🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب تَغْلِيظِ عُقُوبَةِ مَنْ لاَ يُؤَدِّي الزَّكَاةَ:
باب: زکوٰۃ نہ دینے والوں کی سخت سزا دیئے جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 991 ترقیم شاملہ: -- 2303
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے سنا۔۔۔ اسی کے مانند۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2303]
امام صاحب نے مذکورہ بالا روایت اپنے ایک اور استاد سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2303]
ترقیم فوادعبدالباقی: 991
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب التَّرْغِيبِ فِي الصَّدَقَةِ:
باب: صدقہ کی ترغیب دینا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 94 ترقیم شاملہ: -- 2304
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً، وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَى أُحُدٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ عِنْدِي ذَهَبٌ أَمْسَى ثَالِثَةً، عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ، إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا حَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ، وَهَكَذَا عَنْ شِمَالِهِ "، قَالَ: ثُمَّ مَشَيْنَا، فَقَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا "، مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، قَالَ: ثُمَّ مَشَيْنَا، قَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ "، قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي، قَالَ: سَمِعْتُ لَغَطًا وَسَمِعْتُ صَوْتًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ لَهُ، قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَّبِعَهُ، قَالَ: ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ، قَالَ: فَانْتَظَرْتُهُ فَلَمَّا جَاءَ ذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ، قَالَ: فَقَالَ: " ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي، فَقَالَ: مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ "، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ".
اعمش نے زید بن وہب سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: (ایک رات) عشاء کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی کالی پتھریلی زمین پر چل رہا تھا اور ہم احد پہاڑ کو دیکھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، حاضر ہوں! فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ یہ (کوہ) احد میرے پاس سونے کا ہو اور میں اس حالت میں تیسری شام کروں کہ میرے پاس اس میں سے ایک دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جو میں نے قرض (کی ادائیگی) کے لیے بچایا ہو، اور میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح (خرچ) کروں۔ آپ نے اپنے سامنے دونوں ہاتھوں سے بھر کر ڈالنے کا اشارہ کیا۔ اس طرح (خرچ) کروں۔ دائیں طرف سے۔۔۔ اس طرح۔۔۔ بائیں طرف سے۔۔۔ (ابوذر رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر ہم چلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، حاضر ہوں! آپ نے فرمایا: یقیناً زیادہ مالدار ہی قیامت کے دن کم (مایہ) ہوں گے، مگر وہ جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح (خرچ) کیا۔ جس طرح آپ نے پہلی بار کیا تھا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم پھر چلے۔ آپ نے فرمایا: اے ابوذر! میرے واپس آنے تک اسی حالت میں ٹھہرے رہنا۔ کہا: آپ چلے یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ میں نے شور سا سنا آواز سنی تو میں نے دل میں کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز پیش آ گئی ہے، چنانچہ میں نے پیچھے جانے کا ارادہ کر لیا پھر مجھے آپ کا یہ فرمان یاد آ گیا: میرے آنے تک یہاں سے نہ ہٹنا۔ تو میں نے آپ کا انتظار کیا، جب آپ واپس تشریف لائے تو میں نے جو (کچھ) سنا تھا آپ کو بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ کی امت کا جو فرد اس حال میں فوت ہو گا کہ کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا تھا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے پوچھا: چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ انہوں نے کہا: چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2304]
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں شام کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی پتھریلی زمین میں چل رہا تھا۔ اور ہم احد پہاڑ دیکھ رہے تھے۔ تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! میں نے کہا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ احد پہاڑ میرے پاس سونے کی شکل میں موجود ہو اور تیسری شام اس صورت میں آئے کہ میرے پاس اس سے ایک دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے تیار رکھوں۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ میں اسے اللہ کے بندوں میں خرچ یا تقسیم کر دوں، اس طرف (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر کر آگے ڈالا) اور اس طرح دائیں طرف اور اس طرح بائیں طرف، پھر ہم چلتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حاضر ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (زیادہ مالدار ہی قیامت کے دن کم رتبہ ہوں گے) مگر جس نے ادھر اُدھر ہر جگہ خرچ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے کی طرح (آگےدائیں بائیں) کی طرف اشارہ فرمایا: پھر ہم چل پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! میرے آنے تک اس حالت میں رہنا یعنی یہیں ٹھہرے رہنا کہیں نہ جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے حتی کہ میری نظروں سے چھپ گئے میں نے شور اور آواز سنی تو میں نے دل میں کہا۔ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی دشمن کا سامنا ہے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے کا قصد کیا۔ پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد آ گیا کہ میرے آنے تک یہاں سے نہ ہلنا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے ان آوازوں کا تذکرہ کیا جو میں نے سنی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل ؑ تھے میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا جو فرد اس حال میں فوت ہو گا کہ اس نے اللہ کا کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔ وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل علیہ السلام!اگرچہ اس نے چوری اور زنا کیا ہو؟ اس نے جواب دیا اگرچہ اس نے چوری اور زنا کا ارتکاب کیا ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2304]
ترقیم فوادعبدالباقی: 94
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 94 ترقیم شاملہ: -- 2305
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَحْدَهُ لَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ، قَالَ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ، فَالْتَفَتَ فَرَآنِي، فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ "، فَقُلْتُ: أَبُو ذَرٍّ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، قَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَالَهْ "، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، فَقَالَ: " إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ خَيْرًا فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَاءَهُ، وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا "، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، فَقَالَ: " اجْلِسْ هَا هُنَا "، قَالَ: فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ، فَقَالَ لِي: " اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ "، قَالَ: فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لَا أَرَاهُ، فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللَّبْثَ، ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ، وَهُوَ يَقُولُ: " وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى "، قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ؟ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا، قَالَ: " ذَاكَ جِبْرِيلُ عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ، فَقَالَ: بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى، قَالَ: نَعَمْ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ ".
عبدالعزیز بن رفیع نے زید بن وہب سے اور انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک رات (گھر سے) باہر نکلا تو اچانک دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے جا رہے ہیں، آپ کے ساتھ کوئی انسان نہیں تو میں نے خیال کیا کہ آپ اس بات کو ناپسند کر رہے ہیں کہ کوئی آپ کے ساتھ چلے، چنانچہ میں چاند کے سائے میں چلنے لگا، آپ مڑے تو مجھے دیکھ لیا اور فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کی: ابوذر ہوں، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر، آ جاؤ۔ کہا: میں کچھ دیر آپ کے ساتھ چلا تو آپ نے فرمایا: بے شک زیادہ مال والے ہی قیامت کے دن کم (مایہ) ہوں گے، سوائے ان کے جن کو اللہ نے مال عطا فرمایا اور انہوں نے اسے دائیں، بائیں اور آگے، پیچھے اڑا ڈالا اور اس میں نیکی کے کام کیے۔ میں ایک گھڑی آپ کے ساتھ چلتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں بیٹھ جاؤ۔ آپ نے مجھے ایک ہموار زمین میں بٹھا دیا جس کے گرد پتھر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: یہیں بیٹھے رہنا یہاں تک کہ میں تمہارے پاس لوٹ آؤں۔ آپ پتھریلے میدان (حرہ) میں چل پڑے حتیٰ کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے، آپ مجھ سے دور رکے رہے اور زیادہ دیر کر دی، پھر میں نے آپ کی آواز سنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف آتے ہوئے فرما رہے تھے: خواہ اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو۔ جب آپ تشریف لائے تو میں صبر نہ کر سکا، میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر نثار فرمائے! آپ سیاہ پتھروں کے میدان (حرہ) کے کنارے کس سے گفتگو فرما رہے تھے؟ میں نے تو کسی کو نہیں سنا جو آپ کو جواب دے رہا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو سیاہ پتھروں کے کنارے میرے سامنے آئے اور کہا: اپنی امت کو بشارت دے دیجیے کہ جو کوئی اس حالت میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اے جبرائیل علیہ السلام! چاہے اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں! فرمایا: میں نے پھر کہا: خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے پھر (تیسری بار) پوچھا: خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، خواہ اس نے شراب (بھی) پی ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2305]
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک رات نکلا تو اچانک دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے چلے جا رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی شخص نہیں ہے تو میں نے خیال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ناپسند کر رہے ہیں کہ کوئی آپ کے ساتھ چلے، تو میں چاند کے سایہ میں چلنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مڑ کر دیکھ لیا۔ اور فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا ابو ذر ہوں، اللہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابو ذر! آ جاؤ) تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ دیر چلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیادہ مال والے ہی قیامت کے دن کم مرتبہ ہوں گے مگر جن کو اللہ نے مال عطا فرمایا: اور انھوں نے اسے دائیں، بائیں اور آگے، پیچھے پھونک ڈالا اور اس میں نیکی کے کام کیے میں آپ کے ساتھ کچھ دیر چلتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں بیٹھو تو آپ نے مجھے ایک ہموار زمین پر بٹھا دیا جس کے گرد پتھر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا۔ یہاں بیٹھو حتی کہ میں تیرے پاس لوٹ آؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پتھریلی زمین میں چلے حتی کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے اور وہاں ٹھہرے رہے اور کافی دیر تک ٹھہرے رہے پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف آتے ہوئے فرما رہے تھے خواہ اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو میں صبر نہ کر سکا اور میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نثارفرمائے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ پتھروں کے کنارے کس سے گفتگو فرما رہے تھے؟ میں نے کسی کو کچھ جواب دیتے نہیں سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو سیاہ پتھروں کے کنارے میرے سامنے آئے اور کہا اپنی امت کو بشارت دیجیے جو اس حالت میں فوت ہو گا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرایا ہو گا۔ وہ جنت میں داخل ہو گا تو میں نے کہا: اے جبرائیل علیہ السلام اور اگرچہ اس نے چوری کی ہو یا زنا کا مرتکب ہوا ہو، اس نے کہا: جی ہاں! میں نے پھر پوچھا خواہ وہ چور ہو یا زانی؟ اس نے کہا: ہاں میں نے پھر تیسری بار پوچھا: خواہ اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو؟ اس نے کہا: ہاں اور اگرچہ وہ شرابی ہی کیوں نہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2305]
ترقیم فوادعبدالباقی: 94
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب فِي الْكَنَّازِينَ لِلأَمْوَالِ وَالتَّغْلِيظِ عَلَيْهِمْ:
باب: مال کو خزانہ بنانے والوں کے بارے میں اور ان کو ڈانٹ۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 992 ترقیم شاملہ: -- 2306
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا أَنَا فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مَلَأٌ مِنْ قُرَيْشٍ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ أَخْشَنُ الثِّيَابِ، أَخْشَنُ الْجَسَدِ، أَخْشَنُ الْوَجْهِ فَقَامَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَى عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُوضَعُ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِ أَحَدِهِمْ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ كَتِفَيْهِ، وَيُوضَعُ عَلَى نُغْضِ كَتِفَيْهِ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيَيْهِ يَتَزَلْزَلُ، قَالَ: فَوَضَعَ الْقَوْمُ رُءُوسَهُمْ، فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ رَجَعَ إِلَيْهِ شَيْئًا، قَالَ: فَأَدْبَرَ، وَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ هَؤُلَاءِ إِلَّا كَرِهُوا قُلْتَ لَهُمْ، قَالَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا، إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ " أَتَرَى أُحُدًا "، فَنَظَرْتُ مَا عَلَيَّ مِنَ الشَّمْسِ، وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ يَبْعَثُنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَقُلْتُ: أَرَاهُ، فَقَالَ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ كُلَّهُ، إِلَّا ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، ثُمَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا "، قَالَ: قُلْتُ: مَا لَكَ وَلِإِخْوَتِكَ مِنْ قُرَيْشٍ، لَا تَعْتَرِيهِمْ وَتُصِيبُ مِنْهُمْ، قَالَ: لَا وَرَبِّكَ لَا أَسْأَلُهُمْ عَنْ دُنْيَا، وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.
ابوعلاء نے حضرت احنف بن قیس سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مدینہ آیا تو میں قریشی سرداروں کے ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک کھردرے کپڑوں، گٹھے ہوئے جسم اور سخت چہرے والا ایک آدمی آیا اور ان کے سر پر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: مال و دولت جمع کرنے والوں کو اس تپتے ہوئے پتھر کی بشارت سنا دو جس کو جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور اسے ان کے ایک فرد کی نوک پستان پر رکھا جائے گا حتیٰ کہ وہ اس کے دونوں کندھوں کی باریک ہڈیوں سے لہراتا ہوا نکل جائے گا اور اسے اس کے شانوں کی باریک ہڈیوں پر رکھا جائے گا حتیٰ کہ وہ اس کے پستانوں کے سروں سے حرکت کرتا ہوا نکل جائے گا۔ (احنف نے) کہا: اس پر لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے اور میں نے ان میں سے کسی کو نہ دیکھا کہ اس نے کوئی جواب دیا ہو۔ کہا: پھر وہ لوٹا اور میں نے اس کا پیچھا کیا حتیٰ کہ وہ ایک ستون کے ساتھ (ٹیک لگا کر) بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: آپ نے انہیں جو کچھ کہا ہے، میں نے انہیں اسے ناپسند کرتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ لوگ کچھ سمجھتے نہیں۔ میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، میں نے لبیک کہا تو آپ نے فرمایا: ’کیا تم احد (پہاڑ) کو دیکھتے ہو؟‘ میں نے دیکھا کہ مجھ پر کتنا سورج باقی ہے، میں سمجھ رہا تھا کہ آپ مجھے اپنی کسی ضرورت کے لیے بھیجنا چاہتے ہیں، چنانچہ میں نے عرض کی: ’میں اسے دیکھ رہا ہوں۔‘ تو آپ نے فرمایا: ’میرے لیے یہ بات باعث مسرت نہ ہو گی کہ میرے پاس اس کے برابر سونا ہو اور میں تین دیناروں کے سوا اس سارے (سونے) کو خرچ (بھی) کر ڈالوں۔‘ پھر یہ لوگ ہیں، دنیا جمع کرتے ہیں، کچھ عقل نہیں کرتے۔ میں نے ان سے پوچھا: آپ کا اپنے (حکمران) قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہے، آپ اپنی ضرورت کے لیے نہ ان کے پاس جاتے ہیں اور نہ ان سے کچھ لیتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، تمہارے پروردگار کی قسم! نہ میں ان سے دنیا کی کوئی چیز مانگوں گا اور نہ ہی ان سے کسی دینی مسئلے کے بارے میں پوچھوں گا یہاں تک کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2306]
احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں مدینہ آیا اس اثناء میں کہ میں قریشی سرداروں کے ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا جس کے کپڑے موٹے تھے جسم میں خشونت تھی اور چہرہ پر بھی سختی تھی وہ آ کر ان کے پاس رک گیا اور کہنے لگا مال و دولت سمیٹنے والوں کو اس گرم پتھر سے آگاہ کرو (اطلاع و خبر دو) جس کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور اسے ان کے ایک فرد کے پستان کی نوک پر رکھا جائے۔ گا حتی کہ وہ اس کے کندھےکی باریک ہڈی سے نکلے گا۔ اور اسے اس کے شانوں کی باریک ہڈیوں پر رکھا جائے گا حتی کہ وہ اس کے پستانوں کے سروں سے حرکت کرتا ہوا نکلے گا۔ احنف کہتے ہیں لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے اور میں نے ان میں سے کسی کو اس کو کچھ جواب دیتے ہوئے نہیں دیکھا اور وہ واپس پلٹ گیا میں نے اس کا پیچھا کیا حتی کہ وہ ایک ستون کے ساتھ بیٹھا گیا تو میں نے کہا میں نے ان لوگوں کو دیکھا ہے کہ آپ نے انہیں جو کچھ کہا ہے انھوں نے اسے ناپسند سمجھا ہے اس نے کہا ان لوگوں کو کچھ عقل و شعور نہیں ہے میرے گہرے دوست ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم ! نے مجھے بلایا، میں نے لبیک کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمھیں احد نظر آ رہا ہے؟ میں نے دیکھا کہ کس قدر سورج کھڑا ہے (دن باقی ہے) کیونکہ میں سمجھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی کسی ضرورت کے لیے بھیجنا چاہتے ہیں میں اسے دیکھ ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ بات میرے لیے مسرت کا باعث نہیں ہے کہ میرے پاس اس کے برابر سونا اور میں اس تمام کو خرچ کر ڈالوں مگر تین دینار جنھیں قرض چکانے کے لیے رکھ چھوڑوں) اس کے باوجود یہ لوگ دنیا جمع کرتے ہیں انھیں کچھ عقل نہیں ہے میں نے اس سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے قریشی بھائیوں سے کیا معاملہ ہے؟ اپنی ضرورت کے لیے ان کے پاس نہیں جاتے اور نہ ان سے کچھ لیتے ہیں اس نے جواب دیا نہیں تیرے رب کی قسم! نہ میں ان سے دنیا کی کوئی چیز مانگوں گا اور نہ ہی ان سے کسی دینی مسئلہ کے بارے میں پوچھوں گا حتی کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے جا ملوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2306]
ترقیم فوادعبدالباقی: 992
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 992 ترقیم شاملہ: -- 2307
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ ابْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ: " بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِكَيٍّ فِي ظُهُورِهِمْ، يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ، وَبِكَيٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفَائِهِمْ، يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ "، قَالَ: ثُمَّ تَنَحَّى، فَقَعَدَ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالُوا: هَذَا أَبُو ذَرٍّ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا شَيْءٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُ قُبَيْلُ، قَالَ: " مَا قُلْتُ إِلَّا شَيْئًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: قُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَاءِ؟، قَالَ: " خُذْهُ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً، فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ ".
خلید العصری نے حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں قریش کی ایک جماعت میں موجود تھا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے گزرے: مال جمع کرنے والوں کو (آگ کے) ان داغوں کی بشارت سنا دو جو ان کی پشتوں پر لگائے جائیں گے اور ان کے پہلوؤں سے نکلیں گے اور ان داغوں کی جو ان کی گدیوں کی طرف سے لگائے جائیں گے اور ان کی پیشانیوں سے نکلیں گے۔ کہا: پھر وہ الگ تھلگ ہو کر بیٹھ گئے۔ میں نے پوچھا: یہ صاحب کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں اٹھ کر ان کے پاس چلا گیا اور پوچھا: کیا بات تھی، تھوڑی دیر پہلے میں نے سنی آپ کہہ رہے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے اس بات کے سوا کچھ نہیں کہا جو میں نے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ کہا: میں نے پوچھا: (حکومت سے ملنے والے) عطیے (وظیفے) کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: اسے لے لو کیونکہ آج یہ معونت (مدد) سے اور جب یہ تمہارے دین کی قیمت ٹھہریں تو انہیں چھوڑ دینا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2307]
احنف بن قیس بیان کرتے ہیں کہ میں قریش کی ایک جماعت میں فروکش تھا کہ ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہتے ہوئے گزرے مال جمع کرنے والوں کو ان داغوں کی خبر دو جو ان کی پشتوں پر لگائے جائیں گےاوران کے پہلوؤں سے نکلیں گے۔ اور داغوں کی جو ان کی گدیوں پر لگائے جائیں گے ان کی پیشانیوں سے نکلیں گے پھر وہ الگ تھلگ ہو کر بیٹھ گئے میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ قریشیوں نے بتایا یہ ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں میں اٹھ کر ان کے پاس چلا گیا اور پوچھا ابھی آپ کیا کہہ رہے تھے؟ انھوں نے جواب دیا میں نے وہی بات کہی ہے جو میں نے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے میں نے پوچھا ان وظائف (حکومت کی طرف سے ملنے والے) کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں انھوں نے جواب دیا لے لو کیونکہ آج یہ معونت (مدد) کا باعث ہیں اور جب یہ تیرے دین کی قیمت ٹھہریں تو انھیں چھوڑ دینا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2307]
ترقیم فوادعبدالباقی: 992
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب الْحَثِّ عَلَى النَّفَقَةِ وَتَبْشِيرِ الْمُنْفِقِ بِالْخَلَفِ:
باب: سخاوت کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 993 ترقیم شاملہ: -- 2308
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَا ابْنَ آدَمَ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ "، وَقَالَ: يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: مَلْآنُ سَحَّاءُ لَا يَغِيضُهَا شَيْءٌ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ.
زہیر بن حرب اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا: سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابوزناد سے حدیث بیان کی، انہوں نے اعراج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ اس (سلسلہ سند) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک لے جاتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’اے آدم کے بیٹے! تو خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔‘ اور آپ نے فرمایا: اللہ کا دایاں ہاتھ (اچھی طرح) بھرا ہوا ہے۔ ابن نمیر نے ’ملای‘ کے بجائے ’ملآن‘ (کا لفظ) کہا۔۔۔ اس کا فیض جاری رہتا ہے، دن ہو یا رات، کوئی چیز اس میں کمی نہیں کرتی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2308]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے آدم کے بیٹے! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2308]
ترقیم فوادعبدالباقی: 993
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 993 ترقیم شاملہ: -- 2309
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ قَالَ لِي أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى، لَا يَغِيضُهَا سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُذْ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ، قَالَ: وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْقَبْضَ، يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ ".
وہب بن منبہ کے بھائی ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے چند احادیث بیان کیں، ان میں سے ایک یہ بھی تھی اور (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کہا ہے: ’خرچ کرو، میں تم پر خرچ کروں گا۔‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا، دن رات عطا کی بارش برسانے والا ہے، اس میں کوئی چیز کمی نہیں کرتی۔ کیا تم نے دیکھا آسمان و زمین کی تخلیق سے لے کر (اب تک) اس نے کتنا خرچ کیا ہے؟ جو کچھ اس کے دائیں ہاتھ میں ہے، اس (عطا) نے اس میں کوئی کمی نہیں کی۔ آپ نے فرمایا: اس کا عرش پانی پر ہے، اس کے دوسرے ہاتھ میں قبضہ (یا واپسی کی قوت) ہے، وہ (جسے چاہتا ہے) بلند کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) پست کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2309]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہےخرچ کرو، میں آپ پر خرچ کروں گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ دن رات خرچ کرنے سے اس میں کمی واقع نہیں ہوتی مجھے بتاؤ اس نے آسمان و زمین کی تخلیق سے لے کر کس قدر خرچ کیا ہے (اس کے باوجود) اس کے دائیں ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کمی نہیں ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا عرش پانی پر ہے اس کا دوسرا ہاتھ قبض کرتا ہے (مارتا ہے) کسی کو بلند کرتا ہے اور کسی کو پست کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2309]
ترقیم فوادعبدالباقی: 993
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب فَضْلِ النَّفَقَةِ عَلَى الْعِيَالِ وَالْمَمْلُوكِ وَإِثْمِ مَنْ ضَيَّعَهُمْ أَوْ حَبَسَ نَفَقَتَهُمْ عَنْهُمْ:
باب: اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 994 ترقیم شاملہ: -- 2310
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، كلاهما، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَبَدَأَ بِالْعِيَالِ، ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ صِغَارٍ، يُعِفُّهُمْ أَوْ يَنْفَعُهُمُ اللَّهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمْ.
ابوقلابہ نے ابواسماء (رحبی) سے اور انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دینار جسے انسان خرچ کرتا ہے وہ دینار ہے جسے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے انسان اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لیے) اپنے جانور (سواری) پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے وہ اللہ کے راستے میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔ پھر ابوقلابہ نے کہا: آپ نے اہل و عیال سے ابتدا فرمائی۔ پھر ابوقلابہ نے کہا: اجر میں اس آدمی سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے جو چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے، وہ ان کو (سوال کی) ذلت سے بچاتا ہے یا اللہ اس کے ذریعے سے انہیں فائدہ پہنچاتا ہے اور غنی کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2310]
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دینا ر جسے انسان خرچ کرتا ہے وہ دینار ہے جسے وہ اپنے عیال پر خرچ کرتا ہے۔جسے انسان اپنے جہادی جاندار سواری پر صرف کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے وہ اپنے مجاہد ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے ابو قلابہ بیان کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا عیال سے فرمائی، پھر ابو قلابہ کہنے لگے۔ اس آدمی سے بڑھ کر اجر کس آدمی کا ہو سکتا ہے جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے، انہیں سوال کی ذلت سے بچاتا ہے یا اللہ انہیں اس کے ذریعہ نفع پہنچاتا ہے اور غنی کرتا ہے (عیال جن کے نان و نفقہ کا انسان ذمہ دار ہے۔ اس کے بیوی بچے نوکر، چاکر یا غلام) [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2310]
ترقیم فوادعبدالباقی: 994
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 995 ترقیم شاملہ: -- 2311
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ، وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ، أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جن دیناروں پر اجر ملتا ہے ان میں سے) ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، ایک دینار وہ ہے جسے تو نے کسی کی گردن (کی آزادی) کے لیے خرچ کیا، ایک دینار وہ ہے جسے تو نے مسکین پر صدقہ کیا اور ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اپنے گھر والوں پر صرف کیا، ان میں سب سے عظیم اجر اس دینار کا ہے جسے تو نے اپنے اہل پر خرچ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2311]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہے ایک دینار وہ ہے جسے تونے گردن کی آزادی کے لیے خرچ کیا ہے۔ ایک دینار وہ ہے جس نے مسکین پر صدقہ کیا ہے اور ایک دینار وہ جسے تو نے اپنے اہل پر صرف کیا ہے۔ ان سب سے زیادہ اجر تمھیں اس دینار پر ملے گا جسے تونے اپنے اہل پر خرچ کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2311]
ترقیم فوادعبدالباقی: 995
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 996 ترقیم شاملہ: -- 2312
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ الْكِنَانِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، إِذْ جَاءَهُ قَهْرَمَانٌ لَهُ، فَدَخَلَ، فَقَالَ: أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِكُ قُوتَهُ".
خثیمہ سے روایت ہے، کہا: ہم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ان کا کارندہ (مینیجر) ان کے پاس آیا، وہ اندر داخل ہوا تو انہوں نے پوچھا: (کیا) تم نے غلاموں کو ان کا روزینہ دے دیا ہے؟ اس نے جواب دیا: نہیں۔ انہوں نے کہا: جاؤ، انہیں دو۔ (کیونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کے لیے اتنا گناہ ہی کافی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا مالک ہے انہیں نہ دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2312]
خثیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ناگہاں ان کا وکیل و نگران ان کے پاس آیا۔ اندر داخل ہوا۔ تو انھوں نے پوچھا غلاموں کو ان کی خوراک دے دی ہے، اس نے کہا: نہیں انھوں نے کہا۔ جاؤ، انہیں ان کا خرچ دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے انسان کے لیے اتنا گناہ ہی کافی ہے کہ جن کا وہ مالک ہے ان کی خوراک روک لے یعنی فرض میں کوتاہی ناقابل معافی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2312]
ترقیم فوادعبدالباقی: 996
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں