مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 689
حدیث نمبر: 689
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ الشَّيْبَانِيَّ ، يَقُولُ: بِعْتُ مَا فِي رُءُوسِ نَخْلِي بِمِائَةِ وَسَقِ تَمْرٍ، إِنْ زَادَ فَلَهُمْ، وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيْهِمْ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ إِلا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا" .
اسماعیل شیبانی بیان کرتے ہیں: میں نے کھجور کے درختوں پر لگے ہوئے پھل کو ایک سو وسق کھجوروں کے عوض میں فروخت کر دیا، (اس شرط پر کہ اگر درخت پر لگا ہوا پھل) زیادہ ہوا تو ان لوگوں کو مل جائے گا اگر کم ہوا تو اس کا نقصان بھی ان کو ہو گا۔ میں نے اس بارے میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے، تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا میں اس کی اجازت دی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 689]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2173، 2184، 2188، 2192، 2380، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1534، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5001، 5004، 5005، 5009، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4546، 4550، 4551، 4552، 4553، 4554، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3362، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1300، 1302، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2600، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2268، 2269، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10758، 10759، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4576 برقم: 4629»
حدیث نمبر 690
حدیث نمبر: 690
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرٌو ، قَبْلَ أَنْ نَلْقَى الزُّهْرِيَّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنَ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ" . قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَذُكِرَ لِي وَلَمْ أَرَهْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي حِينَ يُضِيءُ لَهُ الْفَجْرُ رَكْعَتَيْنِ.
سالم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے بعد دو رکعات ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر سے پہلے دو رکعات ادا کرتے، اور ظہر کے بعد دو رکعات ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے اور مغرب کے بعد دو رکعات ادا کرتے ہوئے اور عشاء کے بعد دو رکعات (سنت ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات بتائی گئی ہے، ویسے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود دیکھا نہیں، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح صادق ہو جانے کے بعد بھی دو رکعات ادا کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 690]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 937، 1165، 1172، 1180، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 728، 729، 882، 882، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2454، 2473، 2476، 2479، 2487، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 872، 1426، 1427، 1428، والترمذي فى «جامعه» برقم: 425، 433، 434، 521، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1477، 1485، 1614، 1615، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1131، 1143، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3090، 4547، 4548، 4578، 4609، 6018، 6023، 6024، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4593»
حدیث نمبر 691
حدیث نمبر: 691
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَكُنْتُ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ لِعُمَرَ، فَكَانَ يَغْلِبُنِي، فَيْتَقَدَّمُ أَمَامَ الْقَوْمِ، فَيَزْجُرُهُ عُمَرُ وَيْرُدُّهُ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيَزْجُرُهُ عُمَرُ وَيْرُدُّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ:" بِعْنِيهِ"، قَالَ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" بِعْنِيهِ"، فَبَاعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایک ایسے اونٹ پر سوار تھا جو سخت تھا وہ مجھ پر غالب آ جاتا تھا، اور لوگوں سے آگے نکل جاتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے جھڑکتے تھے اور اسے واپس کرتے تھے وہ پھر آگے ہو جاتا تھا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پھر اسے جھڑکتے تھے اور اسے واپس کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”یہ مجھے فروخت کر دو“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ آپ کا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مجھے فروخت کر دو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ ان سے خرید لیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمر! یہ تمہارا ہوا تم اس کے ساتھ جو چاہو کرو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 691]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2115، 2610، 2611، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7073، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10814، 12075، والطبراني فى "الكبير" برقم: 13666»
حدیث نمبر 692
حدیث نمبر: 692
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ أَلْقَاهُ وَاتَّخَذَ مِنْ فِضَّةٍ فَصَّةً مِنْهُ، وَجَعَلَ فَصَّهُ مِنْ بَاطِنْ كَفِّهِ، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَنَهَى أَنْ يَنْقُشَ أَحَدٌ عَلَيْهِ، فَهُوَ الَّذِي سَقَطَ مِنْ مُعَيْقيبٍ فِي بِئْرِ أُرَيْسٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہنی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی پہنی جس کا نگینہ بھی چاندی کا بنا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نگینے کو ہتھیلی کی سمت میں رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ”محمد رسول اللہ“ نقش کروایا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا تھا کہ کوئی شخص اس کی مطابق نقش بنوائے۔ یہ وہی انگوٹھی ہے، جو سیدنا معیقیب رضی اللہ عنہ سے ”اریس“ کے کنویں میں گر گئی تھی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 692]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5865، 5866، 5867، 5873، 5876، 6651، 7298، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2091، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5491، 5494، 5495، 5499، 5500، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5179، 5229، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4218، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1741، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3639، 3645، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4282، 7657، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4768 برقم: 4825»
حدیث نمبر 693
حدیث نمبر: 693
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الثَّنِيَّةِ، فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا حَدِيثًا وَاحِدًا، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ، فَقَالَ: " إِنِّي لأَعْلَمُ شَجَرَةً مَثَلُهَا كَمَثَلِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ"، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، ثُمَّ نَظَرْتُ، فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَسَكَتُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ النَّخْلَةُ" .
مجاہد بیان کرتے ہیں: میں ثنیہ تک سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ گیا، تو میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا انہوں نے صرف ایک حدیث بیان کی وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جمار (کھجور کے درخت کا گوند) لایا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے ایک ایسے درخت کے بارے میں پتا ہے، جس کی مثال مسلمان بندے کی مانند ہے۔“ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:) میرے ذہن میں آئی کہ وہ کھجور کا درخت ہو گا پہلے میں بات کرنے لگا، لیکن میں نے جائزہ لیا تو میں حاضرین میں سب سے کم سن تھا۔ اس لیے میں خاموش رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 693]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 61، 62، 72، 131، 2209، 4698، 5444، 5448، 6122، 6144، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2811، 2811، 2811، 2811، 2811، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 243، 244، 245، 246، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11197، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2867، والدارمي فى «مسنده» برقم: 290، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4689»
حدیث نمبر 694
حدیث نمبر: 694
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: فَقَالَ لِي عُمَرُ: لأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا، أَوْ قَالَ: مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اگر تم یہ بات کہہ دیتے تو میرے نزدیک اس، اس چیز سے زیادہ محبوب تھا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 694]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وانظر التعليق السابق»
حدیث نمبر 695
حدیث نمبر: 695
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَأَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ ، سَمِعُوا نَافِعًا ، يَقُولُ:" أَهَلَّ ابْنُ عُمَرَ بِالْعُمْرَةِ حِينَ خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ، وَقَالَ: إِنْ صَدَدْتُ، فَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَيْدَاءَ، قَالَ: مَا شَأْنُهُمَا؟ أَلا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي، قَالَ: ثُمَّ قَدِمَ مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ" ، زَادَ أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى فِي الْحديث: فَلَمَّا بَلَغَ قَدِيدًا اشْتَرَى بِهِ هَدْيًا، فَسَاقَهُ.
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عمرے کا احرام باندھا اس وقت جب مدینہ سے روانہ ہوئے تھے، پھر وہ بولے: اگر مجھے روک لیا گیا، تو میں ویسا ہی کروں گا، جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، جب وہ بیداء کے مقام پر آئے تو بولے: حج اور عمرے کی حیثیت ایک ہی ہے۔ میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر کہہ رہا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج بھی لازم کر لیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکہ آئے انہوں نے بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کیا مقام ابراہیم کے پاس دو رکعات نماز ادا کی پھر صفا و مروہ کا چکر لگایا پھر انہوں نے یہ بات بتائی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایسا کرتے دیکھا ہے۔ ایوب بن موسیٰ نامی راوی نے اپنی روایت میں مزید یہ الفاظ نقل کیے ہیں: جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ”قدید“ کے مقام پر پہنچے، تو وہاں سے انہوں نے قربانی کا جانور لیا اور اسے ساتھ لے آئے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 695]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1639، 1640، 1693، 1708، 1806، 1807، 1812، 1813، 4183، 4184، 4185، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1230، 1232، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3998، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2745، 2859، 2933، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8838، 8872، 8920، 9520، 10187، 10191، 10192، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4566»
حدیث نمبر 696
حدیث نمبر: 696
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَبْصَرَ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً سِيَرَاءَ عَلَى عُطَارِدَ، وَكَرِهَهَا لَهُ وَنَهَاهُ عَنْهَا، ثُمَّ أَنَّهُ كَسَا عُمَرَ مِثْلَهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدَ مَا قُلْتَ وَتَكْسُونِي هَذِهِ؟! قَالَ:" إِنِّي لَمْ أُكْسِكَهَا لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهَا لِتَكْسُوَهَا النِّسَاءَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عطارد نامی صاحب کے پاس ایک سیرانی (یعنی ریشمی) حلہ فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور اسے استعمال کرنے سے منع کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی مانند ایک حلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوایا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے عطارد کے حلے کے بارے میں، تو فلاں بات ارشاد فرمائی تھی اور اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ مجھے پہننے کے لیے دے رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میں نے تمہیں اسی لیے نہیں دیا، کہ تم اسے پہن لو، میں نے تمہیں یہ اس لیے دیا ہے، تاکہ تم اسے خواتین کو پہننے کے لیے دو!“ [مسند الحميدي/حدیث: 696]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 886، 948، 2104، 2612، 2619، 3054، 5841، 5981، 6081، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2068، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5113، 5439، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1381، 1559، 5310، 5314، 5315، 5322، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1076، 4040، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3591، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4267، 4268، 6032، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 351 برقم: 4804، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 239، 5515، 5814»
حدیث نمبر 697
حدیث نمبر: 697
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ الأَسَدِيَّ ، يَقُولُ:" خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى الْحِمَى، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ هِبْنَا أَنْ نَقُولَ لَهُ: انْزِلْ فَصَلِ، فَلَمَّا غَابَ الشَّفَقُ نَزَلَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ بِنَا ثَلاثًا ثُمَّ سَلَّمَ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ" . قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ كَثِيرًا إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، لا يَقُولُ فِيهِ: فَلَمَّا غَابَ الشَّفَقُ، يَقُولُ: فَلَمَّا ذَهَبَ بَيَاضُ الأُفُقِ وَفَحْمَةُ الْعِشَاءِ نَزَلَ فَصَلَّى، فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا قَالَ إِسْمَاعِيلُ: غَابَ الشَّفَقُ وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ، فَإِذًا أَقُولُ هَكَذَا لأَنَّ مُجَاهِدًا حَدَّثَنَا أَنَّ الشَّفَقَ النَّهَارُ، قَالَ سُفْيَانُ: فَأَنَا أُحَدِّثُ بِهِ هَكَذَا مَرَّةً، وَهَكَذَا مَرَّةً.
اسماعیل بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ چراگاہ کی طرف گئے جب سورج غروب ہو گیا، تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا (کہ کہیں نماز کا وقت نہ گزر جائے) ہم نے ان سے کہا: آپ سواری سے نیچے اترئیے اور نماز ادا کیجئے جب شفق غروب ہو گئی تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سواری سے نیچے اترے انہوں نے ہمیں مغرب کی نماز میں تین رکعات پڑھائیں پھر انہوں نے سلام پھیرا پھر انہوں نے عشاء کی نماز کی دو رکعات ادا کیں پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بتایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: ابن ابونجیح نامی راوی اکثر اوقات جب یہ حدیث بیان کرتے تھے، تو اس میں یہ الفاظ نقل نہیں کرتے تھے: ”جب شفق غروب ہو گئی۔“ بلکہ وہ یہ الفاظ استعمال کرتے تھے ”جب افق کی سفیدی اور رات کی سیاہی چلی گئی تو وہ اپنی سواری سے اترے انہوں نے نماز ادا کی۔“ سفیان کہتے ہیں: میں نے ابن ابونجیح سے اس کے بارے میں بات کی، تو انہوں نے بتایا: اسماعیل نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ”جب شفق غروب ہو گئی۔“ میں ان الفاظ کو نقل کرنے کو اس لیے پسند نہیں کرتا، کیونکہ مجاہد نے ہمیں یہ بات بتائی ہے: شفق سے مراد دن ہوتا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: تو میں بعض اوقات یہ روایت ان الفاظ میں نقل کرتا ہوں اور بعض اوقات ان الفاظ میں نقل کر دیتا ہوں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 697]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1091، 1106، 1109، 1805، 3000، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 703، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1455، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 587، 590، 591، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1207، 1212، 1217، والترمذي فى «جامعه» برقم: 555، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1558، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5595، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4558»
حدیث نمبر 698
حدیث نمبر: 698
حَدَّثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ أَنَّ رَجُلا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعْ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَأَنَا لا أَصُومُهُ وَلا آمُرُ بِهِ وَلا أَنْهَى عَنْهُ" .
ابن ابونجیح اپنے والد کے حوالے سے ایک صاحب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بولے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ نہیں رکھا تھا۔ میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، تو انہوں نے بھی اس دن روزہ نہیں رکھا۔ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، تو انہوں نے بھی اس دن روزہ نہیں رکھا۔ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، تو انہوں نے بھی اس دن روزہ نہیں رکھا تو میں اس دن روزہ نہیں رکھوں گا اور اس کا حکم بھی نہیں دوں گا اور اس سے منع بھی نہیں کروں گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 698]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف فيه جهالة ولكن الحديث صحيح أخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3604، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2836، 2838، 2839، 2840، والترمذي فى «جامعه» برقم: 751، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1806، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 5175 برقم: 5212، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5595»