🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 679
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 679
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: کوئی بھی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے بلکہ تم کشادگی اور وسعت اختیار کرو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 679]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 911، 6269، 6270، 6288، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2177، 2183، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 580، 581، 582، 584، 586، 587، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1091، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4828، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2749، 2750، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2695، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3776، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5975، 5976، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4536 برقم: 4653»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 680
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 680
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَمُرُّ بِشَجَرَةٍ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ," كَانَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَظِلُّ فِيهَا، فَيَحْمِلُ لَهَا الْمَاءَ مِنَ الْمَكَانِ الْبَعِيدِ حَتَّى يَصُبَّهُ تَحْتَهَا" .
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک درخت کے پاس سے جب بھی گزرتے تو اس کے لیے دور سے پانی لا کر اس کو پانی دیا کرتے تھے کہ یہ وہ درخت تھا، جس کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سائے میں آرام فرماتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 680]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7074، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10378، والبزار فى «مسنده» برقم: 5908، 5909، والطبراني فى "الأوسط" برقم: 3968»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 681
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 681
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَمْ مَرَّةٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: لَسْتُ أَنْهَى أَحَدًا صَلَّى أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَفْعَلُ كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يَفْعَلُونَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَحَرَّوْا بِصَلاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ، وَلا غُرُوبَهَا" . قِيلَ لِسُفْيَانَ: هَذَا يُرْوَى عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ هِشَامًا ذَكَرَهُ قَطُّ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں کسی بھی شخص کو رات یا دن کے کسی بھی وقت میں نماز ادا کرنے سے منع نہیں کرتا، میں ویسا ہی کرتا ہوں جیسا میں نے اپنے ساتھیوں کو کرتے ہوئے دیکھا ہے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: تم لوگ بطور خاص سورج طلوع ہونے کے قریب یا غروب ہونے کے قریب نماز ادا کرنے کی کوشش نہ کرو۔ سفیان سے کہا گیا: یہ روایت تو ہشام کے حوالے سے نقل کی گئی ہے، تو وہ بولے: میں نے ہشام کو اس کا تذکرہ کرتے ہوئے کبھی نہیں سنا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 681]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 582، 583، 585، 589، 1629، 3272، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 828، 829، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1545، 1548، 1566، 1567، 1569، 5996، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 562، 563، 570، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4449، 4450، 4451، 4494، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4702»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 682
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 682
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُوم عَلَى الصَّفَا فِي مَكَانٍ أَظُنُّ ذَلِكَ: وَاللَّهِ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فِيهِ" .
نافع بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا پہاڑ پر ایک مخصوص جگہ پر کھڑے ہوئے دیکھا، میرا خیال ہے، اللہ کی قسم! انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ کھڑے ہوئے دیکھا ہو گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 682]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف وما وجدته عند غير الحميدي ولكن أخرجه الطبرني فى «الكبير» برقم: 10036 والبيهقي فى الحج 95/5 وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 5773»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 683
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 683
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ اعْتَمَرَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَيْقَعُ بِامْرَأَتِهِ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21" .
عمر و بن دینار بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو عمرہ کرتے ہوئے بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کرتا ہے، لیکن صفا و مروہ کا چکر نہیں لگاتا تو کیا وہ اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بولے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ کا طواف کیا جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» (33-الأحزاب:21) تمہارے لیے اللہ کے رسول کے طریقے میں بہترین نمونہ ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 683]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 395، 1623، 1627، 1645، 1647، 1793، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1233، 1234، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3809، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2929، 2930، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2959، 2974، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9338، 9420، 9457، 9458، 9459، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4600»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 684
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 684
قَالَ عَمْرٌو: وَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: لا يَقْرَبُهَا حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.
عمر و بن دینار کہتے ہیں: ہم نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا: تم اپنی بیوی کے قریب اس وقت تک نہیں جا سکتے جب تک تم صفا و مروہ کا چکر نہیں لگا لیتے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 684]
تخریج الحدیث: «حديث جابر هذا موصول بلإسناد السابق وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 396، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9458، 9911، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5634، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 14944»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 685
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 685
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: قِيلَ لابْنِ عُمَرَ: إِنَّ أَبَا نَهِيكٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يَأْكُلُ أَكْلا كَثِيرًا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ" ، قَالَ الرَّجُلُ: أَمَّا أَنَا فَأُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.
عمر و بن دینار کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: مکہ کا ایک شخص ابونہیک بہت زیادہ کھاتا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بولے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو وہ صاحب بولے: جہاں تک میرا تعلق ہے، تو میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہوں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 685]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5393، 5394، 5395، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2060، 2061، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5238، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6740، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1818، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2084، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3257، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4809»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 686
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 686
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا عَبْدٍ كَانَ بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا، فَإِنَّهُ يَقُومُ عَلَيْهِ بِأَعْلَى الْقِيمَةِ، أَوْ قَالَ: قِيمَةَ عَدْلٍ لا وَكْسَ، وَلا شَطَطٍ ثُمَّ يَغْرُمُ لِصَاحِبِهِ حِصَّتَهُ ثُمَّ يُعْتَقُ" . قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ عَمْرٌو يَشُكَّ فِيهِ هَكَذَا.
سالم بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو غلام دو آدمیوں کی ملکیت ہو اور دونوں میں سے کوئی ایک شخص اپنے حصے کو آزاد کر دے۔ اگر وہ شخص خوشحال ہو، تو اس غلام کی منصفانہ طور پر کسی کمی بیشی کے بغیر مناسب قیمت لگائی جائے گی اور پھر وہ شخص اپنے ساتھی کو اس کے حصے کی تاوان کی رقم ادا کرے گا اور اس غلام کو (مکمل طور پر) آزاد کر دے گا۔ سفیان کہتے ہیں: عمر و کو اس روایت کے اس طرح ہونے میں شک ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 686]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2491، 2503، 2521، 2522، 2523، 2524، 2525، 2553، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1501، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4315، 4316، 4317، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4712 وأبو داود فى «سننه» برقم: 3940، 3947، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1346، 1347، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2528، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11636، 21377، 21378، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 404»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 687
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 687
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِلْمُتَلاعِنَيْنِ:" حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَالِي , مَالِي، قَالَ:" لا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكِ مِنْهُ، أَوْ قَالَ: مِنْهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لعان کرنے والے (میاں بیوی سے) یہ کہتے ہوئے سنا ہے: تم دونوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے، تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے، لیکن اب (تمہیں یعنی مرد کو) اس عورت پر کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ ان صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرا مال، میرا مال۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں مال نہیں ملے گا اگر تم نے اس عورت کے بارے میں سچ کہا ہے، تو یہ مال اس چیز کا عوض بن جائے گا، جو تم نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا تھا، اور اگر تم نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے، تو پھر تو وہ تم سے اور بھی زیادہ دور ہو جائے گا۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) [مسند الحميدي/حدیث: 687]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 4748، 5306، 5311، 5312، 5313، 5314، 5315، 5349، 5350، 6748، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1493، 1494، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4286، 4287، 4288، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3473، 3474، 3475، 3476، 3477، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2257، 2258، 2259، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1202، 1203، 3178، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2277، 2278، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2069، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15394، 15421، 15422، 15423، 15424، 15435، 15437، 15438، 15449، 15450، 15451، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3706، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 405 برقم: 4563»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 688
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 688
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ , أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَجُلٌ لاعَنَ امْرَأَتَهُ؟ فَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ بِيَدِهِ هَكَذَا بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى: فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيِ بَنِي عَجْلانَ، وَقَالَ:" اللَّهُ تَعَالَى يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟" . قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ أَيُّوبُ حَدَّثَنَاهُ أَوَّلا فِي مَجْلِسِ عَمْرٍو، ثُمَّ حَدَّثَ عَمْرٌو بِحَدِيثِهِ هَذَا، فَقَالَ لَهُ أَيُّوبُ: أَنْتَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَحْسَنُ لَهُ حَدِيثًا مِنِّي.
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ لعان کر سکتا ہے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا اس طرح۔ انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان سے تعلق رکھنے والے دو میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹ بول رہا ہے، تو کیا تم دونوں توبہ کرو گے؟ سفیان کہتے ہیں: پہلے ایوب نے ہمیں یہ روایت عمرو کی محفل میں سنائی تھی پھر عمرو نے ان کی حدیث کے حوالے سے یہ روایت اس طرح بیان کی، تو ایوب نے ان سے کہا: اے ابومحمد! آپ اس روایت کو مجھ سے زیادہ بہتر طور پر بیان کر سکتے ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 688]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 4748، 5306، 5311، 5312، 5313، 5314، 5315، 5349، 5350، 6748، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1493، 1494، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4286، 4287، 4288، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3473، 3474، 3475، 3476، 3477، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2257، 2258، 2259، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1202، 1203، 3178، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2277، 2278، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2069، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15394، 15421، 15422، 15423، 15424، 15435، 15437، 15438، 15449، 15450، 15451، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3706، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 405 برقم: 4563»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں