صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
53. باب بَيَانِ وَقْتِ اسْتِحْبَابِ الرَّمْيِ:
باب: کنکریاں مارنے کا مستحب وقت۔
ترقیم عبدالباقی: 1299 ترقیم شاملہ: -- 3141
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، وَابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى، وَأَمَّا بَعْدُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ "،
ابوخالد احمر اور ابن ادریس نے ابن جریج سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن چاشت کے وقت جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں ماریں اور اس کے بعد (کے دنوں میں تمام جمروں کو) اس وقت جب سورج ڈھل گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3141]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن جمرہ عقبہ پر کنکریاں چاشت کے وقت ماریں، اور بعد کے دنوں میں سورج ڈھلنے کے بعد۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3141]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1299
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1299 ترقیم شاملہ: -- 3142
وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، (کہا:) ہمیں ابن جریج نے خبر دی، (کہا:) مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ آگے اسی کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3142]
امام صاحب نے اپنے دوسرے استاد سے بھی، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طرز عمل بیان کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3142]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1299
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
54. باب بَيَانِ أَنَّ حَصَى الْجِمَارِ سَبْعٌ:
باب: جمرات کو سات کنکریاں مارنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1300 ترقیم شاملہ: -- 3143
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الِاسْتِجْمَارُ تَوٌّ، وَرَمْيُ الْجِمَارِ تَوٌّ، وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ تَوٌّ، وَالطَّوَافُ تَوٌّ، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ بِتَوٍّ ".
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”استنجا طاق ڈھیلوں سے ہوتا ہے، جمرات کی رمی طاق ہوتی ہے، صفا مروہ کے درمیان سعی طاق ہوتی ہے، بیت اللہ کا طواف طاق ہوتا ہے۔ اور تم میں سے جب کوئی استنجا کرے تو طاق ڈھیلوں سے کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3143]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”استنجاء میں ڈھیلے طاق ہوں اور جمرات پر کنکریاں طاق ماری جائیں، صفا اور مروہ کے درمیان سعی طاق بار ہو اور طواف طاق بار ہو اور تم میں سے کوئی جب استنجاء کرے طاق ڈھیلے استعمال کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3143]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1300
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
55. باب تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ:
باب: سر منڈانا، بال کٹوانے سے بہتر ہے، اور بال کٹوانے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 1301 ترقیم شاملہ: -- 3144
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ: " حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَلَقَ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: وَالْمُقَصِّرِينَ ".
لیث نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت نے سر منڈایا، اور ان میں سے کچھ نے بال کٹوائے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے۔“ ایک یا دو مرتبہ (دعا کی) پھر فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں پر بھی۔“ (ان کے لیے صرف ایک بار دعا کی۔) [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3144]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ایک گروہ نے سر منڈوایا اور بعض نے بال کٹوائے، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔“ ایک بار فرمایا یا دو بار، پھر فرمایا: «وَالْمُقَصِّرِينَ» ”اور بال کٹوانے والوں پر بھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3144]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1301
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1301 ترقیم شاملہ: -- 3145
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " وَالْمُقَصِّرِينَ ".
یحییٰ بن یحییٰ نے امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے قراءت کی کہ نافع سے روایت ہے، اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما۔“ لوگوں (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) نے کہا: اور بال کٹوانے والوں پر، اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے پھر عرض کی: اور بال کٹوانے والوں پر، اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں پر (بھی رحم فرما)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3145]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔“ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَالْمُقَصِّرِينَ» ”اور بال کٹوانے والوں پر بھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3145]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1301
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1301 ترقیم شاملہ: -- 3146
أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " وَالْمُقَصِّرِينَ "،
ہمیں عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبیداللہ بن عمر نے نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما۔“ لوگوں (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) نے کہا: اور بال کٹوانے والوں پر، اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے پھر عرض کی: اور بال کٹوانے والوں پر، اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں پر بھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3146]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔“ صحابہ نے عرض کیا: اور «الْمُقَصِّرِينَ» (بال کٹوانے والوں) پر؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» ”اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔“ صحابہ نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «وَالْمُقَصِّرِينَ» ”اور سر کے بال چھوٹے کروانے والوں پر بھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3146]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1301
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1301 ترقیم شاملہ: -- 3147
وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ، قَالَ: وَالْمُقَصِّرِينَ.
ہمیں عبدالوہاب نے حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں عبیداللہ بن عمر نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور انہوں نے (اپنی) حدیث میں کہا: جب چوتھی باری آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں پر بھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3147]
عبیداللہ اسی سند سے بیان کرتے ہیں اور کہا حدیث میں ہے جب چوتھی بار پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں پر۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3147]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1301
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1302 ترقیم شاملہ: -- 3148
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ، قَالَ: " وَلِلْمُقَصِّرِينَ "،
ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں کو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں کو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں کو؟ فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں کو بھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3148]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو معاف فرما دے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور بال کٹوانے والوں کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو معاف فرما دے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور بال کٹوانے والوں کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو معاف فرما دے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور بال کٹوانے والوں کے لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَلِلْمُقَصِّرِينَ» ”اور بال کٹوانے والوں کو بھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3148]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1302
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1302 ترقیم شاملہ: -- 3149
وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
علاء نے اپنے والد (عبدالرحمان بن یعقوب) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔۔۔ آگے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوزرعہ کی (روایت کردہ) حدیث کے ہم معنی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3149]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا مفہوم کی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3149]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1302
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1303 ترقیم شاملہ: -- 3150
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، دَعَا لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً "، وَلَمْ يَقُلْ وَكِيعٌ: فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
وکیع اور ابوداود طیالسی نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انہوں نے اپنی دادی (حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا) سے روایت کی کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈانے والوں کے لیے تین بار اور بال کٹوانے والوں کے لیے ایک بار دعا کی۔ اور وکیع نے ”حجۃ الوداع کے موقع پر“ کا جملہ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3150]
یحییٰ بن حصین رحمہ اللہ اپنی دادی رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں سر منڈوانے والوں کے لیے تین بار دعا فرمائی اور بال کٹوانے والوں کے لیے ایک بار۔ وکیع کی روایت میں حجۃ الوداع کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3150]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1303
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة