صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ:
باب: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 931 ترقیم شاملہ: -- 2153
وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، جميعا، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ خَلَفٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ: الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعَ شَيْئًا فَلَمْ يَحْفَظْهُ، إِنَّمَا مَرَّتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ، وَهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " أَنْتُمْ تَبْكُونَ وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ ".
حماد بن زید نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا روایت کردہ قول بیان کیا گیا: ”میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ تو انہوں نے کہا: ”اللہ عبدالرحمن پر رحم فرمائے، انہوں نے ایک چیز کو سنا لیکن (پوری طرح) محفوظ نہ رکھا (امر واقع یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک یہودی کا جنازہ گزرا اور وہ لوگ اس پر رو رہے تھے تو آپ نے فرمایا: ’تم رو رہے ہو اور اسے عذاب دیا جا رہا ہے۔‘“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2153]
عروہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول بیان کیا گیا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے سے عذاب دیا جا تا ہے تو عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا: اللہ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے انھوں نے ایک چیز سنی لیکن پوری طرح محفوظ نہیں کی بات صرف اتنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنا زہ گزرا اور وہ رو رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رو رہے ہو اور اسے سزا مل رہی ہے“ عذاب دیا جا رہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2153]
ترقیم فوادعبدالباقی: 931
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 932 ترقیم شاملہ: -- 2154
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ "، فَقَالَتْ: وَهِلَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِخَطِيئَتِهِ أَوْ بِذَنْبِهِ، وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ الْآنَ ". وَذَاكَ مِثْلُ قَوْلِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْقَلِيبِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَفِيهِ قَتْلَى بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ لَهُمْ مَا قَالَ: " إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ "، وَقَدْ وَهِلَ، إِنَّمَا قَالَ: " إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌّ "، ثُمَّ قَرَأَتْ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80، وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ سورة فاطر آية 22، يَقُولُ: حِينَ تَبَوَّءُوا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ.
ابواسامہ نے ہشام سے اور انہوں نے اپنے والد عروہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس بات کا ذکر کیا گیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً یہ بیان کرتے ہیں: ”میت کو اس کی قبر میں اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”وہ (ابن عمر رضی اللہ عنہما) بھول گئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا: ’اس (مرنے والے) کو اس کی غلطی یا گناہ کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اب اسی وقت اس پر رو رہے ہیں۔‘“ اور یہ (بھول) ان (عبداللہ رضی اللہ عنہما) کی اس روایت کے مانند ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے اس کنویں (کے کنارے) پر کھڑے ہوئے جس میں بدر میں قتل ہونے والے مشرکوں کی لاشیں تھیں تو آپ نے ان سے جو کہنا تھا کہا (اور فرمایا): ’(اب) جو میں کہہ رہا ہوں وہ اس کو بخوبی سن رہے ہیں۔‘ حالانکہ (اس بات میں بھی) وہ بھول گئے، آپ نے تو فرمایا تھا: ’یہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ میں ان سے (دنیا میں) جو کہا کرتا تھا وہ حق تھا۔‘“ پھر انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے (یہ آیتیں پڑھیں): «وَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى» (اور بے شک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا) اور «وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ» (اور تو ہرگز انہیں سنانے والا نہیں جو قبروں میں ہیں) (گویا آپ یہ کہہ رہے ہیں: جبکہ وہ آگ میں اپنے ٹھکانے بنا چکے ہیں (اور وہ اچھی طرح جان چکے ہیں کہ جو ان سے کہا گیا تھا وہی سچ ہے یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما ان دو روایتوں کا اصل بیان محفوظ نہیں رکھ سکے))۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2154]
عروہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بتایا گیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمان بیان کرتے ہیں کہ ”میت کو اس کی قبر میں اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے۔“ تو انھوں نے کہا: وہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما غلطی کر گئے(بھول کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بس یہ فرمایا تھا: ”اسے اس کی غلطی یا گناہ کے سبب عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اب اس پر رو رہے ہیں“ اور یہ ان کے اس قول کی طرح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دن، اس کنویں پر کھڑے ہوئے جس میں بدر میں قتل ہونے والے مشرکوں کی لاشیں تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جو بات کہی (یعنی ھل وجدتم ما وعدتم جس چیز کی تمہیں دھمکی دی جاتی تھی اس کو پا کیا) یہ نہیں کہا کہ ”میں جو کہہ رہا ہوں، یہ سن رہے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتانے میں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما غلطی کر گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بس یہ کہا تھا (انہوں نے جان لیا ہے، میں انہیں جو کچھ بتایا کرتا تھے وہ حق ہے۔“ پھر عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آیت پڑھی: ”آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔“ (نحل،آیت:80) ”اور آپ قبروالوں کو نہیں سنا سکتے۔“ (فاطر،آیت:22) آپ اس وقت کی خبردے رہے ہیں جبکہ وہ آگ میں اپنے ٹھکانے بنا چکے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2154]
ترقیم فوادعبدالباقی: 932
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 932 ترقیم شاملہ: -- 2155
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، وَحَدِيثُ أَبِي أُسَامَةَ أَتَمُّ.
وکیع نے بیان کیا کہ ہمیں ہشام بن عروہ نے اسی سند سے ابواسامہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث سنائی اور ابواسامہ کی (مذکورہ بالا) حدیث زیادہ مکمل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2155]
یہی حدیث امام صاحب اپنے دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں لیکن ابواسامہ کی مذکورہ بالا حدیث زیادہ مکمل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2155]
ترقیم فوادعبدالباقی: 932
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 932 ترقیم شاملہ: -- 2156
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ، وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ، إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا، فَقَالَ: " إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا، وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا ".
عمرہ بنت عبدالرحمن نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، (اس موقع پر) ان کے سامنے بیان کیا گیا تھا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”میت کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اللہ ابوعبدالرحمن کو معاف فرمائے! یقیناً انہوں نے جھوٹ نہیں بولا لیکن وہ بھول گئے ہیں یا ان سے غلطی ہو گئی ہے (امر واقع یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت (کے جنازے) کے پاس سے گزرے جس پر آہ و بکا کی جا رہی تھی تو آپ نے فرمایا: ’یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اس کو اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔‘“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2156]
عمرہ بنت عبدالرحمان بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا، جبکہ انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کایہ قول بتایا گیا کہ میت کو زندہ کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے۔ توعائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: اللہ ابوعبدالرحمان کو معاف فرمائے۔ یقیناً انہوں نے جھوٹ نہیں بولا، لیکن وہ بھول گئے یا چوک گئے،بات صرف اتنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت جس پر رویا جا رہا تھا، کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں، اور اسے قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2156]
ترقیم فوادعبدالباقی: 932
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 933 ترقیم شاملہ: -- 2157
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ بِالْكُوفَةِ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
وکیع نے سعید بن عبید طائی اور محمد بن قیس سے اور انہوں نے علی بن ربیعہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: کوفہ میں سب سے پہلے جس پر نوحہ کیا گیا وہ قرظہ بن کعب تھا، اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’جس پر نوحہ کیا گیا اسے قیامت کے دن اس پر کیے جانے والے نوحے (کی وجہ) سے عذاب دیا جائے گا۔‘“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2157]
علی بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ کوفہ میں سب سے پہلے قرظہ بن کعب پر نوحہ کیا گیا، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس پرنوحہ کیاگیا، قیامت کے دن اسے اس پر نوحہ کیے جانے کے سبب عذاب دیا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2157]
ترقیم فوادعبدالباقی: 933
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 933 ترقیم شاملہ: -- 2158
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسْدِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسْدِيِّ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ہمیں علی بن مسہر نے حدیث بیان کی، (کہا) ہمیں محمد بن قیس نے علی بن ربیعہ سے خبر دی، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2158]
مصنف نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث دوسرے استاد سے نقل کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2158]
ترقیم فوادعبدالباقی: 933
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 933 ترقیم شاملہ: -- 2159
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
مروان بن معاویہ فزاری نے کہا: ہمیں سعید بن عبید طائی نے علی بن ربیعہ سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2159]
امام صاحب نے حضرت مغیرہ بن شبعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذکورہ حدیث ایک اور استاد سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2159]
ترقیم فوادعبدالباقی: 933
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
10. باب التَّشْدِيدِ فِي النِّيَاحَةِ:
باب: نوحہ کرنے کی سختی کے ساتھ ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 934 ترقیم شاملہ: -- 2160
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ . ح وحَدَّثَنِي إسحاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، لَا يَتْرُكُونَهُنَّ: الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَالْاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ، وَالنِّيَاحَةُ "، وَقَالَ: " النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا، تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ، وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ ".
حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں جاہلیت کے کاموں میں سے چار باتیں (موجود) ہیں، وہ ان کو ترک نہیں کریں گے: احساب (باپ دادا کے اصلی یا مزعومہ کارناموں) پر فخر کرنا، (دوسروں کے) نسب پر طعن کرنا، ستاروں کے ذریعے سے بارش مانگنا اور نوحہ کرنا۔“ اور فرمایا: ”نوحہ کرنے والی جب اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس کو اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس (کے بدن) پر تارکول کا لباس اور خارش کی قمیص ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2160]
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں چار عادتیں جاہلیت کاموں میں سے ہیں جن کو وہ ترک نہیں کریں گے حسب و نسب پر فخر کرنا، دوسروں کے نسب پر طعن کرنا، ستاروں کے سبب بارش مانگنا اور نوحہ کرنا۔ اور فرمایا: ”نوحہ کرنے والی جب اپنی مو ت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس کو اس حالت میں اٹھا یا جا ئے گا کہ اس (کے بدن) پر تار کول کا لباس اور خارش کی قمیص ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2160]
ترقیم فوادعبدالباقی: 934
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 935 ترقیم شاملہ: -- 2161
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: لَمَّا جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ، قَالَتْ: وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ شَقِّ الْبَابِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ، فَذَهَبَ فَأَتَاهُ فَذَكَرَ أَنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ، فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ، فَذَهَبَ، ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَتْ: فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اذْهَبْ فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ مِنَ التُّرَابِ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: " فَقُلْتُ أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ، وَاللَّهِ مَا تَفْعَلُ مَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ ".
عبدالوہاب نے کہا: میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: مجھے عمرہ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرما رہی تھیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کے قتل (شہادت) ہونے کی خبر پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس طرح) مسجد میں (بیٹھے کہ آپ) کے چہرہ انور پر غم کا پتا چل رہا تھا۔ کہا: میں دروازے کی جھری۔۔۔ دروازے کی درز۔۔۔ سے دیکھ رہی تھی کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! جعفر (کے خاندان) کی عورتیں۔۔۔“ اور اس نے ان کے رونے کا تذکرہ کیا، آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ جا کر انہیں روکے، وہ چلا گیا، وہ (دوبارہ) آپ کے پاس آیا اور بتایا کہ انہوں نے اس کی بات نہیں مانی، آپ نے اسے دوبارہ حکم دیا کہ وہ جا کر انہیں روکے، وہ گیا اور پھر (تیسری بار) آپ کے پاس آکر کہنے لگا: ”اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! وہ ہم پر غالب آگئی ہیں۔“ کہا: ان (عائشہ رضی اللہ عنہا) کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ان کے منہ میں مٹی ڈال دو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے (دل میں) کہا: ”اللہ تیری ناک خاک آلود کرے! اللہ کی قسم! نہ تم وہ کام کرتے ہو جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے اور نہ ہی تم نے (بار بار بتا کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف (دینا) ترک کیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2161]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غم کے آثار محسوس ہو رہے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں دروازے کی دراڑ سے دیکھ رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آ کرکہنے لگا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جعفر کے خاندان کی عورتیں رو رہی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ جا کر انہیں روکو۔“ وہ گیا اور پھر واپس آ کر کہنے لگا، وہ اس کی بات نہیں مان رہیں، آپ نے اسے دوبارہ حکم دیا کہ ”جاؤ جا کر انھیں منع کرو۔“ وہ گیا اور پھر آکر کہا، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ ہم پر غالب آ گئی ہیں(بات نہیں مان رہی ہیں۔) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا خیال ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور ان کے منہ میں مٹی ڈال دو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہتی ہیں، میں نے خود کلامی کی کہ اللہ تعالی تیری ناک خاک آلود کرے (تمہیں ذلیل و خوار کرے)!اللہ کی قسم! تم وہ کام نہیں کر سکتے ہو جس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دے رہے ہیں اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بار بار بتا کر) آپ کو مشقت میں ڈالنے سے باز ہیں آتے ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2161]
ترقیم فوادعبدالباقی: 935
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 935 ترقیم شاملہ: -- 2162
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، كُلُّهُمْ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ " وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعِيِّ ".
عبداللہ بن نمیر، معاویہ بن صالح اور عبدالعزیز بن مسلم نے یحییٰ بن سعید سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی اور عبدالعزیز کی حدیث میں ہے: ”تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت میں ڈالنے سے باز نہیں آئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2162]
امام صاحب نے مذکورہ بالا حدیث اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی بیان کی ہے،جس میں ایک راوی عبدالعزیز ”من العناء“ کی بجائے ”من العي“ کہتا ہے، معنی ایک ہی ہے (”عناء“ مشقت اور تکان کو کہتے ہیں اور ”عي“ کا معنی بھی یہی ہے یعنی تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت اور تھکاوٹ میں ڈالنے سے باز نہیں آئے۔) [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2162]
ترقیم فوادعبدالباقی: 935
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة