صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب الأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلاَّ لِصَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ.
باب: کتوں کے قتل کا حکم پھر اس حکم کا منسوخ ہونا اور اس امر کا بیان کہ کتے کا پالنا حرام ہے مگر شکار یا کھیتی یا جانوروں کی حفاظت کے لیے یا ایسے ہی اور کسی کام کے واسطے۔
ترقیم عبدالباقی: 1575 ترقیم شاملہ: -- 4032
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ، إِلَّا كَلْبَ حَرْثٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ "،
ہشام دستوائی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتا رکھا، اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا، سوائے کھیتی یا مویشیوں (کی حفاظت کرنے) والے کتے کے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4032]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتا رکھا، تو اس کے عمل میں سے ہر دن ایک قیراط کم ہو گا، الا یہ کہ وہ کھیتی یا مویشیوں کے لیے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4032]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1575
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1575 ترقیم شاملہ: -- 4033
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ،
اوزاعی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث سنائی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث سنائی، کہا: مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4033]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد کی سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4033]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1575
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1575 ترقیم شاملہ: -- 4034
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
حرب نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4034]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد کی سند سے، یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4034]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1575
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1575 ترقیم شاملہ: -- 4035
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَزِينٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا، لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ، وَلَا غَنَمٍ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ".
ابورزین نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے (ایسا) کتا رکھا جو شکار یا بکریوں کا کتا نہیں ہے تو اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4035]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتا رکھا، جو شکار یا بکریوں کے لیے نہیں ہے، اس کے عمل سے ہر دن ایک قیراط کم ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4035]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1575
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1576 ترقیم شاملہ: -- 4036
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ شَنُوءَةَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا، وَلَا ضَرْعًا، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ "، قَالَ: آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ.
امام مالک نے یزید بن خصفیہ سے روایت کی کہ انہیں سائب بن یزید نے بتایا کہ انہوں نے سفیان بن ابی زہیر سے سنا اور وہ شنوءہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جس نے کتا رکھا جو اسے کھیتی اور تھن (والے جانوروں کی حفاظت) کا فائدہ نہیں دیتا تو اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا۔“ (سائب نے) کہا: کیا آپ نے خود یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس مسجد کے رب کی قسم! [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4036]
حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ قبیلہ شنوہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے کتا رکھا، جو اسے کھیتی یا مویشیوں سے کفایت نہیں کرتا، اس کے عمل سے ہر دن ایک قیراط کم ہو گا۔“ شاگرد نے پوچھا: کیا آپ نے براہِ راست یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: «إِي وَرَبِّ هٰذَا الْمَسْجِدِ» ”ہاں، اس مسجد کے رب کی قسم!“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4036]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1576
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1576 ترقیم شاملہ: -- 4037
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ وَفَدَ عَلَيْهِمْ سُفْيَانُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ الشَّنَئِيُّ ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
اسماعیل نے ہمیں یزید بن خصفیہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے سائب بن یزید نے خبر دی کہ ان کے پاس سفیان بن ابی زہیر شنئی (قبیلہ شنوءہ سے تعلق رکھنے والے) آئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ اسی کے مانند۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4037]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے ہاں سفیان بن ابی زہیر شنئی رضی اللہ عنہ آئے، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4037]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1576
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
11. باب حِلِّ أُجْرَةِ الْحِجَامَةِ:
باب: پچھنے لگانے کی اجرت حلال ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1577 ترقیم شاملہ: -- 4038
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَقَالَ: " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ، فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَكَلَّمَ أَهْلَهُ، فَوَضَعُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ، وَقَالَ: إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ أَوْ هُوَ مِنْ أَمْثَلِ دَوَائِكُمْ ".
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں حمید سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پچھنے (سینگی) لگانے والے کی کمائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے، آپ کو ابوطیبہ نے پچھنے لگائے تو آپ نے اسے غلے سے دو صاع دینے کا حکم دیا اور اس کے مالکوں سے بات کی تو انہوں نے اس کے محصول میں کچھ تخفیف کر دی اور آپ نے فرمایا: ”تم لوگ جو علاج کرواؤ اس میں سے بہترین سینگی لگوانا ہے یا (فرمایا:) یہ تمہارے بہترین علاجوں میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4038]
حمید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سینگی لگانے والے کی کمائی کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو طیبہ رضی اللہ عنہ نے سینگی لگائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو صاع غلہ دینے کا حکم دیا اور اس کے مالکوں سے گفتگو کی، انہوں نے اس سے محصول لینے میں کمی کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو، ان میں سے بہترین چیز سینگی لگوانا ہے یا وہ تمہاری بہترین دواؤں میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4038]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1577
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1577 ترقیم شاملہ: -- 4039
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ ، عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ، وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ، وَلَا تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ.
مروان فزاری نے ہمیں حمید سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سینگی لگانے والے کی کمائی کے بارے میں پوچھا گیا۔۔۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا، مگر انہوں نے کہا: ”بلاشبہ سب سے افضل جس کے ذریعے سے تم علاج کراؤ، پچھنے لگوانا اور عود بحری (کا استعمال) ہے اور تم اپنے بچوں کو گلا دبا کر (مَل کر) تکلیف نہ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4039]
حمید بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سینگی لگانے والے کی کمائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے مذکورہ بالا واقعہ سنایا اور بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری دواؤں میں سے بہترین دوا سینگی لگوانا ہے، اور عودِ بحری بھی ہے اور تم گلا دبا کر بچوں کو تکلیف نہ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4039]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1577
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1577 ترقیم شاملہ: -- 4040
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: " دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا لَنَا حَجَّامًا، فَحَجَمَهُ، فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ أَوْ مُدٍّ أَوْ مُدَّيْنِ وَكَلَّمَ فِيهِ، فَخُفِّفَ عَنْ ضَرِيبَتِهِ ".
شعبہ نے ہمیں حمید سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ایک پچھنے لگانے والے غلام کو بلایا اس نے آپ کو پچھنے لگائے تو آپ نے اسے ایک صاع، ایک مد یا دو مد دینے کا حکم دیا اور اس کے متعلق (اس کے مالکوں سے) بات کی تو اس کے محصول میں کمی کر دی گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4040]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ایک سینگی لگانے والے غلام کو بلوایا، اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سینگی لگائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ”ایک صاع یا ایک دو مد (اناج)“ دینے کا حکم دیا، اور اس کے بارے میں (اس کے مالکوں سے) گفتگو کی، تو اس کے خراج میں تخفیف کر دی گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4040]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1577
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1202 ترقیم شاملہ: -- 4041
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، كِلَاهُمَا عَنْ وُهَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَاسْتَعَطَ ".
طاوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور سینگی لگانے والے کو اس کی اجرت دی اور آپ نے ناک کے ذریعے سے دوا لی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4041]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور سینگی لگانے والے کو اس کی اجرت دی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک میں دوائی ڈالی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4041]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1202
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة