صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
27. باب قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ:
باب: میت کی طرف سے روزوں کی قضا کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1148 ترقیم شاملہ: -- 2695
وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ابوسعید اشج، ابوخالد، اعمش، سلمہ بن کہیل، حکم بن عتیبہ، مسلم بن جبیر، مجاہد، عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما اس سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی طرح روایت کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2695]
امام صاحب نے اپنے استاد ابو سعید اشج سے یہ روایت اعمش (سلیمان) سے، سلمہ بن کہیل، حکم بن عتیبہ اور مسلم بطین؛ تینوں نے سعید بن جبیر، مجاہد اور عطاء کے واسطہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2695]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1148
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1148 ترقیم شاملہ: -- 2696
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، وعبد بن حميد جميعا، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ عَبد: حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ، أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟، قَالَ: " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِيهِ، أَكَانَ يُؤَدِّي ذَلِكِ عَنْهَا؟ "، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " فَصُومِي عَنْ أُمِّكِ ".
اسحاق بن منصور، ابن ابی خلف، عبدبن حمید، زکریا بن عدی، عبیداللہ بن عمرو، زید بن ابی انیسہ، حکم بن عتیبہ، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کرنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے، اس پر منت کا روزہ لازم تھا، تو کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے؟ کہ اگر تیری ماں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اس کی طرف سے ادا کرتی؟“ اس نے عرض کیا: ہاں! آپ نے فرمایا: ”اللہ کا قرض اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔“ آپ نے فرمایا: ”تو اپنی ماں کی طرف سے روزہ رکھ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2696]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ماں فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمہ نذر کے روزے ہیں، کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتائیے! اگر تیری والدہ کے ذمہ قرض ہوتا تو اس کو ادا کر دیتی تو کیا یہ اس کی طرف سے ادا ہو جاتا؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنی ماں کی طرف سے روزے رکھ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2696]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1148
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1149 ترقیم شاملہ: -- 2697
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَبُو الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ، قَالَ: فَقَالَ: " وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ "، قَالَتْ " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟، قَالَ: " صُومِي عَنْهَا "، قَالَتْ: إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟، قَالَ: " حُجِّي عَنْهَا "،
علی بن مسہر، ابوالحسن نے عبداللہ بن عطاء سے، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ایک بار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ایک عورت نے کہا: میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی بطور صدقہ دی تھی اور وہ (والدہ) فوت ہو گئی ہیں۔ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اجر پکا ہو گیا۔ اور وراثت نے وہ (لونڈی) تمہیں لوٹا دی۔“ اس نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ان کے ذمے ایک ماہ کے روزے تھے، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے روزے رکھو۔“ اس نے پوچھا: انہوں نے کبھی حج نہیں کیا تھا، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے حج کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2697]
حضرت عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اسی اثنا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آ گئی اور اس نے پوچھا: ”میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی صدقہ میں دی اور اب میری ماں فوت ہوئی ہے“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا اجر ثابت ہو گیا اور وراثت کی بنا پر تیری لونڈی واپس مل گئی۔“ اس نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے تھے، تو کیا میں اس کی طرف سے رکھ سکتی ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے روزہ رکھو۔“ اس نے پوچھا: ”اس نے کبھی حج نہیں کیا، کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے حج کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2697]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1149 ترقیم شاملہ: -- 2698
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: صَوْمُ شَهْرَيْنِ،
عبداللہ بن نمیر نے عبداللہ بن عطاء سے، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ (آگے) ابن مسہر کی حدیث کے مانند (حدیث بیان کی) مگر انہوں نے کہا: ”دو ماہ کے روزے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2698]
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں جس میں «أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم » ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا“ کے بجائے «كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » ”میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا“ ہے اور اس میں ایک ماہ کے بجائے دو ماہ کے روزے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2698]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1149 ترقیم شاملہ: -- 2699
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: صَوْمُ شَهْرٍ،
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں (سفیان) ثوری نے عبداللہ بن عطاء سے خبر دی، انہوں نے ابن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔۔۔ اس کے بعد اسی (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی اور انہوں نے کہا: ”ایک ماہ کے روزے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2699]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ ”ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی اور اس میں ایک ماہ کے روزہ کا ذکر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2699]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1149 ترقیم شاملہ: -- 2700
وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سُفْيَانَ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: صَوْمُ شَهْرَيْنِ،
عبیداللہ بن موسیٰ نے سفیان (ثوری) سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کی مانند) حدیث بیان کی اور انہوں نے کہا: ”دو ماہ کے روزے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2700]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں دو ماہ کے روزوں کا تذکرہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2700]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1149 ترقیم شاملہ: -- 2701
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ، وَقَالَ: صَوْمُ شَهْرٍ.
عبدالملک بن ابی سلیمان نے عبداللہ بن عطاء سے، انہوں نے سلیمان بن بریرہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی۔۔۔ (آگے) ان کی حدیث کے مانند (بیان کیا) اور انہوں نے بھی کہا: ”ایک ماہ کے روزے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2701]
امام صاحب ایک اور استاد سے سلیمان بن بریدہ کی اپنے باپ (حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں ایک ماہ کے روزوں کا ذکر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2701]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
28. باب نُدْبِ الصَّائِمِ إذَا دُعِيَ إِلَي الطَّعَامِ وَلَمْ يُرِدِ الْإِفْطَارَ، أَوْ شُوتِمَ أَوْ قُوتِلَ أَنْ يَقُولَ: إِنِّي صَائِمٌ وَّأَنَّهُ يُنزِّهُ صَوْمَهُ عَنِ الرَّفَثِ وَالْجَهْلِ وَنَحْوِهِ
باب: اس بات کے استحباب کا بیان کہ جب کوئی روزہ دار کو کھانے کی طرف بلائے یا اسے گالی دی جائے یا اس سے جھگڑا کیا جائے تو وہ یہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں، اور یہ اس کے روزے کو لغو، اور جہل وغیرہ سے محفوظ رکھے۔
ترقیم عبدالباقی: 1150 ترقیم شاملہ: -- 2702
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ زُهَيْرٌ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کھانے کی طرف بلایا جائے اور وہ روزہ دار ہو تو وہ کہہ دے: میں روزے سے ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2702]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کھانے کی طرف بلایا جائے جبکہ وہ روزے دار ہو تو وہ کہہ دے: میں روزے دار ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2702]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1150
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
29. باب حِفْظِ اللِّسَانِ لِلصَّائِمِ:
باب: روزہ دار کے لئے زبان کی حفاظت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1151 ترقیم شاملہ: -- 2703
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رِوَايَةً، قَالَ: " إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنِ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) روایت کی، کہا: ”جب تم میں سے کوئی کسی دن روزے سے ہو تو وہ فحش گوئی نہ کرے، نہ جہالت والا کوئی کام کرے، اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ یا لڑائی جھگڑا (کرنا) چاہے تو وہ کہے: میں روزہ دار ہوں، میں روزہ دار ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2703]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا کسی دن روزہ ہو تو وہ شہوت انگیز حرکت نہ کرے اور نہ شور و غوغا کرے اور نہ جذبات کی رو میں بہہ جائے (جہالت نادانی کا کام نہ کرے)، اگر کوئی انسان اسے گالی یا لڑائی جھگڑے پر ابھارے تو وہ «إِنِّي صَائِمٌ، إِنِّي صَائِمٌ» ”میں تو روزہ دار ہوں، میں تو روزہ دار ہوں“”کہے، «فَلْيَقُلْ» یعنی دل میں کہے، سوچ لے یا زبان سے کہہ دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2703]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
30. باب فَضْلِ الصِّيَامِ:
باب: روزے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1151 ترقیم شاملہ: -- 2704
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلْفَةُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ".
ابن شہاب سے روایت ہے، کہا: سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لیے ہیں سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2704]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے مگر روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2704]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة