صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب الأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلاَّ لِصَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ.
باب: کتوں کے قتل کا حکم پھر اس حکم کا منسوخ ہونا اور اس امر کا بیان کہ کتے کا پالنا حرام ہے مگر شکار یا کھیتی یا جانوروں کی حفاظت کے لیے یا ایسے ہی اور کسی کام کے واسطے۔
ترقیم عبدالباقی: 1573 ترقیم شاملہ: -- 4022
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ يَحْيَى: وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الْغَنَمِ، وَالصَّيْدِ، وَالزَّرْعِ.
یحییٰ بن حبیب نے کہا: ہمیں خالد بن حارث نے حدیث بیان کی۔ محمد بن حاتم نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے حدیث سنائی۔ محمد بن ولید نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی۔ اسحٰق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں نضر نے خبر دی۔ محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں وہب بن جریر نے حدیث بیان کی، (خالد بن حارث، یحییٰ بن سعید، محمد بن جعفر، نضر اور وہب بن جریر) سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ ابن حاتم نے اپنی حدیث میں کہا: یحییٰ سے روایت ہے۔ (اور آگے یہ کہا:) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کی رکھوالی، شکار اور کھیت کی حفاظت کرنے والے کتے کی اجازت دے دی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4022]
امام صاحب چھ اساتذہ سے شعبہ کی مذکورہ بالا سند سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں، اور ابن حاتم کی حدیث میں ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کے محافظ، شکاری اور کھیت کی رکھوالی کرنے والے کتے کی رخصت دے دی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4022]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1573
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1574 ترقیم شاملہ: -- 4023
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا، إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ ضَارِي، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ".
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مویشیوں کی حفاظت کرنے والے اور شکاری کتے کے سوا کتا پالا اس کے اجر میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4023]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مویشیوں کے کتے اور شکاری کتے کے سوا کوئی کتا رکھا، اس کے عملوں میں ہر روز دو قیراط کم کیے جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4023]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1574
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1574 ترقیم شاملہ: -- 4024
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا، إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ، نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ".
زہری نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”جس نے شکار یا مویشیوں کے کتے کے سوا کتا رکھا اس کے اجر میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4024]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مویشیوں کے کتے اور شکاری کتے کے سوا کوئی کتا رکھا، اس کے عملوں میں ہر روز دو قیراط کم ہو جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4024]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1574
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1574 ترقیم شاملہ: -- 4025
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا، إِلَّا كَلْبَ ضَارِيَةٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ".
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شکار یا مویشیوں کے کتے کے سوا کتا رکھا اس کے عمل میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4025]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتا رکھا، الا یہ کہ وہ شکار کے لیے یا مویشیوں کے لیے ہو، اس کے عمل سے ہر روز دو قیراط کم ہو جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4025]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1574
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1574 ترقیم شاملہ: -- 4026
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا، إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ كَلْبَ صَيْدٍ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ.
محمد بن ابی حرملہ نے سالم بن عبداللہ سے اور انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مویشیوں کے کتے یا شکار کے کتے کے سوا کتا رکھا تو اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا۔“ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا کھیتی کے کتے (کے سوا۔)“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4026]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتا رکھا، مگر مویشیوں کا کتا یا شکاری کتا، اس کے عمل سے ہر روز قیراط کم ہو جائے گا۔“ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا، اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا کھیتی کا کتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4026]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1574
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1574 ترقیم شاملہ: -- 4027
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا، إِلَّا كَلْبَ ضَارٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ "، قَالَ سَالِمٌ: وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ، وَكَانَ صَاحِبَ حَرْثٍ.
حنظلہ بن ابی سفیان (اسود بن عبدالرحمٰن بن صفوان بن امیہ) نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”جس نے شکاری کتے یا مویشیوں کے کتے کے سوا کتا پالا اس کے عمل سے ہر دو روز قیراط کم ہوں گے۔“ سالم نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: ”یا کھیتی کے کتے (کے سوا۔)“ اور وہ (خود) کھیتی کے مالک تھے۔ (اس لیے انہیں یہ بات یاد تھی۔) [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4027]
حضرت سالم رحمہ اللہ اپنے باپ (عبداللہ رضی اللہ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتا رکھا، سوائے شکاری اور مویشیوں کے کتے کے، اس کے عمل سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔“ حضرت سالم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس پر یہ اضافہ کرتے تھے: ”یا کھیتی کا کتا،“ اور وہ کھیتی کے مالک تھے، (اس لیے اس مسئلہ سے خوب آگاہ تھے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4027]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1574
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1574 ترقیم شاملہ: -- 4028
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا أَهْلِ دَارٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا، إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ كَلْبَ صَائِدٍ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ".
عمر بن حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں سالم بن عبداللہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن گھر والوں نے مویشیوں (کی حفاظت) والے کتے یا شکاری کتے کے سوا کتا رکھا، تو ان کے عمل سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4028]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس گھر والوں نے کتا رکھا، مگر مویشیوں کا کتا یا شکار کرنے والا کتا، ان کے عمل سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4028]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1574
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1574 ترقیم شاملہ: -- 4029
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا، إِلَّا كَلْبَ زَرْعٍ، أَوْ غَنَمٍ، أَوْ صَيْدٍ، يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ".
ابوحکم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”جس نے کھیتی یا بکریوں (کی حفاظت) یا شکار کے کتے کے سوا کتا رکھا اس کے اجر میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4029]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتا رکھا، مگر کھیتی، بکریوں یا شکار کا کتا، اس کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4029]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1574
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1575 ترقیم شاملہ: -- 4030
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ، وَلَا مَاشِيَةٍ، وَلَا أَرْضٍ، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ قِيرَاطَانِ كُلَّ يَوْمٍ ". وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي الطَّاهِرِ: وَلَا أَرْضٍ.
ابوطاہر اور حرملہ نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”جس شخص نے کتا پالا جو شکاری ہے، نہ مویشیوں کے لیے ہے اور نہ ہی زمین کے لیے، اس کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔“ ابوطاہر کی حدیث میں ”نہ زمین کے لیے“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4030]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ ابو طاہر اور حرملہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتا رکھا، جو شکاری یا مویشیوں کے لیے یا زمین کے لیے نہیں ہے، تو اس کے اجر سے دو قیراط ہر دم کم ہوں گے۔“ ابو طاہر کی حدیث میں، زمین کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4030]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1575
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1575 ترقیم شاملہ: -- 4031
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا، إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ صَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ". قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَذُكِرَ لِابْنِ عُمَرَ، قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ صَاحِبَ زَرْعٍ.
امام زہری نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مویشیوں، شکار یا کھیتی (کی حفاظت کرنے) والے کتے کے سوا (کوئی اور) کتا رکھا اس کے اجر سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا۔“ امام زہری نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے! وہ (خود) کھیت کے مالک تھے۔ (انہوں نے یہ بات ضبط کی۔) [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4031]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتا رکھا، الا یہ کہ وہ مویشیوں یا شکار یا کھیتی کے لیے ہو، اس کے اجر سے ہر دن ایک قیراط کم ہو گا۔“ امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بتائی گئی، تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، وہ کھیتی کے مالک تھے، (اور جس کو کسی چیز سے واسطہ پڑتا ہے، وہ اس کے مسائل کو خوب یاد رکھتا ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4031]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1575
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة