صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
104. بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْفَجْرِ:
باب: نماز فجر میں قرآن شریف پڑھنا۔
حدیث نمبر: 771
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ، قَال: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ، فَقَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ، وَيَرْجِعُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، وَلَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَعْرِفُ جَلِيسَهُ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَوْ إِحْدَاهُمَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سیار ابن سلامہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی صحابی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ ہم نے آپ سے نماز کے وقتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر پڑھتے تھے۔ عصر جب پڑھتے تو مدینہ کے انتہائی کنارہ تک ایک شخص چلا جاتا۔ لیکن سورج اب بھی باقی رہتا۔ مغرب کے متعلق جو کچھ آپ نے کہا وہ مجھے یاد نہیں رہا اور عشاء کے لیے تہائی رات تک دیر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے اور آپ اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ جب نماز صبح سے فارغ ہوتے تو ہر شخص اپنے قریب بیٹھے ہوئے کو پہچان سکتا تھا۔ آپ دونوں رکعات میں یا ایک میں ساٹھ سے لے کر سو تک آیتیں پڑھتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 771]
سیار بن سلامہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اور میرے والد (ہم دونوں) حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے نمازوں کے اوقات دریافت کیے۔ انہوں نے فرمایا کہ جب آفتاب ڈھل جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز پڑھتے تھے اور نمازِ عصر ایسے وقت میں ادا کرتے کہ آدمی مدینے کے آخری کنارے تک واپس پہنچ جاتا جبکہ آفتاب ابھی تغیر پذیر نہ ہوا ہوتا۔ نمازِ مغرب کے متعلق جو کچھ حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے میں بھول گیا ہوں، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عشاء رات کے تیسرے حصے تک مؤخر کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے تھے لیکن اس سے پہلے نیند کرنے اور اس کے بعد باتوں میں مصروف ہونے کو ناپسند کرتے تھے۔ اور نمازِ صبح ایسے وقت میں پڑھتے کہ آدمی نماز سے فراغت کے بعد اپنے ساتھی کو پہچان سکتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رکعات یا ہر ایک میں ساٹھ سے سو آیات تک تلاوت فرماتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 771]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 772
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ:" فِي كُلِّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى عَنَّا أَخْفَيْنَا عَنْكُمْ، وَإِنْ لَمْ تَزِدْ عَلَى أُمِّ الْقُرْآنِ أَجْزَأَتْ، وَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبدالملک ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ ہر نماز میں قرآن مجید کی تلاوت کی جائے گی۔ جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قرآن سنایا تھا ہم بھی تمہیں ان میں سنائیں گے اور جن نمازوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ قرآت کی ہم بھی ان میں آہستہ ہی قرآت کریں گے اور اگر سورۃ فاتحہ ہی پڑھو جب بھی کافی ہے، لیکن اگر زیادہ پڑھ لو تو اور بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 772]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہر نماز میں قراءت کرنی چاہیے، پھر جن نمازوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بآواز بلند سنایا ہے ہم ان میں تمہیں بآواز بلند سناتے ہیں اور جن میں آپ نے ہم سے قراءت کو پوشیدہ رکھا ہے، ان میں ہم بھی تم سے پوشیدہ رکھتے ہیں۔ اور اگر تو سورہ فاتحہ سے زیادہ قراءت نہ کرے تو بھی کافی ہے اور اگر زیادہ پڑھ لے تو اچھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 772]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
105. بَابُ الْجَهْرِ بِقِرَاءَةِ صَلاَةِ الْفَجْرِ:
باب: فجر کی نماز میں بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنا۔
حدیث نمبر: Q773
وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: طُفْتُ وَرَاءَ النَّاسِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَيَقْرَأُ بِالطُّورِ.
اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے لوگوں کے پیچھے ہو کر کعبہ کا طواف کیا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز میں) سورۃ الطور پڑھ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q773]
حدیث نمبر: 773
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: مَا لَكُمْ، فَقَالُوا: حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ، قَالُوا: مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلَّا شَيْءٌ حَدَثَ فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَانْصَرَفَ أُولَئِكَ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِنَخْلَةَ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ، فَقَالُوا: هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَهُنَالِكَ حِينَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ وَقَالُوا: يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ سورة الجن آية 1 وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے ابوبشر سے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف گئے۔ ان دنوں شیاطین کو آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگارے (شہاب ثاقب) پھینکے جانے لگے تھے۔ تو وہ شیاطین اپنی قوم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بات کیا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا ہے اور (جب ہم آسمان کی طرف جاتے ہیں تو) ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں۔ شیاطین نے کہا کہ آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کی کوئی نئی وجہ ہوئی ہے۔ اس لیے تم مشرق و مغرب میں ہر طرف پھیل جاؤ اور اس سبب کو معلوم کرو جو تمہیں آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کا سبب ہوا ہے۔ وجہ معلوم کرنے کے لیے نکلے ہوئے شیاطین تہامہ کی طرف گئے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عکاظ کے بازار کو جاتے ہوئے مقام نخلہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ نماز فجر پڑھ رہے تھے۔ جب قرآن مجید انہوں نے سنا تو غور سے اس کی طرف کان لگا دئیے۔ پھر کہا، اللہ کی قسم! یہی ہے جو آسمان کی خبریں سننے سے روکنے کا باعث بنا ہے۔ پھر وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور کہا قوم کے لوگو! ہم نے حیرت انگیز قرآن سنا جو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ اس لیے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی «قل أوحي إلى» (آپ کہیئے کہ مجھے وحی کے ذریعہ بتایا گیا ہے) اور آپ پر جنوں کی گفتگو وحی کی گئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 773]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ «سُوقِ عُكَاظ» "عکاظ کے بازار" کا ارادہ کر کے چلے جبکہ ان دنوں شیاطین کو آسمانی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر شعلے برسائے جا رہے تھے۔ ان حالات میں شیاطین اپنی قوم کی طرف لوٹ آئے، قوم نے پوچھا: کیا حال ہے؟ شیاطین نے کہا: ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے اور اب ہم پر شعلے برسائے جا رہے ہیں۔ قوم نے کہا: تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان کوئی ایسی چیز حائل ہو گئی ہے جو ابھی ابھی ظاہر ہوئی ہے، اس لیے تم روئے زمین میں مشرق و مغرب تک چل پھر کر دیکھو کہ وہ کیا چیز ہے جو تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہو گئی ہے؟ چنانچہ وہ اس کی تلاش میں نکلے، ان میں وہ جنات جو تہامہ کی طرف نکلے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ پہنچے۔ آپ اس وقت مقام «نَخْلَة» میں تھے اور عکاظ کی منڈی کی طرف جانے کی نیت رکھتے تھے۔ اس وقت آپ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز فجر پڑھا رہے تھے۔ جب ان جنات نے کان لگا کر قرآن سنا تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! یہی وہ قرآن ہے جس نے تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حجاب ڈال دیا ہے، چنانچہ اسی مقام سے وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور ان سے کہنے لگے: بھائیو! ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو ہدایت کا رستہ بتاتا ہے، لہذا ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ اب ہم ہرگز اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ تب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ سورت ﴿قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ﴾ [سورة الجن: 1] نازل فرمائی اور آپ کو جنوں کی گفتگو بذریعہ وحی بتائی گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 773]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 774
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُمِرَ وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ، وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے عکرمہ سے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جن نمازوں میں بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے کا حکم ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں بلند آواز سے پڑھا اور جن میں آہستہ سے پڑھنے کا حکم ہوا تھا ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے پڑھا اور تیرا رب بھولنے والا نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 774]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جس نماز میں جہر کا حکم ہوا آپ نے اس میں جہر کیا اور جس نماز میں آہستہ پڑھنے کا حکم ہوا وہاں آہستہ پڑھا اور ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾ [سورة مريم: 64] ”تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں“ اور ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”بلاشبہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں بہترین نمونہ ہے“ یعنی ان کی پیروی کرنا ہی اچھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 774]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
106. بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ السُّورَتَيْنِ فِي الرَّكْعَةِ:
باب: ایک رکعت میں دو سورتیں ایک ساتھ پڑھنا۔
حدیث نمبر: Q775-2
وَيُذْكَرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُونَ فِي الصُّبْحِ حَتَّى إِذَا جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى، وَهَارُونَ أَوْ ذِكْرُ عِيسَى أَخَذَتْهُ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ وَقَرَأَ عُمَرُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِمِائَةٍ وَعِشْرِينَ آيَةً مِنْ الْبَقَرَةِ وَفِي الثَّانِيَةِ بِسُورَةٍ مِنَ الْمَثَانِي وَقَرَأَ الْأَحْنَفُ بِالْكَهْفِ فِي الْأُولَى وَفِي الثَّانِيَةِ بِيُوسُفَ أَوْ يُونُسَ، وَذَكَرَ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الصُّبْحَ بِهِمَا وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِأَرْبَعِينَ آيَةً مِنْ الْأَنْفَالِ وَفِي الثَّانِيَةِ بِسُورَةٍ مِنْ الْمُفَصَّلِ، وَقَالَ قَتَادَةُ: فِيمَنْ يَقْرَأُ سُورَةً وَاحِدَةً فِي رَكْعَتَيْنِ أَوْ يُرَدِّدُ سُورَةً وَاحِدَةً فِي رَكْعَتَيْنِ كُلٌّ كِتَابُ اللَّهِ .
اور سورت کے آخری حصوں کا پڑھنا اور ترتیب کے خلاف سورتیں پڑھنا یا کسی سورت کو (جیسا کہ قرآن شریف کی ترتیب ہے) اس سے پہلے کی سورت سے پہلے پڑھنا اور کسی سورت کے اول حصہ کا پڑھنا یہ سب درست ہے۔ اور عبداللہ بن سائب سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں سورۃ مومنون تلاوت فرمائی، جب آپ موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے ذکر پر پہنچے یا عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر پر تو آپ کو کھانسی آنے لگی، اس لیے رکوع فرما دیا اور عمر رضی اللہ عنہ نے پہلی رکعت میں سورۃ البقرہ کی ایک سو بیس آیتیں پڑھیں اور دوسری رکعت میں مثانی (جس میں تقریباً سو آیتیں ہوتی ہیں) میں سے کوئی سورت تلاوت کی اور احنف رضی اللہ عنہ نے پہلی رکعت میں سورۃ الکہف اور دوسری میں سورۃ یوسف یا سورۃ یونس پڑھی اور کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز میں یہ دونوں سورتیں پڑھی تھیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورۃ الانفال کی چالیس آتیں (پہلی رکعت میں) پڑھیں اور دوسری رکعت میں مفصل کی کوئی سورۃ پڑھی اور قتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے متعلق جو ایک سورۃ دو رکعات میں تقسیم کر کے پڑھے یا ایک سورۃ دو رکعتوں میں باربار پڑھے فرمایا کہ ساری ہی کتاب اللہ میں سے ہیں۔ (لہٰذا کوئی حرج نہیں) [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q775-2]
حدیث نمبر: Q775
وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَؤُمُّهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ وَكَانَ كُلَّمَا افْتَتَحَ سُورَةً يَقْرَأُ بِهَا لَهُمْ فِي الصَّلَاةِ مِمَّا يَقْرَأُ بِهِ افْتَتَحَ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ سورة الإخلاص آية 1حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا ثُمَّ يَقْرَأُ سُورَةً أُخْرَى مَعَهَا، وَكَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَكَلَّمَهُ أَصْحَابُهُ فَقَالُوا: إِنَّكَ تَفْتَتِحُ بِهَذِهِ السُّورَةِ ثُمَّ لَا تَرَى أَنَّهَا تُجْزِئُكَ حَتَّى تَقْرَأَ بِأُخْرَى، فَإِمَّا تَقْرَأُ بِهَا وَإِمَّا أَنْ تَدَعَهَا وَتَقْرَأَ بِأُخْرَى، فَقَالَ: مَا أَنَا بِتَارِكِهَا إِنْ أَحْبَبْتُمْ أَنْ أَؤُمَّكُمْ بِذَلِكَ فَعَلْتُ وَإِنْ كَرِهْتُمْ تَرَكْتُكُمْ وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْ أَفْضَلِهِمْ وَكَرِهُوا أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ، فَلَمَّا أَتَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: يَا فُلَانُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَفْعَلَ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ أَصْحَابُكَ وَمَا يَحْمِلُكَ عَلَى لُزُومِ هَذِهِ السُّورَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّهَا، فَقَالَ: حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ .
عبیداللہ بن عمر نے ثابت رضی اللہ عنہ سے انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ انصار میں سے ایک شخص (کلثوم بن ہدم) قباء کی مسجد میں لوگوں کی امامت کیا کرتا تھا۔ وہ جب بھی کوئی سورۃ (سورۃ فاتحہ کے بعد) شروع کرتا تو پہلے «قل هو الله أحد» پڑھ لیتا۔ پھر کوئی دوسری سورۃ پڑھتا۔ ہر رکعت میں اس کا یہی عمل تھا۔ اس کے ساتھیوں نے اس سلسلے میں اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ تم پہلے یہ سورۃ پڑھتے ہو اور صرف اسی کو کافی خیال نہیں کرتے بلکہ دوسری سورۃ بھی (اس کے ساتھ) ضرور پڑھتے ہو۔ یا تو تمہیں صرف اسی کو پڑھنا چاہئے ورنہ اسے چھوڑ دینا چاہئے اور بجائے اس کے کوئی دوسری سورۃ پڑھنی چاہئے۔ اس شخص نے کہا کہ میں اسے نہیں چھوڑ سکتا اب اگر تمہیں پسند ہے کہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں تو برابر پڑھتا رہوں گا ورنہ میں نماز پڑھانا چھوڑ دوں گا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ ان سب سے افضل ہیں اس لیے وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے علاوہ کوئی اور شخص نماز پڑھائے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان لوگوں نے آپ کو واقعہ کی خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا کر پوچھا کہ اے فلاں! تمہارے ساتھی جس طرح کہتے ہیں اس پر عمل کرنے سے تم کو کون سی رکاوٹ ہے اور ہر رکعت میں اس سورۃ کو ضروری قرار دے لینے کا سبب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں اس سورۃ سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سورۃ کی محبت تمہیں جنت میں لے جائے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q775]
حدیث نمبر: 775
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ:" قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ، لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ، فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنْ الْمُفَصَّلِ سورتيِن في كُلِّ رَكْعَةٍ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابووائل شقیق بن مسلم سے سنا کہ ایک شخص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے رات ایک رکعت میں مفصل کی سورۃ پڑھی۔ آپ نے فرمایا کہ کیا اسی طرح (جلدی جلدی) پڑھی جیسے شعر پڑھے جاتے ہیں۔ میں ان ہم معنی سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ آپ نے مفصل کی بیس سورتوں کا ذکر کیا۔ ہر رکعت کے لیے دو دو سورتیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 775]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: میں نے آج رات مفصل کی تمام سورتیں ایک ہی رکعت میں پڑھ دیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے اس قدر تیزی سے پڑھیں جیسے اشعار پڑھے جاتے ہیں۔ بےشک میں ان جوڑا جوڑا سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے، پھر آپ نے مفصل کی بیس سورتیں بیان کیں، یعنی ہر رکعت میں پڑھی جانے والی دو دو سورتیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 775]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
107. بَابُ يَقْرَأُ فِي الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ:
باب: پچھلی دو رکعات میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھنا۔
حدیث نمبر: 776
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ فِي الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ وَيُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مَا لَا يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، وَهَكَذَا فِي الْعَصْرِ، وَهَكَذَا فِي الصُّبْحِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی دو پہلی رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو رکعات میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے۔ کبھی کبھی ہمیں ایک آیت سنا بھی دیا کرتے تھے اور پہلی رکعت میں قرآت دوسری رکعت سے زیادہ کرتے تھے۔ عصر اور صبح کی نماز میں بھی آپ کا یہی معمول تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 776]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں مزید پڑھتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے تھے، اور کبھی کبھی کوئی آیت ہمیں سنا بھی دیتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت کو دوسری رکعت سے لمبا کرتے تھے، اسی طرح عصر اور صبح کی نماز میں بھی یہی معمول تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 776]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
108. بَابُ مَنْ خَافَتَ الْقِرَاءَةَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ:
باب: جس نے ظہر اور عصر میں آہستہ سے قرآت کی۔
حدیث نمبر: 777
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قُلْتُ لِخَبَّابٍ:" أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْنَا: مِنْ أَيْنَ عَلِمْتَ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے اعمش سے بیان کیا، وہ عمارہ بن عمیر سے، وہ ابومعمر عبداللہ بن مخبرہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآن مجید پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں! ہم نے پوچھا کہ آپ کو معلوم کس طرح ہوتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کے ہلنے سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 777]
حضرت ابو معمر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ ہم نے دوبارہ عرض کیا کہ آپ کو کیسے پتا چلتا تھا؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کی جنبش کی وجہ سے ہمیں معلوم ہو جاتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 777]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة