🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالأَصْنَامِ:
باب: شراب اور مردار اور سور اور بتوں کی بیع حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1583 ترقیم شاملہ: -- 4052
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ : أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ، فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا ".
ابن جریج نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے خبر دی کہ انہوں نے انہیں (ابن شہاب کو) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی، آپ نے فرمایا: ”اللہ یہود کو ہلاک کرے! اللہ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4052]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ» ”اللہ تعالیٰ یہود کو غارت کرے،“ اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام قرار دیا، تو انہوں نے ان چربیوں کو بیچا اور ان کی قیمتیں کھائیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4052]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1583
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1583 ترقیم شاملہ: -- 4053
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَ عَلَيْهِمُ الشَّحْمُ، فَبَاعُوهُ وَأَكَلُوا ثَمَنَهُ ".
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ یہود کو ہلاک کرے! ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4053]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ و برباد کرے، ان پر چربی حرام کی گئی، تو انہوں نے اسے بیچ کر اس کی قیمت کھانی شروع کر دی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4053]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1583
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. باب الرِّبَا:
باب: سود کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1584 ترقیم شاملہ: -- 4054
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ ".
امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سونے کے عوض سونے کی بیع نہ کرو، الا یہ کہ برابر برابر ہو اور اسے ایک دوسرے سے کم زیادہ نہ کرو اور نہ تم چاندی کی بیع چاندی کے عوض کرو، الا یہ کہ مثل بمثل (یکساں) ہو اور اسے ایک دوسرے سے کم زیادہ نہ کرو اور اس میں سے جو غیر موجود ہو اس کی بیع موجود کے عوض نہ کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4054]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا، سونے کے عوض فروخت نہ کرو، مگر برابر برابر اور ایک دوسرے سے زائد نہ کرو، اور چاندی، چاندی کے عوض فروخت نہ کرو، مگر برابر برابر اور اسے ایک دوسرے پر زائد نہ کرو، اور موجود کو غیر موجود کے عوض فروخت نہ کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4054]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1584
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1584 ترقیم شاملہ: -- 4055
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ لَهُ: رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَأْثُرُ هَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ، فَذَهَبَ عَبْدُ اللَّهِ، وَنَافِعٌ مَعَهُ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ رُمْحٍ، قَالَ نَافِعٌ: فَذَهَبَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَنَا مَعَهُ وَاللَّيْثِيُّ حَتَّى دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا أَخْبَرَنِي أَنَّكَ تُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَعَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى عَيْنَيْهِ وَأُذُنَيْهِ، فَقَالَ: أَبْصَرَتْ عَيْنَايَ وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهُ بِنَاجِزٍ إِلَّا يَدًا بِيَدٍ "
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی اور انہوں نے نافع سے روایت کی کہ بنو لیث کے ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بیان کرتے ہیں۔ قتیبہ کی روایت میں ہے: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما چلے اور نافع بھی ساتھ تھے۔۔ اور ابن رمح کی حدیث میں ہے: نافع نے کہا: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما چلے، میں اور لیثی بھی ان کے ساتھ تھے۔۔ حتیٰ کہ وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے اور کہا: اس آدمی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی چاندی کے عوض بیع سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ برابر برابر ہو اور سونے کی سونے کے عوض بیع سے (منع فرمایا) الا یہ کہ برابر برابر ہو؟ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اپنی دو انگلیوں سے اپنی دونوں آنکھوں اور دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میری دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے دونوں کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”تم سونے کے عوض سونے کی اور چاندی کے عوض چاندی کی بیع نہ کرو مگر یہ کہ یکساں اور اسے ایک دوسرے سے کم زیادہ نہ کرو اور اس میں سے کسی غیر موجود چیز کی موجود کے ساتھ بیع نہ کرو، الا یہ کہ دست بدست ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4055]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے روایت کرتے ہیں کہ بنو لیث کے ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بتایا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں، قتیبہ کی روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور نافع اس کے ساتھ گئے، اور ابن رمح کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ لیثی کے ساتھ گئے، اور میں بھی ان کے ساتھ تھا، حتیٰ کہ وہ (ابن عمر) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لے گئے اور ان سے کہا: اس آدمی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”چاندی کو چاندی کے عوض، برابر برابر کے سوا، بیچنے سے منع فرمایا ہے اور سونے کی سونے کے عوض بیع سے بھی برابر برابر صورت کے سوا منع فرمایا ہے،“ تو حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے اپنی دو انگلیوں سے اپنی دونوں آنکھوں اور دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے کہا: میری دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے دونوں کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”سونا سونے کے عوض فروخت نہ کرو، اور چاندی چاندی کے عوض مت بیچو، مگر برابر برابر، اور بعض کو بعض پر زیادہ کر کے فروخت نہ کرو، اور اس میں سے جو غائب ہو تو اس کو موجود کے عوض فروخت نہ کرو، مگر دست بدست فروخت کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4055]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1584
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1584 ترقیم شاملہ: -- 4056
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
جریر بن حازم، یحییٰ بن سعید اور ابن عون، سب نے نافع سے روایت کی، لیث کے نافع سے، ان کی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور ان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی طرح۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4056]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی سندوں سے، نافع کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4056]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1584
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1584 ترقیم شاملہ: -- 4057
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ ".
ابوصالح نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سونے کی سونے کے عوض اور چاندی کی چاندی کے عوض بیع نہ کرو مگر یہ کہ وزن بوزن مثل بمثل (معیار میں یکساں) برابر برابر ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4057]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا، سونے کے عوض اور چاندی، چاندی کے عوض فروخت نہ کرو، مگر دونوں کا وزن اور ناپ برابر ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4057]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1584
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1585 ترقیم شاملہ: -- 4058
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وأحمد بن عيسى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَبِي عَامِرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ، وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ ".
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایک دینار کی دو دیناروں کے عوض اور ایک درہم کی دو درہموں کے عوض بیع نہ کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4058]
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دینار کو دو دینار کے عوض نہ بیچو اور نہ ہی ایک درہم کو دو درہم کے عوض فروخت کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4058]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1585
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. باب الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا:
باب: بیع صرف اور سونے کی چاندی کے ساتھ نقد بیع۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1586 ترقیم شاملہ: -- 4059
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلْتُ أَقُولُ مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاهِمَ فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَرِنَا ذَهَبَكَ ثُمَّ ائْتِنَا إِذَا جَاءَ خَادِمُنَا نُعْطِكَ وَرِقَكَ. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ كَلاَّ وَاللَّهِ لَتُعْطِيَنَّهُ وَرِقَهُ أَوْ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْهِ ذَهَبَهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ «‏‏‏‏الْوَرِقُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ» .‏‏‏‏
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی اور انہوں نے مالک بن اوس بن حدثان سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں (لوگوں کے سامنے) یہ کہتا ہوا آیا: (سونے کے عوض) درہموں کا تبادلہ کون کرے گا؟ تو حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔۔ اور وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔۔ ہمیں اپنا سونا دکھاؤ، پھر (ذرا ٹھہر کے) ہمارے پاس آنا، جب ہمارا خادم آئے گا تو ہم تمہیں تمہاری چاندی (کے درہم) دے دیں گے۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! تم انہیں چاندی دو یا ان کا سونا انہیں واپس کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”سونے کے عوض چاندی (کی بیع) سود ہے، الا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ (دست بدست) ہو اور گندم کے عوض گندم سود ہے، الا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو اور جو کے عوض جو سود ہے، الا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو اور کھجور کے عوض کھجور سود ہے، الا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4059]
حضرت مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں یہ کہتا ہوا آگے بڑھا کہ کون درہم فروخت کرنا چاہتا ہے؟ تو حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ، جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، کہنے لگے: ہمیں اپنا سونا دکھاؤ، پھر ہمارے پاس اس وقت آنا جب ہمارا خادم آ جائے تو ہم تمہیں چاندی دے دیں گے۔ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہرگز نہیں ہو گا، ابھی اس کو چاندی دو یا اس کا سونا اسے لوٹا دو؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”چاندی کا سونے سے تبادلہ سود ہے، الا یہ کہ دست بدست ہو (لو، دو) اور گندم کا گندم سے تبادلہ سود ہے، الا یہ کہ نقد بنقد ہو اور جَو کا جَو سے تبادلہ سود ہے، مگر جو دست بدست ہو، اور تمر کا تمر سے تبادلہ سود ہے، اگر نقد بنقد نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4059]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1586
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1586 ترقیم شاملہ: -- 4060
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ.
ابن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ (یہی) روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4060]
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ روایت اپنے تین اور اساتذہ سے، زہری رحمہ اللہ ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4060]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1586
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1587 ترقیم شاملہ: -- 4061
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ: كُنْتُ بِالشَّامِ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ، فَجَاءَ أَبُو الْأَشْعَثِ ، قَالَ: قَالُوا: أَبُو الْأَشْعَثِ، أَبُو الْأَشْعَثِ، فَجَلَسَ فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْ أَخَانَا حَدِيثَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: " نَعَمْ غَزَوْنَا غَزَاةً وَعَلَى النَّاسِ مُعَاوِيَةُ، فَغَنِمْنَا غَنَائِمَ كَثِيرَةً، فَكَانَ فِيمَا غَنِمْنَا آنِيَةٌ مِنْ فِضَّةٍ فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ رَجُلًا أَنْ يَبِيعَهَا فِي أَعْطِيَاتِ النَّاسِ، فَتَسَارَعَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ، فَبَلَغَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَقَامَ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، عَيْنًا بِعَيْنٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى فَرَدَّ النَّاسُ مَا أَخَذُوا، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: أَلَا مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ قَدْ كُنَّا نَشْهَدُهُ وَنَصْحَبُهُ، فَلَمْ نَسْمَعْهَا مِنْهُ، فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَأَعَادَ الْقِصَّةَ، ثُمَّ قَالَ: لَنُحَدِّثَنَّ بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ كَرِهَ مُعَاوِيَةُ أَوَ قَالَ: وَإِنْ رَغِمَ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَصْحَبَهُ فِي جُنْدِهِ لَيْلَةً سَوْدَاءَ "، قَالَ حَمَّادٌ: هَذَا أَوْ نَحْوَهُ،
حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی اور انہوں نے ابوقلابہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں شام میں ایک مجلس میں تھا جس میں مسلم بن یسار بھی تھے، اتنے میں ابواشعث آئے تو لوگوں نے کہا: ابواشعث، (آگئے) میں نے کہا: (اچھا) ابواشعث! وہ بیٹھ گئے تو میں نے ان سے کہا: ہمارے بھائی! ہمیں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کیجیے۔ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے ایک غزوہ لڑا اور لوگوں کے امیر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ انہیں لوگوں کو ملنے والے عطیات (کے بدلے) میں فروخت کر دے۔ (جب عطیات ملیں گے تو قیمت اس وقت دراہم کی صورت میں لے لی جائے گی) لوگوں نے ان (کو خریدنے) میں جلدی کی۔ یہ بات حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ کھڑے ہوئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ سونے کے عوض سونے کی، چاندی کے عوض چاندی کی، گندم کے عوض گندم کی، جو کے عوض جو کی، کھجور کے عوض کھجور کی اور نمک کے عوض نمک کی بیع سے منع فرما رہے تھے، الا یہ کہ برابر برابر، نقد بنقد ہو۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سود کا لین دین کیا۔ (یہ سن کر) لوگوں نے جو لیا تھا واپس کر دیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی تو وہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا: سنو! لوگوں کا حال کیا ہے! وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرتے ہیں، ہم بھی آپ کے پاس حاضر ہوتے اور آپ کے ساتھ رہتے تھے لیکن ہم نے آپ سے وہ (احادیث) نہیں سنیں۔ اس پر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا) سارا واقعہ دہرایا اور کہا: ہم وہ احادیث ضرور بیان کریں گے جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں، خواہ معاویہ رضی اللہ عنہ ناپسند کریں۔۔ یا کہا: خواہ ان کی ناک خاک آلود ہو۔۔ مجھے پروا نہیں کہ میں ان کے لشکر میں ان کے ساتھ ایک سیاہ رات بھی نہ رہوں۔ حماد نے کہا: یہ (کہا:) یا اس کے ہم معنی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4061]
ابو قلابہ بیان کرتے ہیں کہ میں شام میں ایک مجلس میں تھا، جس میں مسلم بن یسار بھی موجود تھے، تو ابو اشعث بھی آ گئے، لوگوں نے کہا: ابو اشعث آ گئے، ابو اشعث آ گئے، وہ بیٹھ گئے تو میں نے ان سے کہا: ہمارے بھائی (مسلم بن یسار) کو حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث سنائیے، تو انہوں نے کہا: ہاں، ہم ایک جنگ میں شریک ہوئے، جس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو کہا: اسے لوگوں کو عطیات کے حاصل ہونے کے وقت کی مدت کے ادھار پر فروخت کر دو، لوگوں نے اس کے لیے جلدی کی، حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کو اس کا پتا چلا، تو وہ کھڑے ہو کر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”سونے کی سونے سے اور چاندی کی چاندی سے اور گندم کی گندم سے اور جَو کی جَو سے، کھجور کی کھجور سے اور نمک کی نمک سے بیع سے منع فرما رہے تھے، الا یہ کہ برابر برابر اور نقد بنقد ہو، تو جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سودی لین دین کیا“، تو لوگوں نے جو کچھ لیا تھا، اس کو واپس کر دیا، اس کا پتا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو چلا، تو وہ خطاب کے لیے کھڑے ہو گئے اور کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرتے ہیں، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، تو ہم نے تو وہ احادیث آپ سے نہیں سنیں، تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور واقعہ دہرایا اور کہا: ہم وہ باتیں بیان کریں گے جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں، خواہ معاویہ کو ناپسند ہو، یا یہ کہا: «إِنْ رَغِمَ» ”خواہ ان کی ناک خاک آلود ہو“۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4061]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1587
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں