🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ دَفْعِ الضَّعَفَةِ مِنَ النِّسَاءِ وَغَيْرِهِنَّ مِنْ مُزْدَلِفَةَ إِلَى مِنًى فِي أَوَاخِرِ اللَّيَالِي قَبْلَ زَحْمَةِ النَّاسِ وَاسْتِحْبَابِ الْمُكْثِ لِغَيْرِهِمْ حَتَّى يُصَلُّوا الصُّبْحَ بِمُزْدَلِفَةَ:
باب: ضعیفوں اور عورتوں کو لوگوں کے جمگھٹے سے پہلے رات کے آخری حصہ میں مزدلفہ سے منیٰ روانہ کرنے کا استحباب، اور ان کے علاوہ لوگوں کو مزدلفہ میں ہی صبح کی نماز پڑھنے تک ٹھہرنے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1290 ترقیم شاملہ: -- 3121
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
سفیان ثوری نے عبدالرحمان بن قاسم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3121]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3121]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1290
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1291 ترقیم شاملہ: -- 3122
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، قَالَ: قَالَتْ لِي أَسْمَاءُ ، وَهِيَ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ: هَلْ غَابَ الْقَمَرُ، قُلْتُ: لَا، فَصَلَّتْ سَاعَةً، ثُمّ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: ارْحَلْ بِي، فَارْتَحَلْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ صَلَّتْ فِي مَنْزِلِهَا، فَقُلْتُ لَهَا: أَيْ هَنْتَاهْ لَقَدْ غَلَّسْنَا، قَالَتْ: كَلَّا أَيْ بُنَيَّ " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ "،
یحییٰ قطان نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی، (کہا:) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ نے مجھ سے حدیث بیان کی کہا: حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے جب وہ مزدلفہ کے (اندر بنے ہوئے مشہور) گھر کے پاس ٹھہری ہوئی تھیں، مجھ سے پوچھا: کیا چاند غروب ہو گیا؟ میں نے عرض کی: نہیں، انہوں نے گھڑی بھر نماز پڑھی، پھر کہا: بیٹے! کیا چاند غروب ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: مجھے لے چلو۔ تو ہم روانہ ہوئے حتیٰ کہ انہوں نے جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں ماریں پھر (فجر کی) نماز اپنی منزل میں ادا کی۔ تو میں نے ان سے عرض کی: محترمہ! ہم رات کے آخری پہر میں (ہی) روانہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا: بالکل نہیں، میرے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو (پہلے روانہ ہونے کی) اجازت دی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3122]
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے مجھ سے دریافت کیا، جبکہ وہ مزدلفہ والے گھر کے پاس تھیں: ”کیا چاند غروب ہو گیا؟“ میں نے کہا: نہیں، تو وہ کچھ وقت تک نماز پڑھتی رہیں، پھر پوچھا: ”اے بیٹا! کیا چاند غروب ہو گیا؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: ”مجھے لے چلو“، ہم چل پڑے، حتیٰ کہ انہوں نے جمرہ پر کنکریاں ماریں، پھر اپنی قیام گاہ پر صبح کی نماز پڑھی، میں نے پوچھا: اے محترمہ! ہم نے بہت اندھیرے میں کام کر لیا، انہوں نے جواب دیا: ”بالکل نہیں، اے بیٹے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اجازت دے دی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3122]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1291
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1291 ترقیم شاملہ: -- 3123
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَتِهِ: قَالَتْ: لَا أَيْ بُنَيَّ، إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِظُعُنِهِ.
عیسیٰ بن یونس نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ (یہی) روایت بیان کی اور ان کی روایت میں ہے انہوں (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا) نے کہا: نہیں میرے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عورتوں (اور بچوں) کو اجازت دی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3123]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے نقل کرتے ہیں، اس روایت میں ہے، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: ”نہیں، اے بیٹا! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اجازت دی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3123]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1291
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1292 ترقیم شاملہ: -- 3124
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ ابْنَ شَوَّالٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ ، فَأَخْبَرَتْهُ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِهَا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ ".
ابن جریج سے روایت ہے (کہا:) مجھے عطاء نے خبر دی کہ انہیں ابن شوال نے خبر دی کہ وہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے انہوں نے ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3124]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3124]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1292
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1292 ترقیم شاملہ: -- 3125
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ: " كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُغَلِّسُ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى "، وَفِي رِوَايَةِ النَّاقِدِ: نُغَلِّسُ مِنْ مُزْدَلِفَةَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے سفیان بن عیینہ کے حوالے سے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم بن شوال سے اور انہوں نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم (خواتین) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں یہی کرتی تھیں (کہ) ہم رات کے آخری پہر میں جمع (مزدلفہ) سے منیٰ کی طرف روانہ ہو جاتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3125]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اندھیرے میں ہی جمع (مزدلفہ) سے منیٰ کی طرف روانہ ہو جاتے تھے اور ناقد کی روایت میں «مِنْ جَمْعٍ» ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3125]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1292
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1293 ترقیم شاملہ: -- 3126
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ، أَوَ قَالَ: فِي الضَّعَفَةِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ ".
حماد بن زید نے ہمیں عبیداللہ بن ابی یزید سے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے (اونٹوں پر لدے) بوجھ۔۔۔ یا کہا: کمزور افراد۔۔۔ کے ساتھ رات ہی روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3126]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مزدلفہ سے رات ہی کو سامان یا کمزوروں (عورتوں، بچوں) کے ساتھ بھیج دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3126]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1293
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1293 ترقیم شاملہ: -- 3127
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ ".
ہم سے سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبیداللہ بن ابی یزید نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں ان لوگوں میں سے تھا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمزور افراد میں (شامل کرتے ہوئے) پہلے روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3127]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کمزور اہل کے ساتھ پہلے بھیج دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3127]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1293
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1293 ترقیم شاملہ: -- 3128
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كُنْتُ فِيمَنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ ".
عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ان لوگوں میں سے تھا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمزور افراد میں (شامل کرتے ہوئے) پہلے روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3128]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں تھا، جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کمزور گھر والوں کے ساتھ پہلے بھیج دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3128]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1293
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1294 ترقیم شاملہ: -- 3129
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " بَعَثَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَحَرٍ مِنْ جَمْعٍ فِي ثَقَلِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قُلْتُ: أَبَلَغَكَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَ بِي بِلَيْلٍ طَوِيلٍ، قَالَ: لَا، إِلَّا كَذَلِكَ بِسَحَرٍ، قُلْتُ لَهُ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَأَيْنَ صَلَّى الْفَجْرَ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا كَذَلِكَ.
ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا: مجھے عطاء نے بتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحر کے وقت مزدلفہ سے اونٹوں پر لدے بوجھ کے ساتھ (جس میں کمزور افراد بھی شامل ہوتے ہیں) روانہ کر دیا (ابن جریج نے کہا:) میں نے عطاء سے کہا: کیا آپ کو یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ نے مجھے لمبی رات (کے وقت) روانہ کر دیا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں صرف یہی (کہا:) کہ سحر کے وقت روانہ کیا۔ میں نے ان سے کہا: (کیا) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (یہ بھی) کہا: ہم نے فجر سے پہلے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں؟ اور انہوں نے فجر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انہوں نے کہا: مجھ سے صرف یہی الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3129]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے سحری کے وقت اپنے سامان کے ساتھ روانہ کر دیا تھا“، ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا آپ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”مجھے رات رہتے بھیجا؟“ انہوں نے جواب دیا: نہیں، مگر یہ الفاظ کہ ”سحر کے وقت“، میں نے ان سے پوچھا: کیا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”میں نے فجر سے پہلے کنکریاں پھینکیں“، اور انہوں نے فجر کی نماز کہاں پڑھی؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مذکورہ بالا الفاظ ہی کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3129]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1294
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1295 ترقیم شاملہ: -- 3130
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ : كَانَ يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ، فَيَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِاللَّيْلِ، فَيَذْكُرُونَ اللَّهَ مَا بَدَا لَهُمْ، ثُمَّ يَدْفَعُونَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ الْإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ مِنًى لِصَلَاةِ الْفَجْرِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوْا الْجَمْرَةَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: " أَرْخَصَ فِي أُولَئِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے گھر کے کمزور افراد کو پہلے روانہ کر دیتے تھے۔ وہ لوگ رات کو مزدلفہ میں مشعر حرام کے پاس ہی وقوف کرتے، اور جتنا میسر ہوتا اللہ کا ذکر کرتے، اس کے بعد وہ امام کے مشعر حرام کے سامنے وقوف اور اس کی روانگی سے پہلے ہی روانہ ہو جاتے۔ ان میں سے کچھ فجر کی نماز ادا کرنے کے لیے منیٰ آ جاتے اور کچھ اس کے بعد آتے۔ پھر جب وہ (سب لوگ منیٰ آ جاتے تو جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (کمزور لوگوں) کو رخصت دی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3130]
سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے ضعیف گھر والوں کو پہلے روانہ کر دیتے تھے، وہ مزدلفہ میں رات کو مشعرِ حرام کے پاس ٹھہر جاتے اور جب تک چاہتے اللہ کا ذکر کرتے، پھر وہ امام کے (مشعرِ حرام میں) وقوف اور روانگی سے پہلے چل پڑتے، ان میں سے بعض منیٰ میں نمازِ فجر کے وقت پہنچ جاتے اور بعض اس کے بعد پہنچتے، جب وہ پہنچ جاتے تو جمرہ کو کنکریاں مارتے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: ”ان کو (ضعیفوں کو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3130]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1295
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں