صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
85. باب فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ يَشْفَعُ فِي الْجَنَّةِ وَأَنَا أَكْثَرُ الأَنْبِيَاءِ تَبَعًا» :
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پہلا شخص ہوں گا جنت کے متعلق سفارش کرنے والا اور باقی نبیوں سے میرے تابع دار زیادہ ہوں گے“۔
ترقیم عبدالباقی: 196 ترقیم شاملہ: -- 483
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ يَشْفَعُ فِي الْجَنَّةِ، وَأَنَا أَكْثَرُ الأَنْبِيَاءِ تَبَعًا ".
جریر نے مختار بن فلفل سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سے سب سے پہلا شخص میں ہوں گا جو جنت کے بارے میں سفارش کرے گا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 483]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں لوگوں میں سے سب سے پہلا شخص ہوں، جو جنت کی (داخلہ کے بارے میں) سفارش کروں گا، اور تمام انبیاء علیہم السلام سے میرے پیروکار زیادہ ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 483]
ترقیم فوادعبدالباقی: 196
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (1578)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 196 ترقیم شاملہ: -- 484
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَكْثَرُ الأَنْبِيَاءِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ ".
سفیان نے مختار بن فلفل سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن تمام انبیاء علیہم السلام کی نسبت میرے پیروکار زیادہ ہوں گے، اور میں پہلا شخص ہوں گا جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 484]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب انبیاء علیہم السلام سے میرے پیروکار زیادہ ہوں گے، اور میں پہلا شخص ہوں گا جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 484]
ترقیم فوادعبدالباقی: 196
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (1578)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 196 ترقیم شاملہ: -- 485
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ، لَمْ يُصَدَّقْ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ مَا صُدِّقْتُ، وَإِنَّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ نَبِيًّا، مَا يُصَدِّقُهُ مِنْ أُمَّتِهِ، إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ ".
زائدہ نے مختار بن فلفل سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت کے بارے میں سب سے پہلا سفارش کرنے والا میں ہوں گا، انبیاء میں سے کسی نبی کی اتنی تصدیق نہیں کی گئی جتنی میری کی گئی۔ اور بلاشبہ انبیاء میں سے کچھ ایسے نبی ہوں گے جن کی امت (دعوت) میں سے صرف ایک شخص ہی ان کی تصدیق کرتا ہو گاا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 485]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت کے داخلے کے لیے سب سے پہلے سفارش کروں گا۔ کسی نبی علیہ السلام کو اس قدر لوگوں نے نہیں مانا جس قدر لوگوں نے میری تصدیق کی۔ بعض نبی تو ایسے ہوں گے کہ ان کی امت (دعوت) میں سے ایک شخص نے ہی ان کی تصدیق کی ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 485]
ترقیم فوادعبدالباقی: 196
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (1578)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 197 ترقیم شاملہ: -- 486
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَسْتَفْتِحُ، فَيَقُولُ الْخَازِنُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ: مُحَمَّدٌ، فَيَقُولُ: بِكَ أُمِرْتُ، لَا أَفْتَحُ لِأَحَدٍ قَبْلَكَ ".
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آؤں گا اور دروازہ کھلواؤں گا۔ جنت کا دربان پوچھے گا: ’آپ کون ہیں؟‘ میں جواب دوں گا: ’محمد!‘ وہ کہے گا: ’مجھے آپ ہی کے بارے میں حکم ملا تھا کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔‘“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 486]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آکر دروازہ کھلواؤں گا، جنت کا دربان پوچھے گا: آپ کون ہیں؟ تو میں جواب دوں گا: میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ وہ کہے گا: مجھے آپ کے بارے میں یہی حکم ملا تھا کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 486]
ترقیم فوادعبدالباقی: 197
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (474)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
86. باب اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لأُمَّتِهِ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے لیے شفاعت کی دعا کا مؤخر کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 198 ترقیم شاملہ: -- 487
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا، فَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
مالک بن انس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک (یقینی) دعا ہے جو وہ مانگتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ رکھوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 487]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک دعا ہے (جسے اللہ تعالیٰ یقینی طور پر قبول فرمائے گا) جسے وہ کرتا ہے، تو میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 487]
ترقیم فوادعبدالباقی: 198
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (15250)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 198 ترقیم شاملہ: -- 488
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ، وَأَرَدْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ "،
(مالک بن انس کے بجائے) ابن شہاب کے بھتیجے نے ابن شہاب سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً ہر نبی کی ایک دعا ہے (جس کی قبولیت یقینی ہے۔) میں نے ارادہ کیا ہے کہ ان شاء اللہ میں اپنی اس دعا کو قیامت کے روز اپنی امت کی سفارش کرنے کے لیے محفوظ رکھوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 488]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کو ایک دعا کا حق حاصل ہے، اور میں نے ارادہ کیا ہے کہ «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ میں اپنی اس دعا کو قیامت کے روز اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں گا۔“ (ان شاء اللہ کا لفظ محض تبرک اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے امتثال کے لیے ہے) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 488]
ترقیم فوادعبدالباقی: 198
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (15253)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 198 ترقیم شاملہ: -- 489
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ ، مِثْلَ ذَلِكَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابن شہاب کے بھتیجے نے ابن شہاب سے اور انہوں نے (ابوسلمہ کے بجائے) عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی سے اسی کے مانند حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 489]
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 489]
ترقیم فوادعبدالباقی: 198
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14272)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 198 ترقیم شاملہ: -- 490
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ لِكَعْبِ الأَحْبَارِ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا، فَأَنَا أُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَقَالَ كَعْبٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ.
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی کہ عمرو بن ابی سفیان ثقفی نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار سے کہا: بلاشبہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک (یقینی) دعا ہے جو وہ کرتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ میں اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ رکھوں۔“ اس پر کعب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”آپ نے یہ فرمان (براہ راست) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا؟“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”ہاں!“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 490]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار رحمہ اللہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کو ایک دعا کرنے کا حق حاصل ہے جسے وہ مانگتا ہے، تو میں چاہتا ہوں کہ «اِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ میں اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا رکھوں۔“ تو کعب احبار رحمہ اللہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے یہ فرمان (براہ راست) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 490]
ترقیم فوادعبدالباقی: 198
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14272)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 199 ترقیم شاملہ: -- 491
حَدَّثَنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ".
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک دعا ایسی ہے جو (یقینی طور پر) قبول کی جانے والی ہے۔ ہر نبی نے اپنی وہ دعا جلدی مانگ لی، جبکہ میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ کر لی ہے، چنانچہ یہ دعا ان شاء اللہ میری امت کے ہر اس فرد کو پہنچے گی جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے فوت ہوا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 491]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک مقبول دعا ہے اور میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا رکھا ہے، جب کہ ہر نبی جلدی کرتے ہوئے (دنیا میں) دعا کر چکا ہے۔ میری شفاعت ہر اس انسان کو حاصل ہو گی «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ“ جو میری امت سے اس حال میں فوت ہو گا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 491]
ترقیم فوادعبدالباقی: 199
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في الدعوات، باب: فضل لاحول ولا قوة الا بالله برقم (3602) وابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: ذكر الشفاعة برقم (4307) انظر ((التحفة)) برقم (12512)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 199 ترقیم شاملہ: -- 492
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ يَدْعُو بِهَا، فَيُسْتَجَابُ لَهُ فَيُؤْتَاهَا، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک قبول کی جانے والی دعا ہے، وہ اسے مانگتا ہے تو (ضرور) قبول کی جاتی ہے اور وہ اسے عطا کر دی جاتی ہے۔ میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے چھپا (بچا) کر رکھی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 492]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک مقبول دعا ہے جو وہ کرتا ہے، اور وہ اس کی خاطر قبول ہوتی ہے، اور وہ اسے دی جاتی ہے، اور میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے چھپا رکھی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 492]
ترقیم فوادعبدالباقی: 199
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14917)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة