صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
24. باب اسْتِحْبَابِ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ:
باب: تشہد اور سلام کے درمیان عذاب قبر اور عذاب جہنم اور زندگی اور موت اور مسیح دجال کے فتنے اور گناہ اور قرض سے پناہ مانگنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 586 ترقیم شاملہ: -- 1321
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كلاهما، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتَا: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ، يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، قَالَتْ: فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أُنْعِمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا، فَخَرَجَتَا وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " إِنَّ عَجُوزَيْنِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ، دَخَلَتَا عَلَيَّ، فَزَعَمَتَا أَنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ، يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، فَقَالَ: " صَدَقَتَا، إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ "، قَالَتْ: فَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ فِي صَلَاةٍ، إِلَّا سَمِعْتُهُ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ابووائل (شقیق بن سلمہ) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: مدینہ کے یہودیوں کی بوڑھی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں میرے گھر آئیں اور انہوں نے کہا: قبروں والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ میں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور ان کی تصدیق کے لیے ہاں تک کہنا گوارا نہ کیا، وہ چلی گئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس مدینہ کی بوڑھی یہودی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں آئی تھیں، ان کا خیال تھا کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ آپ نے (کچھ دن گزرنے کے بعد) فرمایا: ”ان دونوں نے سچ کہا تھا۔ (قبروں میں) ان (کافروں، گنہگاروں) کو ایسا عذاب ہوتا ہے کہ اسے مویشی بھی سنتے ہیں۔“ اس کے بعد میں نے آپ کو دیکھا آپ ہر نماز میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1321]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میرے پاس مدینہ کی دو بوڑھی یہودی عورتیں آئیں اور انہوں نے کہا: ”قبر والوں کو قبر میں عذاب ہوتا ہے“، میں نے ان کو جھٹلایا اور ان کی تصدیق کرنا گوارا نہ کیا، وہ چلی گئیں اور میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس مدینہ کی یہودی بوڑھی عورتوں میں سے دو عورتیں آئیں اور کہا کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، انہیں ایسا عذاب ہوتا ہے کہ مویشی بھی سنتے ہیں“، اس کے بعد میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے پایا۔ «لَمْ أَنْعَمْ» ”میں نے اس کو اچھا نہ سمجھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1321]
ترقیم فوادعبدالباقی: 586
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 586 ترقیم شاملہ: -- 1322
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَفِيهِ قَالَتْ: وَمَا صَلَّى صَلَاةً بَعْدَ ذَلِكَ، إِلَّا سَمِعْتُهُ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
(ابووائل کے بجائے) اشعث کے والد (ابوشعثاء سلیم محاربی) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا حدیث روایت کی۔ اور اس میں یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے اس کے بعد جو نماز بھی پڑھی میں نے آپ سے سنا کہ آپ اس میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1322]
مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز نہیں پڑھی مگر اس صورت میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذابِ قبر سے پناہ مانگتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1322]
ترقیم فوادعبدالباقی: 586
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
25. باب مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلاَةِ:
باب: نماز میں کس چیز سے پناہ مانگی جائے۔
ترقیم عبدالباقی: 587 ترقیم شاملہ: -- 1323
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يَسْتَعِيذُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی نماز میں، دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1323]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی نماز میں دجال کے امتحان سے پناہ مانگتے سنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1323]
ترقیم فوادعبدالباقی: 587
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 588 ترقیم شاملہ: -- 1324
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ".
وکیع نے کہا: ہمیں اوزاعی نے حسان بن عطیہ سے حدیث سنائی، انہوں نے محمد بن ابی عائشہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز (اوزاعی نے) یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھ لے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ طلب کرے: اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت میں آزمائش سے اور مسیح دجال کے فتنے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1324]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ سے چار چیزوں سے پناہ طلب کرے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ» ”اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے فتنہ کے شر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1324]
ترقیم فوادعبدالباقی: 588
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 589 ترقیم شاملہ: -- 1325
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ "، قَالَتْ: فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ، حَدَّثَ، فَكَذَبَ، وَوَعَدَ، فَأَخْلَفَ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں (یہ) دعا مانگتے تھے: ”اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ کا طالب ہوں، میں زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! میں گناہ اور قرض (میں پھنس جانے) سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کسی کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ قرض سے کس قدر پناہ مانگتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی مقروض ہو جائے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1325]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ» ”اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! میں گناہ اور قرض کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں“، کسی پوچھنے والے نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرض سے کس قدر زیادہ پناہ مانگتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی مقروض ہو جاتا ہے تو جب بات کرتا ہے جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1325]
ترقیم فوادعبدالباقی: 589
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 588 ترقیم شاملہ: -- 1326
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الآخِرِ، فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ، مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنَ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ".
ولید بن مسلم نے کہا: مجھے اوزاعی نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں حسان بن عطیہ نے حدیث سنائی، کہا: مجھے محمد بن ابی عائشہ نے حدیث سنائی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو جائے تو چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے شر سے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1326]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی دوسرے تشہد سے فارغ ہو جائے تو اللہ تعالیٰ سے چار چیزوں سے پناہ طلب کرے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، موت و حیات کے فتنہ سے اور مسیح دجال کے فتنہ سے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1326]
ترقیم فوادعبدالباقی: 588
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 588 ترقیم شاملہ: -- 1327
وحَدَّثَنِيهِ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ جَمِيعًا، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ، وَلَمْ يَذْكُرِ: الآخِرِ.
ہقل بن زیاد اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے اوزاعی کی مذکورہ سند سے یہی حدیث روایت کی، اس میں ہے، آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی تشہد سے فارغ ہو جائے تو چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے شر سے۔“ انہوں نے الآخر (آخری تشہد) کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1327]
یہی روایت مجھے حکم بن موسیٰ نے ہقل بن زیاد سے، نیز ہمیں علی بن خشرم نے عیسیٰ سے (جو یونس کا بیٹا ہے) دونوں نے اوزاعی کی مذکورہ سند سے سنائی اور تشہد کے ساتھ «الْآخِرَ» (آخری، دوسرا) کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1327]
ترقیم فوادعبدالباقی: 588
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 588 ترقیم شاملہ: -- 1328
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَشَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ".
ہشام نے یحییٰ سے اور انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور آگ کے عذاب سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے شر سے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1328]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ» ”اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ کا طالب ہوں اور آگ کے عذاب سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے شر سے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1328]
ترقیم فوادعبدالباقی: 588
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 588 ترقیم شاملہ: -- 1329
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ".
عمرو (بن دینار) نے طاؤس سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو، قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو، مسیح دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو اور زندگی اور موت کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1329]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے عذاب سے اللہ کی پناہ لو، قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو، مسیح دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ طلب کرو، زندگی اور موت کے فتنے سے اللہ کی پناہ لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1329]
ترقیم فوادعبدالباقی: 588
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 588 ترقیم شاملہ: -- 1330
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
طاؤس کے بیٹے (عبداللہ) نے اپنے والد طاؤس سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1330]
امام صاحب ایک اور استاد سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1330]
ترقیم فوادعبدالباقی: 588
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة