🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ:
باب: مسلمانوں پر کھجور اور جو میں سے صدقہ فطر کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 985 ترقیم شاملہ: -- 2283
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: " كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ ".
زید بن اسلم نے عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ہم زکاۃ الفطر طعام (گندم) کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا کھجوروں کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع یا منقے کا ایک صاع نکالا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2283]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم زکاۃ فطر طعام (خوراک) سے ایک صاع یا جو سے ایک صاع یا کھجوروں سے ایک صاع یا پنیر سے ایک صاع یا منقیٰ کا ایک صاع نکالتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2283]
ترقیم فوادعبدالباقی: 985
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 985 ترقیم شاملہ: -- 2284
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " كُنَّا نُخْرِجُ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ، عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ "، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، فَكَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ، أَنْ قَالَ: إِنِّي أَرَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ أَبَدًا مَا عِشْتُ.
داود بن قیس نے عیاض بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود تھے تو ہم ہر چھوٹے بڑے آزاد اور غلام کی طرف سے طعام (گندم) کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا کھجوروں کا ایک صاع یا منقے کا ایک صاع زکاۃ الفطر (فطرانہ) نکالتے تھے اور ہم اسی کے مطابق نکالتے رہے یہاں تک کہ ہمارے پاس (امیر المومنین) معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما حج یا عمرہ ادا کرنے کے لیے تشریف لائے اور منبر پر لوگوں کو خطاب کیا اور لوگوں سے جو گفتگو کی اس میں یہ بھی کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ شام سے آنے والی (مہنگی) گندم کے دو مد (نصف صاع) کھجوروں کے ایک صاع کے برابر ہیں۔ اس کے بعد لوگوں نے اس قول کو اپنا لیا۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن میں جب تک ہوں زندگی بھر ہمیشہ اسی طرح نکالتا رہوں گا جس طرح (عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں) نکالا کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2284]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجوودگی میں زکاۃ فطر ہر چھوٹے بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے صاع طعام یا پنیر سے یا جو یا کھجوروں سے یا ایک صاع کشمش سے نکالتے تھے اور ہم اس طریقہ کے مطابق نکالتے رہے یہاں تک کہ ہمارے پاس (امیر المومنین) معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج یا عمر ہ ادا کرنے کے لیے تشریف لا ئے اور منبر پر لو گوں کو خطا ب کیا اور لو گوں سے جو خکاب فرمایا اس میں یہ بھی کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ شام سے آنے والی (مہنگی) گندم کے دو مد (نصف صاع) کھجوروں کے ایک صاع کے برابر ہیں تو لوگوں نے اس قول کو اپنا لیا۔ (اس پرعمل کرنا شروع کردیا) ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:میں تو بہرحال اپنی پوری زندگی اسی پرعمل کرتا رہوں گا۔ یعنی ہمیشہ پہلے کی طرح ایک صاع نکالتا رہوں گا۔ (قیاس پر عمل نہیں کروں گا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2284]
ترقیم فوادعبدالباقی: 985
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 985 ترقیم شاملہ: -- 2285
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: " كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا، عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ وَمَمْلُوكٍ، مِنْ ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ: صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ "، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ كَذَلِكَ، حَتَّى كَانَ مُعَاوِيَةُ فَرَأَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ بُرٍّ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَذَلِكَ.
اسماعیل بن امیہ نے کہا: مجھے عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں زکاۃ الفطر ہر چھوٹے بڑے آزاد اور غلام کی طرف سے تین (قسم کی) اصناف سے نکالتے تھے: کھجوروں سے ایک صاع، پنیر سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع، ہم ہمیشہ اس کے مطابق نکالتے رہے یہاں تک کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کا دور آیا تو انہوں نے یہ رائے پیش کی کہ گندم کے دو مد کھجوروں کے ایک صاع کے برابر ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن میں تو اسی (پہلے طریقے سے) نکالتا رہوں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2285]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود تھے۔ فطرانہ ہر چھوٹے بڑے اور آزاد غلام کی طرف سے تین جنسوں سے نکالتے تھے۔ کھجوروں سے ایک صاع، پنیر سے ایک صاع، جو کا ایک صاع۔ ہم ہمیشہ اس کے مطابق نکالتے رہے یہاں تک کہ امیر معاویہ کا دورآ گیا، انہوں نے خیال کیا کہ گندم کے دومد (دو بک) کھجوروں کے ایک صاع کے برابرہیں۔ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، میں تو پہلے طریقہ کے مطابق ہی نکالتا رہوں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2285]
ترقیم فوادعبدالباقی: 985
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 985 ترقیم شاملہ: -- 2286
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ: الْأَقِطِ، وَالتَّمْرِ، وَالشَّعِيرِ ".
حارث بن عبدالرحمان بن ابی ذباب نے عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم فطرانہ ان تین اجناس سے نکالا کرتے تھے: پنیر، کھجور اور جو۔ (یہی ان کی بنیادی خوردنی اجناس تھیں۔) [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2286]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم فطرانہ تین جنسوں سے نکالا کرتے تھے۔ پنیر، کھجور اورجو۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2286]
ترقیم فوادعبدالباقی: 985
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 985 ترقیم شاملہ: -- 2287
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ لَمَّا جَعَلَ نِصْفَ الصَّاعِ مِنَ الْحِنْطَةِ عَدْلَ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، أَنْكَرَ ذَلِكَ أَبُو سَعِيدٍ وَقَالَ: " لَا أُخْرِجُ فِيهَا إِلَّا الَّذِي كُنْتُ أُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ ".
ابن عجلان نے عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما نے گندم کے آدھے صاع کو کھجوروں کے صاع کے برابر قرار دیا تو ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس بات (کو ماننے) سے انکار کیا اور کہا: میں فطرانہ میں اس کے سوا اور کچھ نہ نکالوں گا جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نکالا کرتا تھا (اور وہ ہے) کھجوروں کا ایک صاع یا منقے کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2287]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گندم کے آدھے صاع کو کھجوروں کے صاع کے برابر قرار دیا تو ابوسعید نے اس سے انکار کیا، اور کہا، میں فطرانہ میں وہی چیز نکالتا رہوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نکالا کرتا تھا، کھجوروں کا ایک صاع یا منقیٰ کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا پنیر سے ایک صاع۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2287]
ترقیم فوادعبدالباقی: 985
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب الأَمْرِ بِإِخْرَاجِ زَكَاةِ الْفِطْرِ قَبْلَ الصَّلاَةِ:
باب: عیدالفطر کی نماز ادا کرنے سے پہلے صدقہ فطر ادا کیا جائے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 986 ترقیم شاملہ: -- 2288
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ ".
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرانے کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اسے نماز عید کی طرف لوگوں کے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2288]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ فطر کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اسے لوگوں کے نمازعید کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2288]
ترقیم فوادعبدالباقی: 986
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 986 ترقیم شاملہ: -- 2289
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِإِخْرَاجِ زَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ ".
ضحاک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر نکالنے کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اسے لوگوں کے عید کے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2289]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرانہ نکالنے کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اسے لوگوں کے عید کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2289]
ترقیم فوادعبدالباقی: 986
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب إِثْمِ مَانِعِ الزَّكَاةِ:
باب: زکوٰۃ نہ دینے کا عذاب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 987 ترقیم شاملہ: -- 2290
وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ الصَّنْعَانِيَّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ، فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ، كُلَّمَا بَرَدَتْ أُعِيدَتْ لَهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْإِبِلُ؟، قَالَ: وَلَا صَاحِبُ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا، وَمِنْ حَقِّهَا حَلَبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ، لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا، تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ؟، قَالَ: وَلَا صَاحِبُ بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، لَا يَفْقِدُ مِنْهَا شَيْئًا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَلْحَاءُ وَلَا عَضْبَاءُ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْخَيْلُ؟، قَالَ: الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: هِيَ لِرَجُلٍ وِزْرٌ، وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ وِزْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا رِيَاءً وَفَخْرًا وَنِوَاءً عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَهِيَ لَهُ وِزْرٌ، وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي ظُهُورِهَا وَلَا رِقَابِهَا، فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ، وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، فِي مَرْجٍ وَرَوْضَةٍ فَمَا أَكَلَتْ مِنْ ذَلِكَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ مِنْ شَيْءٍ، إِلَّا كُتِبَ لَهُ عَدَدَ مَا أَكَلَتْ حَسَنَاتٌ، وَكُتِبَ لَهُ عَدَدَ أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا حَسَنَاتٌ، وَلَا تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ آثَارِهَا وَأَرْوَاثِهَا حَسَنَاتٍ، وَلَا مَرَّ بِهَا صَاحِبُهَا عَلَى نَهْرٍ، فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَا يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَهَا، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ مَا شَرِبَتْ حَسَنَاتٍ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْحُمُرُ؟، قَالَ: مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِي الْحُمُرِ شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْفَاذَّةُ الْجَامِعَةُ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ {7} وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ {8} سورة الزلزلة آية 7-8 "،
حفص بن میسرہ صنعانی نے زید بن اسلم سے حدیث بیان کی کہ ان کو ابوصالح ذکوان نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی سونے اور چاندی کا مالک ان میں سے (یا ان کی قیمت میں سے) ان کا حق (زکاۃ) ادا نہیں کرتا تو جب قیامت کا دن ہوگا (انہیں) اس کے لیے آگ کی تختیاں بنا دیا جائے گا اور انہیں جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور اس کی پشت کو داغا جائے گا، جب وہ (تختیاں) پھر سے (آگ میں) جائیں گی، انہیں پھر سے اس کے لیے واپس لایا جائے گا، اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے (یہ عمل مسلسل ہوتا رہے گا) حتیٰ کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا، پھر وہ جنت یا دوزخ کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! اونٹوں کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی اونٹوں کا مالک نہیں جو ان کا حق ادا نہیں کرتا اور ان کا حق یہ بھی ہے کہ ان کو پانی پلانے کے دن (ضرورت مندوں اور مسافروں کے لیے) ان کا دودھ نکالا جائے، اور جب قیامت کا دن ہوگا اس (مالک) کو ایک وسیع چٹیل میدان میں ان (اونٹوں) کے سامنے بچھا (لٹا) دیا جائے گا، وہ (اونٹ دنیا میں تعداد اور فربہی کے اعتبار سے) جتنے زیادہ سے زیادہ وافر تھے اس حالت میں ہوں گے، وہ ان میں سے دودھ چھڑائے ہوئے ایک بچے کو بھی گم نہیں پائے گا، وہ اسے اپنے قدموں سے روندیں گے اور اپنے منہ سے کاٹیں گے، جب بھی ان میں سے پہلا اونٹ اس پر سے گزر جائے گا تو دوسرا اس پر واپس لے آیا جائے گا، یہ اس دن میں (بار بار) ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا اور اسے جنت یا دوزخ کی طرف اس کا راستہ دیکھایا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! تو گائے اور بکریاں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور نہ گائے اور بکریوں کا کوئی مالک ہوگا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا، مگر جب قیامت کا دن ہوگا تو اسے ان کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بچھایا (لٹایا) جائے گا۔ وہ ان میں سے کسی ایک (جانور) کو بھی گم نہیں پائے گا۔ ان میں کوئی (گائے یا بکری) نہ مڑے سینگوں والی ہوگی، نہ بغیر سینگوں کے اور نہ ہی کوئی ٹوٹے سینگوں والی ہوگی (سب سیدھے تیز سینگوں والی ہوں گی)، وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے سموں سے روندیں گی، (یہ معاملہ) اس دن میں (ہوگا) جو پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا، جب پہلا (جانور) گزر جائے گا تو ان کا دوسرا (جانور واپس) لے آیا جائے گا حتیٰ کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا، اور اسے جنت یا دوزخ کی طرف اس کا راستہ دیکھایا جائے گا۔ عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! تو گھوڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے تین طرح کے ہیں: وہ جو آدمی کے بوجھ ہیں، دوسرے وہ جو آدمی کے لیے ستر (پردہ پوشی کا باعث) ہیں، تیسرے وہ جو آدمی کے لیے اجر وثواب کا باعث ہیں۔ بوجھ اور گناہ کا باعث وہ گھوڑے ہیں جن کو ان کا مالک ریاکاری، فخر وغرور، اور مسلمانوں کی دشمنی کے لیے باندھتا ہے تو یہ گھوڑے اس کے لیے بوجھ (گناہ) ہیں۔ اور وہ جو اس کے لیے پردہ پوشی کا باعث ہیں تو وہ (اس) آدمی (کے گھوڑے ہیں) جس نے انہیں (موقع ملنے پر) اللہ کی راہ میں (خود جہاد کرنے کے لیے) باندھ رکھا ہے، پھر وہ ان کی پشتوں اور گردنوں میں اللہ کے حق کو نہیں بھولا تو یہ اس کے لیے باعث ستر ہیں (چاہے اسے جہاد کا موقع ملے یا نہ ملے) اور وہ گھوڑے جو اس کے لیے اجر وثواب کا باعث ہیں تو وہ (اس) آدمی (کے گھوڑے ہیں) جس نے انہیں اللہ کی راہ میں اہل اسلام کی خاطر کسی چراگاہ یا باغیچے میں باندھ رکھا ہے (اور وہ خود جہاد پر جا سکے یا نہ جا سکے انہیں دوسروں کو جہاد کے لیے دیتا ہے) یہ گھوڑے اس چراگاہ یا باغ میں سے جتنا بھی کھائیں گے تو اس شخص کے لیے اتنی تعداد میں نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس شخص کے لیے ان کی لید اور پیشاب کی مقدار کے برابر (بھی) نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور وہ گھوڑے اپنی رسی تڑوا کر ایک دو ٹیلوں کی دوڑ نہیں لگائیں گے مگر اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے ان کے قدموں کے نشانات اور لید کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھ دے گا اور نہ ہی ان کا مالک انہیں لے کر کسی نہر پر سے گزرے گا اور وہ گھوڑے اس نہر میں سے پانی پیئں گے جبکہ وہ (مالک) ان کو پانی پلانا (بھی) نہیں چاہتا مگر اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے اتنی نیکیاں لکھ دے گا جتنا ان گھوڑوں نے پانی پیا۔ عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! اور گدھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر گدھوں کے بارے میں اس منفرد اور جامع آیت کے سوا کوئی چیز نازل نہیں کی گئی: «فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ’جو کوئی ایک زرے کی مقدار میں نیکی کرے گا (قیامت کے دن) اسے دیکھ لے گا اور جو کوئی ایک زرے کے برابر بُرائی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔‘ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2290]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی سونے اور چاندی کا مالک ان میں سے ان کا حق (زکاۃ) ادا نہیں کرتا، تو جب قیامت کا دن ہوگا، اس کے لئے آگ سے پرت (سلیٹیں، تختیاں اورپترے) بنائے جائیں گے انھیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور پھران سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور اس کی پشت کو داغا جائےگا، جب وہ بھی وہ (پرت، تختیاں) ٹھنڈی ہو جائیں گی، اس کے لئے انہیں دوبارہ آگ میں تپایا جائے گا۔ اس دن میں یہ عمل مسلسل ہو گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، حتیٰ کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا، پھر وہ اپنا راستہ، جنت یا دوزخ کی طرف لےگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اونٹوں کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور اونٹوں کا مالک بھی اگر حق ادا نہیں گرے گا اور ان کا حق یہ بھی ہے کہ ان کو پانی پلانے کے دن (جب انہیں پانی کی گھاٹ پر لے جایا جاتا ہے) ان کا دودھ ضرورت مندوں (غریبوں، مسکینوں) وہیں دوھا جائے تاکہ انہیں دودھ کے حصول میں کوئی دقت نہ ہو، اور جب قیامت کا روز ہو گا اسے ایک کھلے چٹیل میدان میں ان کے (اونٹوں کے) سامنے بچھایا جائے گا، وہ اونٹ اس حال میں آئیں گے کہ وہ انتہائی فربہ اور موٹے ہوں گے۔ اور وہ ان میں سے ایک ٹوڈا (بچہ) گم نہیں پائے گا، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے اور اپنے مونہوں سے کاٹیں گے، جب ان میں سے پہلا اونٹ اس پر سے گزرے گا تو اس پر ان کا آخری لوٹا دیا جائے گا (مقصد یہ کہ مسلسل اس پر سے گوریں گے، وقفہ نہیں ہو گا، آحری گزرنے پر پہلا پہنچ جائے گا) یا ایک ریوڑ گورنے پر جوصرا ریوڑ پہنچ جائے گا۔ یہ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہو گی، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہو جائےگا۔ پھر وہ اپنا رستہ جنت یا دوزخ کی طرف دیکھ لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تو گائیوں اور بکریوں (کے مالکوں کا) کیا حال ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور گائیوں اور بکریوں کا مالک بھی ان کا حق ادا نہیں کرتا ہے، تو جب قیامت کا دن ہوگا تو اسے ان کے سامنے کھلے چٹیل میدان میں بچھایا جائے گا۔ (سیدھے یا الٹے منہ لٹایا جائے گا) وہ ان میں سے کسی ایک کو بھی گم نہیں پائے گا۔ ان میں کوئی (گائے یا بکری) نہ مڑے سینگوں والی ہو گی، نہ بغیر سینگوں کے یا ٹوٹے سینگوں کے وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی،،جب پہلا ریوڑ گزر جائے گا تو ان کا دوسرا ریور لایا جائے گا۔ پچاس ہزار سال کے برابر دن میں یونہی ہوتا رہے گا، حتیٰ کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا، پھر اسے اس راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دکھایا جائے گا۔ عرض کیا گئیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تو گھوڑوں (کے مالکوں کا) کیا حال ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہیں: ایک وہ جو آدمی کے لیے بوجھ (گناہ کا سبب) ہیں، دوسرے وہ جو آدمی کے لئے ستر ہیں۔ (دوسروں سے مانگنے کی ذلت سے بچاتے ہیں) تیسرے وہ جو آدمی کے لئے اجر وثواب کا باعث ہیں۔ بوجھ اور گناہ کا باعث وہ گھوڑے ہیں جن کو ان مالک ریاء، فخر اور مسلمانوں کی دشمنی کے لئے باندھتا ہے۔ جورے وہ جو اسکے لئے پردہ پوشی کا باعث ہیں، جو اس آدمی کے گھوڑے جنہیں اس نے اللہ کی راہ میں باندھ رکھا ہے پھر ان کی پشتوں اور گردنوں میں اللہ کے حق کو نہیں بھولا (ضرورت مندوں کوعارضی طور پر سواری کے لیے دیتا ہے) تو یہ اس کے لئے ستر ہیں (اپنی ضرورت کے لیے دوسروں سے مانگنے کی ذلت سے بچ جاتا ہے) رہے وہ گھوڑے جو اس کے لئے اجر وثواب کا باعث ہیں تو ایسے آدمی کے گھوڑے جس نے انھیں اللہ کی راہ میں اہل اسلام کی خاطر باندھ رکھا ہے کسی چراگاہ یا باغیچہ میں، تو یہ گھوڑے اسی چراگاہ یا باغ میں جو کھائیں گے تو ا س کے لیے کھانے کی اشیاء کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور ان کی لید اور پیشاب کی تعداد کےبرابر نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اگر گھوڑے نے اپنی رسی تڑوا کر ایک دو ٹیلوں کی دوڑ لگائی تو اللہ تعالیٰ اس کے قدم اور لید کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ اور اس کا جب اسے لے کر کسی نہر پر گزرتا ہے اور وہ اس سے مالک کے ارادہ اور خواہش کے بغیر ہی پانی پی لیتا ہے تو اللہ تعالی اس مالک کے لئے جس مقدار میں گھوڑے نے پانی پیا ہے اس کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھ دیتا ہے، عرض کیاگیا، اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) گدھوں کا کیا حکم ہے؟ (ان کے مالکوں سے کیسا سلوک ہو گا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر گدھوں کے بارے میں اس آیت کے سوا جو یگانہ اور جامع ہے کوئی مستقل اور مخصوص حکم نازل نہیں ہوا، جو کوئی ذرہ برابر نیکی کرے گا اسے (قیامت کے دن) دیکھ لے گا اور جو کوئی ذرہ برابر برائی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔ (سورۃ زلزال آیت نمبر 7۔8) [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2290]
ترقیم فوادعبدالباقی: 987
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 987 ترقیم شاملہ: -- 2291
وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَى آخِرِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا " وَلَمْ يَقُلْ: " مِنْهَا حَقَّهَا "، وَذَكَرَ فِيهِ: " لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا "، وَقَالَ: " يُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبْهَتُهُ وَظَهْرُهُ ".
ہشام بن سعد نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ حفص بن میسرہ کی حدیث کے آخر تک اس کے ہم معنی روایت بیان کی، البتہ انہوں نے جو اونٹوں کا مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا کہا: اور «ومن حقها» (اور میں سے ان کا حق) کے الفاظ نہیں کہے اور انہوں نے (بھی) اپنی حدیث میں وہ ان میں سے دودھ چھڑائے ہوئے ایک بچے کو بھی گم نہ پائے گا کے الفاظ روایت کیے ہیں اور اسی طرح (ان سے اس کے پہلو، پیشانی اور کمر کو داغا جائے گا کے بجائے) «يكوى بها جنباه وجبخته وظهره» (اس کے دونوں پہلو، اس کی پیشانی اور کمر کو داغا جائے گا) کے الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2291]
ھشام بن سعید بھی زید بن اسلم کی سند سے حفص بن میسرہ کی طرح آخر تک روایت بیان کرتے ہیں۔ صرف اتنا فرق ہے کہ وہ کہتے ہیں جو اونٹوں کا مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا یعنی لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا کے الفاظ ہیں درمیان میں مِنْهَا لفظ نہیں ہے۔ لا يفقد منها فصيلا واحدا کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے جبکہ حفص کی روایت میں ہے يُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبْهَتُهُ وَظَهْرُهُ۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2291]
ترقیم فوادعبدالباقی: 987
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 987 ترقیم شاملہ: -- 2292
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ، إِلَّا أُحْمِيَ عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُجْعَلُ صَفَائِحَ فَيُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبِينُهُ، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا، إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ، كُلَّمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا، إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ، فَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَلْحَاءُ، كُلَّمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، قَالَ سُهَيْلٌ: فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الْبَقَرَ أَمْ لَا؟، قَالُوا: فَالْخَيْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا، أَوَ قَالَ: الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا، قَالَ سُهَيْلٌ: أَنَا أَشُكُّ الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: فَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَلِرَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ، فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَيُعِدُّهَا لَهُ، فَلَا تُغَيِّبُ شَيْئًا فِي بُطُونِهَا إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرًا، وَلَوْ رَعَاهَا فِي مَرْجٍ مَا أَكَلَتْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا، وَلَوْ سَقَاهَا مِنْ نَهْرٍ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ تُغَيِّبُهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ، حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَبْوَالِهَا وَأَرْوَاثِهَا، وَلَوِ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرٌ، وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ، فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا تَكَرُّمًا وَتَجَمُّلًا، وَلَا يَنْسَى حَقَّ ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا، وَأَمَّا الَّذِي عَلَيْهِ وِزْرٌ، فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَبَذَخًا وَرِيَاءَ النَّاسِ، فَذَاكَ الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ، قَالُوا: فَالْحُمُرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْجَامِعَةَ الْفَاذَّةَ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ {7} وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ {8} سورة الزلزلة آية 7-8 "،
عبدالعزیز بن مختار نے کہا: ہمیں سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی خزانے کا مالک نہیں جو اس کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، مگر اس کے خزانے کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس کی تختیاں بنائی جائیں گی اور ان سے اس کے دونوں پہلوؤں اور پیشانی کو داغا جائے گا حتیٰ کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا، (یہ) اس دن میں ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے، پھر اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اور کوئی بھی اونٹوں کا مالک نہیں جو ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا مگر اسے ان (اونٹوں) کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں لٹایا جائے گا جبکہ وہ اونٹ (تعداد اور جسامت میں) جتنے زیادہ سے زیادہ وافر تھے اس حالت میں ہوں گے (وہ) اس کے اوپر دوڑ لگائیں گے۔ جب بھی ان میں آخری اونٹ گزرے گا پہلا اونٹ، اس پر دوبارہ لایا جائے گا، حتیٰ کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔ (یہ) ایک ایسے دن میں (ہوگا) جو پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا، پھر اسے جنت یا دوزخ کی طرف اس کا راستہ دیکھا دیا جائے گا۔ اور جو بھی بکریوں کا مالک ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا تو اسے وہ وافر ترین حالت میں جس میں وہ تھیں، ان کے سامنے ایک وسیع وعریض چٹیل میدان میں بچھا (لٹا) دیا جائے گا، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گی اور اپنے سینگوں سے ماریں گی۔ ان میں نہ کوئی مڑے سینگوں والی ہوگی اور نہ بغیر سینگوں کے۔ جب بھی آخری بکری گزرے گی اسی وقت پہلی دوبارہ اس پر لائی جائے گی۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسے دن میں جو پچاس ہزار سال کے برابر ہے، اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔ پھر اسے جنت یا دوزخ کی طرف اس کا راستہ دکھایا جائے گا۔ سہیل نے کہا: میں نے نہیں جانتا کہ آپ نے گائے کا تذکرہ فرمایا یا نہیں۔ صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! تو گھوڑے (کا کیا حکم ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تک خیر، گھوڑوں کی پیشانی میں ہے۔۔۔ یا فرمایا: گھوڑوں کی پیشانی سے بندھی ہوئی ہے۔۔۔ سہیل نے کہا: مجھے شک ہے۔۔۔ (فرمایا) گھوڑے تین قسم کے ہیں۔ یہ ایک آدمی کے لیے باعث اجر ہیں، ایک آدمی کے لیے پردہ پوشی کا باعث ہیں۔ اور ایک کے لیے بوجھ اور گناہ کا سبب ہیں۔ وہ گھوڑے جو اس (مالک) کے لیے اجر (کا سبب) ہیں تو (ان کا مالک) وہ آدمی ہے جو انہیں اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) پالتا ہے۔ اور تیار کرتا ہے تو یہ گھوڑے کوئی چیز اپنے پیٹ میں نہیں ڈالتے مگر اللہ اس کی وجہ سے اس کے لیے اجر لکھ دیتا ہے۔ اگر وہ انہیں چراگاہ میں چراتا ہے تو وہ کوئی چیز بھی نہیں کھاتے۔ مگر اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے اجر لکھ دیتا ہے۔ اور اگر وہ انہیں کسی نہر سے پانی پلاتا ہے تو پانی کے ہر قطرے کے بدلے جسے وہ اپنے پیٹ میں اتارتے ہیں۔ اس کے لیے اجر ہے۔ حتیٰ کہ آپ نے ان کے پیشاب اور لید کرنے میں بھی اجر ملنے کا تذکرہ کیا۔۔۔ اور اگر یہ گھوڑے ایک یا دو ٹیلوں (کا فاصلہ) دوڑیں۔ تو اس کے لیے ان کے ہر قدم کے عوض جو وہ اٹھاتے ہیں، اجر لکھ دیا جاتا ہے۔ اور وہ انسان جس کے لیے یہ باعث پردہ ہیں تو وہ آدمی ہے جو انہیں عزت وشرف اور زینت کے طور پر رکھتا ہے۔ اور وہ تنگی اور آسانی (ہر حالت) میں ان کی پشتوں اور ان کے پیٹوں کا حق نہیں بھولتا۔ رہا وہ آدمی جس کے لیے وہ بوجھ ہیں تو وہ شخص ہے جو انہیں ناسپاسی کے طور پر، غرور اور تکبر کرنے اور لوگوں کو دکھانے کے لیے رکھتا ہے تو وہی ہے جس کے لیے یہ گھوڑے بوجھ کا باعث ہیں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو گدھے (ان کا کیا حکم ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ان کے بارے میں اس منفرد اور جامع آیت کے سوا کچھ نازل نہیں کیا: «فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ’تو جو کوئی زرہ برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔‘ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2292]
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی خزانے کا مالک اس کی زکاۃ ادا نہیں کرے گا اس کے خزانہ کو جہنم کی آگ میں میں تپایا جائے گا اور اس کی تختیاں بنائی جائیں گی اور ان سے اس کے دونوں پہلوؤں اور پیشانی کو داغا جائےگا حتیٰ کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، پھر وہ اپنا راستہ جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دیکھ لے گا۔ اور کوئی بھی اونٹوں کا مالک نہیں جو ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا مگر اسے ان اونٹوں کے سامنے چٹیل میدان میں لٹایا جائے گا اس کے اوپر دوڑیں گے۔ جب بھی ان میں آخری اونٹ گزرے گا اس پر پہلا اونٹ دوبارہ لایا جائےگا، حتیٰ کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، پھر اسے اس کا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دکھا دیا جائے گا۔ اور جو بھی بکریوں کا مالک ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا تو اسے ان کے سامنے ان کی انتہائی پوری تعداد اور فربہ حالت میں بچھایا جائے گا ایک وسیع وعریض چٹیل میدان میں وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گی اور اپنے سینگوں سے ماریں گی۔ ان میں کوئی مڑے سینگوں والی یا بے سینگوں کے نہیں ہو گی، جب آخری بکری گزرے گی اسی وقت پہلی دوبارہ پہنچ جائے گی۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔ا س دن میں جس مقدار تمہارے شمار سے پچاس ہزار سال ہو، پھر وہ اپنا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دیکھ لے گا۔ سہیل کا قول ہے، میں نہیں جانتا کہ آپ نے گائیوں کا تذکرہ فرمایا یا نہیں۔ صحابہ(رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! گھوڑے کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانی میں یا فرمایا گھوڑوں کی پیشانی سے قیامت تک خیر بندھی ہوئی ہے۔ شک سہیل کو پیش آیا ہے۔ گھوڑے تین قسم کے ہیں۔ یہ ایک آدمی کے لئے اجر و ثواب کا باعث ہیں، اور دوسرے کے لیے بوجھ اور گناہ کا سبب ہیں۔ اور کسی تیسرے آدمی کے لیے ستر (پردہ پوش) ہیں) وہ گھوڑے جو انسانوں کے لیے اجر کا سبب ہیں تو وہ آدمی جو انھیں فی سبیل اللہ رکھتا ہے ارو جہاد کے لیے تیار کرتا ہے تو ان کے پیٹ کے اندر تو کچھ غائب ہوتا ہے اللہ اس کے لیے اسے اجر لکھتا ہے اگر وہ انہیں چراگاہ میں چراتا ہے تو وہ جو کھاتے ہیں اللہ تعالی اس کے لیے اس کے (کھانے) کے عوض اجر لکھتا ہے اور اگر وہ انھیں نہر سے پانی پلاتا ہے تو ہر وہ قطرے جو اس کے پیٹ میں گیا ہے اس کے عوض اجر لکھتا ہے۔ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیشاب اور لید کے عوض اجر ملنے کا تذکرہ کیا۔ اور اگر یہ ایک یا دو ٹیلے دوڑیں۔ تو اس کے لئے ان کے ہر قدم کے عوض جو وہ اٹھاتے ہیں، اجر لکھ دیا جاتا ہے۔ اور وہ جس کے لئے یہ سترہیں تو وہ آدمی ہے جو انھیں عزت وشرف اور حسن و جمال کی خاطر رکھتا ہے۔ اور ان کی پشتوں اور ان کے پیٹوں میں جو ہے اسے تنگی اور خوشحالی میں نہیں بھولتا۔ رہا وہ آدمی جس کے لئے وہ بوجھ ہیں تو وہ شخص ہے جو انھیں اترانے، سرکشی و طغیانی اور شوخی بگھاڑتے ہیں اور لوگوں کو دکھاوے کے لئے ر کھتا ہے، تو ایسے آدمی کے لئے یہ گھوڑے بوجھ کا باعث ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا، تو گدھوں کا اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے مخصوص طور پر مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں فرمایا مگر یہ جامع اوریگانہ آیت کے جو ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھے گا۔اور جوذرہ برابربرائی کرے گا وہ اسے دیکھے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2292]
ترقیم فوادعبدالباقی: 987
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں