صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب جَوَازِ الاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ عَنِ الْيَمِينِ وَالشِّمَالِ:
باب: نماز پڑھ کے دائیں بائیں دونوں طرف مڑنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 708 ترقیم شاملہ: -- 1640
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا ، كَيْفَ أَنْصَرِفُ إِذَا صَلَّيْتُ عَنْ يَمِينِي أَوْ عَنْ يَسَارِي؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا، " فَأَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ ".
ابوعوانہ نے (اسماعیل بن عبدالرحمان) سدی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب میں نماز پڑھ لوں تو اپنا رخ کیسے موڑوں، اپنی دائیں طرف یا اپنی بائیں طرف سے؟ انہوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ تر دائیں طرف سے رخ پھیرتے دیکھا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1640]
سدی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”جب میں نماز پڑھ لوں تو کیسے پھروں؟ اپنے دائیں یا بائیں؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے تو زیادہ تر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں طرف پھرتے دیکھا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1640]
ترقیم فوادعبدالباقی: 708
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 708 ترقیم شاملہ: -- 1641
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ عَن السُّدِّيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ ".
سفیان بن عینیہ نے سدی سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف سے رخ پھیرا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1641]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”اپنی دائیں طرف پھرا کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1641]
ترقیم فوادعبدالباقی: 708
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
8. باب اسْتِحْبَابِ يَمِينِ الإِمَامِ:
باب: امام کی داہنی طرف کھڑا ہونا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 709 ترقیم شاملہ: -- 1642
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ الْبَرَاءِ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ: " كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ، يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ، أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَ ".
ابن ابی زائدہ نے مسعر سے، انہوں نے ثابت بن عبید سے، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کے بیٹے (عبید) سے اور انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو پسند کرتے تھے کہ ہم آپ کی دائیں طرف ہوں، آپ ہماری طرف رخ فرمائیں۔ (براء رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے (ایسے ہی ایک موقع پر) آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اے میرے رب! تو جب اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچانا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1642]
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھتے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف ہونا پسند کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رخ ہماری طرف کرتے تھے (یعنی دائیں طرف مڑتے تھے)۔“ براء رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: «رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ - أَوْ تَجْمَعُ - عِبَادَكَ» ”اے میرے رب! جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا، مجھے اپنے عذاب سے بچانا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1642]
ترقیم فوادعبدالباقی: 709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 709 ترقیم شاملہ: -- 1643
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ.
وکیع نے مسعر سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے «يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ» (آپ ہماری طرف رخ فرمائیں) کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1643]
امام صاحب نے یہی حدیث دوسری سند سے بیان کی ہے، جس میں «يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ» ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف رخ فرماتے“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1643]
ترقیم فوادعبدالباقی: 709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
9. باب كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ:
باب: فرض شروع ہونے کے بعد نفل کا مکروہ ہونا۔ اس حکم میں سنت مؤکدہ مثلاً صبح اور ظہر کی سنتیں اور سنت غیر مؤکدہ برابر ہیں نیز نمازی کو امام کے ساتھ رکعت ملنے کا علم ہونا اور نہ ہونا برابر ہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 710 ترقیم شاملہ: -- 1644
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَرْقَاءَ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ ".
شعبہ نے ورقاء سے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت ہو جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1644]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت شروع ہو جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہ پڑھی جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1644]
ترقیم فوادعبدالباقی: 710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 710 ترقیم شاملہ: -- 1645
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
(شعبہ کی بجائے) شبابہ نے ورقاء سے یہی روایت اسی سند کے ساتھ بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1645]
”امام صاحب نے دوسرے استاد سے بھی یہ روایت بیان کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1645]
ترقیم فوادعبدالباقی: 710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 710 ترقیم شاملہ: -- 1646
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ ، يَقُولُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ ".
روح نے کہا: ہمیں زکریا بن اسحاق نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں عمرو بن دینار نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے عطاء بن یسار سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں ہوتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1646]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1646]
ترقیم فوادعبدالباقی: 710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 710 ترقیم شاملہ: -- 1647
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
(روح کی بجائے) عبدالرزاق نے خبر دی کہ ہمیں زکریا بن اسحاق نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح خبر دی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1647]
”امام صاحب نے دوسرے استاد سے بھی یہی روایت بیان کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1647]
ترقیم فوادعبدالباقی: 710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 710 ترقیم شاملہ: -- 1648
وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، قَالَ حَمَّادٌ: ثُمَّ لَقِيتُ عَمْرًا، فَحَدَّثَنِي بِهِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
حماد بن زید نے ایوب سے روایت کی، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی مانند روایت کی۔ حماد نے کہا: پھر میں (براہ راست) عمرو (بن دینار) سے ملا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی لیکن انہوں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول روایت کیا) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1648]
امام صاحب ایک دوسرے استاد حماد بن زید کی سند سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بیان کرتے ہیں، حماد کہتے ہیں: ”پھر میں اپنے استاد عمرو سے ملا اس نے مجھے یہ حدیث سنائی، لیکن اس نے اس حدیث کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں کی“ (یعنی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا)۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1648]
ترقیم فوادعبدالباقی: 710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 711 ترقیم شاملہ: -- 1649
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِرَجُلٍ يُصَلِّي، وَقَدْ أُقِيمَتِ صَلَاةُ الصُّبْحِ، فَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، أَحَطْنَا نَقُولُ: مَاذَا؟ قَالَ: لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ لِي: " يُوشِكُ أَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ أَرْبَعًا "، قَالَ: الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِكٍ ابْنُ بُحَيْنَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمٌ وَقَوْلُهُ عَنْ أَبِيهِ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ خَطَأٌ.
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے حدیث سنائی۔ انہوں نے حفص بن عاصم سے اور انہوں نے عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا جب صبح کی نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی تھی، آپ نے کسی چیز کے بارے میں اس سے گفتگو فرمائی، ہم نہ جان سکے کہ وہ کیا تھی، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اسے گھیر لیا، ہم پوچھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟ اس نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”لگتا ہے کہ تم میں سے کوئی صبح کی چار رکعات پڑھنے لگے گا۔“ قعنبی نے کہا: عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی۔ ابوالحسین مسلم رحمہ اللہ (مولف کتاب) نے کہا: قعنبی کا اس حدیث میں «عَنْ أَبِيهِ» (والد سے روایت کی) کہنا درست نہیں۔ (عبداللہ کے والد صحابی مالک صحابی تو ہیں لیکن ان سے کوئی حدیث مروی نہیں) [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1649]
عبداللہ بن مالک رضی اللہ عنہ جو بحینہ کے بیٹے ہیں، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا جبکہ صبح کی نماز کے لیے اقامت کہی جا رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ گفتگو فرمائی، جس کو ہم جان نہ سکے جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اس کو گھیر لیا، ہم پوچھ رہے تھے کہ تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہا؟ اس نے بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اب تم میں سے کوئی صبح کی چار رکعات پڑھنے لگے گا؟“ قعنبی نے کہا، عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔ امام ابوالحسین مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں قعنبی کا اس حدیث میں «عَنْ أَبِيهِ» (باپ کے واسطہ سے) کہنا لغزش ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ مالک، عبداللہ کا باپ ہے اور بحینہ عبداللہ کی ماں ہے اور قعنبی نے بحینہ کو مالک کا باپ سمجھ لیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1649]
ترقیم فوادعبدالباقی: 711
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة