صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ:
باب: اقامت میں دو نمازوں کو جمع کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1630
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاةِ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "، قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
قرہ بن خالد نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے دوران ایک سفر میں نمازوں کو جمع کیا، ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکٹھا پڑھا۔ سعید نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ نے چاہا اپنی امت کو حرج (اور تنگی) میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1630]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر جو غزوہٴ تبوک کے لیے کیا تھا دو نمازوں کو جمع کیا، ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھا، مغرب اور عشاء کو اکٹھا پڑھا۔“ (ابن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگرد) سعید کہتے ہیں، میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا اپنی امت کو حرج اور تنگی میں نہ ڈالیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1630]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 706 ترقیم شاملہ: -- 1631
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرٍ ، عَنْ مُعَاذٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، " فَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ".
زہیر نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے ابوطفیل عامر سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو (اس دوران میں) آپ ظہر اور عصر اکٹھے پڑھتے رہے اور مغرب اور عشاء کو جمع کرتے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1631]
ابوطفیل عامر، معاذ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ”ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر اکٹھی پڑھتے تھے اور مغرب اور عشاء کو جمع کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1631]
ترقیم فوادعبدالباقی: 706
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 706 ترقیم شاملہ: -- 1632
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ أَبُو الطُّفَيْلِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، قَالَ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: فَقَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
قرہ بن خالد نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عامر بن واثلہ ابوطفیل نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر، عصر کو اور مغرب، عشاء کو جمع کیا۔ (عامر بن واثلہ نے) کہا: میں نے (حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے) پوچھا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو انہوں نے کہا: آپ نے چاہا کہ اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1632]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہٴ تبوک میں ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو جمع کیا“ (معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے شاگرد) کہتے ہیں: ”میں نے پوچھا آپ نے ایسا کس مقصد کے لیے کیا؟“ تو انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا امت کو دشواری نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1632]
ترقیم فوادعبدالباقی: 706
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1633
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح. وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ، فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا مَطَرٍ "، فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: كَيْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
ابومعاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے روایت کی، انہوں نے حبیب بن ثابت سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر اور مغرب، عشاء کو مدینہ میں کسی خوف اور بارش کے بغیر جمع کیا۔ وکیع کی روایت میں ہے (سعید نے) کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: تاکہ اپنی امت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں۔ اور ابومعاویہ کی حدیث میں ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا چاہتے ہوئے ایسا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ نے چاہا اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1633]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں بلا خوف و خطر اور بلا بارش ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کیا“، وکیع کی روایت میں ہے سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟“ انہوں نے کہا: ”تاکہ اپنی امت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں“ اور ابو معاویہ کی حدیث میں ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کیا چاہا؟“ انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو دشواری نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1633]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1634
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَمَانِيًا جَمِيعًا، وَسَبْعًا جَمِيعًا، قُلْتُ: يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ، " أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ، وَعَجَّلَ الْعَصْرَ، وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ؟ قَالَ: وَأَنَا أَظُنُّ ذَاكَ ".
سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے (ابوشعشاء) جابر بن زید سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعات (ظہر اور عصر) اکٹھے اور سات رکعات (مغرب اور عشاء) اکٹھے پڑھیں۔ (عمرو نے کہا) میں نے ابوشعشاء (جابر بن زید) سے کہا کہ میرا خیال ہے آپ نے ظہر کو موخر کیا اور عصر جلدی پڑھی اور مغرب کو موخر کیا اور عشاء میں جلدی کی۔ انہوں نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1634]
جابر بن زید، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعات (ظہر و عصر) اکٹھی پڑھیں اور سات رکعات (مغرب و عشاء) اکٹھی پڑھیں“، عمرو کہتے ہیں: ”میں نے ابو الشعثاء (جابر بن زید) سے پوچھا کہ میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر میں تاخیر کی اور عصر جلدی پڑھی، مغرب کو مؤخر کیا اور عشاء میں تعجیل کی (جلدی کی)؟“ انہوں نے کہا: ”میرا خیال بھی یہی ہے“۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی باب باندھا ہے: «أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ» ”ظہر میں تاخیر کی اور عصر جلدی پڑھی“۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1634]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1635
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " صَلَّى بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا، وَثَمَانِيًا الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ ".
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے جابر بن زید سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں سات رکعات اور آٹھ رکعات نماز پڑھی، یعنی ظہر، عصر، مغرب اور عشاء (ملا کر پڑھیں)۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1635]
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ”سات رکعات اور آٹھ رکعات نماز پڑھی یعنی ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1635]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1636
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ، حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَبَدَتِ النُّجُومُ، وَجَعَلَ النَّاسُ، يَقُولُونَ: الصَّلَاةَ، الصَّلَاةَ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، لَا يَفْتُرُ، وَلَا يَنْثَنِي، الصَّلَاةَ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتُعَلِّمُنِي بِالسُّنَّةِ، لَا أُمَّ لَكَ؟ ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ: فَحَاكَ فِي صَدْرِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَسَأَلْتُهُ، فَصَدَّقَ مَقَالَتَهُ.
زبیر بن خریت نے عبداللہ بن شفیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما عصر کے بعد ہمیں خطاب کرنے لگے حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے نمودار ہو گئے اور لوگ کہنے لگے: نماز، نماز! پھر ان کے پاس بنو تمیم کا ایک آدمی آیا جو نہ تھکتا تھا اور نہ باز آ رہا تھا، نماز، نماز کہے جا رہا تھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تیری ماں نہ ہو! تو مجھے سنت سکھا رہا ہے؟ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ظہر و عصر کو اور مغرب و عشاء کو جمع کیا۔ عبداللہ بن شفیق نے کہا: تو اس سے میرے دل میں کچھ کھٹکنے لگا، چنانچہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے ان (ابن عباس رضی اللہ عنہما) کے قول کی تصدیق کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1636]
عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عصر کے بعد خطاب شروع کیا، حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے نمودار ہو گئے اور لوگ کہنے لگے: ”نماز، نماز“۔ پھر ان کے پاس بنو تمیم کا ایک آدمی آیا جو نہ سست پڑتا تھا اور نہ باز آ رہا تھا، ”نماز، نماز“ کہے جا رہا تھا۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”بڑے تعجب اور حیرت کی بات ہے، کیا تو مجھے سنت سکھا رہا ہے؟“ پھر کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو جمع کیا“۔ عبداللہ بن شفیق کہتے ہیں کہ اس سے میرے دل میں خلش اور کھٹکا پیدا ہوا، تو میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کی تصدیق کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1636]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1637
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ : الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمّ قَالَ: الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمّ قَالَ: الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمّ قَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، أَتُعَلِّمُنَا بِالصَّلَاةِ، " وَكُنَّا نَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
عمران بن خدیر نے عبداللہ بن شقیق عقیلی سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: نماز! آپ خاموش رہے، اس نے پھر کہا: نماز! آپ پھر چپ رہے، اس نے پھر کہا: نماز! تو آپ (کچھ دیر) چپ رہے، پھر فرمایا: تیری ماں نہ ہو! کیا تو ہمیں نماز کی تعلیم دیتا ہے؟ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو نمازیں جمع کر لیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1637]
ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”نماز پڑھو“، آپ رضی اللہ عنہ خاموش رہے، اس نے پھر کہا: ”نماز پڑھو“، وہ پھر بھی چپ رہے۔ اس نے پھر کہا: ”نماز“، تو آپ رضی اللہ عنہ چپ رہے۔ پھر کہنے لگے: ”تجھ پر حیرت ہے! کیا تو ہمیں نماز کی تعلیم دیتا ہے؟ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو نمازیں جمع کر لیا کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1637]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
7. باب جَوَازِ الاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ عَنِ الْيَمِينِ وَالشِّمَالِ:
باب: نماز پڑھ کے دائیں بائیں دونوں طرف مڑنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 707 ترقیم شاملہ: -- 1638
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا، لَا يَرَى إِلَّا أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ، أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ ".
ابومعاویہ اور وکیع نے اعمش سے، انہوں نے عمارہ سے، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ (ابن مسعود) سے روایت کی، کہا: تم میں سے کوئی شخص اپنی ذات میں سے شیطان کا حصہ نہ رکھے (وہم اور وسوسے کا شکار نہ ہو) یہ خیال نہ کرے کہ اس پر لازم ہے کہ وہ نماز سے دائیں کے علاوہ کسی اور جانب سے رخ نہ موڑے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر دیکھا تھا، آپ بائیں جانب سے رخ مبارک موڑتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1638]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ”تم میں سے کوئی اپنی ذات سے شیطان کو حصہ نہ دے، یہ نہ خیال کرے کہ اس پر لازم ہے کہ وہ نماز سے دائیں طرف ہی مڑے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں طرف پھرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1638]
ترقیم فوادعبدالباقی: 707
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 707 ترقیم شاملہ: -- 1639
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح، وَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى جَمِيعًا، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
جریر اور عیسیٰ بن یونس نے اسی سند کے ساتھ سابقہ حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1639]
امام صاحب ”اعمش ہی کے واسطہ سے دوسرے اساتذہ سے بھی یہ روایت بیان کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1639]
ترقیم فوادعبدالباقی: 707
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة