صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
30. باب فَضْلِ الصِّيَامِ:
باب: روزے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1151 ترقیم شاملہ: -- 2705
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ وَهُوَ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصِّيَامُ جُنَّةٌ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ایک ڈھال ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2705]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الصِّيَامُ جُنَّةٌ» ”روزہ ڈھال ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2705]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1151 ترقیم شاملہ: -- 2706
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَسْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ "، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ.
عطاء نے ابوصالح الزیات سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ اور روزہ ڈھال ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ اس دن فحش گفتگو نہ کرے اور نہ شور و غل کرے۔ اگر کوئی اسے برا بھلا کہے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے: میں روزہ دار ہوں، میں روزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! قیامت کے دن روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہو گی۔ اور روزہ دار کے لیے دو خوشی کے موقع ہیں، وہ ان دونوں پر خوش ہوتا ہے: جب وہ (روزہ) افطار کرتا ہے تو اپنے افطار سے خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب کو ملے گا تو اپنے روزے (کی وجہ) سے خوش ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2706]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ”ابنِ آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے مگر روزہ، کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا“، اور «الصِّيَامُ جُنَّةٌ» ”روزہ ڈھال ہے“، لہٰذا جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو اس دن وہ بیہودہ اور فحش گفتگو نہ کرے اور نہ شور و شغب کرے، پس اگر کوئی دوسرا اس سے گالی گلوچ یا جھگڑا کرنے کی کوشش کرے تو وہ کہہ دے: «إِنِّي صَائِمٌ» ”میں روزہ دار ہوں“۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہوگی، اور روزہ دار کے لیے دو مسرتیں ہیں جو اس کے لیے شادمانی کا باعث بنتی ہیں: پہلی جب وہ روزہ کھولتا ہے تو اپنے افطار سے خوش ہوتا ہے، اور دوسری جب اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے خوش ہوگا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2706]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1151 ترقیم شاملہ: -- 2707
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعمِائَة ضِعْفٍ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ".
اعمش نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کا ہر عمل بڑھایا جاتا ہے۔ نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک (بڑھا دی جاتی ہے)۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سوائے روزے کے (کیونکہ) وہ (خالصتاً) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ وہ میری خاطر اپنی خواہش اور اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشی ہیں: ایک خوشی اس کے (روزہ) افطار کرنے کے وقت کی اور (دوسری) خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت کی۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2707]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے ہر اچھے عمل کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: مگر روزہ، کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، میری خاطر بندہ اپنی خواہش اور اپنا کھانا پینا چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو مسرتیں ہیں: ایک مسرت افطار کے وقت اور دوسری مسرت اللہ کی بارگاہ میں شرف باریابی کے وقت، اور اس کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2707]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1151 ترقیم شاملہ: -- 2708
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: " إِنَّ الصَّوْمَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَرِحَ "، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ،
محمد بن فضیل نے ابوسنان سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان دونوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: بلاشبہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ بلاشبہ روزہ دار کے لیے دو خوشی ہیں: جب وہ (روزہ) افطار کرتا ہے خوش ہوتا ہے۔ اور جب وہ اللہ سے ملاقات کرے گا، خوش ہو گا۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اللہ کے ہاں، روزہ دار کے منہ کی بو کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2708]
حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ”بلا شبہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر و ثواب دوں گا۔“ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات ہو گی تو خوش ہو گا، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2708]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1151 ترقیم شاملہ: -- 2709
وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاق بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ الْهُذَلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وَقَالَ: " إِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ ".
عبدالعزیز بن مسلم نے کہا: ہمیں ضرار بن مرہ (ابوسنان) نے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث سنائی، کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ اللہ سے ملے گا اور اللہ اس کو اجر و ثواب عطا کرے گا تو وہ خوش ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2709]
یہی روایت امام صاحب رحمہ اللہ اپنے ایک اور استاد سے ابو سنان ضرار بن مرہ رحمہ اللہ کی ہی سند سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے: ”جب اللہ کے حضور شرفِ باریابی ملے گا اور وہ اسے اجر و ثواب سے نوازے گا تو وہ خوش ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2709]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1152 ترقیم شاملہ: -- 2710
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ وَهُوَ الْقَطَوَانِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا، يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَدْخُلُ مَعَهُمْ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ فَيَدْخُلُونَ مِنْهُ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ ".
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک (ایسا) دروازہ ہے جسے ’الریان‘ کہا جاتا ہے، قیامت کے دن اس میں سے روزہ دار داخل ہوں گے، ان کے ساتھ ان کے سوا کوئی اور داخل نہیں ہو گا۔ جب ان میں سے آخری (فرد) داخل ہو جائے گا، تو وہ (دروازہ) بند کر دیا جائے گا، اس کے بعد کوئی اس سے داخل نہیں ہو سکے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2710]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک خاص دروازہ ہے جسے «الرَّيَّانُ» کہا جاتا ہے، اس سے قیامت کے دن صرف روزہ دار داخل ہوں گے، ان کے سوا کوئی اور اس سے داخل نہیں ہو سکے گا۔ پکارا جائے گا: کہاں ہیں روزہ دار؟ تو وہ اس سے داخل ہوں گے، جب ان کا آخری فرد داخل ہو جائے گا تو دروازہ بند کر دیا جائے گا اور اس سے کوئی اور داخل نہیں ہو سکے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2710]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1152
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
31. باب فَضْلِ الصِّيَامِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لِمَنْ يُطِيقُهُ بِلاَ ضَرَرٍ وَلاَ تَفْوِيتِ حَقٍّ:
باب: جو اللہ کے راستے میں بغیر کسی تکلیف کے روزہ رکھ سکتا ہو اس کے روزے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1153 ترقیم شاملہ: -- 2711
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا "،
ابن ہاد نے سہیل بن ابی صالح سے، انہوں نے نعمان بن ابی عیاش سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص نہیں جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے مگر اللہ تعالیٰ اس دن (کے روزے) کے بدلے اس کے چہرے کو (جہنم کی) آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2711]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بھی اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے تو اللہ اس ایک روزے کے عوض اس کے چہرے (ذات) کو جہنم کی آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2711]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1153
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1153 ترقیم شاملہ: -- 2712
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
عبدالعزیز یعنی دراوردی نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ، (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2712]
یہی روایت مصنف اپنے دوسرے استاد سے سہل ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2712]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1153
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1153 ترقیم شاملہ: -- 2713
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ".
ابن جریج نے یحییٰ بن سعید اور سہیل بن ابی صالح سے خبر دی کہ ان دونوں نے نعمان بن عیاش زرقی سے سنا، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو (جہنم کی) آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2713]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2713]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1153
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
32. باب جَوَازِ صَوْمِ النَّافِلَةِ بِنِيَّةٍ مِنَ النَّهَارِ قَبْلَ الزَّوَالِ وَجَوَازِ فِطْرِ الصَّائِمِ نَفْلاً مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ:
باب: زوال سے قبل نفلی روزے کی نیت کا جواز اور بلاعذر اس کے توڑ دینے کا بیان، اور بہتر یہ ہے کہ اس کو پورا کیا جائے۔
ترقیم عبدالباقی: 1154 ترقیم شاملہ: -- 2714
وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: " يَا عَائِشَةُ، هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ "، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ، قَالَ: " فَإِنِّي صَائِمٌ "، قَالَتْ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ، أَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ، قَالَتْ: فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ أَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ، وَقَدْ خَبَأْتُ لَكَ شَيْئًا، قَالَ: " مَا هُوَ؟ "، قُلْتُ: حَيْسٌ، قَالَ: " هَاتِيهِ "، فَجِئْتُ بِهِ، " فَأَكَلَ "، ثُمَّ قَالَ: " قَدْ كُنْتُ أَصْبَحْتُ صَائِمًا "، قَالَ طَلْحَةُ فَحَدَّثْتُ مُجَاهِدًا بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: ذَاكَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يُخْرِجُ الصَّدَقَةَ مِنْ مَالِهِ فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا.
عبدالواحد بن زیاد نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں طلحہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی، (انہوں نے کہا:) مجھے عائشہ بنت طلحہ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنائی، کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا تمہارے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہے؟“ کہا: تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس کوئی چیز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو (پھر) میں روزے سے ہوں۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے تو ہمارے پاس ہدیہ بھیجا گیا یا ہمارے پاس ملاقاتی (جو ہدیہ لائے) آ گئے۔ کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمیں ہدیہ دیا گیا ہے یا ہمارے پاس مہمان آئے، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ محفوظ کر کے رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کی: وہ حیس (کھجور، گھی اور پنیر سے بنا ہوا کھانا) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لائیے۔“ تو میں اسے لے آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے روزے کی حالت میں صبح کی تھی۔“ طلحہ نے کہا: میں نے یہ حدیث مجاہد کو سنائی تو انہوں نے کہا: یہ اس آدمی کی طرح ہے جو اپنے مال سے صدقہ نکالتا ہے، اگر وہ چاہے تو دے دے اور اگر وہ چاہے تو اس کو روک لے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2714]
حضرت اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟“ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں روزہ دار ہوں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے تو ہمارے پاس تحفہ بھیجا گیا یا ہمارے پاس مہمان آ گئے (ان کے پاس ہدیہ تھا یا ان کی خاطر ہدیہ پہنچا) تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس ہدیہ آیا ہے یا ہمارے پاس مہمان آئے ہیں اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ چھپا رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: وہ «الْحَيْسُ» ”حیس“ ہے (کھجور، گھی اور پنیر کا آمیزہ)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لائیے۔“ تو میں اسے لے آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں روزے سے تھا۔“ طلحہ کہتے ہیں انہوں نے یہ حدیث مجاہد کو سنائی تو انہوں نے کہا: ”یہ ایسا ہی ہے کہ ایک آدمی اپنے مال سے نفلی صدقہ لاتا ہے تو اس کی مرضی ہے اس کو صدقہ کر دے یا روک لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2714]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1154
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة