صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب تَلْقِينِ الْمَوْتَى لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ:
باب: قریب الموت کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی تلقین کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 916 ترقیم شاملہ: -- 2123
وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ بِشْرٍ ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُمَارَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ".
بشر بن مفضل نے کہا: ہمیں عمارہ بن غزیہ نے یحییٰ بن عمارہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مرنے والے لوگوں کو «لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللہ» کی تلقین کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2123]
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مرنے والوں کو لاالٰه الا اللہ کہنے کی تلقین کیا کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2123]
ترقیم فوادعبدالباقی: 916
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 916 ترقیم شاملہ: -- 2124
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ جَمِيعًا بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
عبدالعزیز دراوردی اور سلیمان بن بلال نے اسی (مذکورہ بالا) سند سے (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2124]
مصنف نے اپنے کئی اور اساتذہ سے یہی حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2124]
ترقیم فوادعبدالباقی: 916
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 917 ترقیم شاملہ: -- 2125
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، وَعُثْمَانُ ابنا أبي شيبة. ح وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مرنے والے لوگوں کو «لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللہ» کی تلقین کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2125]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مرنے والوں کو لاالٰه الا اللہ کہنے کی تلقین کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2125]
ترقیم فوادعبدالباقی: 917
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
2. باب مَا يُقَالُ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ:
باب: مصیبت کے وقت کیا کہنا چاہیئے؟
ترقیم عبدالباقی: 918 ترقیم شاملہ: -- 2126
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جميعا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ ابْنِ سَفِينَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ، فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا ". قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا، فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ يَخْطُبُنِي لَهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ لِي بِنْتًا وَأَنَا غَيُورٌ، فَقَالَ: أَمَّا ابْنَتُهَا فَنَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُغْنِيَهَا عَنْهَا، وَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يَذْهَبَ بِالْغَيْرَةِ.
اسماعیل بن جعفر نے کہا: مجھے سعد بن سعید نے عمر بن کثیر بن افلح سے خبر دی، انہوں نے (عمر) ابن سفینہ سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی مسلمان نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ (وہی کچھ) کہے جس کا اللہ نے اسے حکم دیا ہے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ’یقیناً ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘، ’اے اللہ! مجھے میری مصیبت پر اجر دے اور مجھے اس سے بہتر بدل عطا فرما‘ مگر اللہ تعالیٰ اسے اس (ضائع شدہ چیز) کا بہتر بدل عطا فرماتا ہے۔“ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: جب (میرے خاوند) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے (دل میں) کہا: کون سا مسلمان ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر (ہو سکتا) ہے! وہ پہلا گھرانہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی۔ پھر میں نے وہ (کلمات) کہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں اس کا بدل عطا فرما دیا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے نکاح کا پیغام دیتے ہوئے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بھیجا تو میں نے کہا: میری ایک بیٹی ہے اور میں بہت غیرت کرنے والی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی بیٹی کے بارے میں ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس کو اس (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) سے بے نیاز کر دے اور میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ (بے جا) غیرت کو (اس سے) ہٹا دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2126]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس مسلمان کو مصیبت پہنچے اور وہ (وہ کلمات کہے جن کے کہنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے یعنی وہ کہے، ہم اللہ کے ہی ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجرعطا فرما اور اس کی جگہ اس سے بہتر عطا فرما، تو اللہ تعالیٰ اسے اس کا بہتر بدل عطا فرما دیتا ہے۔“ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں: جب (میرے خاوند) ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے اپنے جی میں کہا ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کون سا مسلمان بہتر ہو سکتا ہے وہ پہلا کنبہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی۔ پھر میں نے یہ کلمات کہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کی جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عنائت فرمائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے پیغام دینے کے لیے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو میرے پاس بھیجا تو میں نے کہا: میری ایک بیٹی ہے اور میں بہت غیرت مند ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی بیٹی کے بارے میں ہم اللہ سے دعا کریں گے، کہ وہ اس کو اس سے بے نیاز کر دے، اور میں اللہ سے دعا کروں گا کہ وہ اس کی (بیجا) غیرت ختم کر دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2126]
ترقیم فوادعبدالباقی: 918
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 918 ترقیم شاملہ: -- 2127
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ سَفِينَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ، وَأَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا "، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ كَمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي خَيْرًا مِنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابواسامہ نے سعد بن سعید سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عمر بن کثیر بن افلح نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ابن سفینہ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی بندہ نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ کہے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا» ’بے شک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘۔ ’اے اللہ! مجھے میری مصیبت کا اجر دے اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما‘، مگر اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت کا اجر دیتا ہے اور اسے اس کا بہتر بدل عطا فرماتا ہے۔“ (حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: تو جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے، میں نے اس طرح کہا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں ان سے بہتر بدل عطا فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2127]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی بندہ جسے کوئی مصیبت پہنچے اور وہ کہے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا» بےشک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے اللہ! میری مصیبت میں مجھے صلہ دے اور (مجھ سے چھن جانے والی چیز سے) اس کا بہتر بدل عطا دے، تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت کا اجر دیتا ہے اور اسے اس سے بہتر جانشین عطا فرماتا ہے۔“ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بتاتی ہیں: کہ جب (میرے خاوند) ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وفات پا گئے تو میں نے اسی طرح کہا جس طرح مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بہتر جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عنایت فرمائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2127]
ترقیم فوادعبدالباقی: 918
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 918 ترقیم شاملہ: -- 2128
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، عَنْ ابْنِ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، وَزَادَ، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثُمَّ عَزَمَ اللَّهُ لِي، فَقُلْتُهَا، قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں سعد بن سعید نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عمر بن کثیر نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابن سفینہ سے خبر دی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔۔۔ (آگے) ابواسامہ کی حدیث کے مانند (حدیث بیان کی) اور یہ اضافہ کیا: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے (دل میں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ارادے کو پختہ کر دیا تو میں نے وہی (کلمات) کہے۔ اس کے بعد میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2128]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جیسا کہ ابو اسامہ کی مذکورہ بالا حدیث ہے اور اس میں اضافہ ہے کہ جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے دل میں سوچا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں عزم پیدا کر لیا تو میں نے اس دعا کو پڑھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کر لی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2128]
ترقیم فوادعبدالباقی: 918
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
3. باب مَا يُقَالُ عِنْدَ الْمَرِيضِ وَالْمَيِّتِ:
باب: مریض اور میت کے پاس کیا کہنا چاہیئے؟
ترقیم عبدالباقی: 919 ترقیم شاملہ: -- 2129
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ أَوِ الْمَيِّتَ، فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ "، قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ، قَالَ: " قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ، وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً "، قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ لِي مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مریض یا مرنے والے کے پاس جاؤ تو بھلائی کی بات کہو کیونکہ جو تم کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“ کہا: جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ابوسلمہ وفات پا گئے ہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”تم (یہ کلمات) کہو: ’اے اللہ! مجھے اور اس کو معاف فرما اور اس کے بعد مجھے اس کا بہترین بدل عطا فرما۔‘“ کہا: میں نے (یہ کلمات) کہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے بعد وہ دے دیا جو میرے لیے ان سے بہتر ہے، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2129]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم بیمار یا مرنے والے کے پاس حاضر ہو تو اچھی اور بہتر بات کہو کیونکہ جو تم کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب (میرے خاوند) ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہو گئے تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابو سلمہ وفات پا گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یوں کہو، اےاللہ! مجھے اور اسے معاف فرما دے اور مجھے ا سکے عوض اس سے بہتر عطا فرما“ تو میں نے یہ دعائیہ کلمات کہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کےبدل ایسی شخصیت عطا فرمائی، جومیرے لیے ان سے بہتر ہے، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2129]
ترقیم فوادعبدالباقی: 919
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
4. باب فِي إِغْمَاضِ الْمَيِّتِ وَالدُّعَاءِ لَهُ إِذَا حُضِرَ:
باب: میت کی آنکھوں کو بند کرنا اور اس کے لئے دعا کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 920 ترقیم شاملہ: -- 2130
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إسحاق الْفَزَارِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ، فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَقَالَ: لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ "، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ ".
ابواسحاق فزاری نے خالد حذا سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے قبیصہ بن ذویب سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، اس وقت ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں تو آپ نے انہیں بند کر دیا، پھر فرمایا: ”جب روح قبض کی جاتی ہے تو نظر اس کا پیچھا کرتی ہے۔“ اس پر ان کے گھر کے کچھ لوگ چلا کر رونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے لیے بھلائی کے علاوہ اور کوئی دعا نہ کرو کیونکہ تم جو کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی مغفرت فرما، ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کے درجات بلند فرما اور اس کے پیچھے رہ جانے والوں میں تو اس کا جانشین بن اور اے جہانوں کے پالنے والے! ہمیں اور اس کو بخش دے، اس کے لیے اس کی قبر میں کشادگی عطا فرما اور اس کے لیے اس (قبر) میں روشنی کر دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2130]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ (موت کے بعد) ان کی آنکھیں اوپر کو کھلی ہوئی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بند کر دیا، پھر فرمایا: ”جب روح قبض کی جاتی ہے (روح جسم سے نکال لی جاتی ہے) تو نظر اس کا پیچھا کرتی ہے۔“ (اس لیے آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں) (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر) ان کے گھر کے کچھ لوگ چلا چلا کر رونے لگے (رنج اور صدمہ کی حالت میں ان کی زبان سے ایسی باتیں نکلنے لگیں جو ان کے حق میں بد دعا تھیں) تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے نفسوں کے حق میں خیر اور بھلائی کی دعا کرو کیونکہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حود اس طرح دعا فرمائی: ”اے اللہ! ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مغفرت فرما، اور اپنے ہدایت یافتہ بندوں میں اس کا درجہ بلند فرما اور اس کا جانشین بن جا (اس کے بجائے تو ہی سر پرستی اور نگرانی فرما) اس کے پس ماندگان کی اور اے کائنات کے مالک! بخشش دے ہمیں اور اس کو اور اس کی قبر کو اس کے لیے وسیع اور روشن فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2130]
ترقیم فوادعبدالباقی: 920
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 920 ترقیم شاملہ: -- 2131
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ "، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ "، وَلَمْ يَقُلِ افْسَحْ لَهُ، وَزَادَ قَالَ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ: " وَدَعْوَةٌ أُخْرَى سَابِعَةٌ نَسِيتُهَا ".
عبیداللہ بن حسن نے کہا: ہمیں خالد حذا نے اسی (مذکورہ بالا) سند کے ساتھ اس (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی، اس کے سوا کہ انہوں نے «وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ» کے بجائے «وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ» (جو کچھ اس نے چھوڑا ہے، یعنی اہل و مال، اس میں اس کا جانشین بن) کہا، اور انہوں نے «اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ» (اے اللہ! اس کے لیے اس کی قبر میں وسعت پیدا فرما) کہا اور «افْسَحْ لَهُ» (اور اس کے لیے کشادگی پیدا فرما) نہیں کہا اور (عبیداللہ نے) یہ زائد بیان کیا کہ خالد حذا نے کہا: ایک اور ساتویں دعا کی جسے میں بھول گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2131]
امام صاحب خالد حذاء کی سند سے ہی یہ روایت اپنے دوسرے استاد سے روایت کرتے ہیں۔ اس میں یہ الفاظ ہیں (وَاخْلُفْهُ فِى تَرِكَتِهِ) اس کے پس ماندگان کے لیے تو نگہبان اور محافظ بن کر اس کی جانشینی فرما اور (أفْسَحْ لَهُ) کی جگہ (أوسع له) اس کے لیے وسیع فرما اور خالد حذاء کہتے ہیں، ایک ساتویں دعا بھی کی جو میں بھول گیا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2131]
ترقیم فوادعبدالباقی: 920
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
5. باب فِي شُخُوصِ بَصَرِ الْمَيِّتِ يَتْبَعُ نَفْسَهُ:
باب: میت کی آنکھیں روح کے پیچھے پیچھے دیکھتی ہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 921 ترقیم شاملہ: -- 2132
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ يَعْقُوبَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ تَرَوْا الْإِنْسَانَ إِذَا مَاتَ شَخَصَ بَصَرُهُ "، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " فَذَلِكَ حِينَ يَتْبَعُ بَصَرُهُ نَفْسَهُ ".
ابن جریج نے علاء بن یعقوب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم انسان کو نہیں دیکھتے کہ جب وہ فوت ہو جاتا ہے تو اس کی نظر اٹھ جاتی ہے؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کی نظر اس کی روح کا پیچھا کرتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2132]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں، تم دیکھ نہیں رہے کہ جب انسان مرجاتا ہے،تو اس کی آنکھیں (نظر) اوپر کو اٹھ جاتی ہیں؟“ ساتھیوں نے کہا، کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس وقت کی بات ہے، جب اس کی بینائی، اس کی روح کا تعاقب کرتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2132]
ترقیم فوادعبدالباقی: 921
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة