مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے
حدیث نمبر: 61
61 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ بِدِمَشْقَ، أبنا أَبُو زَيْدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے لہٰذا اسے پانی کے ساتھ ٹھنڈا کرو۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 61]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه البخاري 3263، مسلم: 2210، ترمذي: 2074، ابن ماجه: 3471»
وضاحت: تشریح -بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔ اس فرمان رسول کا بہتر مطلب تو اللہ تعالیٰ ٰ ہی جانتا ہے، تا ہم بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بخار کے ذریعے جہنم کو یاد کرو یا جس طرح دنیا کی خوشیاں اور راحتیں جنت کی نعمتوں سے ایک طرح نسبت رکھتی ہیں اسی طرح دکھ اور غم کا بھی جہنم سے ایک تعلق ہے۔
”بخار کو پانی کے ساتھ ٹھنڈا کرو“ بعض اطباء کا کہنا ہے کہ بخار کی ہر صورت میں جب حرارت بہت بڑھ جائے تو پانی کے ساتھ دو طرح علاج کرتے ہیں: پہلا طریقہ برف یا پانی کے ساتھ خارجی طور پر سینک کرنا، جسم پر پٹیاں وغیرہ کرنا تاکہ درجہ حرارت نیچے آجائے۔ دوسرا طریقہ علاج یہ ہے کہ مریض کو بار بار تھوڑا تھوڑا پانی پلایا جائے تاکہ اس سے تمام اعضاء جسمانی کو بالخصوص گردوں کو اپنے اپنے کام پر لگایا جائے کہ وہ جسم کی توانائی کے لیے کچھ نہ کچھ کریں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوں: طب نبوی از ابن قیم، ص: 44)
”بخار کو پانی کے ساتھ ٹھنڈا کرو“ بعض اطباء کا کہنا ہے کہ بخار کی ہر صورت میں جب حرارت بہت بڑھ جائے تو پانی کے ساتھ دو طرح علاج کرتے ہیں: پہلا طریقہ برف یا پانی کے ساتھ خارجی طور پر سینک کرنا، جسم پر پٹیاں وغیرہ کرنا تاکہ درجہ حرارت نیچے آجائے۔ دوسرا طریقہ علاج یہ ہے کہ مریض کو بار بار تھوڑا تھوڑا پانی پلایا جائے تاکہ اس سے تمام اعضاء جسمانی کو بالخصوص گردوں کو اپنے اپنے کام پر لگایا جائے کہ وہ جسم کی توانائی کے لیے کچھ نہ کچھ کریں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوں: طب نبوی از ابن قیم، ص: 44)
41. الْحُمَّى حَظُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ مِنَ النَّارِ
بخار ہر مومن کے لیے جہنم کی آگ کا بدل ہے
حدیث نمبر: 62
62 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَاذَانَ، ثنا صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ رَاشِدٍ الْهِلَالِيُّ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّوَاسِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحُمَّى حَظُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ مِنَ النَّارِ، وَحَمَى لَيْلَةٍ يُكَفِّرُ خَطَايَا سَنَةٍ مَجَرَّمَةٍ»
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار ہر مومن کے لیے جہنم کی آگ کا بدل ہے اور ایک رات کا بخار سال بھر کے بڑے بڑے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 62]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف،» صالح بن أحمد ہروی اور أحمد بن راشد ہلالی کی توثیق نہیں ملی۔ نیز ابراہیم نخعی مدلس کا عنعنہ ہے۔
وضاحت: فائدہ-
سیدنا ابوریحانہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھٹی سے (آیا) ہے اور یہ مومن کے لیے جہنم کی آگ کا بدل ہے“۔ (التاريخ الكبير للبخاری: 63/7- شرح مشکل الآثار: 2217- وسنده حسن)
اور اسی طرح یہ بات بھی برحق ہے کہ بخار مومن کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخار کو گالی نہ دو بے شک یہ بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کرتی ہے۔ ”(مسلم: 2575)
دوسری حدیث میں ہے کہ ”جو مسلمان کسی بھی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہ اس طرح جھاڑتا ہے جس طرح درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔“ (بخاری: 5647)
تیسری حدیث یوں ہے کہ ”مسلمان کو جو بھی پریشانی، بیماری، فکر و غم اور تکلیف پہنچتی ہے یہاں تک کہ جو کانٹا بھی چبھتا ہے تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے گناہ معاف کرتا ہے۔“ (ایضاً: 5641) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوں راقم کی کتاب ”گناہوں کو مٹانے والے اعمال“۔
سیدنا ابوریحانہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھٹی سے (آیا) ہے اور یہ مومن کے لیے جہنم کی آگ کا بدل ہے“۔ (التاريخ الكبير للبخاری: 63/7- شرح مشکل الآثار: 2217- وسنده حسن)
اور اسی طرح یہ بات بھی برحق ہے کہ بخار مومن کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخار کو گالی نہ دو بے شک یہ بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کرتی ہے۔ ”(مسلم: 2575)
دوسری حدیث میں ہے کہ ”جو مسلمان کسی بھی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہ اس طرح جھاڑتا ہے جس طرح درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔“ (بخاری: 5647)
تیسری حدیث یوں ہے کہ ”مسلمان کو جو بھی پریشانی، بیماری، فکر و غم اور تکلیف پہنچتی ہے یہاں تک کہ جو کانٹا بھی چبھتا ہے تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے گناہ معاف کرتا ہے۔“ (ایضاً: 5641) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوں راقم کی کتاب ”گناہوں کو مٹانے والے اعمال“۔
42. الْقَنَاعَةُ مَالٌ لَا يَنْفَدُ
قناعت ایسا مال ہے جو ختم نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 63
63 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو رِفَاعَةُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي رِفَاعَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السَّدُوسِيُّ، إِمْلَاءً مِنْ حِفْظِهِ، ثنا ابْنُ مَنِيعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا خَلَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْقَنَاعَةُ مَالٌ لَا يَنْفَدُ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قناعت ایسا مال ہے جو ختم نہیں ہوتا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 63]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، قتادہ مدلس کا عنعنہ ہے۔»
43. الْأَمَانَةُ تَجُرُّ الرِّزْقَ، وَالْخِيَانَةُ تَجُرُّ الْفَقْرَ
امانت داری رزق لاتی ہے اور خیانت محتاجی لاتی ہے
حدیث نمبر: 64
64 - أَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْمُنْتَصِرِ الْأَشْتِيخَنِيُّ، قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ خُرَاسَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْبُخَارِيُّ الزَّاهِدُ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو ذَرٍّ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَالِكٍ التِّرْمِذِيُّ بِإِسْنَادِهِ الْمُقَدَّمِ ذِكْرُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ ذَلِكَ فِي خُطْبَتِهِ الْمُقَدَّمِ ذِكْرُهَا
ابوحاتم محمد بن عمر کہتے ہیں کہ ہمیں ابوذر احمد بن عبداللہ بن مالک ترمذی نے اپنی اس سند کے ساتھ بیان کیا جس کا ذکر گزر چکا ہے انہوں نے کہا: کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اپنے خطبہ میں ارشاد فرمائی تھی جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 64]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ديكهئے حديث نمبر 32»
44. الصُّبْحَةُ تَمْنَعُ الرِّزْقِ
صبح کا سونا رزق کو روکتا ہے
حدیث نمبر: 65
65 - أَخْبَرَنَا تُرَابُ بْنُ عُمَرَ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُفَسِّرِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُمَرَ الْبَزَّازُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الصُّبْحَةُ تَمْنَعُ الرِّزْقَ»
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح کا سونا رزق کو روکتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 65]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أحمد 731، شعب الايمان: 4402،» ابن ابی فروہ سخت ضعیف ہے۔ نیز اسماعیل بن عیاش کی غیر شامیوں سے روایت ضعیف ہوتی ہے اور یہ روایت بھی انہی سے ہے۔
45. الزِّنَى يُورِثُ الْفَقْرَ
زنا محتاج کر دیتا ہے
حدیث نمبر: 66
66 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْجِيزِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ، ثنا عَمِّي، ثنا الْمَاضِي بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ لَيْثٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الزِّنَى يُورِثُ الْفَقْرَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زنا محتاج کر دیتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 66]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شعب الايمان: 5035، علل الحديث لابن ابي حاتم 1230» ۔ لیث بن ابی سلیم ضعیف مدلس اور ماضی بن محمد ضعیف ہے۔
46. زِنَى الْعُيُونِ النَّظَرُ
آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے
حدیث نمبر: 67
67 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، أبنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ النَّاقِدُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَاطِبِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زِنَى الْعُيُونِ النَّظَرُ، وَزِنَى اللِّسَانِ النُّطْقُ، وَزِنَى الْيَدِ الْبَطْشُ، وَزِنَى الرِّجْلَيْنِ الْمَشْيُ، وَإِنَّمَا يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ عَنْهُ الْفَرْجُ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے، پاؤں کا زنا چلنا ہے اور بے شک شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب کرتی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 67]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه البخاري 6243، ومسلم: 2657، و أحمد: 2/ 276»
وضاحت: تشریح
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اعضاء انسانی آنکھ، زبان، ہاتھ، پاؤں وغیرہ کسی نہ کسی طرح سے زنا میں ملوث ہوتے ہیں، آنکھوں کا زنا کسی غیر محرم کی طرف بلا وجہ دیکھنا، زبان کا زنا فحش گوئی، ہاتھوں کا زنا کسی غیر محرم کو چھونا اور پاؤں کا زنا بے حیائی کے کاموں کی طرف چل کر جانا ہے۔
پھر شرم گاہ اس زنا کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔ چنانچہ اگر تو اس نے اعضاء کی خواہش کے مطابق عمل کیا تو یہ گویا اس نے تصدیق کی ہے اور اگر اس نے ان کے خلاف کیا تو اس نے تکذیب کی ہے۔ زنا کی شدید سنگینی اور اس کے انتہائی مہلک آثار و نتائج کے پیش نظر تمام مذاہب میں اس کی ممانعت ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ڈاکٹر فضل الٰہی حفظ اللہ کی کتاب ”زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات“
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اعضاء انسانی آنکھ، زبان، ہاتھ، پاؤں وغیرہ کسی نہ کسی طرح سے زنا میں ملوث ہوتے ہیں، آنکھوں کا زنا کسی غیر محرم کی طرف بلا وجہ دیکھنا، زبان کا زنا فحش گوئی، ہاتھوں کا زنا کسی غیر محرم کو چھونا اور پاؤں کا زنا بے حیائی کے کاموں کی طرف چل کر جانا ہے۔
پھر شرم گاہ اس زنا کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔ چنانچہ اگر تو اس نے اعضاء کی خواہش کے مطابق عمل کیا تو یہ گویا اس نے تصدیق کی ہے اور اگر اس نے ان کے خلاف کیا تو اس نے تکذیب کی ہے۔ زنا کی شدید سنگینی اور اس کے انتہائی مہلک آثار و نتائج کے پیش نظر تمام مذاہب میں اس کی ممانعت ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ڈاکٹر فضل الٰہی حفظ اللہ کی کتاب ”زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات“
47. الْعَمَائِمُ تِيجَانُ الْعَرَبِ
عمامے عربوں کا تاج ہیں
حدیث نمبر: 68
68 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَطَّارُ الْبَغْدَادِيُّ قَدِمَ عَلَيْنَا، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَخْلَدِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَسَنٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَمَائِمُ تِيجَانُ الْعَرَبِ، وَالِاحْتِبَاءُ حِيطَانُهَا، وَجُلُوسُ الْمُؤْمِنِ فِي الْمَسْجِدِ رِبَاطُهُ»
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمامے عربوں کا تاج ہیں، گوٹ مار کر بیٹھنا ان کی دیواریں ہیں اور مومن کا مسجد میں بیٹھنا اس کا سرحد پر پہرہ دینا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 68]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا،» موسیٰ بن ابراہیم مروزی سخت ضعیف ہے۔
48. الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ
حیا سراسر خیر ہے
حدیث نمبر: 69
69 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِرَاسٍ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكِنْدِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا خِرَاشٌ، ثنا مَوْلَايَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیا سراسر خیر ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 69]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا،» ابوسعید حسن بن علی بن زکریا کذاب اور خراش بن عبداللہ ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 70
70 - وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ رَبَاحٍ، ح وَأَخْبَرَنَا الْخَصِيبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شُعَيْبٍ، أبنا أَبِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا خَالِدُ بْنُ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ» وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَبِيبٍ الْحَارِثِيِّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ وَهُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ حَدَّثَ أَنَّ عِمْرَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَهُ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیا سراسر خیر ہے۔“ اسے مسلم نے بھی اپنی سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 70]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم: 37، وأبو داود:4796، و أحمد: 4/426، والمعجم الكبير: 501 تا 504 جز: 18»