صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب التَّشْدِيدِ فِي النِّيَاحَةِ:
باب: نوحہ کرنے کی سختی کے ساتھ ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 936 ترقیم شاملہ: -- 2163
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْبَيْعَةِ أَلَّا نَنُوحَ، فَمَا وَفَتْ مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا خَمْسٌ: أُمُّ سُلَيْمٍ، وَأُمُّ الْعَلَاءِ، وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةُ مُعَاذٍ أَوْ ابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ، وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ ".
محمد بن سیرین نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے ساتھ ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی، تو ہم میں سے ان پانچ عورتوں: ام سلیم، ام علاء، ابوسیرہ کی بیٹی، معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی یا ابوسیرہ کی بیٹی اور معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی کے سوا کسی نے (کماحقہ) اس کی پاسداری نہیں کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2163]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت کے ساتھ یہ عہد بھی لیاکہ ہم نوحہ نہیں کریں گی لیکن ہم میں سے کسی عورت نے پانچ عورتوں، ام سلیم، ام العلاء، معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی ابوسبرہ کی بیٹی معاذ کی بیوی، یا ابوسبرہ کی بیٹی اور معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی کے سوا کسی نے اس عہد کا حق ادا نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2163]
ترقیم فوادعبدالباقی: 936
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 936 ترقیم شاملہ: -- 2164
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْعَةِ أَلَّا تَنُحْنَ، فَمَا وَفَتْ مِنَّا غَيْرُ خَمْسٍ، مِنْهُنَّ أُمُّ سُلَيْمٍ ".
ہشام نے حفصہ سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت میں ہم سے یہ عہد لیا کہ ”تم نوحہ نہیں کرو گی۔“ ہم میں سے پانچ کے سوا کسی نے اس کی (کماحقہ) پاسداری نہیں کی، ان (پانچ) میں سے ایک ام سلیم رضی اللہ عنہا ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2164]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت میں یہ عہد بھی لیا تھا کہ ہم بین نہیں کریں گی، مگر ہم میں سے پانچ کے سوا، جن میں ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی داخل ہیں، کسی اور عورت نے اس کا صحیح حق ادا نہیں کیا۔ (مراد بیعت کرنے والی عورتوں میں سے پانچ ہیں، کل پانچ عورتیں مراد نہیں ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2164]
ترقیم فوادعبدالباقی: 936
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 936 ترقیم شاملہ: -- 2165
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12، وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12، قَالَتْ: كَانَ مِنْهُ النِّيَاحَةُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا آلَ فُلَانٍ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَا بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا آلَ فُلَانٍ ".
عاصم نے حفصہ سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: «وَإِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا» (عورتیں آپ سے بیعت کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔۔۔ اور کسی نیک کام میں آپ کی مخالفت نہیں کریں گی) کہا: اس (عہد) میں سے ایک نوحہ گری (کی شق) بھی تھی، تو میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! فلاں خاندان کے سوا، کیونکہ انہوں نے جاہلیت کے دور میں (نوحہ کرنے پر) میرے ساتھ تعاون کیا تھا، تو اب میرے لیے بھی لازم ہے کہ میں (ایک بار) ان کے ساتھ تعاون کروں۔“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں کے خاندان کے سوا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2165]
حضرت اُم عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے: کہ جب سورۃ ممتحنہ کی یہ آیت اتری: ”عورتیں آپ سے اس بات پر بیعت کریں کہ وہ اللہ تعا لیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔۔۔اور آخر میں ہے کہ کسی نیک کا م میں آپ کی مخالفت نہیں کریں گی۔“ (آیت:12) وہ بتاتی ہیں (باز رہنے والی چیزرں میں) نوحہ بھی داخل تھا۔ تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فلا ں خاندان کے سوا، کیونکہ انھوں نے جا ہلیت کے دور میں نوحہ کرنے میں میرے ساتھ تعاون کیا تھا تو میرے لیے ان تعاون بغیر کوئی چارہ نہیں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں شخص کا خاندان مستثنیٰ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2165]
ترقیم فوادعبدالباقی: 936
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
11. باب نَهْيِ النِّسَاءِ عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ:
باب: جنازے کے پیچھے عورتوں کا جانا منع ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 938 ترقیم شاملہ: -- 2166
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ : " كُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا ".
محمد بن سیرین نے کہا: حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے روکا جاتا تھا لیکن ہمیں سختی کے ساتھ حکم نہیں دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2166]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمیں جنازہ کے ساتھ جانے سے منع کیا جاتا تھا۔ مگر اس کی تاکید نہیں کی جاتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2166]
ترقیم فوادعبدالباقی: 938
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 938 ترقیم شاملہ: -- 2167
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا ".
حفصہ نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے روکا گیا لیکن ہمیں سختی کے ساتھ حکم نہیں دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2167]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے روکا گیا، لیکن ہمیں تاکید نہیں کی گئی، سختی سے نہیں روکا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2167]
ترقیم فوادعبدالباقی: 938
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
12. باب فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ:
باب: میت کو غسل دینا۔
ترقیم عبدالباقی: 939 ترقیم شاملہ: -- 2168
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي "، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ، فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ "،
یزید بن زریع نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے فرمایا: ”اس کو تین، پانچ یا اگر تمہاری رائے ہو تو اس سے زائد مرتبہ پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دو اور آخری بار میں کافور یا کافور میں سے کچھ ڈال دینا اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کر دینا۔“ جب ہم فارغ ہو گئیں تو ہم نے آپ کو اطلاع دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا: ”اس کو اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2168]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں تو آپ نے فرمایا: ”اس کو تین دفعہ پانچ دفعہ یا اگر تم اس سے زائد بار مناسب سمجھو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری بار میں کافور ڈال دینا یا کافورمیں سے کچھ ڈال دینا اور جب تم فارغ ہو جا ؤ تو مجھے اطلا ع کرنا۔ اور جب ہم فارغ ہو گئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلا ع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنا تہبند دی اور فرمایا:" اس کو اس کے جسم کا شعار بنا دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2168]
ترقیم فوادعبدالباقی: 939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 939 ترقیم شاملہ: -- 2169
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ "،
حفصہ بنت سیرین نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نے ان (کے بالوں) کی کنگھی کر کے تین گوندھی ہوئی لٹیں بنا دیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2169]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے بالوں کی تین چوٹیاں کردیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2169]
ترقیم فوادعبدالباقی: 939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 939 ترقیم شاملہ: -- 2170
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ كُلُّهُمْ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ،
مالک بن انس، حماد اور اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک وفات پا گئیں۔ اسماعیل بن علیہ کی حدیث میں (یوں) ہے: (ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں اور مالک کی حدیث میں ہے، کہا: جب آپ کی بیٹی وفات پا گئیں تو آپ ہمارے پاس تشریف لائے۔۔۔ (اس سے آگے) ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے محمد، ان سے ایوب اور ان سے یزید کی حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2170]
امام صاحب یہی روایت اپنے کئی دوسرے اساتذہ سے بیان کرتےہیں کہ ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی فوت ہوگئی،ام عطیہ کی روایت میں ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں ہے، وہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے تشریف لائے جس وقت آپ کی بیٹی فوت ہوگئی جیسا کہ یزید بن زریع کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2170]
ترقیم فوادعبدالباقی: 939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 939 ترقیم شاملہ: -- 2171
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ بِنَحْوِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ "، فَقَالَتْ حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ: " وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ ".
حماد نے ایوب سے، انہوں نے حفصہ سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے اس (سابقہ حدیث) کی طرح روایت بیان کی، اس کے سوا کہ آپ نے فرمایا: ”تین، پانچ، سات یا اگر تمہاری رائے ہو تو اس سے زائد بار (غسل دینا)۔“ حفصہ نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہم نے ان کے سر (کے بالوں) کی تین گوندھی ہوئی لٹیں بنا دیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2171]
امام صاحب نےایک دوسری سند سے مذکورہ بالاروایت بیان کی ہے، جس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دفعہ یا پانچ دفعہ یا سات دفعہ یا اگر تم مناسب خیال کروتو اس سے زیادہ دفعہ۔“ ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں ہم نے اس کے سر کی تین زلفیں کر دیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2171]
ترقیم فوادعبدالباقی: 939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 939 ترقیم شاملہ: -- 2172
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ وأَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ: وَقَالَتْ حَفْصَةُ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا، قَالَ: وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ ".
اسماعیل بن علیہ نے کہا: ہمیں ایوب نے خبر دی، انہوں نے کہا: حفصہ نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے (بیان کرتے ہوئے) کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”اس کو طاق تعداد میں تین، پانچ یا سات مرتبہ غسل دو۔“ کہا: اور ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے ان (کے بالوں) کی کنگھی کر کے تین مینڈھیاں بنا دیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2172]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”اسےطاق مرتبہ غسل دو، تین دفعہ یا پانچ دفعہ یا سات دفعہ“ اور ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں ہم نے اس کے بالوں میں کنگھی کرکے ان کے تین مجموعے بنا دئیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2172]
ترقیم فوادعبدالباقی: 939
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة