مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1135
حدیث نمبر: 1135
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دو بڑے گروہ آپس میں جنگ نہیں کریں گے اور ان دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1135]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 85، 1036، 1412، 3608، 3609 م، 4635، 4636، 6037، 6506، 6935، 7061، 7121، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 157، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6651، 6680، 6681، 6700، 6711، 6717، 6718، 6734، 6838، 6845، 6846، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8506، 8566، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11112، 11113، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4255، 4312، 4333، 4334، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2218، 3072، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4047، 4052، 4068، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16806، 18688، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7282، 7307، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5945، 6085، 6170، 6172، 6271، والطبراني فى «الصغير» برقم: 993»
حدیث نمبر 1136
حدیث نمبر: 1136
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ وَسَمِعْنَاهُ مِنْهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عنْهُ مَرَّ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَحَظَ إِلَيْهِ، قَالَ: قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ:" أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک مرتبہ وہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے وہ مسجد میں شعر سنا رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات پر انہیں ڈانٹا، تو وہ بولے: میں نے اس مسجد میں اس وقت شعر سنائے، جب اس مسجد میں وہ ہستی موجود تھی جو آپ سے زیادہ بہتر ہے۔ پھر وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے: میں آپ کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم میری طرف سے کفار کو شعر میں جواب دو۔ اے اللہ! تو روح القدس کے ذریعے اس کی تائید کر۔“ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے: اللہ کی قسم! جی ہاں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1136]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 453، 3212، 6152، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2485، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1307، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1653، 7148، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 715، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 797، 9927 وأبو داود فى «سننه» برقم: 5013، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4419، 4420، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7759، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5885، 6017»
حدیث نمبر 1137
حدیث نمبر: 1137
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَبْصَرَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُقَبِّلُ الْحَسَنَ أَوِ الْحُسَيْنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ قَطُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ لا يَرْحَمُ مَنْ لا يَرْحَمُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اقرع بن حابس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا، تو بولا: میرے دس بچے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی کبھی بوسہ نہیں دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1137]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5997، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2318، 2318، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 457، 463، 5594، 5596، 6975، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5218، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1911، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13708، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7242، 7409، 7764، 10824،وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5892، 5983، 6113، والبزار فى «مسنده» برقم: 7855، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 20589، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 7974»
حدیث نمبر 1138
حدیث نمبر: 1138
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلا السَّامَ" ، وَالسَّامُ: الْمَوْتُ , قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي الشُّونِيزَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم پر اس سیاہ دانے کو استعمال کرنا لازم ہے کیونکہ اس میں ”سام“ کے علاوہ ہر بیماری کی شفا ہے۔“ (راوی کہتے ہیں:) ”سام“ سے مراد موت ہے اور سیاہ دانے سے مراد کلونجی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1138]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5688، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2215، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6071، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7534، 7535، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2041، 2070، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3447، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19625، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7407، 7673، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5842، 5918، 5963، 6512»
حدیث نمبر 1139
حدیث نمبر: 1139
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى لا يَصْبِغُونَ فَخَالِفُوهُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”یہودی اور عیسائی بال نہیں رنگتے ہیں، تو تم ان کے برخلاف کرو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1139]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3462، 5899، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2103، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5470، 5473، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5084، 5085، 5086، 5087، 5256، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9286، 9287، 9288، 9289، 9290، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4203، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1752، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3621، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14928، 14929، 14940، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7394، 7658، 7661، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5957، 5977، 6001، 6003، 6021»
حدیث نمبر 1140
حدیث نمبر: 1140
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ خَيْبَرَ بَعْدَمَا افْتَتَحُوهَا، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْهِمَ لِي مِنَ الْغَنِيمَةِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ بَنِي سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ: لا تُسْهِمْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ، فَقَالَ ابْنُ سَعِيدٍ: يَا عَجَبًا لِوَبَرٍ تَدَّلَى عَلَيْنَا مِنْ قَدُومِ ضَأْنٍ يَنْعَى عَلَى قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْرَمَهُ اللَّهُ عَلَى يَدِي، وَلَمْ يُهِنِّي عَلَى يَدَيْهِ" , قَالَ سُفْيَانُ: فَلا أَدْرَيْ أَسْهَمَ لَهُ أَوْ لَمِ يُسْهِمْ لَهُ ,
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی خدمت میں فتح خیبر کے بعد حاضر ہوا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت میں سے کچھ مجھے بھی دیں، تو بنو سعید بن عاص سے تعلق رکھنے والے کسی شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ اسے حصہ نہ دیں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ ابن قوقل کا قاتل ہے۔ تو ابن سعید بولا: اس بلے پر حیرت ہے، جو پہاڑ سے اتر کر نیچے آ گیا ہے اور میرے خلاف ایک ایسے مسلمان کے قتل کی اطلاع دے رہا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں عزت دی ہے اور مجھے اس کے ہاتھوں رسوائی کا شکار نہیں کیا۔ سفیان کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حصہ دیا تھا یا حصہ نہیں دیا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1140]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2827، 4237، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2724، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3992، 13041، 13042، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1140، 1141، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 2908، 2909»
حدیث نمبر 1141
حدیث نمبر: 1141
قَالَ سُفْيَانُ : وَحَدَّثَنِيهِ السَّعِيدِيُّ أَيْضًا، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1141]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2827، 4239، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2724، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3992، 13041، 13042، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1140، 1141، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 2908، 2909»
حدیث نمبر 1142
حدیث نمبر: 1142
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَهْلُ الْجَنَّةِ أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَمَجَامِرُهُمُ الأَلُوَّةُ" , قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: الأَلُوَّةُ: الْعُودُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اہل جنت کی کنگھیاں سونے سے بنی ہوئی ہوں گی اور ان کی انگیٹھیاں عود والی ہوں گی۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1142]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3245، 3246، 3327، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2834،وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7407، 7436، 7437، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2537، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4333، 4333 م، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7286، 7553، 8315، 8801، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6084، والبزار فى «مسنده» برقم: 9156»
حدیث نمبر 1143
حدیث نمبر: 1143
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوْلادِ الْمُشْرِكِينَ، مَنْ يَمُوتُ مِنْهُمْ صِغَارًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں دریافت کیا گیا جو کم سنی میں انتقال کر جاتے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ انہوں نے کیا عمل کرنے تھے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1143]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1358، 1359، 1384، 1385، 4775، 6598، 6599، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2658، أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1358، 1359، 1384، 1385، 4775، 6598، 6599، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2658، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7302، 7443، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1146 وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6120، 6306، 6394، 6593»
حدیث نمبر 1144
حدیث نمبر: 1144
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ النَّذْرَ لا يَأْتِي عَلَى ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ أَقْدُرْهُ عَلَيْهِ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ أَسْتَخْرِجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ يُؤْتِينِي عَلَيْهِ مَا لا يُؤْتِينِي عَلَى الْبُخْلِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے نذر ابن آدم کے لیے کوئی ایسی چیز نہیں لے کر آتی ہے، جو میں نے اس کی تقدیر میں نہ لکھی ہو لیکن یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کے ذریعے کنجوس کا مال میں نکلوا لیتا ہوں اور میں اس ادائیگی پر بندے کو وہ دیتا ہوں جو کنجوسی کرنے پر نہیں دیتا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1144]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6609، 6694، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1640، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4376، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7933، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3813، 3814، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4727، 4728، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3288، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1538، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2123، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 20162، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7328، 7417، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6355»