صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
84. باب أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً فِيهَا:
باب: جنتوں میں سب سے کم تر درجہ والے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 191 ترقیم شاملہ: -- 473
وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، قَالَ: " كُنْتُ قَدْ شَغَفَنِي رَأْيٌ مِنْ رَأْيِ الْخَوَارِجِ، فَخَرَجْنَا فِي عِصَابَةٍ ذَوِي عَدَدٍ، نُرِيدُ أَنْ نَحُجَّ، ثُمَّ نَخْرُجَ عَلَى النَّاسِ، قَالَ: فَمَرَرْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَإِذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ، جَالِسٌ إِلَى سَارِيَةٍ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَإِذَا هُوَ قَدْ ذَكَرَ الْجَهَنَّمِيِّينَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ، مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُونَ! وَاللَّهُ يَقُولُ: إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ سورة آل عمران آية 192، وَ كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا سورة السجدة آية 20، فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُولُونَ؟ قَالَ: فَقَالَ: أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ بِمَقَامِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَعْنِي الَّذِي يَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ مَقَامُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَحْمُودُ الَّذِي يُخْرِجُ اللَّهُ بِهِ مَنْ يُخْرِجُ، قَالَ: ثُمَّ نَعَتَ وَضْعَ الصِّرَاطِ، وَمَرَّ النَّاسِ عَلَيْهِ، قَالَ: وَأَخَافُ أَنْ لَا أَكُونَ أَحْفَظُ ذَاكَ، قَالَ: غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ زَعَمَ، أَنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ، بَعْدَ أَنْ يَكُونُوا فِيهَا، قَالَ: يَعْنِي فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمْ عِيدَانُ السَّمَاسِمِ، قَالَ: فَيَدْخُلُونَ نَهَرًا مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمُ الْقَرَاطِيسُ " فَرَجَعْنَا، قُلْنَا: وَيْحَكُمْ أَتُرَوْنَ الشَّيْخَ يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعْنَا، فَلَا وَاللَّهِ مَا خَرَجَ مِنَّا غَيْرُ رَجُلٍ وَاحِدٍ، أَوْ كَمَا قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ.
محمد بن ابی ایوب نے کہا: مجھے یزید الفقیر نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: کہ خارجیوں کے نظریات میں سے ایک بات میرے دل میں گھر کر گئی تھی۔ ہم ایک جماعت میں نکلے جس کی اچھی خاصی تعداد تھی۔ ہمارا ارادہ تھا کہ حج کریں اور پھر لوگوں کے خلاف خروج کریں (جنگ کریں۔) ہم مدینہ سے گزرے تو ہم نے دیکھا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما (ایک ستون کے پاس بیٹھے) لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنا رہے ہیں، انہوں نے اچانک ’الجہمیین‘ (جہنم سے نکل کر جنت میں پہنچنے والے لوگوں) کا تذکرہ کیا تو میں نے ان سے پوچھا: ’اے رسول اللہ کے ساتھی! یہ آپ کیا بیان کر رہے ہیں؟ حالانکہ اللہ فرماتا ہے: «إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ» ”بے شک جس کو تو نے آگ میں داخل کر دیا اس کو رسوا کر دیا۔“ اور: «كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا» ”وہ جب بھی اس سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔“ تو یہ کیا بات ہے جو آپ کہہ رہے ہیں؟‘ (یزید نے) کہا: انہوں نے (جواب میں) کہا: ’کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟‘ میں نے عرض کی: ’ہاں!‘ انہوں نے کہا: ’کیا تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے بارے میں سنا ہے، یعنی وہ مقام جس پر قیامت کے دن آپ کو مبعوث کیا جائے گا؟‘ میں نے کہا: ’ہاں!‘ انہوں نے کہا: ’بے شک وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام محمود ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنہیں (جہنم سے) نکالنا ہو گا نکالے گا۔‘ پھر انہوں نے (جہنم پر) پل رکھے جانے اور اس پر سے لوگوں کے گزرنے کا منظر بیان کیا۔ (یزید نے) کہا: مجھے ڈر ہے کہ میں اس کو پوری طرح یاد نہیں رکھ سکا ہوں، سوائے اس کے کہ انہوں نے بتایا: کچھ لوگ جہنم میں چلے جانے کے بعد اس سے نکلیں گے، یعنی انہوں نے کہا: وہ اس طرح نکلیں گے جیسے وہ ’تلوں‘ (کے پودوں) کی لکڑیاں ہوں، وہ جنت کی نہروں میں سے ایک نہر میں داخل ہوں گے اور اس میں نہائیں گے، پھر اس میں سے (کورے) کاغذوں کی طرح (ہو کر) نکلیں گے، پھر (یہ حدیث سن کر) ہم واپس آئے اور ہم نے کہا: ’تم پر افسوس! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ بوڑھا (صحابی حضرت جابر رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھ رہا ہے؟‘ اور ہم نے (سابقہ رائے سے) رجوع کر لیا۔ اللہ کی قسم! ہم میں سے ایک آدمی کے سوا کسی نے خروج نہ کیا، یا جس طرح (کے الفاظ میں) ابونعیم نے کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 473]
یزید فقیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ خارجیوں کی آراء میں سے ایک رائے میرے دل میں گھر کر گئی، ہم ایک بڑی تعداد کی جماعت کے ساتھ حج کے ارادے سے نکلے تاکہ پھر ہم لوگوں میں اس رائے کی تبلیغ کے لیے نکلیں، تو ہم مدینہ سے گزرے، وہاں دیکھا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ایک ستون کے پاس بیٹھ کر لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنا رہے ہیں، انہوں نے اچانک دوزخیوں کا تذکرہ کیا تو میں نے ان سے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی! یہ آپ لوگ کیا بیان کر رہے ہیں؟ جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان تو یہ ہے: ﴿إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ﴾ [سورة آل عمران: 192] ”بے شک جس کو تو نے آگ میں داخل کر دیا تو اس کو رسوا کر دیا“ اور فرمایا: ﴿كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا﴾ [سورة السجدة: 20] ”وہ جب بھی اس سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، اس میں لوٹا دیے جائیں گے“ تو یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تو قرآن پڑھتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں! انہوں نے کہا: کیا تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے بارے میں سنا ہے؟ یعنی وہ مقام جو آپ کو قیامت کے دن دیا جائے گا، میں نے کہا: ہاں! انہوں نے کہا: وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام «الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ» ”مقامِ محمود“ ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ جہنم سے نکالے گا جن کو نکالنا چاہے گا، پھر انہوں نے پل رکھنے اور اس پر لوگوں کے گزرنے کو بیان کیا، مجھے ڈر ہے کہ میں اس کو یاد نہیں رکھ سکا، ہاں اتنی بات ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ لوگ جہنم میں رہنے کے بعد اس سے نکلیں گے۔“ ابو نعیم رحمہ اللہ نے کہا: ”تو وہ نکلیں گے، گویا کہ وہ «ضَغَابِيسُ» ”تلوں کی لکڑیاں“ ہیں، (یعنی جلے ہوئے بھنے ہوئے) تو وہ جنت کی نہروں میں سے ایک نہر میں داخل ہوں گے اور اس میں نہائیں گے، پھر اس سے کاغذوں کی طرح سفید ہو کر نکلیں گے۔“ پھر ہم واپس آئے اور ایک دوسرے سے کہا: تم پر افسوس! کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ بوڑھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہے؟ اور ہم (اس رائے) سے لوٹ آئے، تو اللہ کی قسم! ہم میں سے صرف ایک آدمی الگ رہا، یا جیسا کہ ابو نعیم رحمہ اللہ نے کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 473]
ترقیم فوادعبدالباقی: 191
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (3140)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 192 ترقیم شاملہ: -- 474
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، وَثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ أَرْبَعَةٌ، فَيُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ، فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، إِذْ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا فَلَا تُعِدْنِي فِيهَا، فَيُنْجِيهِ اللَّهُ مِنْهَا ".
ابوعمران اور ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخ سے چار آدمی نکلیں گے، انہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا۔ ان میں سے ایک متوجہ ہو گا اور کہے گا: ’اے میرے رب! جب تو نے مجھے اس سے نکال ہی دیا ہے تو اب دوبارہ اس میں نہ ڈالنا،‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کو جہنم سے نجات دے دے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 474]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخ سے چار آدمی نکالے جائیں گے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا، تو ان میں سے ایک مڑ کر دیکھے گا اور کہے گا: اے میرے رب! جب تو نے مجھے اس سے نکال ہی دیا ہے، تو اب اس میں نہ لوٹا، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس سے نجات دے دے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 474]
ترقیم فوادعبدالباقی: 192
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (347 و 1073)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 193 ترقیم شاملہ: -- 475
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْن الْجَحْدَرِيُّ ومُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَهْتَمُّونَ لِذَلِكَ، وقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ: فَيُلْهَمُونَ لِذَلِكَ، فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، قَالَ: فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السّلامُ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ آدَمُ أَبُو الْخَلْقِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ، قَالَ: فَيَأْتُونَ نُوحًا عَلَيْهِ السَّلامُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلًا، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السّلامُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ، وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ، قَالَ: فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ، فَيَأْتُونَ عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا، قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَأْتُونِي، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي، فَإِذَا أَنَا رَأَيْتُهُ، وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، قُلْ: تُسْمَعْ سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ رَبِّي، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَقَعُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ، أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ، قُلْ: تُسْمَعْ سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجَهُمْ مِنَ النَّارِ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ، قَالَ: فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا بَقِيَ فِي النَّارِ، إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ "، أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ، قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ قَتَادَةُ: أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ.
ابوکامل فضیل بن حسین جحدری اور محمد بن عبید غبری نے کہا: (الفاظ ابوکامل کے ہیں) ہمیں ابوعوانہ نے قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا اور وہ اس بات پر فکر مند ہوں گے (کہ اس دن کی سختیوں سے کیسے نجات پائی جائے؟)“ (ابن عبید نے کہا: ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی) اور وہ کہیں گے: ’اگر ہم اپنے رب کے حضور کوئی سفارش لائیں تاکہ وہ ہمیں اس جگہ (کی سختیوں) سے راحت عطا کر دے۔‘ آپ نے فرمایا: ”چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: ’اے آدم! آپ تمام مخلوق کے والد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا، آپ ہمارے لیے اپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں کہ وہ ہمیں اس (اذیت ناک) جگہ سے راحت دے۔‘ وہ جواب دیں گے: ’میں اس مقام پر نہیں،‘ پھر وہ اپنی غلطی کو، جو ان سے ہو گئی تھی، یاد کر کے اس کی وجہ سے اپنے رب سے شرمندگی محسوس کریں گے، (اور کہیں گے:) ’لیکن تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے (لوگوں کی طرف) مبعوث فرمایا۔‘ آپ نے فرمایا: ”تو اس پر لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ کہیں گے: ’یہ میرا مقام نہیں،‘ اور وہ اپنی غلطی کو، جس کا ارتکاب ان سے ہو گیا تھا، یاد کر کے اس پر اپنے رب سے شرمندگی محسوس کریں گے، (اور کہیں گے:) ’لیکن تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل (خالص دوست) بنایا ہے۔‘ وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے: ’یہ میرا مقام نہیں،‘ اور وہ اپنی غلطی کو یاد کریں گے جو ان سے سرزد ہو گئی تھی اور اس پر اپنے رب سے شرمندہ ہوں گے، (اور کہیں گے:) ’لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور انہیں تورات عنایت کی۔‘ لوگ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے، وہ کہیں گے: ’میں اس مقام پر نہیں،‘ اور اپنی غلطی کو، جو ان سے ہو گئی تھی، یاد کر کے اس پر اپنے رب سے شرمندگی محسوس کریں گے (اور کہیں گے:) ’لیکن تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو روح اللہ اور اس کے کلمے ہیں۔‘ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ (بھی یہ) کہیں گے: ’یہ میرا مقام نہیں، تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، وہ ایسے برگزیدہ عبد(بندے) ہیں جن کے اگلے پچھلے گناہ (اگر ہوتے تو بھی) معاف کیے جا چکے۔‘“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ میرے پاس آئیں گے، میں اپنے رب (کے پاس حاضری) کی اجازت چاہوں گا تو مجھے اجازت دی جائے گی، اسے دیکھتے ہی میں سجدے میں گر جاؤں گا، تو جب تک اللہ چاہے گا مجھے اس حالت (سجدہ) میں رہنے دے گا۔ پھر کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیے، کہیے: آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیے: آپ کو دیا جائے گا، سفارش کیجیے: آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب تعالیٰ کی ایسی حمد و ستائش بیان کروں گا جو میرا رب عز وجل خود مجھے سکھائے گا، پھر میں سفارش کروں گا۔ وہ میرے لیے حد مقرر کر دے گا، میں (اس کے مطابق) لوگوں کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا، پھر میں واپس آکر سجدے میں گر جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے اسی حالت میں رہنے دے گا، پھر کہا جائے گا: ’اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنا سر اٹھائیے، کہیے: آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیے: آپ کو ملے گا، سفارش کیجیے: آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی وہ حمد کروں گا جو میرا رب مجھے سکھائے گا، پھر میں سفارش کروں گا تو وہ میرے لیے پھر ایک حد مقرر فرما دے گا، میں ان کو دوزخ سے نکالوں گا اور جنت میں داخل کروں گا۔“ (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یاد نہیں، آپ نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا) پھر میں کہوں گا: ”اے میرے رب! آگ میں ان کے سوا اور کوئی باقی نہیں بچا جنہیں قرآن نے روک لیا ہے، یعنی جن کا (دوزخ میں) ہمیشہ رہنا (اللہ کی طرف سے) لازمی ہو گیا ہے۔“ ابن عبید نے اپنی روایت میں کہا: قتادہ نے کہا: یعنی جس کا ہمیشہ رہنا لازمی ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 475]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا، اور وہ اس کے لیے فکر مند ہوں گے۔“ (کہ اس پریشانی سے کیسے نجات پائی جائے) ابن عبید رحمہ اللہ نے کہا: ”اس غرض کے لیے (فکر) ان کے دل میں ڈالا جائے گا، تو وہ کہیں گے: اے کاش! ہم اپنے رب کے حضور کسی سفارشی کو لائیں؛ تاکہ وہ ہمیں اس جگہ سے آرام دلوائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور کہیں گے: آپ آدم علیہ السلام ہیں! تمام مخلوق کے باپ، اللہ تعالیٰ نے تجھے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور تیرے اندر اپنی روح ڈالی (یعنی اپنی پیدا کردہ روح)، اور فرشتوں کو حکم دیا، انہوں نے آپ کو سجدہ کیا۔ آپ ہمارے لیے اپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں، کہ وہ ہمیں اس جگہ سے (اس جگہ کی تکلیف سے) آرام پہنچائے۔ تو وہ جواب دیں گے: یہ میرا منصب نہیں (میں اس کے اہل نہیں)، تو وہ اپنی غلطی جس کا ارتکاب کیا تھا (یا اس کو بیان کر کے) اس کی بنا پر اپنے رب سے شرمائیں گے، لیکن تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ! وہ پہلا رسول ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ جواب دیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں، اور وہ اپنی غلطی جس کا ارتکاب کیا تھا، اس کو یاد کر کے اپنے رب سے شرمائیں گے، اور (کہیں گے) تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ! جسے اللہ نے اپنا خلیل بنایا ہے۔ تو وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ کہیں گے: یہ میرا مقام نہیں ہے اور وہ اپنی خطا کو یاد کریں گے جو ان سے ہوئی تھی، اور اس کی وجہ سے اپنے رب سے شرمائیں گے، اور کہیں گے: لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ! جن کو اللہ تعالیٰ نے کلام کرنے کا شرف بخشا، اور انہیں تورات عنایت کی۔ تو لوگ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے، تو وہ بھی کہیں گے: میں اس کا حق دار نہیں، اور اپنی خطا جو ان سے ہوئی تھی یاد کر کے اپنے رب سے شرمائیں گے، اور کہیں گے: لیکن تم عیسیٰ روح اللہ اور اس کے کلمہ کے پاس جاؤ! تو لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ بھی یہی کہیں گے: یہ میرا منصب نہیں ہے، لیکن تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ! جو ایسا بندہ ہے، جس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کیے جا چکے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ میرے پاس آئیں گے، تو میں اپنے رب سے اجازت چاہوں گا، (تاکہ میں سفارش کر سکوں) تو مجھے اجازت دی جائے گی، تو جب میں اسے (اللہ تعالیٰ کو) دیکھوں گا، سجدہ میں گر جاؤں گا۔ تو جب تک وہ چاہے گا مجھے اس حالت میں چھوڑے گا، پھر کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیے! کہیے! آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیے! دیے جاؤ گے، سفارش کیجیے! تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تو میں اپنا سر اٹھا لوں گا، اپنے رب کی ایسی حمد بیان کروں گا، جو میرا رب (اس وقت) سکھائے گا، پھر میں سفارش کروں گا، میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں (اسی حد کے مطابق) لوگوں کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا، پھر واپس آکر میں سجدہ ریز ہوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ جب چاہے گا، اس حالت میں رہنے دے گا، پھر کہا جائے گا: اپنا سر اٹھائیے اے محمد! کہیے! تمہاری بات سنی جائے گی۔ مانگیے! دیے جاؤ گے۔ سفارش کیجیے! تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اور اپنے رب کی وہ حمد بیان کروں گا، جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں سفارش کروں گا، تو وہ میرے لیے ایک حد مقرر کر دے گا، میں ان کو دوزخ سے نکالوں گا اور جنت میں داخل کروں گا۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے یاد نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی دفعہ فرمایا: ”تو میں کہوں گا: اے میرے رب! آگ میں صرف وہی لوگ رہ گئے ہیں جنہیں قرآن نے روک لیا ہے، یعنی جن کے لیے دوزخ میں ہمیشگی ثابت ہے۔“ ابن عبید رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں کہا: قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: ”جس کا ہمیشہ رہنا ضروری ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 475]
ترقیم فوادعبدالباقی: 193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الرقاق، باب: صفة الجنة والنار برقم (6565) انظر ((التحفة)) برقم (4136)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 193 ترقیم شاملہ: -- 476
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ومُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَهْتَمُّونَ بِذَلِكَ، أَوْ يُلْهَمُونَ ذَلِكَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ آتِيهِ الرَّابِعَةَ، أَوْ أَعُودُ الرَّابِعَةَ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا بَقِيَ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ.
دوسری سند سے جس میں (ابوعوانہ کے بجائے) سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مومن جمع ہوں گے اور اس (کی ہولناکیوں سے بچنے) کی فکر میں مبتلا ہوں گے یا یہ بات ان کے دلوں میں ڈالی جائے گی۔“ .... (آگے) ابوعوانہ کی حدیث کے مانند ہے، البتہ انہوں نے اس حدیث میں یہ کہا: ”پھر میں چوتھی بار اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گا (یا چوتھی بار لوٹوں گا) اور کہوں گا: ’اے میرے رب! ان کے سوا جنہیں قرآن (کے فیصلے) نے روک رکھا ہے اور کوئی باقی نہیں بچا۔‘“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 476]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مومن جمع ہوں گے، اور اس (پریشانی سے بچنے کی) فکر کریں گے، یا انہیں اس فکر کا الہام ہوگا۔“ جیسا کہ اوپر ابوعوانہ رحمہ اللہ کی حدیث گزری ہے، اور اس حدیث میں ہے: ”پھر میں چوتھی بار اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گا، یا چوتھی بار لوٹوں گا اور کہوں گا: اے میرے رب! صرف وہی لوگ رہ گئے ہیں، جنہیں قرآن نے روک رکھا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 476]
ترقیم فوادعبدالباقی: 193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في التفسير، باب: قول الله ﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾ برقم (4476) مطولا - وابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: ذكر الشفاعة برقم (4312) انظر ((التحفة)) برقم (1171)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 193 ترقیم شاملہ: -- 477
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَجْمَعُ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُلْهَمُونَ لِذَلِكَ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا، وَذَكَرَ فِي الرَّابِعَةِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا بَقِيَ فِي النَّارِ، إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ، أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ.
معاذ بن ہشام نے کہا: میرے والد نے مجھے قتادہ کے حوالے سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمع کرے گا، پھر اس (دن کی پریشانی سے بچنے) کے لیے ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی۔“ .... یہ حدیث بھی ان دونوں (ابوعوانہ اور سعید) کی حدیث کی طرح ہے، چوتھی دفعہ کے بارے میں یہ کہا: ”تو میں کہوں گا: ’اے میرے رب! آگ میں ان کے سوا اور کوئی باقی نہیں جسے قرآن (کے فیصلے) نے روک لیا ہے، یعنی جس کے لیے (آگ میں) ہمیشہ رہنا واجب ہو گیا ہے۔‘“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 477]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمع کرے گا، پھر اس دن کی پریشانی سے بچنے کے لیے الہام ہوگا۔“ یہ حدیث (ہشام رحمہ اللہ کی) بھی ان دونوں (ابو عوانہ رحمہ اللہ اور سعید رحمہ اللہ) کی طرح ہے۔ چوتھی بار کے بارے میں یہ بتایا: ”تو میں کہوں گا: اے میرے رب! آگ میں صرف وہی لوگ رہ گئے ہیں، جنہیں قرآن کے فیصلے کے مطابق روک لیا گیا ہے، یعنی جن کے لیے ہمیشگی ثابت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 477]
ترقیم فوادعبدالباقی: 193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير، باب: قول الله ﴿ وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ﴾ مطولا وفى التوحيد، باب: قول الله تعالى: ﴿لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ﴾ مطولا برقم (7410) وفى، باب: ما جاء في قول الله تعالى ﴿ إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ ﴾ برقم (7450) و من، باب: ما جاء في قوله عز وجل ﴿ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا ﴾ برقم (7516) انظر ((التحفة)) برقم (1357)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 193 ترقیم شاملہ: -- 478
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَهِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، ومُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَخْرُجُ منَ النَّارِ، مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ، مَنْ قَال: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ، مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً "، زَادَ ابْنُ مِنْهَالٍ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ يَزِيدُ : فَلَقِيتُ شُعْبَةَ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ، فَقَالَ شُعْبَةُ : حَدَّثَنَا بِهِ قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَدِيثِ، إِلَّا أَنَّ شُعْبَةَ، جَعَلَ مَكَانَ الذَّرَّةِ، ذُرَةً، قَالَ يَزِيدُ: صَحَّفَ فِيهَا أَبُو بِسْطَام.
محمد بن منہال الضریر نے کہا: ہمیں یزید بن زریع نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید بن ابی عروبہ اور دستوائی نے قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ....، اسی طرح ابوغسان مسمعی اور محمد بن مثنیٰ نے کہا: میرے والد نے مجھے قتادہ کے حوالے سے حدیث سنائی، (انہوں نے کہا:) ہمیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کو آگ سے نکال لیا جائے گا جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا اور اس کے دل میں ایک جو کے وزن کے برابر خیر ہوئی، پھر ایسے شخص کو آگ سے نکالا جائے گا جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر خیر ہوئی، پھر اس کو آگ سے نکالا جائے گا جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا اور اس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر ہوئی۔“ (گزشتہ متعدد احادیث سے وضاحت ہوتی ہے کہ خیر سے مراد ایمان ہے۔) ابن منہال نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ یزید نے کہا: میں شعبہ سے ملا اور انہیں یہ حدیث سنائی تو شعبہ نے کہا: ہمیں یہ حدیث قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائی، البتہ شعبہ نے ”ایک ذرے“ کے بجائے ”مکئی کا دانہ“ کہا۔ یزید نے کہا: اس لفظ میں ابوبسطام (شعبہ) سے تصحیف (حروف میں اشتباہ کی وجہ سے غلطی) ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 478]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہا اور اس کے دل میں جو کے دانے کے برابر خیر ہوگی، اسے آگ سے نکالا جائے گا، پھر آگ سے اسے نکالا جائے گا جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہا اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر خیر ہوگی، پھر آگ سے اسے نکالا جائے گا جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہا اور اس کے دل میں ذرہ برابر نیکی ہوگی۔“ ابن منہال رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں یزید رحمہ اللہ سے یہ اضافہ کیا کہ میں شعبہ رحمہ اللہ سے ملا اور انہیں یہ حدیث سنائی تو شعبہ رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں یہی حدیث قتادہ رحمہ اللہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائی، مگر شعبہ رحمہ اللہ نے «ذَرَّةٌ» کی جگہ «ذُرَّةٌ» کہا، یزید رحمہ اللہ نے کہا: اس لفظ میں ابو بسطام رحمہ اللہ (شعبہ) نے تصحیف کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 478]
ترقیم فوادعبدالباقی: 193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((الايمان)) باب: زيادة الايمان ونقصانه برقم (44) وفي التوحيد، باب: قول الله تعالى: ﴿ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ﴾ برقم (7410) والترمذي في ((جامعه)) في صفة جهنم، باب: ما جاء ان للنار نفسين وما ذكر من يخرج من الناس من اهل التوحيد برقم (2593) وابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: ذكر الشفاعة برقم (4312) انظر ((التحفة)) برقم (11356 و 1194 و 1272)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 193 ترقیم شاملہ: -- 479
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ . ح وحَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ ، قَالَ: انْطَلَقْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَتَشَفَّعْنَا بِثَابِتٍ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي الضُّحَى، فَاسْتَأْذَنَ لَنَا ثَابِتٌ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَأَجْلَسَ ثَابِتًا مَعَهُ عَلَى سَرِيرِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، إِنَّ إِخْوَانَكَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَسْأَلُونَكَ، أَنْ تُحَدِّثَهُمْ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ لَهُ: اشْفَعْ لِذُرِّيَّتِكَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِنَّهُ خَلِيلُ اللَّهِ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِنَّهُ كَلِيمُ اللَّهِ، فَيُؤْتَى مُوسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِعِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِنَّهُ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ، فَيُؤتَى عِيسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُوتَى، فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا، فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي، فَيُؤْذَنُ لِي، فَأَقُومُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ الآنَ يُلْهِمُنِيهِ اللَّهُ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَ، وَقُلْ: يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: رَبِّ أُمَّتِي، أُمَّتِي، فَيُقَالُ: انْطَلِقْ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ بُرَّةٍ أَوْ شَعِيرَةٍ مِنَ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا، فَأَنْطَلِقُ، فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ: يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: أُمَّتِي، أُمَّتِي، فَيُقَالُ لِي: انْطَلِقْ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا، فَأَنْطَلِقُ، فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَعُودُ إِلَى رَبِّي، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ: يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي، أُمَّتِي، فَيُقَالُ لِي: انْطَلِقْ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ، أَدْنَى، أَدْنَى، أَدْنَى مِنْ مِثْقَالِ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ، فَأَنْطَلِقُ، فَأَفْعَلُ "، هَذَا حَدِيثُ أَنَسٍ الَّذِي أَنْبَأَنَا بِهِ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَلَمَّا كُنَّا بِظَهْرِ الْجَبَّانِ، قُلْنَا: لَوْ مِلْنَا إِلَى الْحَسَنِ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ مُسْتَخْفٍ فِي دَارِ أَبِي خَلِيفَةَ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا سَعِيدٍ، جِئْنَا مِنْ عِنْدِ أَخِيكَ أَبِي حَمْزَةَ، فَلَمْ نَسْمَعْ مِثْلَ حَدِيثٍ حَدَّثَنَاهُ فِي الشَّفَاعَةِ، قَالَ: هِيَهِ فَحَدَّثْنَاهُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: هِيَهِ، قُلْنَا: مَا زَادَنَا؟ قَالَ: قَدْ حَدَّثَنَا بِهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ جَمِيعٌ، وَلَقَدْ تَرَكَ شَيْئًا مَا أَدْرِي أَنَسِيَ الشَّيْخُ أَوْ كَرِهَ، أَنْ يُحَدِّثَكُمْ فَتَتَّكِلُوا، قُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا فَضَحِكَ، وَقَالَ: خُلِقَ الإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ سورة الأنبياء آية 37 مَا ذَكَرْتُ لَكُمْ هَذَا، إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي فِي الرَّابِعَةِ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ: يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: لَيْسَ ذَاكَ لَكَ، أَوَ قَالَ: لَيْسَ ذَاكَ إِلَيْكَ، وَلَكِنْ، وَعِزَّتِي، وَكِبْرِيَائِي، وَعَظَمَتِي، وَجِبْرِيَائِي، لَأُخْرِجَنَّ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ "، قَالَ: فَأَشْهَدُ عَلَى الْحَسَنِ ، أَنَّهُ حَدَّثَنَا بِهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أُرَاهُ، قَالَ: قَبْلَ عِشْرِينَ سَنَةً، وَهُوَ يَوْمِئِذٍ جَمِيعٌ.
معبدبن ہلال عنزی نے کہا: ہم لوگ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ثابت (البنانی) کو اپنا سفارشی بنایا (ان کے ذریعے سے ملاقات کی اجازت حاصل کی۔) ہم ان کے ہاں پہنچے تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ثابت نے ہمارے لیے (اندر آنے کی) اجازت لی۔ ہم اندر ان کے سامنے حاضر ہوئے۔ انہوں نے ثابت کو اپنے ساتھ اپنی چارپائی پر بٹھا لیا۔ ثابت نے ان سے کہا: ’اے ابوحمزہ! بصرہ کے باشندوں میں سے آپ کے (یہ) بھائی آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ انہیں شفاعت کی حدیث سنائیں۔‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: ”جب قیامت کا دن ہو گا تو لوگ موجوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے۔ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے: ’اپنی اولاد کے حق میں سفارش کیجیے (کہ وہ میدان حشر کے مصائب اور جاں گسل انتظار سے نجات پائیں۔)‘ وہ کہیں گے: ’میں اس کے لیے نہیں ہوں۔ لیکن تم ابراہیم علیہ السلام کا دامن تھام لو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے خلیل (خالص دوست) ہیں۔‘ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے۔ وہ جواب دیں گے: ’میں اس کے لیے نہیں ہوں۔ لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچ جاؤ، وہ کلیم اللہ ہیں (جن سے اللہ نے براہ راست کلام کیا)۔‘ تو موسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضری ہو گی۔ وہ فرمائیں گے: ’میں اس کے لیے نہیں ہوں۔ لیکن تم عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ لگ جاؤ کیونکہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔‘ تو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آمد ہو گی، وہ فرمائیں گے: ’میں اس کے لیے نہیں ہوں۔ لیکن تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جاؤ۔‘ تو (ان کی) آمد میرے پاس ہو گی۔ میں جواب دوں گا: ’اس (کام) کے لیے میں ہوں۔‘ میں چل پڑوں گا اور اپنے رب کے سامنے حاضری کی اجازت چاہوں گا، مجھے اجازت عطا کی جائے گی، میں اس کے سامنے کھڑا ہوں گا اور تعریف کی ایسی باتوں کے ساتھ اس کی حمد کروں گا جس پر میں اب قادر نہیں ہوں، اللہ تعالیٰ ہی یہ (حمد) میرے دل میں ڈالے گا، پھر میں اس کے حضور سجدے میں گر جاؤں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں: آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگیں: آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں: آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘ میں عرض کروں گا: ’اے میرے رب! میری امت! میری امت!‘ تو مجھ سے کہا جائے گا: ’جائیں، جس کے دل میں گندم یا جو کے دانے کے برابر ایمان ہے اسے نکال لیں۔‘ میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا، پھر میں اپنے رب تعالیٰ کے حضور لوٹ آؤں گا اور حمد کے انہی اسلوبوں سے اس کی تعریف بیان کروں گا، پھر اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا تو مجھے کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں: آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگیں: آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں: آپ کی سفارش قبول ہو گی۔‘ میں عرض کروں گا: ’اے میرے رب! میری امت! میری امت!‘ مجھے کہا جائے گا: ’جائیں، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو، اسے نکال لیں۔‘ تو میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا، پھر اپنے رب کے حضور لوٹ آؤں گا اور اس جیسی تعریف سے اس کی حمد کروں گا، پھر اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا۔ تو مجھ سے کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیں، کہیں: آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگیں: آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں: آپ کی سفارش قبول ہو گی۔‘ تو میں کہوں گا: ’اے میرے رب! میری امت! میری امت!‘ تو مجھ سے کہا جائے گا: ’جائیں، جس کے دل میں رائی کے دانے سے کم، اس سے (بھی) کم، اس سے (اور بھی) کم ایمان ہو اسے آگ سے نکال لیں۔‘ تو میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا۔“ یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جو انہوں نے ہمیں بیان کی۔ (معبدبن ہلال عنزی نے) کہا: چنانچہ ہم ان کے ہاں سے نکل آئے، جب ہم چٹیل میدان کے بالائی حصے پر پہنچے تو ہم نے کہا: (کیا ہی اچھا ہو) اگر ہم حسن بصری کا رخ کریں اور انہیں سلام کرتے جائیں۔ وہ (حجاج بن یوسف کے ڈر سے) ابوخلیفہ کے گھر میں چھپے ہوئے تھے۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہیں سلام کیا۔ ہم نے کہا: ’جناب ابوسعید! ہم آپ کے بھائی ابوحمزہ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) کے پاس سے آرہے ہیں۔ ہم نے کبھی اس جیسی حدیث نہیں سنی جو انہوں نے شفاعت کے بارے میں ہمیں سنائی۔‘ حسن بصری نے کہا: ’لائیں، سنائیں۔‘ ہم نے انہیں حدیث سنائی تو انہوں نے کہا: ’آگے سنائیں۔‘ ہم نے کہا: ’انہوں نے ہمیں اس سے زیادہ نہیں سنایا۔‘ انہوں (حسن بصری) نے کہا: ’ہمیں انہوں نے یہ حدیث بیس برس پہلے سنائی تھی، اس وقت وہ پوری قوتوں کے مالک تھے۔ انہوں نے کچھ حصہ چھوڑ دیا ہے، معلوم نہیں، شیخ بھول گئے یا انہوں نے تمہیں پوری حدیث سنانا پسند نہیں کیا کہ کہیں تم (اس میں بیان کی ہوئی بات ہی پر) بھروسا نہ کر لو۔‘ ہم نے عرض کی: ’آپ ہمیں سنا دیں۔‘ تو وہ ہنس پڑے اور کہا: «إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا» ”انسان جلدباز پیدا کیا گیا ہے،“ میں نے تمہارے سامنے اس بات کا تذکرہ اس کے سوا (اور کسی وجہ سے) نہیں کیا تھا مگر اس لیے کہ میں تمہیں یہ حدیث سنانا چاہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں چوتھی بار اپنے رب کی طرف لوٹوں گا، پھر انہی تعریفوں سے اس کی حمد بیان کروں گا، پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو مجھ سے کہا جائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیں اور کہیں: آپ کی بات سنی جائے گی، مانگیں: آپ کو دیا جائے گا اور سفارش کریں: آپ کی سفارش قبول ہو گی۔‘ تو میں عرض کروں گا: ’اے میرے رب! مجھے ان کے بارے میں (بھی) اجازت دیجیے جنہوں نے (صرف) ’لا إله إلا الله‘ کہا۔‘ اللہ فرمائے گا: ’یہ آپ کے لیے نہیں لیکن میری عزت کی قسم، میری کبریائی، میری عظمت اور میری بڑائی کی قسم! میں ان کو (بھی) جہنم سے نکال لوں گا جنہوں نے ’لا إله إلا الله‘ کہا۔‘“ معبدکا بیان ہے: میں حسن بصری کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ روایت سنی۔ میرا خیال ہے، انہوں نے کہا: بیس سال پہلے، اور اس وقت ان کی صلاحتیں بھرپور تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 479]
معبد بن ہلال عنزی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور سفارش کے لیے ثابت رحمہ اللہ کو ساتھ لیا، تو ہم ان کے پاس اس وقت پہنچے جب وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ثابت رحمہ اللہ نے ہمیں اجازت لے کر دی، تو ہم اندر ان کے پاس گئے۔ انہوں نے ثابت رحمہ اللہ کو اپنے ساتھ اپنی چارپائی پر بٹھا لیا، تو ثابت رحمہ اللہ نے ان سے عرض کیا: اے ابو حمزہ! آپ کے بصری بھائی آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ انہیں شفاعت کے بارے میں حدیث سنائیں! حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: ”جب قیامت کا دن ہو گا (گھبراہٹ کی بنا پر) لوگ ایک دوسرے میں گھسیں گے، تو (سوچ بچار کے بعد) پہلے آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے: اپنی اولاد کے حق میں سفارش کیجیے (کہ وہ میدانِ محشر کے مصائب سے نجات پائیں اور حساب کتاب شروع ہو) تو وہ جواب دیں گے: میں اس کا حق دار نہیں، لیکن تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ! کیونکہ وہ اللہ کے خلیل ہیں۔ تو لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے، تو وہ جواب دیں گے: یہ میرا حق نہیں ہے۔ لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ! کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہے۔ تو موسیٰ علیہ السلام کے پاس جایا جائے گا، تو وہ فرمائیں گے: یہ میرا منصب نہیں ہے، لیکن تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ! کیونکہ وہ روح اللہ اور اس کا کلمہ ہیں۔ تو عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جایا جائے گا، تو وہ فرمائیں گے: یہ میرا مقام نہیں ہے، لیکن تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ! تو میرے پاس آیا جائے گا۔ تو میں جواب دوں گا: یہ میرا منصب ہے (میں اس کا اہل ہوں) میں چلوں گا اور اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا، تو مجھے اجازت مل جائے گی۔ تو میں اللہ کے سامنے کھڑا ہوں گا اور اس کی ایسی خوبیوں سے تعریف کروں گا جن کے بیان کی اب مجھ میں قدرت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ان کا مجھے الہام کرے گا، پھر میں اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا، تو مجھے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، کہو! تیری بات سنی جائے گی۔ مانگو! دیے جاؤ گے، سفارش کرو! تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تو میں عرض کروں گا: اے میرے رب! میری امت! میری امت! تو کہا جائے گا: جاؤ! جس کے دل میں گندم یا جو کے دانے کے برابر ایمان ہے، تم اسے نکال کر لاؤ۔ میں جاؤں گا اور یہ کام کروں گا، پھر اپنے رب کی طرف لوٹوں گا اور ان ہی تعریفات و خوبیوں سے اس کی حمد بیان کروں گا، پھر اس کے حضور سجدہ میں گر جاؤں گا، تو مجھے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ! کہو! تیری بات سنی جائے گی، مانگو! دیے جاؤ گے۔ سفارش کرو! تمہاری سفارش قبول ہو گی۔ تو میں عرض کروں گا: میری امت! میری امت! تو مجھے کہا جائے گا: جائیے! جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو، اسے نکال لائیے! تو میں جاؤں گا اور یہ کام کروں گا۔ پھر اپنے رب کی طرف لوٹ آؤں گا، تو ان ہی خوبیوں سے اس کی حمد بیان کروں گا، پھر اس کے حضور سجدہ میں گر جاؤں گا۔ تو مجھے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیے! کہیے! تیری بات سنی جائے گی، مانگیے! تمہیں ملے گا، سفارش کیجیے! آپ کی سفارش قبول ہو گی۔ تو میں کہوں گا: اے میرے رب! میری امت! میری امت! تو مجھے کہا جائے گا: چلیے جس کے دل میں رائی کے دانے سے کم، بہت ہی کم ایمان ہو اسے آگ سے نکال لائیے! تو میں جاؤں گا اور یہ کام کروں گا۔“ یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جو انہوں نے ہمیں سنائی، تو ہم ان کے ہاں سے نکل آئے۔ جب ہم صحرا میں آئے تو ہم نے کہا: اے کاش! ہم حسن بصری رحمہ اللہ کا رخ کریں اور انہیں سلام کرتے جائیں۔ اور وہ (حجاج بن یوسف کے ڈر سے) ابو خلیفہ کے گھر چھپے ہوئے تھے۔ ہم ان کے پاس پہنچے، انہیں سلام عرض کیا اور ہم نے عرض کیا: اے ابو سعید! (حسن بصری رحمہ اللہ کی کنیت ہے) ہم آپ کے بھائی ابو حمزہ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) کے پاس سے آ رہے ہیں، انہوں نے ہمیں شفاعت کے بارے میں جو حدیث سنائی ہے اس جیسی حدیث ہم نے نہیں سنی۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: سنائیے! ہم نے انہیں حدیث سنائی تو انہوں نے کہا: آگے بیان کیجیے! ہم نے کہا: اس سے زیادہ انہوں نے ہمیں نہیں سنائی۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: انہوں نے یہ حدیث ہمیں بیس برس پہلے سنائی تھی، جب کہ وہ اس وقت بھرپور جوان تھے۔ (ان کے قویٰ مضبوط تھے) انہوں نے کچھ چھوڑ دیا ہے۔ میں نہیں جانتا استاد صاحب بھول گئے ہیں یا انہوں نے تمہیں پوری حدیث سنانا پسند نہیں کیا کہ کہیں تم اس پر بھروسہ نہ کر لو۔ (اور نیک اعمال کرنا ترک کر دو) ہم نے عرض کیا: آپ ہمیں سنا دیں! تو وہ ہنس پڑے اور کہا: انسان جلد باز پیدا ہوا ہے۔ میں نے تمہارے سامنے اس کا تذکرہ اس لیے کیا ہے کہ میں تمہیں سنانا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں اپنے رب عز و جل کی خدمت میں چوتھی بار حاضر ہوں گا، ان ہی تعریفات سے اس کی تعریف کروں گا، پھر اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں گا، تو مجھے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو! تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو! تمہیں ملے گا، سفارش کرو! آپ کی سفارش قبول ہوگی۔ تو میں عرض کروں گا: اے میرے رب! مجھے ان کے بارے میں اجازت دیجیے جنہوں نے صرف «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ آپ کا مقام نہیں ہے، یا آپ اس کے حق دار نہیں، لیکن میری عزت، کبریائی، میری عظمت اور میری قوت و جبروت کی قسم! میں ان کو نکال کر رہوں گا جنہوں نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہا ہے۔“ راوی کا بیان ہے: میں حسن بصری رحمہ اللہ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ روایت سنی ہے، میرا خیال ہے انہوں نے کہا بیس سال پہلے جب کہ ان کے قویٰ مجتمع تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 479]
ترقیم فوادعبدالباقی: 193
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التوحيد، باب: كلام الرب عزوجل يوم القيامة مع الانبياء، وغيرهم برقم (7510) انظر ((التحفة)) برقم (523 و 1599)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 194 ترقیم شاملہ: -- 480
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ومُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاتَّفَقَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ، إِلَّا مَا يَزِيدُ أَحَدُهُمَا مِنَ الْحَرْفِ بَعْدَ الْحَرْفِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِلَحْمٍ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ، فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً، فَقَالَ: أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَهَلْ تَدْرُونَ بِمَ ذَاكَ يَجْمَعُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ؟ فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي، وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ، فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ، وَمَا لَا يَحْتَمِلُونَ، فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ: أَلَا تَرَوْنَ مَا أَنْتُمْ فِيهِ، أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَكُمْ، أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ؟، فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ: ائْتُوا آدَمَ، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا، فَيَقُولُ آدَمُ: إِنَّ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنَّهُ نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ، نَفْسِي، نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ، فَيَأْتُونَ نُوحًا، فَيَقُولُونَ: يَا نُوحُ، أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى الأَرْضِ، وَسَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا، فَيَقُولُ لَهُمْ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ، دَعَوْتُ بِهَا عَلَى قَوْمِي، نَفْسِي، نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا، فَيَقُولُ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَذَكَرَ كَذَبَاتِهِ، نَفْسِي، نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى، فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، فَيَقُولُونَ: يَا مُوسَى، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، فَضَّلَكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِتَكْلِيمِهِ عَلَى النَّاسِ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا، فَيَقُولُ لَهُمْ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنِّي قَتَلْتُ: نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا، نَفْسِي، نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، فَيَأْتُونَ عِيسَى، فَيَقُولُونَ: يَا عِيسَى، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ، وَكَلِمَةٌ مِنْهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا، فَيَقُولُ لَهُمْ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ: إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ لَهُ ذَنْبًا، نَفْسِي، نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْتُونِّي، فَيَقُولُونَ: يَا مُحَمَّدُ، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، وَخَاتَمُ الأَنْبِيَاءِ، وَغَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا، فَأَنْطَلِقُ، فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي، ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ وَيُلْهِمُنِي مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا، لَمْ يَفْتَحْهُ لِأَحَدٍ قَبْلِي، ثُمَّ يُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي، أُمَّتِي، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ، أَدْخِلِ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ مِنَ البَابِ الأَيْمَنِ مِنَ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الأَبْوَابِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ، أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى "،
ابوحیان نے ابوزرعہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور دستی اٹھا کر آپ کو پیش کی گئی کیونکہ آپ کو مرغوب تھی، آپ نے اپنے دندان مبارک سے ایک بار اس میں سے تناول کیا اور فرمایا: ”میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردار ہوں گا۔ کیا تم جانتے ہو یہ کیسے ہو گا؟ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام اگلوں اور پچھلوں کو ایک ہموار چٹیل میدان میں جمع کرے گا۔ بلانے والا سب کو اپنی آواز سنائے گا اور (اللہ کی) نظر سب کے آر پار (سب کو دیکھ رہی) ہو گی۔ سورج قریب ہو جائے گا اور لوگوں کو اس قدر غم اور کرب لاحق ہو گا جو ان کی طاقت سے زیادہ اور ناقابل برداشت ہو گا۔ لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: ’کیا تم نہیں دیکھتے تم کس حالت میں ہو؟ کیا تم نہیں دیکھتے تم پر کیسی مصیبت آن پڑی ہے؟ کیا تم کوئی ایسا شخص تلاش نہیں کرتے جو تمہاری سفارش کر دے؟‘ یعنی تمہارے رب کے حضور۔ چنانچہ لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: ’آدم علیہ السلام کے پاس چلو۔‘ تو وہ آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: ’اے آدم! آپ سب انسانوں کے والد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور آپ میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں۔ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم پر کیسی مصیبت آن پڑی ہے؟‘ آدم علیہ السلام جواب دیں گے: ’میرا رب آج اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں اس سے پہلے کبھی نہیں آیا اور نہ اس کے بعد کبھی آئے گا اور یقیناً اس نے مجھے ایک خاص درخت (کے قریب جانے) سے روکا تھا لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی تھی، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان بچانی ہے۔ تم کسی اور کے پاس جاؤ، نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔‘ لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: ’اے نوح! آپ (اہل) زمین کی طرف سے بھیجے گئے سب سے پہلے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شکر گزار بندے کا نام دیا ہے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم پر کیسی مصیبت آن پڑی ہے؟‘ وہ انہیں جواب دیں گے: ’آج میرا رب اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں نہ وہ اس سے پہلے کبھی آیا نہ آیندہ کبھی آئے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے لیے ایک دعا (خاص کی گئی) تھی وہ میں نے اپنی قوم کے خلاف مانگ لی۔ (آج تو) میری اپنی جان (پر بنی) ہے۔ مجھے اپنی جان (کی فکر) ہے۔ تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔‘ چنانچہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے اور عرض گزار ہوں گے: ’(اے ابراہیم!) آپ اللہ کے نبی اور اہل زمین میں سے اس کے خلیل (صرف اس کے دوست) ہیں، اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں، کیا آپ نہیں دیکھتے ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم پر کیا مصیبت آن پڑی ہے؟‘ تو ابراہیم علیہ السلام ان سے کہیں گے: ’میرا رب اس قدر غصے میں ہے کہ اس سے پہلے کبھی اتنے غصے میں نہیں آیا اور نہ آیندہ کبھی آئے گا اور اپنے (تین) جھوٹ یاد کریں گے، (اور کہیں) مجھے تو اپنی جان بچانے کی فکر ہے، مجھے اپنی جان بچانی ہے۔ کسی اور کے پاس جاؤ، موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔‘ لوگ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: ’اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پیغام اور اپنی ہم کلامی کے ذریعے سے فضیلت عطا کی، اللہ کے حضور ہمارے لیے سفارش کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم پر کیا مصیبت آن پڑی ہے؟‘ موسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے: ’میرا رب آج اس قدر غصے میں ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی اس قدر غصے میں آیا اور نہ اس کے بعد آئے گا۔ میں ایک جان کو قتل کر چکا ہوں جس کے قتل کا مجھے حکم نہ دیا گیا تھا۔ میری جان (کا کیا ہو گا؟) میری جان (کیسے بچے گی؟) عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔‘ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: ’اے عیسیٰ! آپ اللہ کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم علیہا السلام کی طرف القاء کیا اور اس کی روح ہیں، اس لیے آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں، کیا آپ نہیں دیکھتے ہماری حالت جس میں ہم ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم پر کیسی مصیبت آن پڑی ہے؟‘ تو عیسیٰ علیہ السلام انہیں جواب دیں گے: ’میرا رب اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں نہ وہ اس سے پہلے آیا اور نہ آیندہ کبھی آئے گا،‘ وہ اپنی کسی خطا کا ذکر نہیں کریں گے، (کہیں گے) ’مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان بچانی ہے۔ کسی اور کے پاس جاؤ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔‘ لوگ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے: ’اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ (اگر ہوتے تو بھی) معاف کر دیے، اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں، کیا آپ نہیں دیکھتے ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم پر کیا مصیبت آن پڑی ہے؟‘ تو میں چل پڑوں گا اور عرش کے نیچے آؤں گا اور اپنے رب کے حضور سجدے میں گر جاؤں گا، پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی ایسی تعریفوں اور اپنی ایسی بہترین ثنا (کے دروازے) کھول دے گا اور انہیں میرے دل میں ڈالے گا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے نہیں کھولے گئے، پھر (اللہ) فرمائے گا: ’اے محمد! اپنا سر اٹھائیے، مانگیے: آپ کو ملے گا، سفارش کیجیے: آپ کی سفارش قبول ہو گی۔‘ تو میں سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا: ’اے میرے رب! میری امت! میری امت!‘ تو کہا جائے گا: ’اے محمد! آپ کی امت کے جن لوگوں کا حساب و کتاب نہیں ان کو جنت کے دروازے میں سے دائیں دروازے سے داخل کر دیجیے اور وہ جنت کے باقی دروازوں میں (بھی) لوگوں کے ساتھ شریک ہیں۔‘ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جنت کے دو کواڑوں کے درمیان اتنا (فاصلہ) ہے جتنا مکہ اور (شہر بصر) یا مکہ اور بصری کے درمیان ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 480]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور آپ کو دستی کا گوشت پیش کیا گیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دستی مرغوب تھی۔ آپ نے اس سے دانتوں سے ایک دفعہ گوشت کاٹا اور فرمایا: ”قیامت کے دن میں تمام انسانوں کا سردار ہوں گا، اور کیا تم جانتے ہو یہ کیسے ہوگا؟ اللہ عزوجل قیامت کے دن تمام پہلوں اور پچھلوں کو ایک کھلے ہموار میدان میں جمع کرے گا۔ منادی کی آواز سب کو سنائی دے گی اور دیکھنے والے کی نظر سب پر پڑے گی۔ آفتاب قریب ہو جائے گا اور لوگوں کو اس قدر غم اور مصیبت پہنچے گی جو ان کے لیے ناقابل برداشت ہو گی، جس کو وہ برداشت نہیں کر سکیں گے، تو لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو، تم کس حالت میں ہو؟ تمہیں کس قدر پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے؟ کیا تم کسی کو تلاش نہیں کرو گے جو تمہارے رب کے حضور تمہاری سفارش کرے؟ تو لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: آدم علیہ السلام کے پاس چلو۔ پھر وہ آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: اے آدم! آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دستِ مبارک سے بنایا ہے، اور آپ میں اپنی خصوصی روح پھونکی، فرشتوں کو حکم دیا، تو وہ آپ کے حضور جھک گئے۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں، ہم کس قدر پریشان ہیں؟ آپ دیکھ نہیں رہے ہمیں کس قدر مصیبت پہنچ چکی ہے؟ تو آدم علیہ السلام جواب دیں گے: یقیناً میرا رب آج اس قدر ناراض ہے، کہ اس سے پہلے کبھی اس قدر ناراض نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے بعد اس قدر ناراض ہوگا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس نے مجھے درخت سے روکا تھا، لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی۔ آج مجھے تو اپنی ہی فکر ہے، تم میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ! تو لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: اے نوح! آپ اہل زمین کی طرف سب سے پہلے رسول ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شکر گزار بندہ کا نام دیا ہے۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں ہم کس قدر پریشانی میں ہیں؟ کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں ہمیں کس قدر مصیبت پہنچ چکی ہے؟ تو وہ انہیں جواب دیں گے: آج میرا رب اس قدر غصے میں ہے کہ اتنا کبھی اس سے پہلے غصہ میں نہیں آیا، نہ ہی اس کے بعد کبھی اس قدر غصے میں آئے گا۔ صورتِ حال یہ ہے کہ مجھے ایک دعا کرنے کا حق حاصل تھا وہ میں نے اپنی قوم کے خلاف کر لی، آج تو مجھے اپنی فکر دامن گیر ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ! تو لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض گزار ہوں گے: آپ اللہ کے نبی اور اہل زمین میں سے اس کے خلیل ہیں، ہمارے لیے اپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں! کیا آپ ہماری حالت دیکھ نہیں رہے ہیں؟ کیا ہم جس قدر تکلیف میں مبتلا ہیں وہ آپ کو نظر نہیں آ رہی؟ تو ابراہیم علیہ السلام انہیں کہیں گے: میرا رب آج اس قدر غضب ناک ہے کہ اس قدر اس سے پہلے غضبناک نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، اور اپنے توریوں کا تذکرہ کریں گے، مجھے تو اپنی ہی فکر دامن گیر ہے، میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ! تو لوگ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے: اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پیغامات اور ہم کلامی کی وجہ سے لوگوں پر فضیلت بخشی ہے۔ ہماری خاطر اللہ کے حضور سفارش کیجیے۔ کیا آپ ہماری بے بسی کو نہیں دیکھ رہے؟ کیا ہم جس قدر تکلیف میں مبتلا ہیں، آپ اس کا ملاحظہ نہیں کر رہے؟ تو موسیٰ علیہ السلام ان کو کہیں گے: میرا رب آج اس قدر غصہ میں ہے کہ اس سے پہلے اس قدر غضبناک نہیں ہوا، اور نہ ہی اس کے بعد اس قدر ناراض ہوگا، اور میں ایک جان کو قتل کر چکا ہوں، جس کے قتل کی مجھے اجازت نہ تھی۔ مجھے تو اپنی ہی فکر لاحق ہے، عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ! لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے: اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اور آپ نے لوگوں سے پنگھوڑے میں گفتگو کی، آپ اللہ کا کلمہ ہیں، جس کا اس نے مریم علیہا السلام کی طرف القاء کیا، اور اس کی روح ہیں، اس لیے اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں! کیا آپ ہماری حالت کو نہیں دیکھ رہے؟ کیا آپ نہیں دیکھ رہے، ہم کس قدر مصائب میں مبتلا ہیں؟ تو عیسیٰ علیہ السلام انہیں جواب دیں گے: میرا رب آج اس قدر غصہ میں ہے کہ اس سے پہلے کبھی اس قدر غصے میں نہیں ہوا، نہ اس کے بعد اس قدر غصے میں ہوگا۔ (وہ) اپنی کسی خطا کا ذکر نہیں کریں گے، مجھے اپنی ہی فکر ہے، میرے سوا کسی کے پاس جاؤ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ! تو لوگ میرے پاس آ کر کہیں گے: اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں، اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں۔ کیا آپ ہماری حالت نہیں دیکھ رہے؟ کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہم کس قدر تکلیف میں مبتلا ہیں؟ تو میں چلوں گا اور عرش کے نیچے آ کر اپنے رب کے حضور سجدہ میں گر جاؤں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنے محامد اور بہترین ثناء کا اظہار فرمائے گا، اور میرے دل میں ڈالے گا، مجھ سے پہلے کسی کو ان سے آگاہ نہیں کیا، پھر کہا جائے گا: «يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، سَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ» ”اے محمد! اپنا سر اٹھا! مانگ! تمہیں ملے گا، سفارش کیجیے! تیری سفارش قبول ہوگی۔“ تو میں سر اٹھا کر عرض کروں گا: «يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي» ”اے میرے رب! میری امت! میری امت!“ (یعنی میری امت کو بخش دے) تو کہا جائے گا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی امت کے ان لوگوں کو جن کا حساب و کتاب نہیں، جنت کے دروازوں میں سے دائیں دروازے سے داخل کیجیے اور وہ جنت کے باقی دروازوں میں لوگوں کے ساتھ شریک ہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جنت کے دروازوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا فاصلہ مکہ اور ہجر یا مکہ اور بصریٰ کے درمیان ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 480]
ترقیم فوادعبدالباقی: 194
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((احاديث الانبياء)) باب يزفون النسلان فى المشي ببرعة (3361) وفي، باب: قول الله عز وجل: ﴿ لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ ﴾ برقم (3340) وفي التفسير، باب: ﴿ ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا ﴾ برقم (4712) والترمذى في ((جامعه)) في الزهد، باب: ما جاء في الشافعة وقال: هذا حديث حسن صحيح، برقم (2434) وفي الاطعمة، باب: ما جاء فى اى اللحم كان احب الى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم (1837) باختصار - وابن ماجه في ((سننه)) في الاطعمة، باب: اطايب اللحم - مختصراً برقم (3307) انظر ((التحفة)) برقم (14927)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 194 ترقیم شاملہ: -- 481
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ مِنْ ثَرِيدٍ وَلَحْمٍ، فَتَنَاوَلَ الذِّرَاعَ، وَكَانَتْ أَحَبَّ الشَّاةِ إِلَيْهِ، فَنَهَسَ نَهْسَةً، فَقَالَ: " أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ نَهَسَ أُخْرَى، فَقَالَ: أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابَهُ لَا يَسْأَلُونَهُ، قَالَ: أَلَا تَقُولُونَ كَيْفَهْ؟ قَالُوا: كَيْفَهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ وَزَادَ فِي قِصَّةِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: وَذَكَرَ قَوْلَهُ: فِي الْكَوْكَبِ هَذَا رَبِّي سورة الأنعام آية 76، وقَوْله لِآلِهَتِهِمْ: بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63، وقَوْله: إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ إِلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ، أَوْ هَجَرٍ وَمَكَّةَ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ، قَالَ.
(ایک دوسری سند سے) عمارہ بن قعقاع نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ثرید اور گوشت کا پیالہ رکھا گیا، آپ نے دستی اٹھائی، آپ کو بکری (کے گوشت) میں سب سے زیادہ یہی حصہ پسند تھا، آپ نے اس میں سے ایک بار اپنے دندان مبارک سے تناول کیا اور فرمایا: ”میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا۔“ پھر دوبارہ تناول کیا اور فرمایا: ”میں قیامت کے روز تمام انسانوں کا سردار ہوں گا۔“ جب آپ نے دیکھا کہ آپ کے ساتھی (اس کے بارے میں) آپ سے کچھ نہیں پوچھ رہے تو آپ نے فرمایا: ”تم پوچھتے کیوں نہیں کہ یہ کیسے ہو گا؟“ انہوں نے پوچھا: ’اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ہو گا؟‘ آپ نے فرمایا: ”لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے.....“ (عمارہ نے بھی) ابوزرعہ کے حوالے سے ابوحیان کی بیان کردہ حدیث کی طرح بیان کی اور ابراہیم علیہ السلام کے واقعے میں یہ اضافہ کیا: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”ابراہیم علیہ السلام نے ستارے کے بارے میں اپنا قول: ’یہ میرا رب ہے،‘ اور ان کے معبودوں کے بارے میں یہ کہنا: ’بلکہ یہ کام ان کے بڑے نے کیا ہے،‘ اور یہ کہنا: ’میں بیمار ہوں،‘ یاد کیا۔“ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! چوکھٹ کے دونوں بازؤں تک جنت کے کواڑوں میں سے (ہر) دو کواڑوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان، یا (فرمایا) ہجر اور مکہ کے درمیان ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 481]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ثرید اور گوشت کا پیالہ رکھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دستی کو اٹھا لیا اور آپ کو بکری کے گوشت سے سب سے زیادہ یہی حصہ پسند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک دفعہ دانتوں سے نوچا اور فرمایا: ”میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا۔“ پھر دوبارہ گوشت نوچا اور فرمایا: ”میں قیامت کے روز تمام انسانوں کا سردار ہوں گا۔“ جب آپ نے دیکھا کہ آپ کے ساتھی اس کا سبب نہیں پوچھ رہے تو آپ نے فرمایا: ”تم کیوں نہیں پوچھتے یہ کیوں ہوگا؟“ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کا سبب کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ”لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔“ عمارہ رحمہ اللہ نے بھی حدیث مذکورہ بالا سند سے ابو حیان رحمہ اللہ نے ابو زرعہ رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح بیان کی اور ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں یہ اضافہ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام نے کہا: ”میں نے کواکب (ستاروں) کے بارے میں کہا: ﴿هَٰذَا رَبِّي﴾ [سورة الأنعام: 76] ”یہ میرا رب ہے“ اور ان کے معبودوں کے بارے میں کہا: ”بلکہ یہ کام ان کے بڑے نے کیا ہے“ اور کہا: ”میں بیمار ہوں۔““ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اس کی قسم! جنت کے دروازوں کے دونوں پٹوں کا فاصلہ چوکھٹ تک اتنا ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان، یا ہجر اور مکہ کے درمیان کا فاصلہ۔“ مجھے یاد نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے کس شہر کا نام لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 481]
ترقیم فوادعبدالباقی: 194
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14914)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 195 ترقیم شاملہ: -- 482
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفِ بْنِ خَلِيفَةَ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبُو مَالِكٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَجْمَعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى النَّاسَ، فَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ، حَتَّى تُزْلَفَ لَهُمُ الْجَنَّةُ، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: يَا أَبَانَا، اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: وَهَلْ أَخْرَجَكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، إِلَّا خَطِيئَةُ أَبِيكُمْ آدَمَ، لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، اذْهَبُوا إِلَى ابْنِي إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ، قَالَ: فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، إِنَّمَا كُنْتُ خَلِيلًا مِنْ وَرَاءَ، وَرَاءَ، اعْمِدُوا إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا، فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى، كَلِمَةِ اللَّهِ وَرُوحِهِ، فَيَقُولُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُومُ فَيُؤْذَنُ لَهُ، وَتُرْسَلُ الأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ، فَتَقُومَانِ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَيَمُرُّ أَوَّلُكُمْ كَالْبَرْقِ، قَالَ: قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَيُّ شَيْءٍ كَمَرِّ الْبَرْقِ؟ قَالَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْبَرْقِ كَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ، ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ، ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ وَشَدِّ الرِّجَالِ تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ، وَنَبِيُّكُمْ قَائِمٌ عَلَى الصِّرَاطِ؟ يَقُولُ: رَبِّ سَلِّمْ، سَلِّمْ، حَتَّى تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ، حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ، فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا، قَالَ: وَفِي حَافَتَيِ الصِّرَاطِ كَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ بِأَخْذِ مَنْ أُمِرَتْ بِهِ، فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ، وَمَكْدُوسٌ فِي النَّارِ "، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعُونَ خَرِيفًا.
محمد بن فضیل نے کہا: ہمیں ابومالک اشجعی نے حدیث سنائی، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز ابومالک نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک وتعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا تو مومن کھڑے ہو جائیں گے یہاں تک کہ جنت ان کے قریب کر دی جائے گی اور وہ آدم علیہ السلام کے پاس آکر عرض کریں گے: ’اے والد بزرگ! ہمارے لیے جنت کا دروازہ کھلوائیے۔‘ وہ جواب دیں گے: ’کیا جنت سے تمہیں نکالنے کا سبب تمہارے باپ آدم کی خطا کے علاوہ کوئی اور چیز بنی تھی؟ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں۔ میرے بیٹے، اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔‘ آپ نے فرمایا: ”ابراہیم علیہ السلام کہیں گے: ’اس کام (کو کرنے) والا میں نہیں ہوں، میں خلیل تھا (مگر اولین شفاعت کے اس منصب سے) پیچھے پیچھے۔ تم موسیٰ علیہ السلام کا رخ کرو، جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا۔‘ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ جواب دیں گے: ’اس کام (کو کرنے) والا میں نہیں ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔‘ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: ’میں اس کام (کو کرنے) والا نہیں ہوں۔‘ تو لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے۔ آپ اللہ کے سامنے قیام فرمائیں گے اور آپ کو (شفاعت کی) اجازت دی جائے گی۔ امانت اور قرابت داری کو بھیجا جائے گا، وہ پل صراط کی دونوں جانب دائیں اور بائیں کھڑی ہو جائیں گی۔ تم میں سے اولین شخص بجلی کی طرح گزر جائے گا۔“ میں نے پوچھا: ’میرے ماں باپ آپ پر قربان! بجلی کے گزرنے کی طرح کیا ہے؟‘ آپ نے فرمایا: ”تم نے کبھی بجلی کی طرف نہیں دیکھا، کس طرح پلک جھپکنے میں گزرتی اور لوٹتی ہے؟ پھر ہوا کے گزرنے کی طرح (تیزی سے)، پھر پرندہ گزرنے اور آدمی کے دوڑنے کی طرح، ان کے اعمال ان کو لے کر دوڑیں گے اور تمہارا نبی پل صراط پر کھڑا ہوا کہہ رہا ہو گا: ’اے میرے رب! بچا، بچا (میری امت کے ہر گزرنے والے کو سلامتی سے گزار دے۔)‘ حتیٰ کہ بندوں کے اعمال ان کو لے کر گزر نہ سکیں گے یہاں تک کہ ایسا آدمی آئے گا جس میں گھسٹ گھسٹ کر چلنے سے زیادہ کی استطاعت نہ ہو گی۔“ آپ نے فرمایا: ”(پل) صراط کے دونوں کناروں پر لوہے کے آنکڑے معلق ہوں گے، وہ اس بات پر مامور ہوں گے کہ جن لوگوں کے بارے میں حکم ہو ان کو پکڑ لیں، اس طرح بعض زخمی ہو کر نجات پا جائیں گے اور بعض آگ میں دھکیل دیے جائیں گے۔“ ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! جہنم کی گہرائی ستر سال (کی مسافت) کے برابر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 482]
حضرت ابوہریرہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا، تو مومن کھڑے ہوں گے حتیٰ کہ جنت ان کے قریب کر دی جائے گی اور وہ آدم علیہ السلام کے پاس آکر عرض کریں گے: اے ہمارے ابا جان! ہمارے لیے جنت کا دروازہ کھلوائیے! تو وہ جواب دیں گے: تمہیں جنت سے تمہارے باپ آدم کی خطا ہی نے تو نکالا ہے، یہ کام کرنے والا میں نہیں ہوں۔ میرے بیٹے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس جاؤ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام بھی فرمائیں گے: یہ کام کرنے والا میں نہیں ہوں، میں تو پرے پرے (خلیل) رہا ہوں، موسیٰ علیہ السلام کا رخ کرو! جن سے اللہ تعالیٰ نے حقیقتاً گفتگو فرمائی۔ تو لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ جواب دیں گے: یہ میرا منصب نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی روح اور اس کے کلمہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ! تو عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: یہ میرا مقام نہیں ہے، تو لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوں گے اور آپ کو (سفارش کی) اجازت مل جائے گی۔ امانت اور رشتہ داری کو بھیجا جائے گا، وہ پل کے دائیں اور بائیں کھڑے ہو جائیں گے۔ تم میں سے پہلا شخص بجلی کی تیزی سے گزر جائے گا۔“ تو میں نے پوچھا: آپ پر میرے ماں باپ قربان! بجلی کی تیزی سے گزرنے کی طرح کون سی شے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کبھی بجلی کی طرف نہیں دیکھا؟ کس طرح پلک جھپکنے کی طرح گزرتی اور لوٹتی ہے۔ پھر ہوا کے گزرنے کی طرح (تیزی سے)، پھر جس طرح پرندہ گزرتا ہے، اور آدمی دوڑتے ہیں۔ ان کے اعمال ان کو دوڑائیں گے (اپنے اپنے عملوں کے موافق تیزی سے گزریں گے) اور تمہارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پل صراط پر کھڑا ہو کر کہہ رہا ہو گا: «رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ» ”اے میرے رب! بچا! بچا!“ حتیٰ کہ بندوں کے اعمال عاجز آ جائیں گے، یہاں تک کہ ایک آدمی آئے گا، وہ گھسٹ کر ہی چل سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پل صراط کے دونوں کناروں پر لوہے کے آنکڑے لٹک رہے ہوں گے، جن کے بارے میں حکم ہو گا: وہ لوگوں کو پکڑیں گے، تو بعض زخمی ہو کر نجات پا جائیں گے اور بعض کو اوندھا کر کے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔“ اور اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے، جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت کے برابر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 482]
ترقیم فوادعبدالباقی: 195
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (3311 و 13400)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة