Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلاَةِ الْكُسُوفِ: «الصَّلاَةَ جَامِعَةً» :
باب: نماز کسوف کے لئے «الصّلاةُ جَامِعَةٌ» ‏‏‏‏ کہہ کر پکارنا چاہیئے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 913 ترقیم شاملہ: -- 2119
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنْتُ أَرْتَمِي بِأَسْهُمٍ لِي بِالْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهَا، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى مَا حَدَثَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الصَّلَاةِ رَافِعٌ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يُسَبِّحُ وَيَحْمَدُ وَيُهَلِّلُ وَيُكَبِّرُ وَيَدْعُو حَتَّى حُسِرَ عَنْهَا، قَالَ: فَلَمَّا حُسِرَ، عَنْهَا قَرَأَ سُورَتَيْنِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ.
عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے جریری سے، انہوں نے حیان بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تھے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک دن مدینہ میں اپنے تیروں سے نشانے لگا رہا تھا کہ اچانک سورج کو گرہن لگ گیا، اس پر میں نے انہیں (تیروں کو) پھینکا اور (دل میں) کہا: اللہ کی قسم! میں ضرور دیکھوں گا کہ سورج کے گرہن کے اس وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا نئی کیفیت طاری ہوئی ہے۔ کہا: میں آپ کے پاس آیا، آپ نماز میں کھڑے تھے، دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، پھر آپ نے تسبیح، حمد و ثناء، «لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ» اور اللہ کی بڑائی کا ورد اور دعا مانگنی شروع کر دی یہاں تک کہ سورج کا گرہن چھٹ گیا، کہا: اور جب سورج کا گرہن چھٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2119]
حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ ايک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں میں اپنے تیروں سے تیر اندازی رہا تھا کہ اچانک آفتاب گہن میں آ گیا تو میں اپنے تیر پھنک دیئے اور جی میں کہا: اللہ کی قسم! چل کر دیکھوں گا کہ اس وقت ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا نئی کیفیت طاری ہوتی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا نیا کام کرتے ہیں میں آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تسبیح، تحمید، تہلیل، تکبیر اور دعا کرنے لگے، (اور یہ دعا و نماز کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہا حتی کہ سورج کا گہن چھٹ گیا، اور وہ روشن ہو گیا)۔ اور جب سورج روشن ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2119]
ترقیم فوادعبدالباقی: 913
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 913 ترقیم شاملہ: -- 2120
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَمَّى بِأَسْهُمٍ لِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا.
سالم بن نوح نے کہا: ہمیں جریری نے حیان بن عمیر سے خبر دی اور انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں باہر نکل کر اپنے تیروں سے نشانہ بازی کی مشق کر رہا تھا کہ سورج گرہن ہو گیا، پھر (سالم بن نوح نے) ان دونوں (بشر اور عبدالاعلیٰ) کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2120]
حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں باہر نکل کر اپنے تیروں سے نشانہ بازی کی مشق کررہا تھا کہ سورج گرہن ہوگیا،پھر(سالم بن نوح نے) ان دونوں(بشر اور عبدالاعلیٰ) کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2120]
ترقیم فوادعبدالباقی: 913
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 914 ترقیم شاملہ: -- 2121
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا ".
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خبر سنایا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً سورج اور چاند کو کسی شخص کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں، جب تم انہیں (اس طرح) دیکھو تو نماز پڑھو۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2121]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند کسی شحص کی موت و حیات کے سبب بے نور نہیں ہوتے۔ لیکن وہ تو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں پس جب تم ان کر بے نور دیکھو تو نماز پڑھو۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2121]
ترقیم فوادعبدالباقی: 914
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 915 ترقیم شاملہ: -- 2122
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَادْعُوا اللَّهَ، وَصَلُّوا حَتَّى تَنْكَشِفَ ".
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگا، اسی دن جب ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان کو نہ کسی کی موت سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کی زندگی سے، اس لیے جب تم ان کو (گرہن لگا) دیکھو تو اللہ کو پکارو اور نماز پڑھو یہاں تک کہ گرہن زائل ہو جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2122]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے سورج کو گہن لگ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شمس و قمر اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، (جن کے گہن سے اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ اور اس کی سطوت و شوکت کا اظہار ہوتا ہے) ان کو نہ کسی کی موت سے گہن لگتا ہے اور نہ کسی کی حیات کے سبب، پس جب تم ان کو (گہن لگا) دیکھو تو اللہ سے دعا کرو اور نماز پڑھو، حتی کہ وہ روشن ہو جائیں [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2122]
ترقیم فوادعبدالباقی: 915
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں