🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب كِرَاءِ الأَرْضِ:
باب: زمین کو کرایہ پر دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1544 ترقیم شاملہ: -- 3931
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ أَبَى، فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو عاریتاً دے دے، اگر وہ نہیں مانتا تو اپنی زمین اپنے پاس رکھے۔ (غلط طریقے سے بٹائی پر نہ دے)۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3931]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی ملکیت میں زمین ہو وہ اسے کاشت کرے یا اپنے بھائی کو پیداوار لینے کے لیے دے دے، اگر وہ اس کے لیے آمادہ نہ ہو (انکار کرے) تو اپنی زمین روکے رکھے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3931]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1544
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1536 ترقیم شاملہ: -- 3932
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ نُعَيْمٍ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْهَى عَنْ: الْمُزَابَنَةِ، وَالْحُقُولِ "، فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: الْمُزَابَنَةُ: الثَّمَرُ بِالتَّمْرِ، وَالْحُقُولُ: كِرَاءُ الْأَرْضِ.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ مزابنہ اور حُقول سے منع فرما رہے تھے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: مزابنہ سے مراد (کھجور پر لگے) پھل کی خشک کھجور سے بیع ہے اور حقول سے مراد زمین کو (اس کی پیداوار کے متعین حصے کے عوض) بٹائی پر دینا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3932]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُزَابَنَةِ» (مزابنہ) اور «الْمُحَاقَلَةِ» (محاقلہ) سے منع فرمایا، «الْمُزَابَنَةُ» (مزابنہ) درخت کے پھل کو (توڑے پھل سے) خریدنا ہے اور «الْمُحَاقَلَةُ» (محاقلہ) زمین کا کرایہ لینا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3932]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1536
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1545 ترقیم شاملہ: -- 3933
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ: الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3933]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3933]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1545
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1546 ترقیم شاملہ: -- 3934
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ: الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ "، وَالْمُزَابَنَةُ: اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ، وَالْمُحَاقَلَةُ: كِرَاءُ الْأَرْضِ.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا۔ مزابنہ درخت پر لگی کھجور کو (خشک کھجور کے عوض) خریدنا ہے اور محاقلہ سے مراد زمین کو کرائے پر دینا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3934]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «الْمُزَابَنَةُ» مزابنہ اور «الْمُحَاقَلَةُ» محاقلہ ( «الْحُقُولُ» حقول) سے منع کرتے سنا، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بتایا: مزابنہ، تازہ کھجور کی خشک کھجور سے بیع ہے اور حقول، زمین حصہ پر دینا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3934]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1546
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3935
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حدثنا، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: " كُنَّا لَا نَرَى بِالْخِبْرِ بَأْسًا حَتَّى كَانَ عَامُ أَوَّلَ، فَزَعَمَ رَافِعٌ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ ".
حماد بن زید نے ہمیں عمرو (بن دینار) سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم مخابرہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے حتیٰ کہ وہ پہلا سال آیا جس میں (یزید کی امارت کے لیے بیعت لی گئی) تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے خیال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3935]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم مخابرہ میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حکومت کا پہلا سال آ گیا، تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ کہنے لگے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3935]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3936
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ: فَتَرَكْنَاهُ مِنْ أَجْلِهِ.
سفیان (بن عیینہ)، ایوب اور سفیان (ثوری) سب نے عمرو بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور ابن عیینہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: تو ہم نے ان (رافع رضی اللہ عنہ) کی وجہ سے (احتیاطاً) اسے چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3936]
امام صاحب اپنے چار اساتذہ کی سندوں سے عمرو بن دینار ہی کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، ان کے شاگرد ابن عیینہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ہم نے ان کے خیال کا لحاظ کر کے مخابرہ کو ترک کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3936]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3937
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " لَقَدْ مَنَعَنَا رَافِعٌ نَفْعَ أَرْضِنَا ".
مجاہد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رافع رضی اللہ عنہ نے ہماری زمین کا منافع ہم سے روک دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3937]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رافع نے ہمیں ہماری زمین کے نفع سے محروم کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3937]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3938
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ : " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي مَزَارِعَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي إِمَارَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ، حَتَّى بَلَغَهُ فِي آخِرِ خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يُحَدِّثُ فِيهَا بِنَهْيٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ، وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ "، فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدُ، وَكَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْهَا بَعْدُ قَالَ: زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا.
یزید بن زریع نے ہمیں ایوب سے خبر دی اور انہوں نے نافع سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اور حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے دور امارت میں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی ایام تک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمینوں کو بٹائی پر دیتے تھے حتیٰ کہ حضرت معاویہ کی خلافت کے آخری ایام میں انہیں یہ بات پہنچی کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت بیان کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کے پاس گئے، میں بھی ان کے ساتھ تھا، انہوں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمینوں کو بٹائی پر دینے سے منع فرماتے تھے۔ اس کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے چھوڑ دیا۔ بعد ازیں جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ کہتے: رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3938]
حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمینوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد، حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے دورِ خلافت میں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں بٹائی پر دیا کرتے تھے، حتیٰ کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخر میں انہیں یہ بات پہنچی کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت نقل کرتے ہیں، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس گئے، میں بھی ان کے ساتھ تھا اور ان سے دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھیتوں کے کرایہ سے منع کرتے تھے۔ بعد میں جب ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا جاتا تو جواب دیتے: رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا یہ خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3938]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3939
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ: فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَكَانَ لَا يُكْرِيهَا.
حماد بن زید اور اسماعیل (ابن علیہ) دونوں نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور ابن علیہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے، کہا: اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے چھوڑ دیا اور وہ اسے (اپنی زمین کو) کرائے پر نہیں دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3939]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، ابن علیہ (اسماعیل) کی روایت میں یہ اضافہ ہے، اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس معاملے کو چھوڑ دیا، اور وہ زمین بٹائی پر نہیں دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3939]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3940
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: ذَهَبْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، حَتَّى أَتَاهُ بِالْبَلَاطِ، فَأَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ ".
عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی طرف گیا یہاں تک کہ وہ ان کے پاس بلاط کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے انہیں (ابن عمر رضی اللہ عنہما کو) بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمینوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3940]
نافع بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ انہیں مسجد نبوی کے پاس فرش (بلاط) پر ملے، اور انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بٹائی پر زمین دینے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3940]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں