🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ أَوْ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ وَأَنَّهَا حِجَابٌ مِنَ النَّارِ:
باب: ایک کھجور یا ایک کام کی بات بھی صدقہ ہے اور دوزخ سے آڑ کرنے والا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1017 ترقیم شاملہ: -- 2353
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ قَوْمٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ، وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَفِيهِ: فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرًا صَغِيرًا، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ سورة النساء آية 1 " الْآيَةَ،
عبدالملک بن عمیر نے منذر بن جریر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم درمیان میں سوراخ کر کے اون کی دھاری دار چیتھڑے گلے میں ڈالے آئی۔۔۔ اور پورا واقعہ بیان کیا اور اس میں ہے: آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر ایک چھوٹے سے منبر پر تشریف لے گئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے: «یَا أَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمْ» ’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔‘ آیت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2353]
حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک قوم اون کی دھاری دار تہبند باندھے آئی۔ اور پورا واقعہ بیان کیا اور اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی پھر چھوٹے منبر پر چڑھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان فرمائی پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، الایۃ۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2353]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1017
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1017 ترقیم شاملہ: -- 2354
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وأبي الضحى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ الصُّوفُ، فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ.
عبدالرحمان بن ہلال عبسی نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: بدوؤں میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے جسم پر اونی کپڑے تھے، آپ نے ان کی بدحالی دیکھی، وہ فاقہ زدہ تھے۔۔۔ پھر ان (سابقہ راویان حدیث) کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2354]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ بدوی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اون پہنے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بدحالی دیکھی کہ وہ حاجت مند ہیں پھر مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2354]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1017
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. باب الْحَمْلِ بِأُجْرَةٍ يُتَصَدَّقُ بِهَا وَالنَّهْيِ الشَّدِيدِ عَنْ تَنْقِيصِ الْمُتَصَدِّقِ بِقَلِيلٍ:
باب: «حمال» (قلی وغیرہ) مزدوروں کو بھی صدقہ کرنا چاہئیے اور تھوڑی مقدار میں صدقہ کرنے والوں کی اہانت کرنے کو سختی سے منع فرمایا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1018 ترقیم شاملہ: -- 2355
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: " أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ، قَالَ: كُنَّا نُحَامِلُ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ، قَالَ: وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِشَيْءٍ أَكْثَرَ مِنْهُ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ: " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا وَمَا فَعَلَ هَذَا الْآخَرُ إِلَّا رِيَاءً، فَنَزَلَتْ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلا جُهْدَهُمْ سورة التوبة آية 79، وَلَمْ يَلْفِظْ بِشْرٌ بِالْمُطَّوِّعِينَ،
یحییٰ بن معین اور بشر بن خالد نے۔ لفظ بشر کے ہیں۔ حدیث بیان کی، کہا: ہمیں محمد بن جعفر (غندر) نے خبر دی، انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے سلیمان سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کہا: ہم بوجھ اٹھایا کرتے تھے۔ کہا: ابوعقیل رضی اللہ عنہ نے آدھا صاع صدقہ کیا۔ ایک دوسرا انسان اس سے زیادہ کوئی چیز لایا تو منافقوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس کے صدقے سے غنی ہے اور اس دوسرے نے محض دکھلاوا کیا ہے، اس پر یہ آیت مبارکہ اتری: «الَّذِینَ یَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ فِی الصَّدَقَاتِ وَالَّذِینَ لَا یَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ» وہ لوگ جو صدقات کے معاملے میں دل کھول کر دینے والے مسلمانوں پر طعن کرتے ہیں اور ان پر بھی جو اپنی محنت (کی اجرت) کے سوا کچھ نہیں پاتے۔ بشر نے ’المطوعین‘ (اور بعد کے) الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2355]
حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں صدقہ کرنے کا حکم ملتا تو ہم بوجھ ڈھوتے تھے ابوعقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آدھا صاع صدقہ کیا۔ ایک دوسرا انسان اس سے کافی زیادہ لایا۔ تو منافق کہنے لگے: اللہ تعالیٰ کو اس (ابو عقیل) کے صدقہ کی ضرورت نہیں ہے اور اس دوسرے نے تو محض دکھلاوا کیا ہے تو اس پر یہ آیت مبارکہ اتری جو لوگ اپنی خوشی سے صدقہ کرنے والوں مومنوں پر اور ان لوگوں پر جو محنت و مشقت کر کے ہی صدقہ کر سکتے ہیں طعن و طنز کرتے ہیں بشر نے بالْمُطَّوِّعِينَ کا لفظ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2355]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1018
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1018 ترقیم شاملہ: -- 2356
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ . ح وحَدَّثَنِيهِ إسحاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَ: " كُنَّا نُحَامِلُ عَلَى ظُهُورِنَا ".
سعید بن ربیع اور ابوداود دونوں نے شعبہ سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور سعید بن ربیع کی حدیث میں ہے، کہا: ہم اپنی پشتوں پر بوجھ اٹھاتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2356]
امام صاحب اپنے دو اور استادوں سے یہی روایت بیان کرتے ہیں اور سعید بن ربیع کی روایت میں ہے كُنَّا نُحَامِلُ عَلَى ظُهُورِنَا ہم اپنی پشتوں پر بوجھ لادتے تھے اس حدیث سے معلوم ہوا انسان کوصدقہ و خیرات کرنے کی کوشش کرنی چاہیے چاہے اس کے لیے محنت و مزدوری یا بار برداری سے ہی کام لینا پڑے اور صدقہ میں اپنی استطاعت و قدرت رکھتے ہوئے کمی و بیشی کی جا سکتی ہے اور اس میں لوگوں کے طعن و تشنیع کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے کیونکہ بدعمل اور برے لوگ نیک عمل سے بچنے کے لیے نیکیوں پر طعن تشنیع کر کے بدعملی اور بدکاری پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2356]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1018
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. باب فَضْلِ الْمَنِيحَةِ:
باب: دودھ والا جانور مفت دینے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1019 ترقیم شاملہ: -- 2357
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ: " أَلَا رَجُلٌ يَمْنَحُ أَهْلَ بَيْتٍ نَاقَةً تَغْدُو بِعُسٍّ وَتَرُوحُ بِعُسٍّ إِنَّ أَجْرَهَا لَعَظِيمٌ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اسے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک) پہنچاتے تھے: سن لو، کوئی آدمی کسی خاندان کو (ایسی دودھ دینے والی) اونٹنی دے جو صبح کو بڑا پیالہ بھر دودھ دے اور شام کو بھی بڑا پیالہ بھر دودھ دے تو یقیناً اس (اونٹنی) کا اجر بہت بڑا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2357]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی آدمی ہے جو کسی خاندان کو ایسی دودھ دینے والی اونٹنی دودھ پینے کے لیے دے جو صبح ایک بڑا پیالہ دودھ بھر کر دے اور شام کو بھی بڑا پیالہ بھر کر دے۔ بلا شبہ اس کا اجر بہت بڑا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2357]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1019
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1020 ترقیم شاملہ: -- 2358
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهَى فَذَكَرَ خِصَالًا، وَقَالَ: " مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةً، غَدَتْ بِصَدَقَةٍ، وَرَاحَتْ بِصَدَقَةٍ صَبُوحِهَا وَغَبُوقِهَا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے (کچھ اشیاء سے) منع کیا، پھر چند خصلتوں کا ذکر کیا اور فرمایا: جس نے دودھ پینے کے لئے جانور دیا تو اس (اونٹنی، گائے وغیرہ) نے صدقے سے صبح کی اور صدقے سے شام کی، یعنی اپنے صبح کے دودھ سے اور اپنے شام کے دودھ سے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2358]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند خصلتوں سے منع فرمایا: اور فرمایا: جس نے دودھ دینے والا جانور عاریۃً دیا تو اس کا صبح کا دودھ صدقہ ہو گا اور اس کا شامل کا دودھ صدقہ ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2358]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1020
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. باب مَثَلِ الْمُنْفِقِ وَالْبَخِيلِ:
باب: سخی اور بخیل کی مثال۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1021 ترقیم شاملہ: -- 2359
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَمْرٌو : وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَثَلُ الْمُنْفِقِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلٍ عَلَيْهِ جُبَّتَانِ أَوْ جُنَّتَانِ مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ، وَقَالَ الْآخَرُ: فَإِذَا أَرَادَ الْمُتَصَدِّقُ أَنْ يَتَصَدَّقَ سَبَغَتْ عَلَيْهِ أَوْ مَرَّتْ، وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِيلُ أَنْ يُنْفِقَ قَلَصَتْ عَلَيْهِ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا، حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ "، قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: " يُوَسِّعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ ".
ابوزناد نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، نیز ابن جریج نے کہا: حسن بن مسلم سے، انہوں نے طاوس سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ خرچ کرنے والے اور صدقہ دینے والے کی مثال اس آدمی کی ہے جس کے جسم پر چھاتی سے لے کر ہنسلی کی ہڈیوں تک دو جبے یا دو زرہیں ہوں۔ جب خرچ کرنے والا اور دوسرے (راوی) نے کہا: جب صدقہ کرنے والا۔ خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ زرہ اس (کے جسم) پر کھل جاتی ہے یا رواں ہو جاتی ہے اور جب بخیل خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس (کے جسم) پر سکڑ جاتی ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ (کو مضبوطی سے) پکڑ لیتا ہے حتیٰ کہ اس (کی انگلیوں) کے پوروں کو ڈھانپ دیتا ہے اور اس کے نقش پا کو مٹا دیتا ہے۔ کہا: تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے فرمایا: وہ (بخیل) اس کو کھولنا چاہتا ہے لیکن وہ کھلتی نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2359]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرچ کرنے والے اور صدقہ دینے والے کی مثال اس آدمی کی مثال ہے جو چھاتی سے لے کر گلے تک دو کرتے یا دو زرہیں پہنے ہوئے ہے۔ جب خرچ کرنے والے اور دوسرے راوی کے بقول صدقہ دینے والا۔ صدقہ دینے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ زرہ (پورے جسم پر) پھیل جاتی ہے یا پوری ہو جاتی ہے اور جب بخیل خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ (اپنی جگہ) جسم پر سکڑ جاتی ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ جم جاتا ہے حتی کہ اس کے پوروں کو چھپا لیتا ہے اور اس کے نقش پا کو مٹا دیتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اس کو وسیع کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی یا کھلتی نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2359]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1021
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1021 ترقیم شاملہ: -- 2360
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلَ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ، كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدِيِّهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا، فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنْهُ، حَتَّى تُغَشِّيَ أَنَامِلَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ، قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا "، قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِإِصْبَعِهِ فِي جَيْبِهِ: " فَلَوْ رَأَيْتَهُ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَوَسَّعُ ".
ابراہیم بن نافع نے حسن بن مسلم سے، انہوں نے طاوس سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال بیان فرمائی: بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ایسے دو آدمیوں کی مانند ہے جن (کے جسموں) پر لوہے کی دو زرہیں ہیں، ان کے دونوں ہاتھ ان کی چھاتیوں اور ہنسلی کی ہڈیوں سے جکڑے ہوئے ہیں، پس صدقہ دینے والا جب صدقہ دینے لگتا ہے تو وہ (اس کی زرہ) پھیل جاتی ہے حتیٰ کہ اس کی انگلیوں کے پوروں کو ڈھانپ لیتی ہے اور (زمین پر گھسیٹنے کی وجہ سے) اس کے نقش قدم کو مٹانے لگتی ہے۔ اور بخیل جب صدقہ دینے کا ارادہ کرنے لگتا ہے تو وہ سکڑ جاتی ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ کو پکڑ لیتا ہے۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی گریبان میں ڈال رہے تھے، کاش تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے (ایسے لگتا تھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کشادہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2360]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیل اور صدقہ کرنے والے کی تمثیل بیان کی کہ دو آدمیوں کی مثال کی مانند ہے جو لوہے کی دو زرہیں پہنے ہوئے ہیں ان کے ہاتھ چھاتی سے ہنسلی تک بندھے ہوئے ہیں صدقہ دینے والا جب بھی صدقہ دیتا ہے تو وہ پھیل جاتی ہے یا کھل جاتی ہے حتی کہ اس کی پاؤں کی انگلیوں کو چھپا لیتی ہے اور اس کے نقش قدم کو مٹا ڈالتی ہے اور بخیل جب بھی صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے وہ سکڑ جاتی ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ جم جاتا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی انگلی گریبان میں داخل کر رہے تھے اگر تم دیکھتے تو یہ سمجھتے کہ کشادہ کرنا چاہتے ہیں وہ کشادہ نہیں ہوتی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2360]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1021
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1021 ترقیم شاملہ: -- 2361
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إسحاق الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ وُهَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ، مَثَلُ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، إِذَا هَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَةٍ، اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تُعَفِّيَ أَثَرَهُ، وَإِذَا هَمَّ الْبَخِيلُ بِصَدَقَةٍ، تَقَلَّصَتْ عَلَيْهِ وَانْضَمَّتْ يَدَاهُ إِلَى تَرَاقِيهِ، وَانْقَبَضَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ إِلَى صَاحِبَتِهَا "، قَالَ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " فَيَجْهَدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا فَلَا يَسْتَطِيعُ ".
عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ان دو آدمیوں جیسی ہے جن پر لوہے کی دو زرہیں ہیں، صدقہ دینے والا جب صدقہ دینے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ (اس کی زرہ) اس پر کشادہ ہو جاتی ہے حتیٰ کہ اس کے نقش پا کو مٹانے لگتی ہے اور جب بخیل صدقہ دینے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ (زرہ) اس پر سکڑ جاتی ہے اور اس کے دونوں ہاتھ اس کی ہنسلی کے ساتھ جکڑ جاتے ہیں اور ہر حلقہ ساتھ والے حلقے کے ساتھ پیوست ہو جاتا ہے۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: وہ کوشش کرتا ہے کہ اسے کشادہ کرے لیکن نہیں کر سکتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2361]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال دو آدمیوں کی مثال ہے جو لوہے کی زرہ پہنے ہوئے ہیں جب صدقہ دینے والا صدقہ دینے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ کشادہ ہو جاتی ہے حتی کہ اس کے نقش کو مٹا دیتی ہے اور جب بخیل صدقہ دینے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس پر سکڑ جاتی ہے اور اس کے دونوں ہاتھ اس کی ہنسلی سے بندھ جاتے ہیں اور ہر حلقہ دوسرے حلقہ کے ساتھ پیوست ہو جاتا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ وہ اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن کر نہیں سکتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2361]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1021
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. باب ثُبُوتِ أَجْرِ الْمُتَصَدِّقِ وَإِنْ وَقَعَتِ الصَّدَقَةُ فِي يَدِ غَيْرِ أَهْلِهَا:
باب: صدقہ دینے والے کو ثواب ہے اگرچہ صدقہ اس کے حقدار کو نہ پہنچے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1022 ترقیم شاملہ: -- 2362
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَالَ رَجُلٌ: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى غَنِيٍّ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى غَنِيٍّ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى سَارِقٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ وَعَلَى غَنِيٍّ وَعَلَى سَارِقٍ، فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ: أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ قُبِلَتْ، أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا تَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ زِنَاهَا، وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ، وَلَعَلَّ السَّارِقَ يَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ سَرِقَتِهِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے کہا: میں آج رات ضرور کچھ صدقہ کروں گا تو وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسے ایک زانیہ کے ہاتھ میں دے دیا، صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ پر صدقہ کیا گیا، اس آدمی نے کہا: اے اللہ تیری حمد! زانیہ پر (صدقہ ہوا) میں ضرور صدقہ کروں گا، پھر وہ صدقہ لے کر نکلا تو اسے ایک مالدار کے ہاتھ میں دے دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے: ایک مالدار پر صدقہ کیا گیا۔ اس نے کہا: اے اللہ تیری حمد! مالدار پر (صدقہ ہوا) میں ضرور کچھ صدقہ کروں گا اور وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا تو اسے ایک چور کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ لوگ صبح کو باتیں کرنے لگے: چور پر صدقہ کیا گیا۔ تو اس نے کہا: اے اللہ! سب حمد تیرے ہی لئے ہے، زانیہ پر، مالدار پر، اور چور پر (صدقہ ہوا)۔ اس کو (خواب میں) کہا گیا تمہارا صدقہ قبول ہو چکا، جہاں تک زانیہ کا تعلق ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس (صدقے) کی وجہ سے زانیہ اپنے زنا سے پاک دامنی اختیار کر لے اور شاید مالدار عبرت پکڑے اور اللہ نے جو اسے دیا ہے (خود) اس میں صدقہ کرے اور شاید اس کی وجہ سے چور اپنی چوری سے باز آجائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2362]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے کہا میں آج رات صدقہ کروں گا اور وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسے ایک زانیہ کے ہاتھ میں رکھ دیا تو لوگ صبح باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے اس آدمی نے کہا: اے اللہ! تو ہر حالت میں قابل تعریف ہے زانیہ کو صدقہ دے بیٹھا ہوں آج میں ضرورصدقہ کروں گا پھر وہ اپنا صدقہ لے کر نکل اور اسے ایک مالدار کو تھ دیا صبح لوگ باتیں کرنے لگے۔ کہ رات مالدار کو صدقہ دیا گیا اس نے کہا:اے اللہ! قابل تعریف تو ہی ہے۔ میرا صدقہ غنی کو ملا میں ضرور صدقہ کروں گا اور وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا تو اسے ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ لوگ صبح باتیں کرنے لگے کہ چور کو صدقہ دیا گیا۔ تو اس نے کہا: اے اللہ تیرے لیے ہی حمد ہے صدقہ زانیہ غنی اور چور کو ملااس کے پاس کوئی (خواب میں) آیا اور اسے بتایا گیا، رہا تیرا صدقہ تو وہ قبول ہو چکا ہے رہی زانیہ تو شاید وہ اس کے سبب زنا سے بچ جائے اور شاید مالدار سبق حاصل کرے اور اللہ نے اسے جو کچھ دیا ہے اس میں سے صدقہ کرے اور شاید چور اس کے باعث اپنی چوری سے باز آ جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2362]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1022
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں