🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. باب الْحَجِّ عَنِ الْعَاجِزِ لِزَمَانَةٍ وَهِرَمٍ وَنَحْوِهِمَا أَوْ لِلْمَوْتِ:
باب: عاجز اور بوڑھے وغیرہ یا میت کی طرف سے حج کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1334 ترقیم شاملہ: -- 3251
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، قَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ خشعم کی ایک خاتون آئی وہ آپ سے فتویٰ پوچھنے لگی حضرت فضل رضی اللہ عنہ اس کی طرف اور وہ ان کی طرف دیکھنے لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری جانب پھیرنے لگے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ اللہ کا اپنے بندوں پر فرض کیا ہوا حج میرے کمزور اور بوڑھے والد پر بھی آگیا ہے وہ سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتے تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اور یہ حجۃ الوداع میں ہوا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3251]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خثعم قبیلہ کی ایک عورت مسئلہ پوچھنے کے لیے آئی، فضل اس عورت کو دیکھنے لگے اور عورت اسے دیکھنے لگی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل رضی اللہ عنہ کے چہرے کو دوسرے رخ کی طرف پھیرنے لگے، عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کا اپنے بندوں پر فرض حج، میرے باپ پر اس حال میں فرض ہوا ہے کہ وہ بہت بوڑھا ہو چکا ہے اور سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا ہے، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اور یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3251]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1334
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1335 ترقیم شاملہ: -- 3252
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ : أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ، قَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ عَلَيْهِ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ وَهُوَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَحُجِّي عَنْهُ ".
ابن جریج نے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ قبیلہ خشعم کی ایک عورت نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے والد عمر رسیدہ ہیں اور اللہ کا فریضہ حج ان کے ذمے ہے اور اونٹ کی پشت پر ٹھیک طرح بیٹھ نہیں سکتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے حج کر لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3252]
حضرت فضل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خثعم قبیلہ کی ایک عورت نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ بہت بوڑھا ہے، اس پر اللہ کا فریضہ، حج، فرض ہو چکا ہے اور وہ اپنے اونٹ کی پشت پر بیٹھ نہیں سکتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کی طرف سے حج کر۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3252]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1335
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. باب صِحَّةِ حَجِّ الصَّبِيِّ وَأَجْرِ مَنْ حَجَّ بِهِ:
باب: بچے کے حج کے صحیح ہونے کا بیان، اور اس کو حج کرانے والے کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1336 ترقیم شاملہ: -- 3253
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ رَكْبًا بِالرَّوْحَاءِ، فقَالَ: " مَنِ الْقَوْمُ؟ "، قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ، فقَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: " رَسُولُ اللَّهِ "، فَرَفَعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا، فقَالَت أَلِهَذَا حَجٌّ؟، قَالَ: " نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابراہیم بن عقبہ سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ کریب سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ روہاء کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ایک قافلے سے ہوئی آپ نے پوچھا: ”کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے کہا: مسلمان ہیں پھر انہوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔“ اسی دوران میں ایک عورت نے آپ کے سامنے ایک بچے کو بلند کیا اور کہا کیا اس کا حج ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور تمہارے لیے اجر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3253]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روحاء مقام پر ایک قافلہ سے ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون لوگ ہو؟“ انہوں نے کہا: مسلمان ہیں، انہوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا رسول ہوں۔“ تو ایک عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک بچہ پیش کیا اور پوچھا: کیا اس کا حج ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور اجر تمہیں ملے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3253]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1336
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1336 ترقیم شاملہ: -- 3254
حدثنا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رَفَعَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا، فقَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ ".
ابواسامہ نے سفیان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: ایک عورت نے آپ کے سامنے ایک بچے کو بلند کیا اور کہا کیا اس کا حج ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور تمہارے لیے اجر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3254]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ایک عورت نے اپنا بچہ اٹھایا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس کا حج درست ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور اجر تجھے ملے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3254]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1336
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1336 ترقیم شاملہ: -- 3255
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ : أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا، فقَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ "،
عبدالرحمان نے سفیان سے انہوں نے ابراہیم بن عقبہ سے اور انہوں نے کریب سے روایت کی کہ: ایک عورت نے ایک بچے کو بلند کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا حج ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور تمہارے لیے اجر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3255]
حضرت کریب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک عورت نے بچہ اٹھایا اور پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس کا حج ہو جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور تجھے ثواب ملے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3255]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1336
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1336 ترقیم شاملہ: -- 3256
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے روایت کی کہا ہمیں عبدالرحمان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3256]
مصنف مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3256]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1336
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. باب فَرْضِ الْحَجِّ مَرَّةً فِي الْعُمْرِ:
باب: زندگی میں ایک مرتبہ حج کے فرض ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1337 ترقیم شاملہ: -- 3257
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوا "، فقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ، ثُمَّ قَالَ: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوهُ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے لہٰذا حج کرو۔“ ایک آدمی نے کہا: کیا ہر سال؟ اے اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے حتیٰ کہ اس نے یہ جملہ تین بار دہرایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کہہ دیتا: ہاں تو واجب ہو جاتا اور تم (اس کی) استطاعت نہ رکھتے۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”تم مجھے اسی (بات) پر رہنے دیا کرو جس پر میں تمہیں چھوڑ دوں تم سے پہلے لوگ کثرت سوال اور اپنے انبیاء علیہم السلام سے زیادہ اختلاف کی بنا پر ہلاک ہوئے۔ جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو بقدر استطاعت اسے کرو اور جب کسی چیز سے منع کروں تو اسے چھوڑ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3257]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض قرار دیا ہے، اس لیے حج کرو۔“ تو ایک آدمی نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر سال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، حتی کہ اس نے تین دفعہ پوچھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا، تو ہر سال فرض ہو جاتا اور تم ہر سال کر نہ سکتے۔“ پھر فرمایا: ”جن چیزوں کا میں تذکرہ نہ کروں، تم ان کی تفصیل پوچھنا چھوڑ دو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اس لیے ہلاک ہوئے اور انہوں نے سوالات بہت کیے اور پھر انبیاء علیہم السلام کی مخالفت کی، تو جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو اس پر اپنی قدرت کے مطابق عمل کرو، اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روک دوں، تو اس سے باز رہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3257]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1337
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. باب سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ:
باب: عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1338 ترقیم شاملہ: -- 3258
حدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حدثنا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ "،
یحییٰ بن یحییٰ القطان نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی (کہا) مجھے نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت تین (دن رات) کا سفر نہ کرے مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ محرم ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3258]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت تین دن کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3258]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1338
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1338 ترقیم شاملہ: -- 3259
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ: فَوْقَ ثَلَاثٍ، وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: عَنْ أَبِيهِ: ثَلَاثَةً إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہا: ہم سے عبداللہ بن نمیر اور ابواسامہ نے حدیث بیان کی نیز عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی کہا ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ان سب نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ ابوبکر کی روایت میں ہے کہ تین دن سے زیادہ اور عبداللہ بن نمیر نے اپنے والد سے بیان کردہ روایت میں کہا: تین دن مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ محرم ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3259]
امام صاحب یہی روایت دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، ابوبکر رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: ”تین دن سے زائد“ اور ابن نمیر رحمہ اللہ کی روایت ہے: ”تین دن کے لیے اس کے ساتھ محرم ہونا چاہیے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3259]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1338
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1338 ترقیم شاملہ: -- 3260
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ ".
ضحاک نے ہمیں نافع سے خبر دی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے حلال نہیں کہ وہ تین راتوں کا سفر کرے مگر اس طرح کہ ساتھ محرم ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3260]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ بغیر محرم کے تین راتوں کی مسافت کا سفر کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3260]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1338
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں