صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب بَيَانِ أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَةِ يَقَعُ عَلَى كُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْمَعْرُوفِ:
باب: ہر نیکی صدقہ ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1008 ترقیم شاملہ: -- 2333
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ "، قِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ؟، قَالَ: يَعْتَمِلُ بِيَدَيْهِ، فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ، قَالَ: قِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟، قَالَ: يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ "، قَالَ: قِيلَ لَهُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟، قَالَ: يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ أَوِ الْخَيْرِ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟، قَالَ: يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ "،
ابو اسامہ نے شعبہ سے، انہوں نے سعید بن ابی بردہ سے، انہوں نے اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا (ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے۔“ کہا گیا: آپ کا کیا خیال ہے اگر اسے (صدقہ کرنے کے لیے کوئی چیز) نہ ملے؟ فرمایا: ”اپنے ہاتھوں سے کام کر کے اپنے آپ کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ (بھی) کرے۔“ اس نے کہا: عرض کی گئی، آپ کیا فرماتے ہیں اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھے؟ فرمایا: ”بے بس ضرورت مند کی مدد کرے۔“ کہا: آپ سے کہا گیا: دیکھیے! اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہ رکھے؟ فرمایا: ”نیکی یا بھلائی کا حکم دے۔“ کہا: دیکھیے اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے؟ فرمایا: ”وہ (اپنے آپ کو) شر سے روک لے، یہ بھی صدقہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2333]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کے ذمہ صدقہ ہے پوچھا گیا ہے۔ بتائیے اگر انسان کے پاس طاقت نہ ہو؟ (وہ صدقہ نہ کر سکے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کام کاج کرے اپنے آپ کو بھی نفع پہنچائے۔ اور صدقہ بھی کرے۔“ کہا گیا: بتائیے اگر وہ ایسا نہ کر سکے؟ فرمایا ”ضرورت مند اور لاچار و مجبور پریشان حال کی مدد کرے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اگر یہ بھی نہ کر سکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی یا خیر و بھلائی کی تلقین کرے۔“ عرض کیا گیا بتائیے اگر یہ بھی نہ کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برائی سے رک جائے۔ یہ بھی (اپنے اوپر) صدقہ ہے“ مَلْهُوفَ لاچار، مجبور، مظلوم، پریشان حال، رنجیدہ۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2333]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1008
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1008 ترقیم شاملہ: -- 2334
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2334]
یہی روایت امام صاحب نے اپنے دوسرے استاد سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2334]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1008
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1009 ترقیم شاملہ: -- 2335
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ "، قَالَ: تَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَتُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا، أَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، قَالَ: وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ تَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ، وَتُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیں۔ انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں، ان میں سے یہ بھی ہے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے ہر جوڑ پر ہر روز، جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، صدقہ ہے۔“ فرمایا: ”تم دو (آدمیوں) کے درمیان عدل کرو، (یہ) صدقہ ہے۔ اور تمہارا کسی آدمی کی، اس کے جانور کے متعلق مدد کرنا کہ اسے اس پر سوار کرا دو یا اس کی خاطر سواری پر اس کا سامان اٹھا کر رکھو، (یہ بھی) صدقہ ہے۔“ فرمایا: ”اچھی بات صدقہ ہے اور ہر قدم جس سے تم مسجد کی طرف چلتے ہو، صدقہ ہے اور تم راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دو، (یہ بھی) صدقہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2335]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور لوگوں کے ہر جوڑ کے ذمہ صدقہ ہے ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عدل و انصاف سے دو آدمیوں کے درمیان صلح کرانا صدقہ ہے آپ کسی کی اس کے چوپایہ کے بارے میں مدد کرتے ہیں اسے اس پر سوار کرتے ہیں یا اس کو اس کا سامان اٹھا کر دیتے ہیں یہ بھی صدقہ ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا بول بھی صدقہ ہے اور ہر قدم جو آپ نماز کے لیے اٹھاتے ہیں صدقہ ہے راستہ سے جو تکلیف دہ چیز دور کرتے ہو صدقہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2335]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1009
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
17. باب فِي الْمُنْفِقِ وَالْمُمْسِكِ:
باب: سخی اور بخیل کے بارے میں۔
ترقیم عبدالباقی: 1010 ترقیم شاملہ: -- 2336
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ، إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ، فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَيَقُولُ الْآخَرُ اللَّهُمَّ: أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا ".
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی دن نہیں جس میں بندے صبح کرتے ہیں مگر (اس میں آسمان سے) دو فرشتے اترتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو (بہترین) بدل عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ! روکنے والے کا (مال) تلف کر دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2336]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دن جس میں لوگ داخل ہوتے ہیں دو فرشتے اترتے ہیں۔ ان میں سے ایک دعا کرتا ہے۔ اےاللہ (جائز) خرچ کرنے والے کو اس کی جگہ مال دے۔ دوسرا کہتا ہے۔ اے اللہ! روک رکھنے والے کے مال کو ضائع کر دے (وہ اپنے مال سے فائدہ نہ اٹھا سکے)“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2336]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1010
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
18. باب التَّرْغِيبِ فِي الصَّدَقَةِ قَبْلَ أَنْ لاَ يُوجَدَ مَنْ يَقْبَلُهَا:
باب: صدقہ قبول کرنے والا نہ پانے سے پہلے پہلے صدقہ کرنے کی ترغیب کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1011 ترقیم شاملہ: -- 2337
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَصَدَّقُوا فَيُوشِكُ الرَّجُلُ يَمْشِي بِصَدَقَتِهِ، فَيَقُولُ الَّذِي أُعْطِيَهَا لَوْ جِئْتَنَا بِهَا بِالْأَمْسِ قَبِلْتُهَا، فَأَمَّا الْآنَ فَلَا حَاجَةَ لِي بِهَا، فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا ".
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: ”صدقہ کرو، وہ وقت قریب ہے کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر چلے گا، تو جسے وہ پیش کیا جائے گا، وہ کہے گا: اگر کل تم اسے ہمارے پاس لاتے، تو میں اسے قبول کر لیتا، مگر اب مجھے اس کی ضرورت نہیں۔“ چنانچہ اسے کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے قبول کر لے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2337]
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کرو، قریب ہے کہ ایسا وقت آ جائےکہ انسان اپنا صدقہ لے کر گھومے گا جس کو دے گا وہ کہے گا۔ اگر آپ ہمارے پاس کل لاتے تو میں اسے قبول کر لیتا اب تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے تو اس طرح اسے صدقہ قبول کرنے والا نہ ملے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2337]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1011
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1012 ترقیم شاملہ: -- 2338
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَطُوفُ الرَّجُلُ فِيهِ بِالصَّدَقَةِ مِنَ الذَّهَبِ، ثُمَّ لَا يَجِدُ أَحَدًا يَأْخُذُهَا مِنْهُ، وَيُرَى الرَّجُلُ الْوَاحِدُ يَتْبَعُهُ أَرْبَعُونَ امْرَأَةً، يَلُذْنَ بِهِ مِنْ قِلَّةِ الرِّجَالِ وَكَثْرَةِ النِّسَاءِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بَرَّادٍ: " وَتَرَى الرَّجُلَ ".
عبداللہ بن براد اشعری اور ابو کریب محمد بن علاء دونوں نے کہا: ہمیں ابو اسامہ نے برید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابو بردہ سے، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”لوگوں پر یقیناً ایسا وقت آئے گا جس میں آدمی سونے کا صدقہ لے کر گھومے گا، پھر اسے کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے اس سے لے لے اور مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے ایسا اکیلا آدمی دیکھا جائے گا جس کے پیچھے چالیس عورتیں ہوں گی جو اس کی پناہ لے رہی ہوں گی۔“ ابن براد کی روایت میں (ایسا اکیلا آدمی دیکھا جائے گا) کی جگہ «وتر رجل» (اور تم ایسے آدمی کو دیکھو گے) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2338]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر یقیناً ایک ایسا وقت آئے گا کہ آدمی اس میں اپنا سونے کا صدقہ لے کر گھومے گا۔ پھر بھی کوئی لینے والا نہیں ملے گا۔ مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت سے یہ صورت حال پیش آئے گی۔ کہ ایک آدمی کے تحفظ و پناہ میں چالیس عورتیں اس کے ساتھ ہوں گی۔ ابن براد کی روایت میں ”یُرٰی الرجلُ“ کی جگہ ”تَرٰى الرَجلُ“ آیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2338]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1012
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 157 ترقیم شاملہ: -- 2339
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ، حَتَّى يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِزَكَاةِ مَالِهِ، فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ، وَحَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا ".
سہیل کے والد (ابو صالح) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مال بڑھ جائے گا اور (پانی کی طرح) بہنے لگے گا اور آدمی اپنے مال کی زکاۃ لے کر نکلے گا، تو اسے ایک شخص بھی نہیں ملے گا جو اسے اس کی طرف سے قبول کر لے اور یہاں تک کہ عرب کی سرزمین دوبارہ چراگاہوں اور نہروں میں بدل جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2339]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی حتی کہ تم میں مال بڑھ جائے گا اور پانی کی طرح بہے گا یعنی عام ہو جائے گا۔ حتی کہ آدمی اپنے مال کی زکاۃ لے کر چلے پھر ے گا۔ تو اس سے اسے کوئی قبول کرنے والا نہیں ملے گا۔ (ریگستان اور پہاڑی علاقے) چراگاہوں اور نہروں والے بن جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2339]
ترقیم فوادعبدالباقی: 157
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 157 ترقیم شاملہ: -- 2340
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ، حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ صَدَقَةً، وَيُدْعَى إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: لَا أَرَبَ لِي فِيهِ ".
ابو یونس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تمہارے ہاں مال کی فراوانی ہو گئی، وہ مال (پانی کی طرح) بہے گا، یہاں تک کہ مال کے مالک کو یہ فکر لاحق ہو گی کہ اس سے اس (مال) کو بطور صدقہ کون قبول کرے گا؟ ایک آدمی کو اسے لینے کے لیے بلایا جائے گا، تو وہ کہے گا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2340]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی حتی کہ تم میں مال کی فراوانی ہو گی تو وہ عام ہو جائے گا حتی کہ مال کے مالک کو فکر و پریشانی ہوگی کہ اس سے اس کا صدقہ کون قبول کرے گا۔ اس کے لیے آدمی کو بلایا جائے گا تو وہ کہے گا، مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2340]
ترقیم فوادعبدالباقی: 157
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1013 ترقیم شاملہ: -- 2341
وحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ ، واللفظ لواصل، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَقِيءُ الْأَرْضُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الْأُسْطُوَانِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَيَجِيءُ الْقَاتِلُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَتَلْتُ، وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي، وَيَجِيءُ السَّارِقُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قُطِعَتْ يَدِي، ثُمَّ يَدَعُونَهُ فَلَا يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا ".
ابو حازم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے اور چاندی کے ستونوں کی صورت میں اگل دے گی، تو قاتل آئے گا اور کہے گا: کیا اس کی خاطر میں نے قتل کیا تھا؟ رشتہ داری توڑنے والا آکر کہے گا: کیا اس کے سبب میں نے قطع رحمی کی تھی؟ چور آکر کہے گا: کیا اس کے سبب میرا ہاتھ کاٹا گیا تھا؟ پھر وہ اس مال کو چھوڑ دیں گے اور اس میں سے کچھ نہیں لیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2341]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین اپنے جگر گوشے سونے اور چاندی کے ستونوں کی شکل میں اگل دے گی (زمین اپنے تمام خزانے باہر نکالے گی) تو قاتل آ کر (دیکھے گا) اور کہے گا۔ اس کی خاطر میں نے قتل کیا تھا رشتہ داری توڑنے والا آ کر (دیکھ کر) کہے گا۔ اس کی خاطر میں نے قطع رحمی کی، چور آ کر (دیکھ کر) کہے گا۔ اس کے سبب میرا ہاتھ کاٹا گیا پھر اس مال کو چھوڑدیں گے۔ اس میں سے کچھ بھی نہ لیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2341]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1013
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
19. باب قَبُولِ الصَّدَقَةِ مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ وَتَرْبِيَتِهَا:
باب: پاک کمائی سے صدقہ کا قبول ہونا اور اس کا پرورش پانا۔
ترقیم عبدالباقی: 1014 ترقیم شاملہ: -- 2342
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ، إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً، فَتَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ ".
سعید بن یسار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص پاکیزہ مال سے کوئی صدقہ نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ پاکیزہ مال ہی قبول فرماتا ہے، مگر وہ رحمان اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے، چاہے وہ کھجور کا ایک دانہ ہو، تو وہ اس رحمان کی ہتھیلی میں پھلتا پھولتا ہے، حتیٰ کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2342]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو انسان پاکیزہ مال سے صدقہ کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ پاکیزہ مال ہی قبول فرماتا ہے۔ تو رحمن اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے (قبول فرماتا ہے) وہ اگرچہ ایک کھجور ہی ہو۔ پھر وہ رحمان کی ہتھیلی میں پھلتا پھولتا ہے (بڑھتا ہے) حتی کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے (گھوڑے کا بچہ) یا ٹوڈے (اونٹ کا بچہ) کو پالتا پوستا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2342]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1014
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة