو آگ کی دو جوتیاں پہنے ہو گا، اس کی جوتیوں کی گرمی سے اس کا دماغ کھولے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 514]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب دوزخیوں سے کم عذاب والا آگ کی دو جوتیاں پہنے ہو گا، اس کی جوتیوں کی گرمی کی وجہ سے اس کا دماغ کَھولے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 514]
ترقیم فوادعبدالباقی: 211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (4393)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 212 ترقیم شاملہ: -- 515
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ، وَهُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخیوں میں سے سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہو گا، وہ دو جوتیاں پہن رکھے ہوں گے جن سے ان کا دماغ کھولے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 515]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو طالب کو سب دوزخیوں سے ہلکا عذاب ہو گا، اور وہ دو جوتیاں پہنے ہو گا جن سے اس کا دماغ کھولے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 515]
ترقیم فوادعبدالباقی: 212
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (5821)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 213 ترقیم شاملہ: -- 516
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاق ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ ".
شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو خطاب کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن دوزخیوں میں سے سب سے کم عذاب اس آدمی کو ہو گا جس کے تلوؤں کے نیچے آگ کے دو انگارے رکھے جائیں گے، ان سے اس کا دماغ کھولے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 516]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے خطاب فرمایا، جس میں انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن دوزخیوں میں سب سے کم عذاب اس کو ہوگا، جس کے تلوں کے نیچے آگ کے دو انگارے رکھے جائیں گے، ان سے اس کا دماغ کھولے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 516]
ترقیم فوادعبدالباقی: 213
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الرقاق، باب: صفة الجنة والنار برقم (6561 و 6562) والترمذى في ((جامعه)) في صفة جهنم برقم (2604) وقال: حدیث حسن صحیح - انظر ((التحفة)) برقم (11636)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 213 ترقیم شاملہ: -- 517
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا، مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاكَانِ مِنَ نَارٍ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِ الْمِرْجَلُ مَا يَرَى، أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا، وَإِنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا ".
(شعبہ کے بجائے) اعمش نے ابواسحاق سے، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخیوں میں سے سب سے ہلکے عذاب والا شخص وہ ہو گا جس کے دونوں جوتوں اور دونوں تسموں میں آگ ہو گی، اس سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جس طرح ہنڈیا کھولتی ہے، وہ نہیں سمجھے گا کہ کوئی بھی اس سے زیادہ عذاب میں ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ ان سب میں سے ہلکے عذاب میں ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 517]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخیوں میں سب سے ہلکے عذاب والا وہ شخص ہو گا جس کو آگ کی دو جوتیاں تسموں سمیت پہنائی جائیں گی، ان سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جس طرح ہنڈیا کھولتی ہے، وہ سمجھے گا مجھ سے سخت عذاب کسی کو نہیں ہو رہا، حالانکہ اس کو سب سے ہلکا عذاب ہو رہا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 517]
ترقیم فوادعبدالباقی: 213
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (515)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
92. باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ مَاتَ عَلَى الْكُفْرِ لاَ يَنْفَعُهُ عَمَلٌ:
باب: کفر کی حالت میں مرنے والے شخص کو اس کا کوئی عمل کام نہ آئے گا۔
ترقیم عبدالباقی: 214 ترقیم شاملہ: -- 518
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ جُدْعَانَ، كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَيُطْعِمُ الْمِسْكِينَ، فَهَلْ ذَاكَ نَافِعُهُ؟ قَالَ: لَا يَنْفَعُهُ، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا: رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے پوچھا: ’اے اللہ کے رسول! ابن جدعان جاہلیت کے دور میں صلہ رحمی کرتا تھا اور محتاجوں کو کھانا کھلاتا تھا، تو کیا یہ عمل اس کے لیے فائدہ مند ہو گا؟‘ آپ نے فرمایا: ”یہ اسے فائدہ نہیں پہنچائیں گے، (کیونکہ) اس نے کسی ایک دن (بھی) یہ نہیں کہا: ’اے میرے رب! حساب و کتاب کے دن میری خطائیں معاف فرما۔‘“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 518]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابنِ جدعان جاہلیت کے دور میں صلہ رحمی کرتا تھا اور محتاجوں کو کھانا کھلاتا تھا، تو کیا یہ عمل اس کے لیے نافع ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے نافع نہیں ہوں گے، کیونکہ اس نے کبھی (کسی ایک دن) بھی یہ نہیں کہا تھا: «رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ» ”اے میرے رب! حساب و کتاب کے دن میری خطائیں معاف فرمانا۔““ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 518]
ترقیم فوادعبدالباقی: 214
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (17623)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
93. باب مُوَالاَةِ الْمُؤْمِنِينَ وَمُقَاطَعَةِ غَيْرِهِمْ وَالْبَرَاءَةِ مِنْهُمْ:
باب: مومن سے دوستی رکھنے اور غیر مومن سے دوستی قطع کرنے اور ان سے جدا رہنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 215 ترقیم شاملہ: -- 519
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ، يَقُولُ: " أَلَا إِنَّ آلَ أَبِي يَعْنِي فُلَانًا، لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ، إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ، وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ ".
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے برسرعام یہ کہتے ہوئے سنا: ”یقیناً آل ابی، یعنی فلاں، میرے ولی نہیں، میرا ولی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے اور نیک مومن ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 519]
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپائے بغیر بلند آواز سے فرمایا: ”فلاں کی اولاد میری عزیز و دوست نہیں، میرا ساتھی اور دوست اللہ تعالیٰ اور نیک مسلمان ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 519]
ترقیم فوادعبدالباقی: 215
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الادب، باب: تبل الرحم ببلالها برقم (5990) انظر ((التحفة)) برقم (10744)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
94. باب الدَّلِيلِ عَلَى دُخُولِ طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلاَ عَذَابٍ:
باب: مسلمانوں کے ایک گروہ کا بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 216 ترقیم شاملہ: -- 520
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ.
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے ستر ہزار (افراد) بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔“ ایک آدمی نے عرض کی: ’اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔‘ آپ نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! اسے ان میں شامل کر۔“ پھر ایک اور کھڑا ہوا اور کہا: ’اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔‘ آپ نے جواب دیا: ”عکاشہ اس معاملے میں تم سے سبقت لے گئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 520]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔“ تو ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شریک کر دے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ» ”اے اللہ! اسے بھی ان میں سے کر دے۔“ پھر دوسرا شخص کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی اللہ ان میں سے کر دے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ» ”عکاشہ رضی اللہ عنہ تم سے اس کے لیے سبقت لے جا چکا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 520]
ترقیم فوادعبدالباقی: 216
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14370)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 216 ترقیم شاملہ: -- 521
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ الرَّبِيعِ.
شعبہ نے کہا: میں نے محمد بن زیاد سے حدیث سنی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے... (آگے) ربیع کی حدیث کی طرح (ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 521]
امام مسلم رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 521]
ترقیم فوادعبدالباقی: 216
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14398)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 216 ترقیم شاملہ: -- 522
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا، تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الأَسَدِيُّ، يَرْفَعُ نَمِرَةً عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ ".
سعید بن مسیب نے حدیث سنائی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کا ایک گروہ جنت میں داخل ہو گا، وہ ستر ہزار افراد ہوں گے، ان کے چہرے اس طرح چمکتے ہوں گے جس طرح چودھویں رات کو ماہ کامل چمکتا ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: (اس پر) حضرت عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ اپنی سرخ، سفید اور سیاہ دھاریوں والی چادر بلند کرتے ہوئے اٹھے اور عرض کی: ’اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے ان میں سے کر دے۔“ پھر ایک انصاری کھڑا ہوا اور کہا: ’اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں عکاشہ تم سے سبقت لے گئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 522]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کا ستر ہزار کا ایک گروہ جنت میں داخل ہوگا، ان کے چہرے چودہویں رات کے ماہِ کامل کی طرح چمک رہے ہوں گے۔“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: حضرت عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ اپنی دھاری دار لوئی اٹھائے ہوئے اٹھے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا فرمائیے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ» ”اے اللہ! اسے بھی ان میں سے کر دے۔“ پھر ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا فرمائیے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ» ”اس کے لیے عکاشہ رضی اللہ عنہ پہل کر گیا۔“ یعنی: وہ تم سے سبقت لے گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 522]
ترقیم فوادعبدالباقی: 216
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الرقاق، باب: يدخل الجنة سبعون الفا بغير حساب برقم (6542) انظر ((التحفة)) برقم (13332)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة