صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
15. باب مَنْ بَاعَ نَخْلاً عَلَيْهَا ثَمَرٌ:
باب: جو شخص کھجور کا درخت بیچے اور اس پر کھجور لگی ہو۔
ترقیم عبدالباقی: 1543 ترقیم شاملہ: -- 3901
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ، فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ".
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کھجور کا ایسا درخت فروخت کیا جس پر نر کھجور کا بورڈ ڈالا گیا ہو تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کا ہے الا یہ کہ خریدار (بیع کے دوران میں) شرط طے کر لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3901]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے پیوند کردہ کھجور کا درخت فروخت کیا، تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کا ہے اِلا یہ کہ خریدار پھل لینے کی شرط لگا لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3901]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1543
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1543 ترقیم شاملہ: -- 3902
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْر ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا نَخْلٍ اشْتُرِيَ أُصُولُهَا وَقَدْ أُبِّرَتْ، فَإِنَّ ثَمَرَهَا لِلَّذِي أَبَّرَهَا، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الَّذِي اشْتَرَاهَا ".
عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھجور کا جو درخت خریدا گیا اور اس کی تابیر کی گئی تھی تو اس کا پھل اسی کے لیے ہے جس نے تابیر کی، مگر یہ کہ وہ آدمی جس نے اسے خریدا (سودے میں اس کی) شرط طے کر لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3902]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے روایت بیان کرتے ہیں، الفاظ ابوبکر بن ابی شیبہ کے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے پورا کھجور کا درخت تابیر کے بعد خریدا، تو اس کا پھل تابیر کرنے والے کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا اس کے لینے کی شرط لگا لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3902]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1543
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1543 ترقیم شاملہ: -- 3903
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عن نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا امْرِئٍ أَبَّرَ نَخْلًا، ثُمَّ بَاعَ أَصْلَهَا، فَلِلَّذِي أَبَّرَ ثَمَرُ النَّخْلِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ".
لیث نے ہمیں نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کھجور کی تابیر (نر کھجور کا بور ڈال کر اس کی پرداخت) کی پھر اس کے درخت کو بیچ دیا، تو کھجور کا پھل اسی کا ہے جس نے تابیر کی، الا یہ کہ خریدنے والا شرط طے کر لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3903]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کھجوروں کو پیوند لگایا، پھر درخت بیچ ڈالا تو درخت کا پھل، پیوند کرنے والے کا ہو گا الا یہ کہ خریدار لینے کی شرط لگا لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3903]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1543
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1543 ترقیم شاملہ: -- 3904
وحَدَّثَنَاه أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ایوب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3904]
امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3904]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1543
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1543 ترقیم شاملہ: -- 3905
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنِ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ، فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا، فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ".
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ”جس نے تابیر کیے جانے کے بعد کھجور کا درخت خریدا، تو اس کا پھل اسی کا ہے جس نے اسے بیچا، الا یہ کہ خریدار شرط طے کر لے اور جس نے غلام خریدا تو اسی کا مال اسی کا ہے جس نے اسے فروخت کیا، الا یہ کہ خریدار شرط طے کر لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3905]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے پیوند کاری کے بعد کھجور کے درخت خریدے تو ان کا پھل بائع کا ہے، الا یہ کہ مشتری شرط لگا لے اور جس نے مال دار غلام خریدا تو اس کا مال، بائع کا ہے، الا یہ کہ مشتری شرط لگا لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3905]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1543
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1543 ترقیم شاملہ: -- 3906
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3906]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت تین اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3906]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1543
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1543 ترقیم شاملہ: -- 3907
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ.
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے۔۔۔ اسی کے مانند۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3907]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3907]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1543
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
16. باب النَّهْيِ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَعَنِ الْمُخَابَرَةِ وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلاَحِهَا وَعَنْ بَيْعِ الْمُعَاوَمَةِ وَهُوَ بَيْعُ السِّنِينَ:
باب: محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ کی ممانعت اور پھل کی بیع قبل صلاحیت کے اور معاومہ کا منع ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 1536 ترقیم شاملہ: -- 3908
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم عَنْ: الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا يُبَاعُ إِلَّا بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ، إِلَّا الْعَرَايَا ".
سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقالہ، مزابنہ، مخابرہ اور (پکنے کی) صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا اور (حکم دیا کہ) عرایا (کی بیع) کے سوا (پھل یا کھیتی کو) صرف دینار اور درہم کے عوض ہی فروخت کیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3908]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ اور پکنے کی صلاحیت کے ظاہر ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا۔ انہیں دینار اور درہم کے عوض ہی بیچا جائے، ماسوا عرایا کے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3908]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1536
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1536 ترقیم شاملہ: -- 3909
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
ابوعاصم نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں ابن جریج نے عطاء اور ابوزبیر سے خبر دی، ان دونوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔۔۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3909]
امام صاحب نے ایک اور استاذ سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3909]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1536
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1536 ترقیم شاملہ: -- 3910
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُطْعِمَ، وَلَا تُبَاعُ إِلَّا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ، إِلَّا الْعَرَايَا ". قَالَ عَطَاءٌ: فَسَّرَ لَنَا جَابِرٌ، قَالَ: أَمَّا الْمُخَابَرَةُ: فَالْأَرْضُ الْبَيْضَاءُ، يَدْفَعُهَا الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُل، فَيُنْفِقُ فِيهَا، ثُمَّ يَأْخُذُ مِنَ الثَّمَرِ، وَزَعَمَ أَنَّ الْمُزَابَنَةَ: بَيْعُ الرُّطَبِ فِي النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَالْمُحَاقَلَةُ فِي الزَّرْعِ: عَلَى نَحْوِ ذَلِكَ يَبِيعُ الزَّرْعَ الْقَائِمَ بِالْحَبِّ كَيْلًا.
مخلد بن یزید جزری نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ، محاقلہ، مزابنہ اور کھانے کے قابل ہونے سے پہلے پھلوں کی فروخت کرنے سے منع فرمایا اور (حکم دیا کہ پھلوں اور اجناس کی) صرف درہم و دینار ہی سے بیع کی جائے، سوائے عرایا کے۔ عطاء نے کہا: حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے ان الفاظ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: مخابرہ سے مراد وہ چٹیل زمین ہے جو ایک آدمی دوسرے کے حوالے کرے تو وہ اس میں خرچ کرے، پھر وہ (زمین دینے والا) اس کی پیداوار میں سے حصہ لے۔ اور ان کا خیال ہے کہ مزابنہ سے مراد کھجور پر لگی ہوئی تازہ کھجور کی خشک کھجور (کی معینہ مقدار) کے عوض بیع ہے اور محاقلہ یہ ہے کہ آدمی کھڑی فصل کو ماپے ہوئے غلے کے عوض بیچ دے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3910]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «الْمُخَابَرَةِ» (مخابرہ)، «الْمُحَاقَلَةِ» (محاقلہ) اور «الْمُزَابَنَةِ» (مزابنہ) سے منع فرمایا ہے اور پھلوں کو ان کے کھانے کے قابل ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا؛ انہیں «الْعَرَايَا» (عرایا) کے سوا صرف دراہم یا دیناروں کے عوض فروخت کیا جائے۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے اپنے تلامذہ کو بتایا، «الْمُخَابَرَةُ» (مخابرہ) سے مراد ہے ایک صاف زمین جس میں کوئی چیز کاشت نہیں کی گئی، ایک آدمی دوسرے آدمی کے حوالہ کرتا ہے، وہ اس میں محنت اور بیج وغیرہ خرچ کرتا ہے اور وہ اس سے پیداوار میں سے حصہ لیتا ہے۔ «الْمُزَابَنَةُ» (مزابنہ) کی صورت یہ ہے کہ کھجور کے درخت پر پھل (اندازہ کر کے) خشک کھجور کے ناپ کے عوض دینا۔ اس قسم کی صورت «الْمُحَاقَلَةُ» (محاقلہ) میں کھیتی کی ہے کہ کھیت میں کھڑی فصل کو غلہ کے ناپ کے ساتھ دینا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3910]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1536
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة