🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب الدُّعَاءِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ:
باب: نماز اور دعائے شب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 769 ترقیم شاملہ: -- 1810
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَصِيرُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَاللَّفْظُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفَاظِهِمْ.
قیس بن سعد نے طاؤس سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی۔ (اس حدیث کے راوی عمران القصیر کے) الفاظ ان (امام مالک، سفیان، ابن جریج) کے الفاظ سے ملتے جلتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1810]
امام صاحب رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند سے بھی مذکورہ بالا روایت سے ملتی جلتی روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1810]
ترقیم فوادعبدالباقی: 769
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 770 ترقیم شاملہ: -- 1811
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، وأبو معن الرقاشي ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ، إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ " اللَّهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے کہا: میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز کے لیے اٹھتے تھے تو کس چیز کے ساتھ نماز کا آغاز کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جب آپ رات کو اٹھتے تو نماز کا آغاز (اس دعا سے) کرتے: ”اے اللہ! جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمانے والے! پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے! تیرے بندے جن باتوں میں اختلاف کرتے تھے تو ہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، جن باتوں میں اختلاف کیا گیا ہے تو ہی اپنے حکم سے مجھے ان میں سے جو حق ہے اس پر چلا، بے شک تو ہی جسے چاہے سیدھی راہ پر چلاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1811]
ابو سلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں، میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز کے لیے اٹھتے تھے تو نماز کا آغاز کون سے کلمات سے کرتے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو قیام کرتے تو نماز کا آغاز اس دعا سے کرتے: «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» ”اے اللہ! جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمانے والے! پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے! تیرے بندے جن باتوں میں اختلاف کر رہے ہیں تو ہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ جن باتوں میں اختلاف کیا گیا ہے، تو اپنی توفیق سے مجھے ان میں سے حق کی طرف رہنمائی فرما، بے شک تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔““ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1811]
ترقیم فوادعبدالباقی: 770
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 771 ترقیم شاملہ: -- 1812
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْمَاجِشُونُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ، وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، وَإِذَا رَكَعَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَمُخِّي، وَعَظْمِي، وَعَصَبِي، وَإِذَا رَفَعَ، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، وَإِذَا سَجَدَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ "،
یوسف ماجثون نے کہا: مجھ سے میرے والد (یعقوب بن ابی سلمہ ماجثون) نے عبدالرحمان اعرج سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبیداللہ بن ابی رافع سے، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو فرماتے: ”میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر دیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، ہر طرف سے یکسو ہو کر، اور میں اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں میں سے نہیں، میری نماز اور میری ہر (بدنی و مالی) عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو کائنات کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم ملا ہے اور میں فرمانبرداری کرنے والوں میں سے ہوں۔ اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں، تو میرا رب ہے، میں تیرا بندہ ہوں اور میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اپنے گناہ کا اعتراف کیا ہے، اس لیے میرے سارے گناہ بخش دے کیونکہ گناہوں کو بخشنے والا تیرے سوا کوئی نہیں، اور میری بہترین اخلاق کی طرف راہنمائی فرما، تیرے سوا بہترین اخلاق کی راہ پر چلانے والا کوئی نہیں، اور برے اخلاق مجھ سے ہٹا دے، تیرے سوا برے اخلاق کو مجھ سے دور کرنے والا کوئی نہیں، میں تیرے حضور حاضر ہوں اور دونوں جہانوں کی سعادتیں تجھ سے ہیں، ہر طرح کی بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اور برائی کا تیری طرف کوئی گزر نہیں ہے، میں تیرے ہی سہارے ہوں، اور تیری ہی طرف میرا رخ ہے، تو برکت والا، رفعت والا اور بلندی والا ہے، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔“ اور جب آپ رکوع کرتے تو فرماتے: ”اے اللہ! میں تیرے سامنے جھکا ہوا ہوں اور میں تجھ ہی پر ایمان لایا ہوں، اپنے آپ کو تیرے ہی سپرد کر دیا ہے، میرے کان اور میری آنکھیں اور میرا مغز اور میری ہڈیاں اور میری رگیں اور میرے پٹھے تیرے ہی حضور جھکے ہوئے ہیں۔“ اور جب رکوع سے اٹھتے تو کہتے: ”اے اللہ! ہمارے رب، تیرے ہی لیے حمد ہے جس سے آسمانوں اور زمین کی وسعتیں بھر جائیں اور اس کے بعد جو تو چاہے اس کی وسعتیں بھر جائیں۔“ اور جب آپ سجدہ کرتے تو کہتے: ”اے اللہ! میں نے تیرے ہی حضور سجدہ کیا اور تجھ ہی پر ایمان لایا اور اپنے آپ کو تیرے ہی حوالے کیا، میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے جس نے اسے پیدا کیا، اس کی صورت گری کی اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں تراشیں، برکت والا ہے اللہ جو بہترین خالق ہے۔“ پھر تشہد اور سلام کے درمیان میں یہ دعا پڑھتے: ”اے اللہ! بخش دے جو خطائیں میں نے پہلے کیں یا بعد میں کیں اور چھپا کر کیں یا علانیہ کیں اور جو بھی زیادتی میں نے کی اور جس کا مجھ سے زیادہ تمہیں علم ہے (اطاعت اور خیر میں) تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کا حقدار نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1812]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو یہ دعا پڑھتے: ”میں نے اپنا چہرہ ہر طرف سے یکسو ہو کر، اس ذات کی طرف کر دیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ﴿وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] ، اور میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں، جو اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں، میری نماز اور میری قربانی یا میرا ہر دینی عمل اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے، جو کائنات کا آقا و مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس کا حکم ملا ہے اور میں فرمانبرداری کرنے والوں میں سے ہوں ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ۔ «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! تو ہی بادشاہ اور مالک ہے، تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے، تو میرا مالک و آقا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، اور میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، پس میرے سارے گناہوں کو بخش دے کیونکہ تیرے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں، اور میری بہترین اخلاق کی طرف رہنمائی فرما، تیرے سوا بہترین اخلاق کی طرف رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں، اور برے اخلاق میری طرف سے پھیر دے، تیرے سوا مجھ سے برے اخلاق کو دور کرنے والا کوئی نہیں، تیرے حضور حاضر ہوں اور تیری خدمت و اطاعت کے لیے تیار ہوں، ہر قسم کی خیر و بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اور برائی کا تیری طرف گزر نہیں ہے، مجھے تیرا ہی سہارا ہے، اور تیری ہی طرف میرا رخ ہے، تو برکت والا اور رفعت و بلندی والا ہے، میں تجھ سے بخشش کا سائل ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں“۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَمُخِّي، وَعَظْمِي، وَعَصَبِي» ”اے اللہ! میں تیرے حضور جھکا ہوا ہوں اور میں تجھ پر ایمان لایا ہوں، اور میں نے اپنے آپ کو تیرے ہی سپرد کر دیا ہے، میرے کان اور میری آنکھیں اور میرا مغز اور میری ہڈیاں اور میرے رگ و پٹھے تیرے ہی حضور جھکے ہوئے ہیں“۔ اور جب رکوع سے اٹھتے تو دعا کرتے: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے اللہ! ہمارے رب، تیرے ہی لیے حمد ہے، (ایسی وسیع اور بے انتہا) جس سے آسمانوں کی وسعتیں بھر جائیں اور زمین کی وسعتیں بھر جائیں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے یعنی درمیان کا سارا خلا پُر ہو جائے اور ان کے سوا تو جو چاہے وہ بھر جائے“۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو کہتے: «اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَصَوَّرَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ”اے اللہ! میں تیرے حضور سجدہ ریز ہوں اور میں تجھ پر ہی ایمان لایا اور اپنے آپ کو تیرے ہی حوالے کیا، میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ کرتا ہے جس نے اسے پیدا کیا، اور اس کی شکل و صورت بنائی اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں تراشیں، اور برکت والا ہے اللہ، بہترین خالق“۔ پھر تشہد اور سلام کے درمیان آخر میں یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! جو خطائیں میں نے پہلے کیں یا بعد میں کیں اور چھپ کر کیں یا علانیہ کیں، اور جو بھی زیادتی میں نے کی اور جس کا تجھے مجھ سے زیادہ علم ہے، سب معاف کر دے، مجھے بخش؛ تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، اور تیرے سوا معبود کوئی نہیں ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1812]
ترقیم فوادعبدالباقی: 771
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 771 ترقیم شاملہ: -- 1813
وحَدَّثَنَاه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: وَجَّهْتُ وَجْهِي، وَقَالَ: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، وَقَالَ: وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَقَالَ: وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ، وَقَالَ: وَإِذَا سَلَّمَ، قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَقُلْ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ.
عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے اپنے چچا الماجثون (یعقوب بن ابی سلمہ) سے اور انہوں نے (عبدالرحمان) اعرج سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز فرماتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر دعا پڑھتے: ”وجہت وجهي“ اس میں (کے بجائے) ”أنا من المسلمين“ اور ”میں اطاعت و فرمانبرداری میں اولین (مقام پر فائز) ہوں“ کے الفاظ ہیں اور کہا: جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو ”سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولك الحمد“ کہتے اور صورہ (اس کی صورت گری کی) کے بعد ”فأحسن صورها“ (اس کو بہترین شکل و صورت عنایت فرمائی) کے الفاظ کہے اور کہا: جب سلام پھیرتے تو کہتے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ“ ”اے اللہ! بخش دے جو میں نے پہلے کیا۔“ حدیث کے آخر تک اور انہوں نے ”تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان“ کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1813]
امام صاحب یہی روایت دوسرے استاد کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہنے کے بعد «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ» دعا پڑھتے، اور اس میں «أَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» کی بجائے «أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» ”میں سب سے پہلے اطاعت گزار ہوں اور میں اطاعت و فرمانبرداری میں پہلے مقام و مرتبہ پر فائز ہوں“ ہے، اور اس میں ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے اور «صَوَّرَهُ» کے بعد «فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ» ”اس کو بہترین شکل و صورت عنایت فرمائی“ کے الفاظ ہیں، اور اس میں ہے کہ «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ» والی دعا سلام پھیرنے کے بعد پڑھتے، تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1813]
ترقیم فوادعبدالباقی: 771
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. باب اسْتِحْبَابِ تَطْوِيلِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ:
باب: تہجد میں لمبی قرأت کا مستحب ہونا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 772 ترقیم شاملہ: -- 1814
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ جَرِيرٍ كُلُّهُمْ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ، فَقُلْتُ يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ، ثُمَّ مَضَى، فَقُلْتُ: يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ، فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ بِهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا، يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا، إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا، تَسْبِيحٌ سَبَّحَ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَجَعَلَ يَقُولُ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ طَوِيلًا، قَرِيبًا مِمَّا رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى، فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ قِيَامِه "، قَالَ: وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ مِنَ الزِّيَادَةِ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ.
عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ اور جریر سب نے اعمش سے، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے، انہوں نے مستورد بن احنف سے، انہوں نے صلہ بن زفر سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے سورہ بقرہ کا آغاز فرمایا، میں نے (دل میں) کہا: آپ سو آیات پڑھ کر رکوع فرمائیں گے مگر آپ آگے بڑھ گئے، میں نے کہا: آپ اسے (پوری) رکعت میں پڑھیں گے، آپ آگے پڑھتے گئے، میں نے سوچا، اسے پڑھ کر رکوع کریں گے مگر آپ نے سورہ نساء شروع کر دی، آپ نے وہ پوری پڑھی، پھر آپ نے آل عمران شروع کر دی، اس کو پورا پڑھا، آپ ٹھر ٹھر کر قرائت فرماتے رہے، جب ایسی آیت سے گزرتے جس میں تسبیح ہے تو سبحان اللہ کہتے اور جب سوال (کرنے والی آیت) سے گزرتے (پڑھتے) تو سوال کرتے اور جب پناہ مانگنے والی آیت سے گزرتے تو (اللہ سے) پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع فرمایا اور سبحان ربی العظیم کہنے لگے، آپ کا رکوع (تقریباً) آپ کے قیام جتنا تھا۔ پھر آپ نے ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہا، پھر آپ لمبی دیر کھڑے رہے، تقریباً اتنی دیر جتنی دیر رکوع کیا تھا، پھر سجدہ کیا اور ”سبحان ربی الأعلى“ کہنے لگے اور آپ کا سجدہ (بھی) آپ کے قیام کے قریب تھا۔ جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے کہا: (”سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لك الحمد“ یعنی ربنا لك الحمد کا اضافہ ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1814]
امام صاحب مختلف اساتذہ سے روایت کرتے ہیں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ بقرہ پڑھنی شروع کردی، میں نے دل میں سوچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو آیات پڑھ کر رکوع فرمائیں گے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد قرأت جاری رکھی، میں نے سوچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری سورت ایک رکعت میں پڑھیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے، میں نے سوچا، آخر میں رکوع کریں گے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نساء شروع کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پوری پڑھ ڈالی، پھر آل عمران شروع کر دی، اس کو پورا پڑھ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر قرأت فرماتے رہے، جب تسبیح والی آیت سے گزرتے تو «سُبْحَانَ اللهِ» کہتے اور جب سوال والی آیت سے گزرتے (پڑھتے) تو سوال کرتے اور جب تعوذ (اللہ سے پناہ مانگنا) والی آیت سے گزرتے تو اللہ سے پناہ مانگتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور مسلسل «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» کہتے رہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے قریب تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا، جو رکوع کے برابر تھا، پھر سجدہ کیا اور «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» کہتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے قریب تھا۔“ اور جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہا، یعنی ”رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ“ کا اضافہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1814]
ترقیم فوادعبدالباقی: 772
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 773 ترقیم شاملہ: -- 1815
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالَ حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ، قَالَ: قِيلَ: وَمَا هَمَمْتَ بِهِ؟ قَالَ: هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ ".
جریر نے اعمش سے اور انہوں نے ابووائل سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے اتنی لمبی نماز پڑھی کہ میں نے ایک ناپسندیدہ کام کا ارادہ کر لیا۔ کہا: تو ان سے پوچھا گیا آپ نے کس بات کا ارادہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے ارادہ کیا کہ بیٹھ جاؤں اور آپ کو (اکیلے ہی قیام کی حالت میں) چھوڑ دوں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1815]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز شروع کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت طویل نماز پڑھی حتیٰ کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کر لیا۔“ تو ان سے پوچھا گیا: ”آپ نے کس بات کا ارادہ کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے ارادہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑا چھوڑ دوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1815]
ترقیم فوادعبدالباقی: 773
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 773 ترقیم شاملہ: -- 1816
علی بن مسہر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1816]
امام صاحب نے ایک دوسرے استاد سے بھی یہی حدیث نقل کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1816]
ترقیم فوادعبدالباقی: 773
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. باب مَا رُوِيَ فِيمَنْ نَامَ اللَّيْلَ أَجْمَعَ حَتَّى أَصْبَحَ:
باب: نماز تہجد کی ترغیب اگرچہ کم ہی ہو۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 774 ترقیم شاملہ: -- 1817
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق ، قَالَ عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ، قَالَ: " ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنَيْهِ "، أَوَ قَالَ: فِي أُذُنِهِ.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا گیا جو رات بھر سویا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، آپ نے فرمایا: ”وہ (ایسا) شخص ہے کہ شیطان نے اس کے کان میں۔“ یا فرمایا: ”اس کے دونوں کانوں میں پیشاب کر دیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1817]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا گیا جو رات بھر صبح تک سویا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایسا شخص ہے کہ شیطان نے اس کے کانوں میں بول کر دیا ہے۔“ یا فرمایا: ”اس کے کان میں پیشاب کیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1817]
ترقیم فوادعبدالباقی: 774
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 775 ترقیم شاملہ: -- 1818
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ، وَفَاطِمَةَ، فَقَالَ: " أَلَا تُصَلُّونَ؟ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ، وَيَقُولُ: وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ".
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت انہیں اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جگایا اور فرمایا: ”کیا تم لوگ نماز نہیں پڑھو گے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے، جب میں نے آپ سے یہ کہا تو آپ واپس چلے گئے، پھر میں نے آپ کو سنا کہ آپ واپس پلٹتے ہوئے اپنی ران پر ہاتھ مارتے تھے اور کہتے (آیت کا ایک ٹکڑا پڑھتے) تھے: ”إن الإنسان لكثير الجدل“ ”انسان سب سے بڑھ کر جھگڑا کرنے والا ہے۔“ (جدل (جھگڑا) یہ تھا کہ جگائے جانے پر ممنون ہونے اور نماز پڑھنے کی بجائے عذر پیش کیا گیا۔) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1818]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ان کے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: ”تم اٹھ کر نماز کیوں نہیں پڑھتے؟“ تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے نفوس اللہ کے ہاتھ میں ہیں، تو جب وہ چاہتا ہے ہمیں بیدار کر لیتا ہے یا جب اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے؛ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹتے ہوئے اپنی ران پر ہاتھ مار کر فرما رہے تھے: ﴿وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا﴾ [سورة الكهف: 54] ”انسان سب سے بڑھ کر حجت باز ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1818]
ترقیم فوادعبدالباقی: 775
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 776 ترقیم شاملہ: -- 1819
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ عَمْرٌو، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ ثَلَاثَ عُقَدٍ، إِذَا نَامَ بِكُلِّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ عَلَيْكَ لَيْلًا طَوِيلًا، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عَنْهُ عُقْدَتَانِ، فَإِذَا صَلَّى انْحَلَّتِ الْعُقَدُ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا، طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ، كَسْلَانَ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے یہ فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا، آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سو جاتا ہے تو شیطان اس کے سر کے پچھلے حصے پر تین گرہیں لگاتا ہے، ہر گرہ پر تھپکی دیتا ہے کہ تم پر ایک بہت لمبی رات (کا سونا لازم) ہے، جب انسان بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب نماز پڑھتا ہے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور وہ چاق و چوبند، ہشاش بشاش پاک طبیعت (کے ساتھ) صبح کرتا ہے، ورنہ (جاگ کر عبادت نہیں کرتا تو) صبح کو گندے دل کے ساتھ اور سست اٹھتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1819]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان جب تم میں سے کوئی سو جاتا ہے تو اس کی گدی پر تین گرہیں لگاتا ہے، ہر گرہ پر تھپکی دیتا ہے کہ ابھی رات بہت لمبی ہے، پس جب انسان بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ وضو کرتا ہے تو اس سے دوسری گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب نماز پڑھتا ہے تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں اور وہ صبح چاق و چوبند اور ہشاش بشاش پاکیزہ طبع کے ساتھ اٹھتا ہے، ورنہ صبح گندہ دل اور سست اٹھتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1819]
ترقیم فوادعبدالباقی: 776
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں