🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
116. بَابُ إِتْمَامِ التَّكْبِيرِ فِي السُّجُودِ:
باب: سجدے کے وقت بھی پورے طور پر تکبیر کہنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 786
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَخَذَ بِيَدِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ لَقَدْ صَلَّى بِنَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے غیلان بن جریر سے بیان کیا، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے، انہوں نے کہا کہ میں نے اور عمران بن حصین نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ تو وہ جب بھی سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے۔ اسی طرح جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔ جب دو رکعات کے بعد اٹھتے تو تکبیر کہتے۔ جب نماز ختم ہوئی تو عمران بن حصین نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ علی رضی اللہ عنہ نے آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلائی، یا یہ کہا کہ اس شخص نے ہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح آج نماز پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 786]
حضرت مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ جب بھی سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے اور جب بھی سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، اسی طرح جب دو رکعات سے اٹھتے تو تکبیر کہتے، چنانچہ نماز مکمل ہونے کے بعد حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ انہوں نے مجھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی ہے یا انہوں نے ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھائی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 786]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 787
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عِكْرِمَة، قَالَ:" رَأَيْتُ رَجُلًا عِنْدَ الْمَقَامِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَإِذَا قَامَ وَإِذَا وَضَعَ، فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَوَلَيْسَ تِلْكَ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أُمَّ لَكَ".
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ہشیم بن بشیر نے ابوبشر حفص بن ابی وحشیہ سے خبر دی، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ایک شخص کو مقام ابراہیم میں (نماز پڑھتے ہوئے) دیکھا کہ ہر جھکنے اور اٹھنے پر وہ تکبیر کہتا تھا۔ اسی طرح کھڑے ہوتے وقت اور بیٹھتے وقت بھی۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس کی اطلاع دی۔ آپ نے فرمایا، ارے تیری ماں مرے! کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سی نماز نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 787]
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک آدمی کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ وہ جب بھی جھکتا، اٹھتا، کھڑا ہوتا یا بیٹھتا تو تکبیر کہتا۔ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بتایا تو انہوں نے فرمایا: تیری ماں نہ ہو، کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سی نماز نہیں ہے؟ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 787]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
117. بَابُ التَّكْبِيرِ إِذَا قَامَ مِنَ السُّجُودِ:
باب: جب سجدہ کر کے کھڑا ہو تو تکبیر کہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 788
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ 0بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّهُ أَحْمَقُ، فَقَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے بیان کیا، وہ عکرمہ سے، کہا کہ میں نے مکہ میں ایک بوڑھے کے پیچھے (ظہر کی) نماز پڑھی۔ انہوں نے (تمام نماز میں) بائیس تکبیریں کہیں۔ اس پر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ یہ بوڑھا بالکل بے عقل معلوم ہوتا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تمہاری ماں تمہیں روئے یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے یوں بھی بیان کیا کہ ہم سے ابان نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے قتادہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے عکرمہ نے یہ حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 788]
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے مکہ مکرمہ میں ایک بزرگ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے (اٹھتے، جھکتے وقت) کل بائیس تکبیرات کہیں۔ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: یہ تو بے وقوف ہے۔ اس پر انہوں نے فرمایا: تجھے تیری ماں گم پائے، یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ موسیٰ بن اسماعیل نے کہا کہ ہمیں ابان نے حدیث بیان کی، ان سے قتادہ نے، ان سے حضرت عکرمہ رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 788]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 789
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ: عَنْ اللَّيْثِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے عقیل بن خالد کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے خبری دی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے۔ پھر جب رکوع کرتے تب بھی تکبیر کہتے تھے۔ پھر جب سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده‏» کہتے اور کھڑے ہی کھڑے «ربنا لك الحمد‏» کہتے۔ پھر جب (دوسرے) سجدہ کے لیے جھکتے تب تکبیر کہتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہتے۔ اسی طرح آپ تمام نماز پوری کر لیتے تھے۔ قعدہ اولیٰ سے اٹھنے پر بھی تکبیر کہتے تھے۔ (اس حدیث میں) عبداللہ بن صالح نے لیث کے واسطے سے (بجائے «ربنا لك الحمد‏» کے) «ربنا ولك الحمد‏» نقل کیا ہے۔ ( «ربنا لك الحمد‏» کہے یا «ربنا ولك الحمد‏» واؤ کے ساتھ ہر دو طریقہ درست ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 789]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے، جب رکوع کرتے تو بھی تکبیر کہتے، پھر جب رکوع سے اپنی پیٹھ اٹھاتے تو «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہتے، اس کے بعد بحالتِ قومہ «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں کہتے۔ راویِ حدیث عبداللہ بن صالح نے اپنے استاد لیث سے «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ پھر جب (سجدے کے لیے) جھکتے تو تکبیر کہتے، اس کے بعد جب (سجدے سے) سر اٹھاتے تو بھی تکبیر کہتے، پھر دوسرے سجدے کے لیے «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے اور آخر میں جب دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے تو بھی تکبیر کہتے، پھر اپنی تمام نماز میں ایسا ہی کرتے تاآنکہ اسے پورا کر لیتے، علاوہ ازیں جب تشہد میں بیٹھنے کے بعد دو رکعات سے فراغت کے بعد اٹھتے تو بھی تکبیر کہتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 789]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
118. بَابُ وَضْعِ الأَكُفِّ عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ:
باب: اس بارے میں کہ رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q790
وَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ فِي أَصْحَابِهِ: أَمْكَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ.
‏‏‏‏ اور ابوحمید نے اپنے ساتھیوں کے سامنے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر جمائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q790]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 790
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ:" صَلَّيْتُ إِلَى جَنْب أَبِي فَطَبَّقْتُ بَيْنَ كَفَّيَّ ثُمَّ وَضَعْتُهُمَا بَيْنَ فَخِذَيَّ، فَنَهَانِي أَبِي وَقَالَ: كُنَّا نَفْعَلُهُ فَنُهِينَا عَنْهُ وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ أَيْدِينَا عَلَى الرُّكَبِ".
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابویعفور اکبر سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے مصعب بن سعد سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز پڑھی اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر رانوں کے درمیان رکھ لیا۔ اس پر میرے باپ نے مجھے ٹوکا اور فرمایا کہ ہم بھی پہلے اسی طرح کرتے تھے۔ لیکن بعد میں اس سے روک دئیے گئے اور حکم ہوا کہ ہم اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 790]
حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے پہلو میں نماز پڑھی تو میں نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر اپنی رانوں کے درمیان رکھ لیا۔ مجھے میرے والد نے اس فعل سے منع فرمایا اور کہا کہ ہم پہلے ایسا کیا کرتے تھے پھر ہمیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ (دورانِ رکوع) اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھا کریں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 790]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
119. بَابُ إِذَا لَمْ يُتِمَّ الرُّكُوعَ:
باب: اگر رکوع اچھی طرح اطمینان سے نہ کرے تو نماز نہ ہو گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 791
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، قَالَ:" رَأَى حُذَيْفَةُ رَجُلًا لَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، قَالَ: مَا صَلَّيْتَ، وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فَطَرَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، سلیمان بن اعمش کے واسطہ سے کہا میں نے زید بن وہب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نہ رکوع پوری طرح کرتا ہے نہ سجدہ۔ اس لیے آپ نے اس سے کہا کہ تم نے نماز ہی نہیں پڑھی اور اگر تم مر گئے تو تمہاری موت اس سنت پر نہیں ہو گی جس پر اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 791]
حضرت زید بن وہب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ رکوع اور سجود کو پورا نہیں کر رہا تھا، تو آپ نے اسے کہا: تو نے نماز نہیں پڑھی، اگر تجھے اسی حالت میں موت آ گئی تو اس دینِ فطرت کے خلاف مرے گا جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 791]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
120. بَابُ اسْتِوَاءِ الظَّهْرِ فِي الرُّكُوعِ:
باب: رکوع میں پیٹھ کو برابر کرنا (سر اونچا نیچا نہ رکھنا)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q792
وَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ فِي أَصْحَابِهِ: رَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ.
‏‏‏‏ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، پھر اپنی پیٹھ پوری طرح جھکا دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q792]

121. بَابُ حَدِّ إِتْمَامِ الرُّكُوعِ وَالاِعْتِدَالِ فِيهِ وَالاِطْمَأْنِينَةِ:
باب: رکوع پوری طرح کرنے کی اور اس پر اعتدال و طمانیت کی حد۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 792
حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ:" كَانَ رُكُوعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُجُودُهُ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ مَا خَلَا الْقِيَامَ وَالْقُعُودَ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ".
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے حکم نے ابن ابی لیلیٰ سے خبر دی، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع و سجود، دونوں سجدوں کے درمیان کا وقفہ اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو تقریباً سب برابر تھے۔ سوا قیام اور تشہد کے قعود کے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 792]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع، سجدہ، سجدوں کے درمیان بیٹھنا اور رکوع کے بعد قومہ یہ سب تقریباً برابر ہوتے تھے، البتہ قیام اور تشہد کچھ طویل ہوتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 792]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
122. بَابُ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي لاَ يُتِمُّ رُكُوعَهُ بِالإِعَادَةِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کو نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دینا جس نے رکوع پوری طرح نہیں کیا تھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 793
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَقَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ثَلَاثًا، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ فَمَا أُحْسِنُ غَيْرَهُ فَعَلِّمْنِي، قَالَ: إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ عمری سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید مقبری نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور نماز پڑھنے لگا۔ نماز کے بعد اس نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دے کر فرمایا کہ واپس جا کر دوبارہ نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ چنانچہ اس نے دوبارہ نماز پڑھی اور واپس آ کر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ دوبارہ جا کر نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ تین بار اسی طرح ہوا۔ آخر اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو مبعوث کیا۔ میں تو اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ اس لیے آپ مجھے سکھلائیے۔ آپ نے فرمایا جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو (پہلے) تکبیر کہہ پھر قرآن مجید سے جو کچھ تجھ سے ہو سکے پڑھ، اس کے بعد رکوع کر اور پوری طرح رکوع میں چلا جا۔ پھر سر اٹھا اور پوری طرح کھڑا ہو جا۔ پھر جب تو سجدہ کرے تو پوری طرح سجدہ میں چلا جا۔ پھر (سجدہ سے) سر اٹھا کر اچھی طرح بیٹھ جا۔ دوبارہ بھی اسی طرح سجدہ کر۔ یہی طریقہ نماز کے تمام (رکعتوں میں) اختیار کر۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 793]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مسجد میں تشریف لائے تو ایک اور آدمی بھی مسجد میں داخل ہوا۔ اس نے نماز پڑھی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس نے سلام عرض کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس جا، نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اس نے پھر نماز پڑھی، واپس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: جا، نماز پڑھ، اس لیے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ بہرحال ایسا واقعہ تین مرتبہ پیش آیا۔ بالآخر اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں اس سے بہتر نماز نہیں پڑھ سکتا۔ آپ مجھے نماز کی تعلیم دیں، (اس کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہو، پھر قرآن سے جو میسر ہو اسے پڑھو، پھر رکوع کرو۔ جب اطمینان سے رکوع کر لو تو سر اٹھا کر سیدھے کھڑے ہو جاؤ۔ اس کے بعد سجدہ کرو۔ جب اطمینان سے سجدہ کر لو تو سر اٹھا کر اطمینان سے بیٹھ جاؤ، اس کے بعد (دوسرا) سجدہ کرو تاآنکہ سجدے میں تجھے اطمینان ہو جائے۔ پھر اس طرح اپنی ساری نماز میں کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 793]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں