مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 699
حدیث نمبر: 699
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي الثَّوْرَيْنِ الْجُمَحِيِّ ، قَالَ:" سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ، فَنَهَانِي" .
ابو ثورین جمحی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے مجھے اس سے منع کر دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 699]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وانظر الحديث السابق»
حدیث نمبر 700
حدیث نمبر: 700
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَحْلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ امْرِئٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُؤْتَى إِلَى بَابِ مَشْرَبَتِهِ فَيُكْسَرُ بَابُهَا، فَيُنْتَثَلُ طَعَامُهُ، أَلا إِنَّمَا أَطْعِمَتُهُمْ فِي ضُرُوعِ مَواشِيهِمْ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: کوئی شخص کسی دوسرے کے جانور کا دودھ اس کی اجازت کے بغیر ہرگز نہ دوہ لے۔ کیا کوئی شخص یہ بات پسند کرے گا؟ اس کے گودام کے دروازے پر کوئی شخص آئے اس کا دروازہ توڑے اس کے اناج کو نکال لے۔ خبردار! یہ ان لوگوں کی خوراک ہے، جو ان کے جانوروں کے تھنوں میں ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 700]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2435، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1726، ومالك فى «الموطأ» برقم: 3560، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5171، 5282، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2623، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2302، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11614، 19705، 19706، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4557»
حدیث نمبر 701
حدیث نمبر: 701
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " سَبَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْخَيْلِ، فَأَرْسَلَ مَا أَضْمَرَ مِنْهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، وَأَرْسَلَ مَا لَمْ يَضْمُرْ مِنْهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ" ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَكُنْتُ فِيمَنْ سَابَقَ فَاقْتَحَمَ بِي فَرَسِي فِي جُرْفٍ فَصَرَعَنِي.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کروایا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے تربیت یافتہ گھوڑوں کی دوڑ حفیاء سے مسجد بنو زریق تک کروائی تھی اور غیر تربیت یافتہ گھوڑوں کی دوڑ ثنیہ الوداع سے لے کر مسجد بنو زریق تک کروائی تھی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں بھی دوڑ میں حصہ لینے والوں میں شامل تھا، تو میرا گھوڑا مجھے لے کر جرف میں داخل ہو گیا اور اس نے مجھے گرا دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 701]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 420، 2868، 2869، 2870، 7336، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1870، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4686، 4687، 4688، 4692، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3585، 3586، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2575، 2576، 2577، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1699، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2473، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2877، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19812، 19823، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4573، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5839»
حدیث نمبر 702
حدیث نمبر: 702
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ فِي أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ وَحَرَقَ" . قَالَ سُفْيَانُ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی زمینوں (پر موجود کھجور کے درخت) کٹوا دیے تھے اور انہیں جلا دیا تھا۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے یہ روایت ان سے سنی نہیں ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 702]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه انظر ما قاله سفيان فى نهاية هذا الحديث. غير أن الحديث صحيح فقد أخرجه البخاري فى «الحرث والزراعة» 2326 بوفروعه - ومسلم فى «الجهاد» 1746، بوقد استوفينا تخرجه فى «مسند» الموصلي برقم: 5837، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2615، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1552، 3302، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2503، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2844، 2845، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18185، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4620 برقم: 5231»
حدیث نمبر 703
حدیث نمبر: 703
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ وَهُوَ فِي سَفَرِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: وَأَبِي وَأَبِي، فَقَالَ: " أَلا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَصْمُتْ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پایا وہ یہ کہہ رہے تھے: میرے والد کی قسم! میرے والد کی قسم! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات سے منع کر دیا ہے کہ تم اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسم اٹھاؤ۔ جس شخص نے قسم اٹھانی ہو، تو وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھائے یا پھر خاموش رہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 703]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2679، 3836، 6108، 6646، 6647، 6648، 7401، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1646، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4359، 4360، 4361، 4362، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3773، 3774، 3775، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3249، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1533، 1534، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2386، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2094، 2101، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19880، 19881، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 113 برقم: 247»
حدیث نمبر 704
حدیث نمبر: 704
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَلَقُوا الْعَدُوَّ، فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً، فَأَتَيْنَا الْمَدِينَةَ، فَتَخَبَّأْنَا بِهَا، وَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْنُ الْفَرَّارُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ أَنْتُمُ العَكَّارُونَ , وَأنَا فِئَتُكُمْ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی ان لوگوں کا دشمن سے سامنا ہوا تو وہ لوگ وہاں سے فرار ہو گئے جب ہم لوگ مدینہ منورہ آئے تو ہمیں اس حوالے سے الجھن ہوئی ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم لوگ فرار ہو کر آئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نہیں!) بلکہ تم پلٹ کر حملہ کرنے والے ہو اور میں تمہارے ساتھ ہوں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 704]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 2647، 5223، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1716، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3704، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13716، 18158، 18159، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4841، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5596 برقم: 5781»
حدیث نمبر 705
حدیث نمبر: 705
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سَمِعَ شَيْئًا لَمْ يَزِدْ فِيهِ، وَلَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ، وَلَمْ يُجَاوِزْهُ إِلَى غَيْرِهِ، وَلَمْ يُقْصرِّ عَنْهُ، فَحَدَّثَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ عُمَرَ جَالِسٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَنْطَحُهَا هَذِهِ مَرَّةً وَهذِهِ مَرّةً" ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : بَيْنَ الرَّبْضَيْنِ، فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَوَاءٌ بَيْنَ الرُّبَيْضَتَيْنِ وَبَيْنَ الْغَنَمَيْنِ، فَأَبَى ابْنُ عُمَرَ إِلا الرَّبْضَيْنِ، كَمَا سَمِعَ.
محمد بن علی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کوئی بات سنتے تھے، تو اس میں کسی لفظ کا اضافہ یا کمی نہیں کرتے تھے، نہ تو وہ ہٹ کر کسی دوسری طرف جاتے تھے اور نہ ہی اس میں کوئی کمی کرتے تھے۔ عبید بن عمر نے ایک حدیث بیان کی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ (حدیث یہ تھی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے، جو دو ریوڑوں کے درمیان ہوتی ہے کبھی وہ اس میں سینگ مارتی ہے اور کبھی اس میں سینگ مارتی ہے۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا: حدیث کے الفاظ ”ربیضین“ ہے (یعنی ایسا ریوڑ جس کے ساتھ چرواہا بھی ہوتا ہے) حدیث: ان سے کہا گیا: اے ابوعبدالرحمٰن! مطلب تو ایک ہی ہے، ”ربیضین“ کے درمیان ہو یا ”غنمین“ کے درمیان ہو، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اصرار کیا لفظ ”ربیضین“ ہے، جس طرح انہوں نے سنا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 705]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2784، 2784، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 264، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 6435، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5052، والدارمي فى «مسنده» برقم: 327، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4966 برقم: 5174»
حدیث نمبر 706
حدیث نمبر: 706
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَِّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الحَبَلَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حبل الحبلہ“ کا سودا کرنے (یعنی اتنی مدت کا سودا کرنے کے جب اونٹنی اپنے بچے کو جنم دے اور پھر اس کے ہاں جنم دینے والی اونٹنی اپنے بچے کو جنم دے تو اس بچے کا سودا کرنے یا اس وقت یعنی غیر متعین وقت میں کسی دوسرے سودے کی ادائیگی طے کرنے) سے منع کیا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 706]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2143، 2256، 3843، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1514، ومالك فى «الموطأ» برقم: 2410، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4637، 4638، 4639، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3380، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1229، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2197، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10971، 10972، 10973، 10974، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 401 برقم: 2689»
حدیث نمبر 707
حدیث نمبر: 707
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى فَقَدِ اسْتَثْنَى" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص قسم اٹھاتے ہوئے ان شاء اللہ کہہ دے تو وہ شخص استثناء کر لیتا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 707]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 1734، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4339، 4340، 4342، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7927، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3802، 3837، 3838، 3839، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4716، 4751، 4752، 4753، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3261، 3262، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1531، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2387، 2388، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2105، 2106، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15221، 15222، 19973، 19974، 19975، 19976 19977، 19978، 19982، 19983، 19984، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4329، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4598 برقم: 4671»
حدیث نمبر 708
حدیث نمبر: 708
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ:" كَانَ عَلَى عُمَرَ نَذْرُ اعْتِكَافِ لَيْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ لَيْلَةً وَيَفِيَ بِنَذْرِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ذمے زمانہ جاہلیت میں مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کرنے کی نذر تھی، انہوں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اعتکاف کر کے اپنی نذر کو پورا کریں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 708]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2032، 2042، 2043، 3144، 4320، 6697، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1656، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4379، 4380، 4381، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1610، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3829، 3830، 3831، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2474، 3325، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1539، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2378، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1772، 2129، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8669، 8670، 8678»