🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب كِرَاءِ الأَرْضِ:
باب: زمین کو کرایہ پر دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3941
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَتَى رَافِعًا ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حکم نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔۔ پھر (ان کے حوالے سے) یہی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3941]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو انہوں نے انہیں مذکورہ بالا حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3941]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3942
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَنِ بْنِ يَسَارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَأْجُرُ الْأَرْضَ، قَالَ: فَنُبِّئَ حَدِيثًا عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: فَانْطَلَقَ بِي مَعَهُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَذَكَرَ عَنْ بَعْضُ عُمُومَتِهِ ذَكَرَ فِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ "، قَالَ: فَتَرَكَهُ ابْنُ عُمَرَ، فَلَمْ يَأْجُرْهُ.
حسین بن حسن بن یسار نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن عون نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما زمین کو اجرت پر دیتے تھے، کہا: انہیں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث بتائی گئی، کہا: وہ میرے ساتھ ان کے ہاں گئے تو انہوں نے اپنے بعض چچاؤں سے بیان کیا، انہوں نے اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ کہا: تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے چھوڑ دیا اور زمین اجرت پر نہ دی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3942]
نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما زمین بٹائی پر دیتے تھے، تو انہیں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث سنائی گئی۔ وہ مجھے لے کر ان کی طرف گئے۔ انہوں نے اپنے کسی چچا سے حدیث سنائی، جس میں یہ بیان تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زمین کے کرایہ سے منع فرمایا“ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے زمین بٹائی پر دینی چھوڑ دی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3942]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3943
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَحَدَّثَهُ عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں ابن عون نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: انہوں نے اپنے بعض چچاؤں کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3943]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے ایک اور استاد سے معمولی لفظی فرق کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3943]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3944
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يُكْرِي أَرَضِيهِ حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ خَدِيجٍ، مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ؟ قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، لِعَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ عَمَّيَّ ، وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا، يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى، ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ عَلِمَهُ، فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ.
سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمینیں کرائے پر دیتے تھے حتیٰ کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین کو کرائے پر دینے سے منع کرتے ہیں، چنانچہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ان سے ملاقات کی اور کہا: ابن خدیج! آپ زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا بیان کرتے ہیں؟ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے اپنے دو چچاؤں سے سنا اور وہ دونوں بدر میں شریک ہوئے تھے، وہ اپنے گھرانے کے لوگوں کو حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بخوبی جانتا تھا کہ زمین کرائے پر دی جاتی تھی۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما کو خوف ہوا کہ (ممکن ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں کوئی نیا حکم جاری کیا ہو جس کا انہیں علم نہ ہوا ہو، لہذا انہوں نے زمین کو کرائے پر دینا چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3944]
حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (میرے والد) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمینیں بٹائی پر دیتے تھے، حتیٰ کہ انہیں پتہ چلا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین بٹائی پر دینے سے منع کرتے ہیں۔ تو عبداللہ رضی اللہ عنہما ان سے ملے اور پوچھا، اے ابن خدیج! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زمین کی بٹائی کے بارے میں کیا بیان کرتے ہیں؟ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہما کو جواب دیا، میں نے جنگ بدر میں شرکت کرنے والے اپنے دو چچوں سے سنا، وہ محلہ والوں کو بتاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زمین بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اچھی طرح علم تھا کہ زمین بٹائی پر دی جاتی ہے، پھر عبداللہ رضی اللہ عنہما کو اندیشہ لاحق ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں کوئی نیا حکم جاری کیا ہو جس کا انہیں علم نہ ہو سکا ہو، اس لیے انہوں نے زمین بٹائی پر دینی چھوڑ دی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3944]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باب كِرَاءِ الأَرْضِ بِالطَّعَامِ:
باب: اناج کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1548 ترقیم شاملہ: -- 3945
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ، وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، فَجَاءَنَا ذَاتَ يَوْمٍ رَجُلٌ مَنْ عُمُومَتِي ، فَقَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا، نَهَانَا أَنْ نُحَاقِلَ بِالْأَرْضِ، فَنُكْرِيَهَا عَلَى الثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ، وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا، أَوْ يُزْرِعَهَا، وَكَرِهَ كِرَاءَهَا وَمَا سِوَى ذَلِكَ ".
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے یعلیٰ بن حکیم سے، انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم زمین کو اس کی پیداوار کے حصے پر دیتے تھے اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے اور (اس کے ساتھ) متعین مقدار میں غلے کے عوض کرائے پر دیتے، ایک روز ہمارے پاس میرے چچاؤں میں سے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کیا ہے جو ہمارے لیے نفع مند تھا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نفع بخش ہے، آپ نے ہمیں منع کیا ہے کہ ہم زمین کو بٹائی پر دیں اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے اور متعین غلے کے عوض کرائے پر دیں۔ اور آپ نے زمین کے مالک کو حکم دیا کہ وہ خود اس میں کاشت کرے یا کاشت کے لیے (اپنے مسلمان بھائی کو) دے دے اور آپ نے اس کے کرائے پر دینے اور اس کے سوا (غلے کے ایک متعین حصے پر دینے) کو ناپسند کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3945]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہم زمین بٹائی پر دیتے تھے، ہم اس کا کرایہ، تہائی یا چوتھائی اور متعین مقدار اناج لیتے تھے، تو ایک دن ہمارے پاس میرے چچوں میں سے ایک آدمی آیا، تو اس نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے معاملے سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش تھا، اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نفع بخش ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا کہ ہم اپنی زمینوں کو تہائی یا چوتھائی اور متعین مقدار اناج کے عوض دیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین والے کو حکم دیا کہ وہ اسے خود کاشت کرے یا کاشت کے لیے دے دے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کرایہ وغیرہ کو ناپسند فرمایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3945]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1548
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1548 ترقیم شاملہ: -- 3946
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ بِالْأَرْضِ، فَنُكْرِيهَا عَلَى الثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.
حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے خبر دی، انہوں نے کہا: یعلیٰ بن حکیم نے میری طرف لکھا، انہوں نے کہا: میں نے سلیمان بن یسار سے سنا، وہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ہم زمین کو بٹائی پر دیتے اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے پر کرائے پر دیتے تھے۔۔۔ آگے ابن علیہ کی (سابقہ) حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3946]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم کھیت بٹائی پر دیتے تھے تو ہم ان کا کرایہ (حصہ) تہائی اور چوتھائی پیداوار کی صورت میں لیتے تھے، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3946]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1548
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1548 ترقیم شاملہ: -- 3947
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، كُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
ابن ابی عروبہ نے یعلیٰ بن حکیم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3947]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی سندوں سے یعلیٰ بن حکیم کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3947]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1548
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1548 ترقیم شاملہ: -- 3948
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلْ: عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ.
جریر بن حازم نے یعلیٰ بن حکیم کی اسی سند کے ساتھ روایت کی، انہوں نے (سلیمان کے واسطے سے) رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، انہوں نے (اپنے چچاؤں میں سے ایک) کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3948]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں «عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ» ”اپنے بعض چچاؤں سے“ (مروی) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3948]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1548
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1548 ترقیم شاملہ: -- 3949
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعٍ : أَنَّ ظُهَيْرَ بْنَ رَافِعٍ ، وَهُوَ عَمُّهُ، قَالَ: أَتَانِي ظُهَيْرٌ، فَقَالَ: لَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا، فَقُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ، قَالَ: سَأَلَنِي كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ؟ فَقُلْتُ: نُؤَاجِرُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى الرَّبِيعِ، أَوِ الْأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ، أَوِ الشَّعِيرِ، قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا، أَوْ أَزْرِعُوهَا، أَوْ أَمْسِكُوهَا ".
ابوعمرو اوزاعی نے مجھے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابونجاشی سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ظُہیر بن رافع ان کے چچا تھے، کہا: ظہیر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے کام سے منع فرمایا ہے جو ہمیں سہولت دینے والا تھا۔ میں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا وہ برحق ہے۔ کہا: آپ نے مجھ سے پوچھا: ”تم اپنے کھیتوں کا کیا معاملہ کرتے ہو؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم انہیں چھوٹی نہر (کے کناروں کی پیداوار) پر یا کھجور یا جو کے (متعینہ) وسقوں پر اجرت پر دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو ایسا نہ کرو، اسے خود کاشت کرو یا کاشت کے لیے کسی کو دے دو یا ویسے ہی اپنے ہاتھ میں رکھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3949]
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ (جو ان کے چچا ہیں) ان کے پاس آئے اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے معاملے سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے سہولت اور آسانی کا باعث تھا، میں نے کہا: وہ کیا ہے؟ جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے وہی برحق ہے، انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”تم اپنے کھیتوں کا کیا کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اسے اجرت (کرایہ) پر دیتے ہیں، ہم کھال کے کنارے کی زمین کی پیداوار لیتے ہیں یا کھجور یا جو کی متعین مقدار میں وسق لیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، کاشت کرو، یا کاشت کے لیے دے دو یا اپنے پاس روکے رکھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3949]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1548
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1548 ترقیم شاملہ: -- 3950
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، عَنْ رَافِعٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَلَمْ يَذْكُرْ عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرٍ.
عکرمہ بن عمار نے ابونجاشی سے، انہوں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی اور انہوں نے اپنے چچا ظہیر رضی اللہ عنہ سے روایت کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3950]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں رافع رضی اللہ عنہ کے چچا ظہیر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3950]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1548
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں