🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب فِي شُخُوصِ بَصَرِ الْمَيِّتِ يَتْبَعُ نَفْسَهُ:
باب: میت کی آنکھیں روح کے پیچھے پیچھے دیکھتی ہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 921 ترقیم شاملہ: -- 2133
عبدالعزیز دراوردی نے (بھی) علاء سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2133]
امام صاحب رحمہ اللہ اسی سند کے ساتھ، اپنے دوسرے استاد کی روایت اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2133]
ترقیم فوادعبدالباقی: 921
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ:
باب: میت پر رونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 922 ترقیم شاملہ: -- 2134
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَةٍ، لَأَبْكِيَنَّهُ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ، فَكُنْتُ قَدْ تَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ، إِذْ أَقَبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الصَّعِيدِ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي، فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ " فَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ، فَلَمْ أَبْكِ.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، میں نے (دل میں) کہا: پردیسی، پردیس میں (فوت ہو گیا) میں اس پر ایسا روؤں گی کہ اس کا خوب چرچا ہو گا، چنانچہ میں نے اس پر رونے کی تیاری کر لی کہ اچانک بالائی علاقے سے ایک عورت آئی، وہ (رونے میں) میرا ساتھ دینا چاہتی تھی کہ اسے سامنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم شیطان کو اس گھر میں (دوبارہ) داخل کرنا چاہتی ہو جہاں سے اللہ نے اس کو نکال دیا ہے؟“ دو بار (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات کہے) تو میں رونے سے رک گئی اور نہ روئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2134]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے، تو میں نے دل میں سوچا: ”پردیسی، پردیس میں فوت ہو گیا، میں اس پر اتنا روؤں گی کہ اس کا چرچا ہو گا“، اس لیے میں نے اس پر رونے اور گریہ کرنے کی تیاری کر لی کہ اچانک مدینہ کے بالائی علاقے سے میرا ساتھ دینے اور مجھے مدد دینے کے لیے ایک عورت آئی، اور اسے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم یہ چاہتی ہو کہ جس گھر سے اللہ تعالیٰ نے شیطان کو نکال دیا ہے اس میں شیطان کو پھر سے داخل کر دو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دو بار فرمائی، تو میں رونے سے رک گئی اور نہ روئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2134]
ترقیم فوادعبدالباقی: 922
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 923 ترقیم شاملہ: -- 2135
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ إِحْدَى بَنَاتِهِ تَدْعُوهُ وَتُخْبِرُهُ، أَنَّ صَبِيًّا لَهَا أَوِ ابْنًا لَهَا فِي الْمَوْتِ، فَقَالَ لِلرَّسُولِ: ارْجِعْ إِلَيْهَا، فَأَخْبِرْهَا أَنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ "، فَعَادَ الرَّسُولُ، فَقَالَ: إِنَّهَا قَدْ أَقْسَمَتْ لَتَأْتِيَنَّهَا، قَالَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَامَ مَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمْ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنَّةٍ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ ".
حماد بن زید نے عاصم احول سے، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ کی بیٹیوں میں سے ایک نے آپ کو بلاتے ہوئے اور اطلاع دیتے ہوئے آپ کی طرف پیغام بھیجا کہ اس کا بچہ۔۔۔ یا اس کا بیٹا۔۔۔ موت (کے عالم) میں ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیام لانے والے سے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جا کر ان کو بتاؤ کہ اللہ ہی کا ہے جو اس نے لے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے دیا تھا اور اس کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے، اور ان کو بتا دو کہ وہ صبر کریں اور اجر و ثواب کی طلب گار ہوں۔“ پیام رساں دوبارہ آیا اور کہا: انہوں نے (آپ کو) قسم دی ہے کہ آپ ان کے پاس ضرور تشریف لائیں۔ کہا: اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ کے ساتھ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، آپ کے سامنے بچے کو پیش کیا گیا جبکہ اس کا سانس اکھڑا ہوا تھا، (جسم اس طرح مضطرب تھا) جیسے اس کی جان پرانے مشکیزے میں ہو تو آپ کی آنکھیں بہہ پڑیں، اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”یہ رحمت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم دل بندوں ہی پر رحم فرماتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2135]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں میں سے ایک نے آپ کو بلانے کے لیے پیغام بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ ان کا بچہ یا بیٹا قریب المرگ ہے (مر رہا ہے)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بر سے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جا کر ان کو بتاؤ کہ «إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى» ”اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے دیا ہے، اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک وقت مقرر ہے، اس لیے انہیں کہو کہ وہ صبر کریں اور ثواب کی نیت رکھیں“۔“ پیغام بر دوبارہ آیا اور اس نے کہا: انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دی ہے کہ آپ ان کے پاس ضرور پہنچیں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سعد بن عبادہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچہ پیش کیا گیا جس کا سانس اکھڑا ہوا تھا، گویا وہ پرانی مشک میں ہے اور اس سے آواز پیدا ہو رہی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”یہ رحمت و شفقت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ بھی اپنے انہی بندوں پر رحم فرماتا ہے جو رحم دل اور مہربان ہوتے ہیں“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2135]
ترقیم فوادعبدالباقی: 923
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 923 ترقیم شاملہ: -- 2136
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، جَمِيعًا، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ حَمَّادٍ أَتَمُّ وَأَطْوَلُ.
ابن فضیل اور ابومعاویہ ہر ایک نے عاصم احول سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کی مانند) حدیث بیان کی، البتہ حماد کی حدیث زیادہ مکمل اور زیادہ لمبی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2136]
اور امام صاحب اپنے بعض دوسرے اساتذہ سے مذکورہ سند سے ہی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں حماد کی مذکورہ روایت کامل اور طویل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2136]
ترقیم فوادعبدالباقی: 923
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 924 ترقیم شاملہ: -- 2137
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَجَدَهُ فِي غَشِيَّةٍ، فَقَالَ: " أَقَدْ قَضَى "، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا، فَقَالَ: " أَلَا تَسْمَعُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ، وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ، وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا، وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ، أَوْ يَرْحَمُ ".
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اپنی بیماری میں مبتلا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس تشریف لے گئے۔ جب آپ ان کے ہاں داخل ہوئے تو انہیں غشی کی حالت میں پایا، آپ نے پوچھا: ”کیا انہوں نے اپنی مدت پوری کر لی (وفات پا گئے ہیں)؟“ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! نہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے بھی رونا شروع کر دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نہیں سنتے کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو اور دل کے غم پر سزا نہیں دیتا بلکہ اس۔۔۔ آپ نے اپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ کی وجہ سے عذاب دیتا ہے یا رحم کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2137]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ایک دفعہ بیمار ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کی معیت میں ان کی عیادت کے لیے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے پاس اندر تشریف لائے تو انہیں سخت تکلیف میں دیکھا، یا انہیں گھر والوں کی بھیڑ میں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ختم ہو چکے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نہیں۔ ابھی فوت نہیں ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ان کی کیفیت دیکھ کر) رونے لگے، جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے دیکھا تو وہ بھی رو پڑے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم سن نہیں رہے؟ یعنی اچھی طرح سن لو، اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو اور دل کے رنج و غم پر تو سزا نہیں دیتا، لیکن اس کی (غلط روی پر، یعنی زبان سے نوحہ اور ماتم کرنے پر) سزا بھی دیتا ہے اور اس کے ( «إِنَّا لِلّٰهِ» پڑھنے پر اور دعا واستغفار کرنے پر) رحمت بھی فرماتا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2137]
ترقیم فوادعبدالباقی: 924
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. باب فِي عِيَادَةِ الْمَرْضَى:
باب: بیماروں کی خبر گیری کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 925 ترقیم شاملہ: -- 2138
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَارَةَ يَعْنِي ابْنَ غَزِيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَدْبَرَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَخَا الْأَنْصَارِ، كَيْفَ أَخِي سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ؟ " فَقَالَ: صَالِحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَعُودُهُ مِنْكُمْ؟ " فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ وَنَحْنُ بِضْعَةَ عَشَرَ، مَا عَلَيْنَا نِعَالٌ وَلَا خِفَافٌ وَلَا قَلَانِسُ وَلَا قُمُصٌ، نَمْشِي فِي تِلْكَ السِّبَاخِ حَتَّى جِئْنَاهُ، فَاسْتَأْخَرَ قَوْمُهُ مِنْ حَوْلِهِ، حَتَّى دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ الَّذِينَ مَعَهُ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی آیا، اس نے آپ کو سلام کہا اور پھر وہ انصاری پشت پھیر کر چل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصار کے بھائی (انصاری)! میرے بھائی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا کیا حال ہے؟“ اس نے عرض کی: ”وہ اچھا ہے۔“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون اس کی عیادت کرے گا؟“ پھر آپ اٹھے اور آپ کے ساتھ ہم بھی اٹھ کھڑے ہوئے، ہم دس سے زائد لوگ تھے، ہمارے پاس جوتے نہ تھے نہ موزے، نہ ٹوپیاں اور نہ قمیص ہی۔ ہم اس شوریلی زمین پر چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچ گئے، ان کی قوم کے لوگ ان کے ارد گرد سے پیچھے ہٹ گئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو آپ کے ساتھ تھے، (ان کے) قریب ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2138]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک انصاری آدمی نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا اور پھر پشت پھیر کر چل دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصاری! میرے بھائی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا کیا حال ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”بہتر ہے۔“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون اس کی عیادت کے لیے جائے گا؟“ پھر آپ کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے، ہم دس سے زائد افراد تھے، ہمارے پاس جوتے تھے نہ ہی موزے، نہ ٹوپیاں تھیں اور نہ ہی قمیص۔ ہم اس شوریلی زمین پر چل کر ان کے پاس پہنچ گئے، اور ان کی قوم کے لوگ ان کے ارد گرد سے ہٹ گئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ جانے والے قریب ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2138]
ترقیم فوادعبدالباقی: 925
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأُولَى:
باب: مصیبت کے فوری بعد صبر ہی حقیقی صبر ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 926 ترقیم شاملہ: -- 2139
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى ".
محمد یعنی جعفر (الصادق) کے فرزند نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے ثابت سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر پہلے صدمے کے وقت ہے (اس کے بعد تو انسان غم کو آہستہ آہستہ برداشت کرنے لگتا ہے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2139]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر وہی ہے جو پہلی چوٹ کے وقت کیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2139]
ترقیم فوادعبدالباقی: 926
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 926 ترقیم شاملہ: -- 2140
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَى عَلَى امْرَأَةٍ تَبْكِي عَلَى صَبِيٍّ لَهَا، فَقَالَ لَهَا: " اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي "، فَقَالَتْ: وَمَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي، فَلَمَّا ذَهَبَ. قِيلَ لَهَا: إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَهَا مِثْلُ الْمَوْتِ، فَأَتَتْ بَابَهُ فَلَمْ تَجِدْ عَلَى بَابِهِ بَوَّابِينَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَعْرِفْكَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ "، أَوَ قَالَ: " عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَةِ ".
عثمان بن عمر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ثابت بنانی کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس آئے جو اپنے بچے (کی موت) پر رو رہی تھی تو آپ نے ان سے فرمایا: ”اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صبر کرو۔“ اس نے کہا: ”آپ کو میری مصیبت کی کیا پروا؟“ جب آپ چلے گئے تو اس کو بتایا گیا کہ وہ (تمہیں صبر کی تلقین کرنے والے) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ تو اس عورت پر موت جیسی کیفیت طاری ہو گئی، وہ آپ کے دروازے پر آئی تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر دربان نہ پایا۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے (اس وقت) آپ کو نہیں پہچانا تھا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(حقیقی) صبر پہلے صدمے یا صدمے کے آغاز ہی میں ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2140]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس آئے جو اپنے بچے پر رو رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ سے ڈر کر صبر کر۔“ تو اس نے کہا: ”تمہیں میری مصیبت کی کیا پرواہ؟“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے تو اسے بتایا گیا کہ تجھے نصیحت کرنے والے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ تو اس پر موت جیسی کیفیت طاری ہو گئی (وہ ڈر گئی)، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر کوئی دربان نہ تھا۔ (وہ اندر چلی گئی) اور کہنے لگی: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر وہی ہے جو چوٹ پڑتے ہی یا پہلی چوٹ پر کیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2140]
ترقیم فوادعبدالباقی: 926
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 926 ترقیم شاملہ: -- 2141
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو . ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالُوا جَمِيعًا، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ بِقِصَّتِهِ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ، " مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ ".
خالد بن حارث، عبدالملک بن عمرو، اور عبدالصمد سب نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ عثمان بن عمر کے سنائے گئے واقعے کے مطابق اس کی حدیث کی طرح حدیث سنائی۔ اور عبدالصمد کی حدیث میں (یہ جملہ) ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے پاس (بیٹھی ہوئی) ایک عورت کے پاس سے گزرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2141]
امام صاحب یہی روایت شعبہ ہی کی سند سے اپنے کئی اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ عبدالصمد کی روایت میں ہے کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس بیٹھی ہوئی عورت کے پاس سے گزرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2141]
ترقیم فوادعبدالباقی: 926
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ:
باب: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 927 ترقیم شاملہ: -- 2142
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ بِشْرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ حَفْصَةَ بَكَتْ عَلَى عُمَرَ ، فَقَالَ: مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ، أَلَمْ تَعْلَمِي أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ".
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ (کی حالت) پر رونے لگیں تو انہوں نے کہا: ”اے میری بیٹی! رک جاؤ، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’میت کو اس پر اس کے گھر والوں کی آہ و بکا سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2142]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ (کی حالت کو دیکھ کر ان کی زندگی سے مایوس ہو کر) ان پر رونے لگیں، تو انہوں نے کہا: ”اے میری بیٹی! رک جاؤ، کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے“۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2142]
ترقیم فوادعبدالباقی: 927
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں