صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
11. باب حِلِّ أُجْرَةِ الْحِجَامَةِ:
باب: پچھنے لگانے کی اجرت حلال ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1202 ترقیم شاملہ: -- 4042
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، واللفظ لعبد، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْرَهُ، وَكَلَّمَ سَيِّدَهُ، فَخَفَّفَ عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ وَلَوْ كَانَ سُحْتًا، لَمْ يُعْطِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
شعبی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: بنو بیاضہ کے ایک غلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی اجرت دی اور آپ نے اس کے مالک سے بات کی تو اس نے اس کے محصول میں کچھ تخفیف کر دی اور اگر یہ (اجرت) حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو نہ دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4042]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو بیاضہ کے ایک غلام نے سینگی لگائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی اجرت دی، اور اس کے آقا سے گفتگو فرمائی، تو اس نے اس سے آمدن لینے میں تخفیف کر دی، اور اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہ دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4042]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1202
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
12. باب تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ:
باب: شراب بیچنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1578 ترقیم شاملہ: -- 4043
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى أَبُو هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُعَرِّضُ بِالْخَمْرِ وَلَعَلَّ اللَّهَ سَيُنْزِلُ فِيهَا أَمْرًا، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا شَيْءٌ فَلْيَبِعْهُ وَلْيَنْتَفِعْ بِهِ، قَالَ: فَمَا لَبِثْنَا إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَرَّمَ الْخَمْرَ، فَمَنْ أَدْرَكَتْهُ هَذِهِ الْآيَةُ وَعِنْدَهُ مِنْهَا شَيْءٌ، فَلَا يَشْرَبْ وَلَا يَبِعْ ". قَالَ: فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ بِمَا كَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ، فَسَفَكُوهَا.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ مدینہ میں خطبہ دے رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”لوگو! اللہ تعالیٰ شراب (کی حرمت) کے بارے میں اشارہ فرما رہا ہے اور شاید اللہ تعالیٰ جلد ہی اس کے بارے میں کوئی (قطعی) حکم نازل کر دے۔ جس کے پاس اس (شراب) میں سے کچھ موجود ہے وہ اسے بیچ دے اور اس سے فائدہ اٹھا لے۔“ کہا: پھر ہم نے تھوڑا ہی عرصہ اس عالم میں گزارا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے یقیناً شراب کو حرام کر دیا ہے، جس شخص تک یہ آیت پہنچے اور اس کے پاس اس (شراب) میں سے کچھ (حصہ باقی) ہے تو نہ وہ اسے پیے اور نہ فروخت کرے۔“ کہا: لوگوں کے پاس جو بھی شراب تھی وہ اسے لے کر مدینہ کے راستے میں نکل آئے اور اسے بہا دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4043]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینہ منورہ میں خطبہ دیتے ہوئے یہ فرمان سنا: ”اے لوگو! بلاشبہ اللہ تعالیٰ شراب کی حرمت کا اشارہ دے رہے ہیں، اور شاید اللہ تعالیٰ جلدی اس کے بارے میں کوئی (قطعی) حکم نازل فرمائے گا، تو جس کے پاس کچھ شراب ہو، وہ اسے بیچ کر اس سے فائدہ اٹھا لے۔“ وہ بیان کرتے ہیں کہ تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے، تو اب اس آیت کے نزول کے بعد، جس کے پاس کچھ شراب ہو، تو وہ نہ پیے اور نہ فروخت کرے۔“ وہ بیان کرتے ہیں کہ جن لوگوں کے پاس کچھ شراب تھی، وہ اسے مدینہ کی گلیوں یا راستوں میں لے آئے اور اسے بہا دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4043]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1578
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1579 ترقیم شاملہ: -- 4044
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، أَنَّهُ جَاءَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَغَيْرُهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ السَّبَإِيِّ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ؟، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " إِنَّ رَجُلًا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا؟، قَالَ: لَا فَسَارَّ إِنْسَانًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمَ سَارَرْتَهُ؟، فَقَالَ: أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا، فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا، قَالَ: فَفَتَحَ الْمَزَادَةَ حَتَّى ذَهَبَ مَا فِيهَا "،
سوید بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے حدیث سنائی، انہوں نے۔۔ اہل مصر کے آدمی۔۔ عبدالرحمٰن بن وعلہ سے روایت کی کہ وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے۔ اور مجھے ابوطاہر نے حدیث بیان کی۔۔ الفاظ انہی کے ہیں۔۔: ہمیں ابن وہب نے خبر دی: مجھے مالک بن انس اور دوسروں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے۔۔ مصر کے باشندوں میں سے۔۔ عبدالرحمٰن بن وعلہ سبئی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا جو انگور سے نچوڑی جاتی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کا ایک مشکیزہ ہدیہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تمہیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: نہیں، اس کے بعد اس نے ایک انسان سے سرگوشی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تم نے اس سے کیا سرگوشی کی ہے؟“ اس نے جواب دیا: میں نے اس سے یہ فروخت کرنے کو کہا ہے۔ تو آپ نے فرمایا: ”جس (اللہ) نے اس کا پینا حرام کیا ہے اس نے اس کی بیع بھی حرام قرار دی ہے۔“ کہا: اس پر اس شخص نے مشکیزے کا منہ کھول دیا حتیٰ کہ جو اس میں تھا، بہہ گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4044]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1579
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1579 ترقیم شاملہ: -- 4045
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
یحییٰ بن سعید نے عبدالرحمٰن بن وعلہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4045]
امام صاحب اپنے استاد ابو طاہر کی ایک اور سند سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4045]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1579
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1580 ترقیم شاملہ: -- 4046
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَمَّا نَزَلَتِ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْتَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ نَهَى عَنِ التِّجَارَةِ فِي الْخَمْرِ ".
منصور نے ابوضحیٰ (مسلم بن صبیح) سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب سورہ بقرہ کے آخری حصے کی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے۔ آپ نے لوگوں کے سامنے ان کی تلاوت کی، پھر آپ نے شراب کی تجارت سے بھی منع فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4046]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جب سورہ بقرہ کے آخری حصے کی آیات اتریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور انہیں لوگوں کو سنایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”شراب کی تجارت سے منع فرمایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4046]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1580
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1580 ترقیم شاملہ: -- 4047
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَمَّا أُنْزِلَتِ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا، قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ ".
اعمش نے (ابوضحیٰ) مسلم سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب سود کے بارے میں سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل کی گئیں، کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور آپ نے شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4047]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جب سود کے بارے میں سورۃ البقرہ کے آخر میں آیات نازل ہوئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور شراب کی تجارت کی حرمت کو بھی بیان فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4047]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1580
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
13. باب تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالأَصْنَامِ:
باب: شراب اور مردار اور سور اور بتوں کی بیع حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1581 ترقیم شاملہ: -- 4048
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ؟، فَقَالَ: لَا هُوَ حَرَامٌ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عِنْدَ ذَلِكَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا أَجْمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ "،
لیث نے ہمیں یزید بن ابی حبیب سے حدیث بیان کی، انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے سال، جب آپ مکہ ہی میں تھے، فرماتے ہوئے سنا: ”بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع حرام قرار دی ہے۔“ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! مردار جانور کی چربی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، اس سے کشتیوں (کے تختے) کو روغن کیا جاتا ہے اور چمڑوں کو نرم کیا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، وہ حرام ہے۔“ پھر اسی وقت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ یہود کو ہلاک کرے! اللہ نے جب ان کے لیے ان جانوروں کی چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا، پھر اسے فروخت کیا اور اس کی قیمت لے کر کھائی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4048]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح مکہ کے سال مکہ میں سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیا ہے۔“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں فرمائیں، اس کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ اس سے کشتیوں کو روغن کیا جاتا ہے، چمڑوں کو چکنا کیا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ روشن کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، وہ حرام ہے۔“ پھر اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں کو غارت کرے، جب اللہ تعالیٰ نے ان پر مردار کی چربی کو حرام کر دیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا اور اس کی قیمت استعمال کرنے لگے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4048]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1581
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1581 ترقیم شاملہ: -- 4049
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
عبدالحمید سے روایت ہے، کہا: مجھے یزید بن ابی حبیب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: عطاء نے مجھے لکھ بھیجا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔۔۔ آگے لیث کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4049]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے مختلف اساتذہ کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4049]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1581
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1582 ترقیم شاملہ: -- 4050
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بَلَغَ عُمَرَ : أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا، فَقَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ، أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ، فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا "،
سفیان بن عیینہ نے ہمیں عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے طاوس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی کہ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب فروخت کی ہے تو انہوں نے کہا: اللہ سمرہ کو ہلاک کرے! کیا وہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ یہود پر لعنت کرے! (کہ) ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے پگھلایا اور فروخت کیا“؟ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4050]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی کہ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب فروخت کی ہے، تو انہوں نے کہا: «قَاتَلَ اللّٰهُ سَمُرَةَ» ”اللہ تعالیٰ سمرہ رضی اللہ عنہ کو سمجھ دے“، کیا اسے معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” «لَعَنَ اللّٰهُ الْيَهُودَ» ”اللہ تعالیٰ یہود پر لعنت بھیجے“، ان پر چربیاں حرام قرار دی گئیں، تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4050]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1582
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1582 ترقیم شاملہ: -- 4051
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
روح بن قاسم نے عمرو بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4051]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4051]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1582
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة