صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
55. باب تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ:
باب: سر منڈانا، بال کٹوانے سے بہتر ہے، اور بال کٹوانے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 1304 ترقیم شاملہ: -- 3151
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، كِلَاهُمَا عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ".
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے سر مبارک کے بال منڈائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3151]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں سر منڈوایا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3151]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1304
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
56. باب بَيَانِ أَنَّ السُّنَّةَ يَوْمَ النَّحْرِ أَنْ يَرْمِيَ ثُمَّ يَنْحَرَ ثُمَّ يَحْلِقَ وَالاِبْتِدَاءِ فِي الْحَلْقِ بِالْجَانِبِ الأَيْمَنِ مِنْ رَأْسِ الْمَحْلُوقِ:
باب: قربانی کے دن کنکریاں مارنے، پھر قربانی کرنے، پھر سر منڈانے، اور دائیں جانب سے سر منڈانے کی ابتداء کرنا سنت ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1305 ترقیم شاملہ: -- 3152
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مِنًى، فَأَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا، ثُمَّ أَتَى مَنْزِلَهُ بِمِنًى وَنَحَرَ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَلَّاقِ: " خُذْ وَأَشَارَ إِلَى جَانِبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ جَعَلَ يُعْطِيهِ النَّاسَ "،
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے خبر دی انہوں نے محمد بن سیرین سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ تشریف لائے پھر جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنے پڑاؤ پر آئے اور قربانی کی، پھر بال مونڈنے والے سے فرمایا: ”پکڑو۔“ اور آپ نے اپنے (سر کی) دائیں طرف اشارہ کیا پھر بائیں طرف پھر آپ (اپنے موئے مبارک) لوگوں کو دینے لگے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3152]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ پہنچنے پر جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور اس کو کنکر مارے، پھر منیٰ میں اپنی قیام گاہ پر آئے اور قربانی کی، پھر حجام سے فرمایا: ”مونڈو“ اور اپنی دائیں طرف اشارہ کیا، پھر بائیں طرف آگے کی، پھر اپنے بال لوگوں کو عنایت کرنے لگے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3152]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1305
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1305 ترقیم شاملہ: -- 3153
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ لِلْحَلَّاقِ: " هَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ هَكَذَا فَقَسَمَ شَعَرَهُ بَيْنَ مَنْ يَلِيهِ "، قَالَ: " ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْحَلَّاقِ وَإِلَى الْجَانِبِ الْأَيْسَرِ فَحَلَقَهُ، فَأَعْطَاهُ أُمَّ سُلَيْمٍ "، وَأَمَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ: " فَبَدَأَ بِالشِّقِّ الْأَيْمَنِ فَوَزَّعَهُ الشَّعَرَةَ وَالشَّعَرَتَيْنِ بَيْنَ النَّاسِ "، ثُمَّ قَالَ: " بِالْأَيْسَرِ فَصَنَعَ بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ "، ثُمَّ قَالَ: " هَا هُنَا أَبُو طَلْحَةَ "، فَدَفَعَهُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر اور ابوکریب سب نے کہا ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی لیکن ابوبکر نے اپنی روایت میں یہ الفاظ کہے آپ نے حجام سے کہا: ”یہ لو۔“ اور اپنے ہاتھ سے اس طرح اپنی دائیں جانب اشارہ کیا (کہ پہلے دائیں طرف سے شروع کرو) اور اپنے بال مبارک اپنے قریب کھڑے ہوئے لوگوں میں تقسیم فرما دیے، پھر حجام کو اپنی بائیں جانب کی طرف اشارہ کیا (کہ اب بائیں جانب سے حجامت بناؤ) حجام نے آپ کا سر مونڈ دیا تو آپ نے (اپنے وہ موئے مبارک) حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو عطا فرما دیے۔ اور ابوکریب کی روایت میں ہے کہا: (حجام نے) دائیں جانب سے شروع کیا تو آپ نے ایک ایک دو دو بال کر کے لوگوں میں تقسیم فرما دیے، پھر آپ نے اپنی بائیں جانب (حجامت بنانے کا) اشارہ فرمایا۔ حجام نے اس طرف بھی وہی کیا (بال مونڈ دیے) پھر آپ نے فرمایا: ”کہاں ہیں ابوطلحہ؟“ پھر آپ نے اپنے موئے مبارک حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے حوالے فرما دیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3153]
امام صاحب یہی روایت اپنے تین اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، ابوبکر کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجام سے فرمایا: ”لو“ اور اس طرح اپنے ہاتھ سے دائیں طرف اشارہ کیا، اور اس طرف کے بال اپنے قریب موجود لوگوں میں تقسیم کر دیے، پھر حجام کو بائیں طرف اشارہ کیا، اس نے اس طرف کو مونڈا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بال ام سلیم رضی اللہ عنہا کو عطا فرمائے، ابو کریب کی روایت میں ہے، اس نے دائیں طرف سے شروع کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بالوں کو ایک ایک، دو، دو کر کے لوگوں میں بانٹ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں طرف اشارہ کیا، اس نے اس کو بھی اسی طرح مونڈ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ادھر ابو طلحہ ہے؟“ اور یہ بال ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3153]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1305
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1305 ترقیم شاملہ: -- 3154
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْبُدْنِ فَنَحَرَهَا، وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ، وَقَالَ بِيَدِهِ عَنْ رَأْسِهِ، فَحَلَقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَقَسَمَهُ فِيمَنْ يَلِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " احْلِقْ الشِّقَّ الْآخَرَ "، فَقَالَ: " أَيْنَ أَبُو طَلْحَةَ "، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
ہمیں عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ہشام (بن حسان) نے محمد (بن سیرین) سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں پھر قربانی کے اونٹوں کی طرف تشریف لے گئے اور انہیں نحر کیا اور حجام (آپ کے لیے) بیٹھا ہوا تھا آپ نے (اسے) اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے سر سے (بال اتارنے کا) اشارہ کیا تو اس نے آپ (کے سر) کی دائیں طرف کے بال اتار دیے۔ آپ نے وہ بال ان لوگوں میں بانٹ دیے جو آپ کے قریب موجود تھے۔ پھر فرمایا: ”دوسری طرف کے بال (بھی) اتار دو۔“ اس کے بعد آپ نے فرمایا: ”ابوطلحہ کہاں ہیں؟“ اور آپ نے وہ (موئے مبارک) انہیں دے دیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3154]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماریں، پھر اونٹوں کی طرف پلٹ کر انہیں نحر کیا، اور حجام بیٹھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے سر کی طرف اشارہ کیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف کے بال مونڈے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قریب بیٹھے ہوئے لوگوں میں تقسیم کر دیے، پھر فرمایا: ”دوسری طرف سے مونڈو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ابو طلحہ کہاں ہے؟“ اور اس طرف کے بال اسے دے دیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3154]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1305
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1305 ترقیم شاملہ: -- 3155
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ، وَنَحَرَ نُسُكَهُ، وَحَلَقَ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الْأَيْسَرَ، فَقَالَ: احْلِقْ فَحَلَقَهُ، فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ، فَقَالَ: اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ ".
ہم سے سفیان نے حدیث بیان کی (کہا) میں نے ہشام بن حسان سے سنا وہ محمد بن سیرین سے خبر دے رہے تھے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اپنی قربانی (کے اونٹوں) کو نحر کیا اور پھر سر منڈوانے لگے تو آپ نے اپنے سر کی دائیں جانب مونڈنے والے کی طرف کی تو اس نے اس طرف کے بال اتار دیے آپ نے حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور وہ (بال) ان کے حوالے کر دیے۔ پھر آپ نے (سر کی) بائیں جانب اس کی طرف کی اور فرمایا: ”(اس کے) بال اتار دو۔“ اس نے وہ بال اتار دیے تو آپ نے وہ بھی حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیے اور فرمایا: ”ان (بائیں طرف والے بالوں) کو لوگوں میں تقسیم کر دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3155]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرۂ عقبہ پر کنکریاں ماریں اور اپنی قربانیاں نحر کیں تو سر منڈوایا، سر مونڈنے والے کے سامنے اپنی دائیں طرف کی، اس نے اسے مونڈ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو طلب کیا اور وہ بال انہیں دے دیے، پھر حجام کے سامنے بائیں طرف کر کے فرمایا: ”مونڈو۔“ اس نے اسے بھی مونڈ دیا، وہ بال بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیے اور فرمایا: ”لوگوں میں تقسیم کر دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3155]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1305
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
57. بَابُ جَوَازِ تَقْدِيمِ الذَّبْحِ عَلَي الرَّمْيِ، وَالْحَلْقِ عَلَي الذَّبْح وَعَلَي الرِّمْيِ، وَتَقْدِيمِ الطَّوَافِ عَلَيْهَا كُلِّهَا
باب: کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرنے کا جواز، اور قربانی کرنے اور شیطان کو کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈا لینے کا جواز، اور طواف کو ان سب سے پہلے کرنے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 1306 ترقیم شاملہ: -- 3156
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ فَقَالَ: " اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ "، ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فَقَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ "، قَالَ: فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ، إِلَّا قَالَ: " افْعَلْ وَلَا حَرَجَ ".
امام مالک نے ابن شہاب سے انہوں نے عیسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کے لیے ٹھہرے رہے وہ آپ سے مسائل پوچھ رہے تھے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں سمجھ نہ سکا (کہ پہلے کیا ہے) اور میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(اب) قربانی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ پھر ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے پتہ نہ چلا اور میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی؟ آپ نے فرمایا: ”(اب) رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق جس میں تقدیم یا تاخیر کی گئی نہیں پوچھا گیا مگر آپ نے (یہی) فرمایا: ”(اب) کر لو کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3156]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں منیٰ میں لوگوں کے لیے ٹھہرے تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر سکیں، ایک آدمی نے آ کر پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے لاعلمی میں قربانی کرنے سے پہلے سر مونڈ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”قربانی کر، کوئی حرج نہیں ہے۔“ پھر دوسرے نے آ کر پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے پتہ نہیں تھا، میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنکریاں مار، کوئی حرج نہیں ہے۔“ راوی کا بیان ہے، جس چیز کے بھی مقدم یا مؤخر (آگے پیچھے) کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کرو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3156]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1306
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1306 ترقیم شاملہ: -- 3157
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَطَفِقَ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ، فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَشْعُرُ أَنَّ الرَّمْيَ قَبْلَ النَّحْرِ، فَنَحَرْتُ قَبْلَ الرَّمْيِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَارْمِ وَلَا حَرَجَ "، قَالَ: وَطَفِقَ آخَرُ يَقُولُ: إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ النَّحْرَ قَبْلَ الْحَلْقِ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، فَيَقُولُ: " انْحَرْ وَلَا حَرَجَ "، قَالَ: فَمَا سَمِعْتُهُ يُسْأَلُ يَوْمَئِذٍ عَنْ أَمْرٍ مِمَّا يَنْسَى الْمَرْءُ وَيَجْهَلُ مِنْ تَقْدِيمِ بَعْضِ الأُمُورِ قَبْلَ بَعْضٍ وَأَشْبَاهِهَا، إِلَّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " افْعَلُوا ذَلِكَ وَلَا حَرَجَ "،
یونس نے ابن شہاب سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (منیٰ میں) اپنی سواری پر ٹھہر گئے اور لوگوں نے آپ سے سوالات شروع کر دیے ان میں سے ایک کہنے والا کہہ رہا تھا۔ اے اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہ تھا کہ رمی (کا عمل) قربانی سے پہلے ہے میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو (اب) رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ کوئی اور شخص کہتا: اے اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہ تھا کہ قربانی سر منڈوانے سے پہلے ہے میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے؟ تو آپ فرماتے: ”(اب) قربانی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ (حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے) کہا میں نے آپ سے نہیں سنا کہ اس دن آپ سے ان اعمال کے بارے میں جن میں آدمی بھول سکتا ہے یا لا علم رہ سکتا ہے ان میں سے بعض امور کی تقدیم (و تاخیر) یا ان سے ملتی جلتی باتوں کے بارے میں نہیں پوچھا گیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہی) فرمایا: ”(اب) کر لو کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3157]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (منٰی میں) اپنی سواری پر وقوف کیا (ٹھہرے) تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے لگے، ان میں سے کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے علم نہیں تھا کہ رمی (کنکریاں) نحر (قربانی) سے پہلے ہے، اس لیے میں نے رمی سے پہلے نحر کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر لو اور کوئی حرج نہیں ہے۔“ دوسرا کہنے لگا: مجھے معلوم نہیں تھا کہ نحر، حلق (سر مونڈنا) سے پہلے ہے تو میں نے نحر سے پہلے حلق کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحر کرو اور کوئی حرج نہیں ہے۔“ اس دن جس ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جس کو بھول اور ناواقفیت کی بنا پر آگے پیچھے کیا گیا ہے، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی فرماتے سنا: ”یہ کام کر لو اور کوئی حرج نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3157]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1306
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1306 ترقیم شاملہ: -- 3158
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِح ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، إِلَى آخِرِهِ.
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔۔۔ (اس کے بعد) حدیث کے آخر تک یونس سے روایت کردہ حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3158]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت ایک اور استاد سے نقل کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3158]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1306
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1306 ترقیم شاملہ: -- 3159
وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَحْسِبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَّ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا لِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ، قَالَ: " افْعَلْ وَلَا حَرَجَ "،
عیسیٰ نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی کہا میں نے ابن شہاب سے سنا کہہ رہے تھے عیسیٰ بن طلحہ نے مجھے حدیث بیان کی، کہا مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ اس دوران جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن خطبہ دے رہے تھے کوئی آدمی آپ کی طرف (رخ کر کے) کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نہیں سمجھتا تھا کہ فلاں کا فلاں سے پہلے ہے پھر کوئی اور آدمی آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خیال تھا کہ فلاں کام فلاں فلاں سے پہلے ہوگا (انہوں نے) ان تین کاموں (سر منڈوانے رمی اور قربانی کے بارے میں پوچھا تو) آپ نے یہی فرمایا: ”(اب) کر لو کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3159]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن (دس ذوالحجہ) کو خطبہ دے رہے تھے کہ اسی اثنا میں ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نہیں سمجھتا تھا کہ فلاں فلاں کام فلاں فلاں کام سے پہلے ہے، پھر دوسرا آ کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا خیال تھا کہ دونوں کام فلاں فلاں سے پہلے ہیں، ان تین کاموں کے بارے میں کہا (یعنی رمی، نحر، حلق) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3159]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1306
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1306 ترقیم شاملہ: -- 3160
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا رِوَايَةُ ابْنِ بَكْرٍ، فَكَرِوَايَةِ عِيسَى، إِلَّا قَوْلَهُ: لِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ، وَأَمَّا يَحْيَى الأُمَوِيُّ، فَفِي رِوَايَتِهِ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، وَأَشْبَاهُ ذَلِكَ.
محمد بن بکر اور سعید بن یحییٰ اموی نے اپنے والد (یحییٰ اموی) کے واسطے سے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی، ابن بکر کی روایت عیسیٰ کی گزشتہ روایت کی طرح ہے سوائے ان کے اس قول کے ”ان تین چیزوں کے بارے میں“ اور ہے یحییٰ اموی تو ان کی روایت میں ہے میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی اور اسی سے ملتی جلتی باتیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3160]
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت اپنے دو اساتذہ، عبد بن حمید اور سعید بن یحییٰ اموی رحمہما اللہ سے روایت کرتے ہیں، عبد بن حمید کے استاد ابن ابی بکر کی روایت تو (ان تین چیزوں کے بارے میں کے سوا) (کیونکہ انہوں نے ان کا ذکر نہیں کیا)، عیسیٰ رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا روایت کی طرح ہے، اور یحییٰ اموی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: ”میں نے نحر سے پہلے حلق کیا، رمی سے پہلے نحر کیا“ اور اس جیسا کام۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3160]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1306
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة