مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. الْحَسَبُ الْمَالُ، وَالْكَرَمُ التَّقْوَى
حسب مال اور بزرگی تقویٰ ہے
حدیث نمبر: 21
21 - أنا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ الْخَوْلَانِيُّ، أنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو الْبَهِيِّ مَيْمُونُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ رَوْحٍ التَّنُوخِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ بَحْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى وَالْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ أَبُو عُبَيْدٍ النَّحْوِيُّ، ثنا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَسَبُ الْمَالُ، وَالْكَرَمُ التَّقْوَى»
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسب مال ہے اور بزرگی تقویٰ ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 21]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الترمذي: 3271، وابن ماجه: 4219، و أحمد: 5/ 10» قتادہ مدلس کا عنعنہ ہے۔ قال الشيخ زبير على زئي: (3271) إسناده ضعيف
وضاحت: فائدہ: سیدنا برید ہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا والوں کے نزدیک حسب مال ہے جس کی طرف وہ جاتے ہیں۔“ (نسائی: 3225، وسندہ صحیح) اور قرآن مجید میں ہے: «إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» (الحجرات: 13) ”بے شک تم میں سب سے زیادہ بزرگی والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے ۔“ صحیح بخاری میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”لوگوں میں سب سے زیادہ بزرگی والا کون ہے ؟ پھر خود ہی جواب دیا کہ ان میں سب سے زیادہ بزرگی والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو ان میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے ۔“ (بخاری: 4689)
12. الْخَيْرُ عَادَةٌ، وَالشَّرُّ لَجَاجَةٌ
نیکی عادت اور بدی جھگڑا ہے
حدیث نمبر: 22
22 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بُنْدَارٍ، أبنا أَبُو عَرُوبَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ جُنَاحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَيْرُ عَادَةٌ، وَالشَّرُّ لَجَاجَةٌ»
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی عادت اور ہدی جھگڑا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 22]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن ماجه: برقم: 221، والمعجم الكبير: 904»
وضاحت: تشریح - ”نیکی عادت ہے“ مطلب یہ ہے کہ نیکی ہر انسان کی فطری عادت ہے ۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ نیک اور اچھے کام کرے، سیدھے راستے پر چلے مگر ماحول و معاشرہ اور شیطانی وسوسے اس کے لیے رکاوٹ بن جاتے ہیں یوں وہ اپنی فطری عادت نیکی سے محروم رہ جاتا ہے ۔
”بدی جھگڑا ہے“ فطرت سے ہٹ کر کیا جانے والا کام خصومت، جھگڑا اور زبردستی ہے یہی وجہ ہے کہ انسان جب گناہ کرنے لگتا ہے تو اس کے اندر ایک عجیب سی کشمکش پیدا ہوتی ہے ۔ نفس امارہ برائی کی طرف کھینچتا ہے جبکہ فطرت جسے ہم ضمیر کہتے ہیں اسے برائی سے روکتی ہے ۔ بہر حال انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنی فطری عادت نیکی کو اپنائے اور غیر فطری عادت بدی سے اپنا دامن محفوظ رکھے ۔
”بدی جھگڑا ہے“ فطرت سے ہٹ کر کیا جانے والا کام خصومت، جھگڑا اور زبردستی ہے یہی وجہ ہے کہ انسان جب گناہ کرنے لگتا ہے تو اس کے اندر ایک عجیب سی کشمکش پیدا ہوتی ہے ۔ نفس امارہ برائی کی طرف کھینچتا ہے جبکہ فطرت جسے ہم ضمیر کہتے ہیں اسے برائی سے روکتی ہے ۔ بہر حال انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنی فطری عادت نیکی کو اپنائے اور غیر فطری عادت بدی سے اپنا دامن محفوظ رکھے ۔
13. السَّمَاحُ رَبَاحٌ وَالْعُسْرُ شُؤْمٌ
نرم ہونا نفع مند اور سخت ہونا نحوست ہے
حدیث نمبر: 23
23 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ، أبنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بُنْدَارٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو عَرُوبَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ بَكْرِ بْنِ غَيْلَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّمَاحُ رَبَاحٌ، وَالْعُسْرُ شُؤْمٌ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نرم ہونا نفع مند اور سخت ہونا نحوست ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 23]
تخریج الحدیث: (موضوع، عبداللہ بن ابراہیم غفاری متروک ہے۔ نیز عبدالرحمن بن زید بن اسلم کی اپنے والد سے روایت موضوع ہوتی ہے۔)
14. الْحَزْمُ سُوءُ الظَّنِّ
احتیاط بد گمانی ہے
حدیث نمبر: 24
24 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، أبنا الْقَاضِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بُنْدَارِ بْنِ خَيْرٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَوْدُودٍ، أبنا أَبُو تَقِيٍّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ كَامِلٍ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَزْمُ سُوءُ الظَّنِّ»
عبدالرحمن بن عائد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احتیاط بدگمانی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 24]
تخریج الحدیث: «مرسل ضعيف جدا، المراسيل لابن ابي حاتم، 445» عبدالرحمن بن عائذ صحابی نہیں۔ نیز اس میں ولید بن کامل لین الحدیث ہے۔ دیکھئے: السلسة الضعيفة: 1151
15. الْوَلَدُ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ
اولاد بخل اور بزدلی (کا باعث) ہے
حدیث نمبر: 25
25 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ طَالِبٍ، أبنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلَّادٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَفَّانُ، ثنا وَهَيْبٌ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ يَعْلَى الْعَامِرِيِّ، قَالَ: جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ يَسْتَبِقَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ وَقَالَ: «الْوَلَدُ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ»
سیدنا یعلی عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنہما دوڑتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گلے لگایا اور فرمایا: ”اولاد بخل اور بزدلی (کا باعث) ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 25]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، أخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 4799، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3666، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 20922، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17836، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 32844، والطبراني فى «الكبير» برقم: 2587، 703، 704»
حدیث نمبر: 26
26 - أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو إِبْرَاهِيمَ أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْمَيْمُونِ بْنِ حَمْزَةَ الْحُسْنِيُّ، ثنا جَدِّي أَبُو الْقَاسِمِ الْمَيْمُونُ بْنُ حَمْزَةَ الْحُسْنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ النُّعْمَانِ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَبَّاسٌ النَّرْسِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، ثنا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي رَاشِدٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ يَعْلَى بْنُ مُرَّةَ، أَنَّ الْحَسَنَ، وَالْحُسَيْنَ، أَقْبَلَا يَسْتَبِقَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَنْ جَاءَهُ أَحَدُهُمَا جَعَلَ يَدَهُ فِي عُنُقِهِ، ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُ فَجَعَلَ يَدَهُ فِي عُنُقِهِ، فَقَبَّلَ هَذَا، ثُمَّ قَبَّلَ هَذَا، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا، أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْهَلَةٌ مَجْبَنَةٌ، وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا رَبُّ الْعَالَمِينَ بِوَجٍّ»
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما دوڑتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ان میں سے ایک آپ کے پاس (پہلے) آ گیا، آپ نے اپنا ہاتھ اس کی گردن پر رکھا پھر دوسرا بھی آ گیا تو آپ نے اپنا (دوسرا) ہاتھ اس کی گردن پر رکھا پس اس کا بوسہ لیا پھر اس کا بوسہ لیا اور پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں لہٰذا آپ بھی ان سے محبت رکھیں۔ (اور فرمایا) لوگو! بے شک اولاد بخل، جہالت اور بزدلی (کا باعث) ہے۔ (اور فرمایا) بے شک رب العالمین نے جس زمین کو سب سے آخر میں پامال کیا وہ ’وج‘ ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 26]
تخریج الحدیث: «صحيح، المعجم الكبير: 703 704جز 22- أحمد: 172/4»
وضاحت: تشریح- ان احادیث میں تین باتیں بیان فرمائی گئی ہیں:
① سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہ کی فضیلت کہ جب وہ دوڑتے ہوئے آئے تو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے گلے لگایا، بوسہ لیا اور ان کے لیے دعا فرمائی۔
② اولاد کو آزمائش قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ بخل، جہالت اور بزدلی کا باعث ہے، اس لیے کہ انسان اولاد کی خاطر جہاد میں جانے سے ڈرتا اور سستی دکھاتا ہے کہ اگر مارا گیا تو بچوں کا کیا بنے گا؟ یوں وہ بزدلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اولاد کی خاطر لوگوں سے جھگڑ پڑتا ہے، جہالت دیکھتا ہے، عدل و انصاف چھوڑ دیتا ہے، یوں اولا د اس کے لیے جہالت کا باعث بنتی ہے اور اولاد کے لیے مال جمع کرتا ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا کہ یہ اولاد کے کام آئے گا، لہٰذا وہ بخل کرنے لگ جاتا ہے۔ یوں اولا د بخل کا باعث بن جاتی ہے۔
③ آپ نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس زمین کو سب سے آخر میں پامال کیا وہ وج ہے۔ وج طائف میں ایک وادی ہے۔ اور ہوا بھی اسی طرح کہ مشرکین سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں آخری معرکہ جو ہوا اور جس میں انہیں شکست ہوئی، وہ ”وج“ میں ہوا تھا اس کے بعد غزوہ تبوک ہوا مگر اس میں لڑائی نہیں ہوئی تھی۔
① سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہ کی فضیلت کہ جب وہ دوڑتے ہوئے آئے تو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے گلے لگایا، بوسہ لیا اور ان کے لیے دعا فرمائی۔
② اولاد کو آزمائش قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ بخل، جہالت اور بزدلی کا باعث ہے، اس لیے کہ انسان اولاد کی خاطر جہاد میں جانے سے ڈرتا اور سستی دکھاتا ہے کہ اگر مارا گیا تو بچوں کا کیا بنے گا؟ یوں وہ بزدلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اولاد کی خاطر لوگوں سے جھگڑ پڑتا ہے، جہالت دیکھتا ہے، عدل و انصاف چھوڑ دیتا ہے، یوں اولا د اس کے لیے جہالت کا باعث بنتی ہے اور اولاد کے لیے مال جمع کرتا ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا کہ یہ اولاد کے کام آئے گا، لہٰذا وہ بخل کرنے لگ جاتا ہے۔ یوں اولا د بخل کا باعث بن جاتی ہے۔
③ آپ نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس زمین کو سب سے آخر میں پامال کیا وہ وج ہے۔ وج طائف میں ایک وادی ہے۔ اور ہوا بھی اسی طرح کہ مشرکین سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں آخری معرکہ جو ہوا اور جس میں انہیں شکست ہوئی، وہ ”وج“ میں ہوا تھا اس کے بعد غزوہ تبوک ہوا مگر اس میں لڑائی نہیں ہوئی تھی۔
16. الْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ
فحش گوئی بداخلاقی میں سے ہے
حدیث نمبر: 27
27 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الصَّاغَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ»
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فحش گوئی بداخلاقی میں سے ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 27]
تخریج الحدیث: «صحيح، ابن ماجه: 4184، ترمذي: 2009، سنن النسائي الصغرى: 2009، وأحمد فى «مسنده» برقم: 10661، عن ابي هريرة، أخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5704، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 171، والطبراني فى «الكبير» برقم: 409، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 5055، 8607، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1091، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 3206»
وضاحت: تشریح- جو شخص زبان کا بے باک ہو کہ ہر بری اور فحش بات بے دھڑک زبان سے نکال دے، گالی گلوچ اور گندی زبان بکتا پھرے تو سمجھ لو کہ وہ شرم و حیا سے کورا ہے اور اخلاق نام کی اس کے اندر کوئی چیز نہیں کیونکہ اگر اس کے اندر اخلاق ہوتا تو وہ زبان کا سوچ سمجھ کر استعمال کرتا لہٰذا فرمایا کہ فحش گوئی اور بدکلامی بداخلاقی کی علامت اور اس کا حصہ ہے۔
17. الْقُرْآنُ هُوَ الدَّوَاءُ
قرآن دواء ہے
حدیث نمبر: 28
28 - حَدَّثَ أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُفْلِسِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُسَيْنِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْأَوْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُتْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الدَّهَّانُ، عَنْ سُعَادٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْقُرْآنُ هُوَ الدَّوَاءُ»
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن دواء ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 28]
تخریج الحدیث: إسناده ضعيف جدا، حارث سخت ضعیف ہے اس میں اور بھی علتیں ہیں۔
وضاحت: فائدہ: روایت مذکوره اگر چه ضعیف ہے تاہم یہ بات برحق ہے کہ قرآن مجید دواء ہے اور ہر طرح کی بیماریوں کے لیے شفا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ”اور ہم قرآن میں سے تھوڑا تھوڑا نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لیے سراسر شفا اور رحمت ہے۔“ (بنی اسرائیل: (92) دوسری جگہ ارشاد ہے: ”فرمادیجیے: یہ (قرآن): مومنوں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے۔“ (حم السجده: 44) لیکن یہ یادر ہے کہ یہ شفا آیات لٹکانے یا انہیں دھو کر پینے میں نہیں۔
18. الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ
دعا ہی عبادت ہے
حدیث نمبر: 29
29 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلِ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا بَكْرُ بْنُ فَرْقَدٍ أَبُو أُمَيَّةَ التَّمِيمِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِلْغَارِيَّةَ، ثنا أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنَانِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو الطَّيِّبِ الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا أَبُو قُدَامَةَ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، كُلُّهُمْ عَنْ ذَرٍّ، عَنْ يُسَيْعٍ، فِي حَدِيثِ أَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَضْرَمِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ»
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دعا ہی عبادت ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 29]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 890، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1808، 1809، 1810، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11400، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1479، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2969، 3247، 3372، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3828، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18643، والطبراني فى «الكبير» برقم: 189، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 3889، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1041، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29777»
حدیث نمبر: 30
30 - أنا أَبُو الْحَسَنِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ مِسْكِينٍ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْيُسَيْعِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ، {وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ، إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ} [غافر: 60]"
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دعا ہی عبادت ہے (اور اللہ کا فرمان ہے) «وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ» ۔“ (المؤمن: 60) ”اور تمہارے رب نے فرمایا: تم مجھے پکارو میں تمہاری پکار قبول کروں گا بے شک جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں، وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 30]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 890، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1808، 1809، 1810، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11400، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1479، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2969، 3247، 3372، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3828، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18643، والطبراني فى «الكبير» برقم: 189، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 3889، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1041، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29777»
وضاحت: تشریح -دعا کو عبادت اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ ہر عبادت کی اصل ہے، ہر عبادت میں دعا شامل ہے اور پھر رب العالمین کا فرمان بھی اس بات کی دلیل ہے کہ دعا ہی اصل عبادت اور اللہ کو پکارنا ہی حقیقی بندگی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالی نے دعا کو عبادت کہا ہے اس سے ثابت ہوا کہ جو شخص اللہ کو پکارتا ہے اور اس سے اپنی حاجات طلب کرتا ہے گویا وہ اس کی عبادت کرتا ہے اور جو مافوق الاسباب اشیاء کے لیے اس کے علاوہ اس کی مخلوق میں سے کسی کو پکارتا ہے تو وہ در حقیقت اپنے خالق کو چھوڑ کر اس کی مخلوق کی عبادت کرتا ہے۔