صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ:
باب: جنت اور جہنم میں سے کسوف کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا کچھ پیش کیا گیا؟
ترقیم عبدالباقی: 907 ترقیم شاملہ: -- 2109
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا قَدْرَ نَحْوِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدِ انْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ كَفَفْتَ، فَقَالَ: " إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ "، قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " بِكُفْرِهِنَّ ". قِيلَ أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ قَالَ: " بِكُفْرِ الْعَشِيرِ، وَبِكُفْرِ الْإِحْسَانِ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ ".
حفص بن میسرہ نے کہا: زید بن اسلم نے مجھے عطاء بن یسار سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کی معیت میں لوگوں نے نماز پڑھی۔ آپ نے بہت طویل قیام کیا، سورہ بقرہ کے بقدر، پھر آپ نے بہت طویل رکوع کیا، پھر آپ نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے طویل رکوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدے کیے، پھر آپ نے طویل قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے کچھ کم تھا، پھر آپ نے طویل رکوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا اور وہ اپنے سے پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا اور وہ پہلے کے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدے کیے، پھر آپ نے سلام پھیرا تو سورج روشن ہو چکا تھا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں، وہ کسی کی موت پر گرہن زدہ نہیں ہوتے اور نہ کسی کی زندگی کے سبب سے (انہیں گرہن لگتا ہے) جب تم (ان کو) اس طرح دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو (نماز پڑھو)۔“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے اپنے کھڑے ہونے کی اس جگہ پر کوئی چیز لینے کی کوشش کی، پھر ہم نے دیکھا کہ آپ رک گئے۔ آپ نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی اور میں نے اس میں سے ایک گچھا لینا چاہا اور اگر میں اس کو پکڑ لیتا تو تم رہتی دنیا تک اس میں سے کھاتے رہتے (اور) میں نے جہنم دیکھی، میں نے آج جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا اور میں نے اہل جہنم کی اکثریت عورتوں کی دیکھی۔“ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! (یہ) کس وجہ سے؟ آپ نے فرمایا: ”ان کے کفر کی وجہ سے۔“ کہا گیا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”رفیق زندگی کا کفران (ناشکری) کرتی ہیں۔ اور احسان کا کفران کرتی ہیں۔ اگر تم ان میں سے کسی کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کرتے رہو پھر وہ تم سے کسی دن کوئی (ناگوار) بات دیکھے تو کہہ دے گی: تم سے میں نے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2109]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدر طویل قیام کیا کہ وہ سورہ بقرہ کے بقدر تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت طویل رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل رکوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا اور وہ (اپنے سے) پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل ر کوع کیا اور وہ اپنے سے پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سر اٹھایا اور طویل قیام کیا اور وہ اپنے سے پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل رکوع کیا، جو اپنے سے پہلے کے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا جبکہ سورج روشن ہو چکا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آفتاب اور ماہتاب اللہ تعالیٰ کی دو نشانیوں میں سےنشانیاں ہیں، وہ کسی کی موت پر بے نور نہیں ہوتے اور نہ کسی کی حیات سے، جب تم ان کو اس طرح دیکھو تو اللہ کو یاد کرو (نماز پڑھو۔)“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے اپنی اس جگہ کوئی چیز پکڑنے کی کوشش کی، پھر ہم نے دیکھا کہ آپ رک گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت کو دیکھا اور میں نے اس میں سے گچھہ پکڑنا چاہا اور اگر میں اس کو پکڑ لیتا تو تم رہتی دنیا تک اس میں سے کھاتے رہتے، اور میں نے آگ دیکھی، میں نے آج جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا اور میں نے دیکھا اس کے رہنے والوں میں عورتوں کی کثرت ہے“ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی نا شکری کی وجہ سے“ پوچھا گیا: کیا وہ اللہ کی ناشکری ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رفیق زندگی کی ناشکری کی وجہ سے اور احسان کی نا قدری کیوجہ سے، اگر انسان ان کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کرتا رہے پھر وہ اس سے کسی دن کوئی ناگوار بات دیکھے تو کہہ اٹھے گی میں نے تو تم سے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2109]
ترقیم فوادعبدالباقی: 907
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 907 ترقیم شاملہ: -- 2110
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إسحاق يَعْنِي ابْنَ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ اس (مذکورہ حدیث) کے مانند روایت کی، البتہ انہوں نے «ثم رأيناك كففت» کے بجائے «ثم رأيناك تكعكعت» (پھر ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ آگے بڑھنے سے باز رہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2110]
مصنف نے اپنے دوسرے استاد سے زید بن اسلم کی سند سے ہی مذکورہ بالاروایت بیان کی ہے۔ صرف یہ فرق ہے کہ اس میں ”كَفَفْت“ کی جگہ ”تَكَعْكَعْتَ“ ہے۔ اس کا معنی بھی توقف کرنا اور باز رہنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2110]
ترقیم فوادعبدالباقی: 907
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
4. باب ذِكْرِ مَنْ قَالَ إِنَّهُ رَكَعَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ:
باب: نماز کسوف میں آٹھ رکوع اور چار سجدوں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 908 ترقیم شاملہ: -- 2111
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ "، وَعَنْ عَلِيٍّ مِثْلُ ذَلِكَ.
اسماعیل بن علیہ نے سفیان سے، انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے، انہوں نے طاوس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب سورج کو گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سجدوں کے ساتھ آٹھ رکوع کیے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے مانند روایت کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2111]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آفتاب کو گہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سجدوں کے ساتھ آٹھ رکوع کیے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2111]
ترقیم فوادعبدالباقی: 908
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 909 ترقیم شاملہ: -- 2112
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، كلاهما، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبِيبٌ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفٍ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، قَالَ: وَالْأُخْرَى مِثْلُهَا.
یحییٰ نے سفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حبیب نے طاوس سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے کسوف (کے دوران) میں نماز پڑھائی، قراءت کی پھر رکوع کیا، پھر قراءت کی، پھر رکوع کیا، پھر قراءت کی، پھر رکوع کیا، پھر قراءت کی، پھر رکوع کیا، پھر سجدے کیے۔ کہا: دوسری (رکعت) بھی اسی طرح تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2112]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز پڑھائی قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی پھر رکوع کیا، پھر قرائت کی پھر رکوع کیا، پھر قراءت کی پھر رکوع کیا، پھرقراءت کی پھرکوع کیا پھر سجدے کیے اور دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2112]
ترقیم فوادعبدالباقی: 909
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
5. باب ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلاَةِ الْكُسُوفِ: «الصَّلاَةَ جَامِعَةً» :
باب: نماز کسوف کے لئے «الصّلاةُ جَامِعَةٌ» کہہ کر پکارنا چاہیئے۔
ترقیم عبدالباقی: 910 ترقیم شاملہ: -- 2113
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُوَ شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ قَالَ: " لَمَّا انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُودِيَ بِالصَّلَاةَ جَامِعَةً، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ، ثُمَّ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: " مَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ وَلَا سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ كَانَ أَطْوَلَ مِنْهُ ".
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا: کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں گرہن ہوا تو «الصلوٰة جامعة» (کے الفاظ کے ساتھ) اعلان کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کیے، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے اور ایک رکعت میں دو رکوع کیے، پھر سورج سے گرہن زائل کر دیا گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے نہ کبھی ایسا رکوع کیا اور نہ کبھی ایسا سجدہ کیا جو اس سے زیادہ لمبا ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2113]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گہن لگا تو الصلواة جامعة کے ذریعے اعلان کیا گیا۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کیے، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہو گئے اور ایک رکعت میں دو رکوع کیے، پھر سورج روشن ہورگیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: میں نے نہ ا س سے کبھی لمبا رکوع کیا اور نہ کبھی اس سے لمبا سجدہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2113]
ترقیم فوادعبدالباقی: 910
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 911 ترقیم شاملہ: -- 2114
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا، فَصَلُّوا وَادْعُوا اللَّهَ حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ ".
ہشیم نے اسماعیل سے، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے، اور انہوں نے حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے۔ اور ان دونوں کو انسانوں میں سے کسی کی موت کی بناء پر گرہن نہیں لگتا، لہذا جب تم ان میں سے کوئی نشانی دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ تعالیٰ کو پکارو یہاں تک کہ جو کچھ تمہارے (ساتھ ہوا) ہے وہ کھل جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2114]
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی (قدرت اور جلال و جبروت کی) نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بے نور کر کے (اپنی ربوبیت اور قدرت و سطوت کا اظہار کر کے) اپنے بندوں کو (نافرمانی سے) ڈراتا ہے۔ اور یہ دونوں لوگوں میں سے کسی کی موت پر بے نور نہیں ہوتے لہٰذا جب تم ان میں سے کوئی نشانی دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ تعالیٰ کو پکارو حتی کہ تمہاری یہ مصیبت دور کر دی جائے، یعنی گہن دور ہو جائے“ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2114]
ترقیم فوادعبدالباقی: 911
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 911 ترقیم شاملہ: -- 2115
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيْسَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَقُومُوا فَصَلُّوا ".
معتمر نے اسماعیل سے، انہوں نے قیس سے اور انہوں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو لوگوں میں سے کسی کے مرنے پر گرہن نہیں لگتا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ لہذا جب تم اس (گرہن) کو دیکھو تو قیام کرو اور نماز پڑھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2115]
حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو لوگوں میں سے کسی کے مرنے پر گہن نہیں لگتا، لیکن وہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں،اور جب تم یہ نشانی دیکھوتو اٹھو اور نماز پڑھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2115]
ترقیم فوادعبدالباقی: 911
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 911 ترقیم شاملہ: -- 2116
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَمَرْوَانُ كلهم، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَوَكِيعٍ " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ".
وکیع، ابواسامہ، ابن نمیر، جریر، سفیان، اور مروان سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، سفیان اور وکیع کی روایت میں ہے کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن سورج کو گرہن لگا تو لوگوں نے کہا: سورج کو ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کی بناء پر گرہن لگا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2116]
امام صاحب ا پنے بہت سے اساتذہ سے اسماعیل کی اس سند سے روایت بیان کرتے ہیں۔ سفیان اور وکیع کی روایت میں ہے کہ ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موت کے دن سورج کو گہن لگا، تو لوگوں نے کہا، سورج کو گہن ابراہیم کی موت کی وجہ سے لگا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2116]
ترقیم فوادعبدالباقی: 911
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 912 ترقیم شاملہ: -- 2117
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ، حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَقَامَ يُصَلِّي بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ، مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ فِي صَلَاةٍ قَطُّ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ ". وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْعَلَاءِ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ "، وَقَالَ: " يُخَوِّفُ عِبَادَهُ ".
ابوعامر اشعری، عبداللہ بن براد اور محمد بن علاء نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے برید سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ تیزی سے اٹھے، آپ کو خوف لاحق ہوا کہ مبادا قیامت (آ گئی) ہو، یہاں تک کہ آپ مسجد میں تشریف لے آئے اور آپ کھڑے ہوئے بہت طویل قیام، رکوع اور سجدے کے ساتھ نماز پڑھتے رہے، میں نے کبھی آپ کو نہیں دیکھا تھا کہ کسی نماز میں (آپ نے) ایسا کیا ہو، پھر آپ نے فرمایا: ”یہی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے۔ یہ کسی کی موت یا زندگی کی بناء پر نہیں ہوتیں، بلکہ اللہ ان کو بھیجتا ہے تاکہ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو (قیامت سے) خوف دلائے، اس لیے جب تم ان میں سے کوئی نشانی دیکھو تو جلد از جلد اس کے ذکر، دعا اور استغفار کی طرف لپکو۔“ ابن علاء کی روایت میں «خسفت الشمس» کے بجائے «كسفت الشمس» (سورج کو گرہن لگا) کے الفاظ ہیں (معنی ایک ہی ہے) اور انہوں نے «يخوف بها عباده» (ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے) کے بجائے «يخوف عباده» (اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے) کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2117]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج کو گہن لگ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوف زدہ ہو کر اس طرح اٹھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت قائم ہونے کا ڈر ہو حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آ گئے اور آپ نے انتہائی طویل قیام، رکوع اور سجدہ کے ساتھ نماز پڑھی میں نے آپ کو کسی نماز میں کبھی ایسے کرنے نہیں دیکھا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نشانیاں جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے۔ یہ کسی کی موت و حیات کی بناء پر نہیں ہوتیں، لیکن اللہ ان کو اپنے بندوں کی تخویف (ڈرانے) کے لیے بھیجتا ہے تو جب تم ان میں سے کوئی نشانی دیکھو تو فوراً اس کے ذکر، دعا اور استغفار کی پناہ لو“ ابن العلاء کی روایت میں ہے:"كسفت الشمس"یعنی"خَسَفَتْ " کی جگہ اور کہا" يُخَوِّفُ عِبَادَهُ "یعنی" يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ "کی جگہ۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2117]
ترقیم فوادعبدالباقی: 912
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 913 ترقیم شاملہ: -- 2118
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: " بَيْنَمَا أَنَا أَرْمِي بِأَسْهُمِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَنَبَذْتُهُنَّ، وَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى مَا يَحْدُثُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي انْكِسَافِ الشَّمْسِ الْيَوْمَ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ وَيَحْمَدُ وَيُهَلِّلُ، حَتَّى جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ سُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ".
بشر بن مفضل نے کہا: جریری نے ہمیں ابوعلاء حیان بن عمیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اپنے تیروں کے ذریعے سے تیر اندازی کر رہا تھا کہ سورج کو گرہن لگ گیا، تو میں نے ان کو پھینکا اور (دل میں) کہا کہ میں آج ہر صورت دیکھوں گا کہ سورج گرہن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا نئی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ میں آپ کے پاس پہنچا تو (دیکھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، (اللہ کو) پکار رہے تھے، اس کی بڑائی بیان کر رہے تھے، اس کی حمد و ثناء بیان کر رہے تھے اور «لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ» کا ورد فرما رہے تھے، یہاں تک کہ سورج سے گرہن ہٹا دیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہر رکعت میں) دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعتیں ادا کیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2118]
حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسی اثنا میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اپنے تیر چلا رہا تھا کہ سورج کو گہن لگ گیا، تو میں نے ان کو پھینک دیا اور جی میں کہا کہ میں آج دیکھوں گا کہ سورج گہن کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا نیا کام کرتے ہیں، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حال میں پہنچا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے دعا، تکبیر، تحمید اور تہلیل کہہ رہے تھے حتی کہ سورج روشن ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2118]
ترقیم فوادعبدالباقی: 913
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة