مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. الرِّفْقُ رَأْسُ الْحِكْمَةِ
نرمی دانائی کی جڑ ہے
حدیث نمبر: 51
51 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَيْسَرَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْخَرَائِطِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرِّفْقُ رَأْسُ الْحِكْمَةِ»
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نرمی دانائی کی جڑ ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 51]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، مكارم الاخلاق للخرائطى: 791» علی بن الاعرابی کے حالات نہیں ملے۔ مزید دیکھئے: السلسلة الضعيفة: 1574
35. كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَّةُ كُلِّ حَكِيمٍ
دانائی کی بات ہر دانا کی متاع گم گشتہ ہے
حدیث نمبر: 52
52 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ السَّقَطِيُّ وَأَبُو عَبَّادٍ هُوَ ذُو النُّونِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَامِرٍ الصَّائِغُ التُّسْتَرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَسْكَرِيُّ اللُّغَوِيُّ، ثنا سُهَيْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الزِّيَادِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَفِيفُ بْنُ سَالِمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ فَضْلٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَّةُ كُلِّ حَكِيمٍ، وَإِذَا وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دانائی کی بات ہر دانا کی متاع گم گشتہ ہے اور جب وہ اسے ملے تو وہی اسے لینے کا زیادہ حق دار ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 52]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا: أخرجه الترمذي:2687، ابن ماجه: 416،» - ابراهيم بن فضل مدنی متروک ہے۔
36. الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ
نیکی حسن خلق (کا نام) ہے
حدیث نمبر: 53
53 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَيْسَرَانِيُّ، ثنا الْخَرَائِطِيُّ، ثنا الرَّمَادِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ: «الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ» الْحَدِيثُ
سیدنا نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی حسن خلق (کا نام) ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 53]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه مسلم 2553، ترمذي: 2389، الادب المفرد: 29»
وضاحت: تشریح- سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کی حقیقت کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیکی کے متعلق فرمایا کہ نیکی حسن خلق کا نام ہے، لیکن گناہ کے متعلق جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس روایت میں مذکور نہیں کیونکہ یہاں اختصار ہے، البتہ دوسری کتب میں ہے کہ ”گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے اور تو نا پسند کرے کہ لوگوں کو اس کا پتا چلے“۔ (مسلم: 2553)
”نیکی حسن خلق کا نام ہے۔“ اس میں حسن خلق کی فضیلت کی طرف بھی اشارہ ہے۔ حسن خلق کو اخلاق فاضلہ اور اچھے اخلاق بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مسلمان کے ان اعلیٰ اوصاف اور رویوں کا نام ہے جو اللہ کی مخلوق کے لیے مفید اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نیکی کہا ہے، یہ کتنی عظیم نیکی ہے؟ درج ذیل احادیث پر غور فرمائیں:
①: تم میں سے بہتر وہ ہے جو تم میں اخلاق کے لحاظ سے اچھا ہو۔“ (بخاری: 3559)
②:مجھے تم میں سے سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جو تم میں اخلاق کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے۔(بخاری:3759)
③:روز قیامت مومن کے میزان میں حسن خلق سے زیادہ وزنی چیز کوئی نہیں رکھی جائے گی۔ (الترمذي: 202 حسن)
⑤ ”سب سے کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والے ہیں۔“ (ابوداؤد: 4682، حسن)
”نیکی حسن خلق کا نام ہے۔“ اس میں حسن خلق کی فضیلت کی طرف بھی اشارہ ہے۔ حسن خلق کو اخلاق فاضلہ اور اچھے اخلاق بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مسلمان کے ان اعلیٰ اوصاف اور رویوں کا نام ہے جو اللہ کی مخلوق کے لیے مفید اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نیکی کہا ہے، یہ کتنی عظیم نیکی ہے؟ درج ذیل احادیث پر غور فرمائیں:
①: تم میں سے بہتر وہ ہے جو تم میں اخلاق کے لحاظ سے اچھا ہو۔“ (بخاری: 3559)
②:مجھے تم میں سے سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جو تم میں اخلاق کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے۔(بخاری:3759)
③:روز قیامت مومن کے میزان میں حسن خلق سے زیادہ وزنی چیز کوئی نہیں رکھی جائے گی۔ (الترمذي: 202 حسن)
⑤ ”سب سے کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والے ہیں۔“ (ابوداؤد: 4682، حسن)
حدیث نمبر: 54
54 - وَأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَيْسَرَانِيُّ، ثنا الْخَرَائِطِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا حَبِيبُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْيُمْنُ حُسْنُ الْخُلُقِ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برکت حسن خلق میں ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 54]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، مكارم الاخلاق للخرائطى: 62» ابوبكر بن ابی مريم ضعیف ہے۔
37. الشَّبَابُ شُعْبَةٌ مِنَ الْجُنُونِ، وَالنِّسَاءُ حَبَائِلُ الشَّيْطَانِ، وَالْخَمْرُ جِمَاعُ الْإِثْمِ، وَالْغُلُولُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ، وَالنِّيَاحَةُ مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ، وَالشَّقِيُّ مَنْ شَقِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ
جوانی جنون کا حصہ، عورتیں شیطانی جال، شراب گناہوں کا مجموعہ، خیانت جہنم کا انگارہ اور نوحہ عمل جاہلیت ہے۔ نیک بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت پکڑے اور بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بدبخت ہو۔
حدیث نمبر: 55
55 - أَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْمُنْتَصِرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزْدَادَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: تَلَقَّفْتُ هَذِهِ الْخُطْبَةُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ، وَذَكَرَ ذَلِكَ فِي خُطْبَةٍ طَوِيلَةٍ
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ خطبہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سن کر حاصل کیا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا اور انہوں نے طویل خطبہ میں یہ (مذکورہ) بات بھی ذکر کی۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 55]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، دار قطني:4/ 247 - مختصراً» - عبد اللہ بن مصعب عن ابیہ عن جدہ کی روایت منکر ہے۔
وضاحت: فائدہ:
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”عبد اللہ بن مصعب نے عن ابیہ عن جدہ کی سند سے ایک منکر خطبہ روایت کیا ہے اور ان میں جہالت بھی ہے“۔ دیکھئے: (میزان الاعتدال: 506/2 ـ السلسلة الضعيفة:2464)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”عبد اللہ بن مصعب نے عن ابیہ عن جدہ کی سند سے ایک منکر خطبہ روایت کیا ہے اور ان میں جہالت بھی ہے“۔ دیکھئے: (میزان الاعتدال: 506/2 ـ السلسلة الضعيفة:2464)
حدیث نمبر: 56
56 - أنا أَبُو ذَرٍّ عَبْدُ بْنُ أَحْمَدَ، إِجَازَةً، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَزْرَقُ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ «وَفِيهَا الْخَمْرُ جِمَاعُ الْإِثْمِ»
ایک دوسری سند سے بھی اسی طرح مروی ہے اور اس میں ہے کہ ”شراب گناہوں کا مجموعہ ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 56]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، دار قطني:4/ 247 - مختصراً» - عبد اللہ بن مصعب عن ابیہ عن جدہ کی روایت منکر ہے۔
38. الْخَمْرُ أُمُّ الْخَبَائِثِ
شراب تمام خباثتوں کی جڑ ہے
حدیث نمبر: 57
57 - أَخْبَرَنَا أَبُو ذَرٍّ عَبْدُ بْنُ أَحْمَدَ، إِجَازَةً، أبنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ وَأَبُو عُمَرَ الْقَاضِي قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ إِشْكَابَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي بِشْرِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَمْرُ أُمُّ الْخَبَائِثِ»
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شراب تمام خباثتوں کی جڑ ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 57]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، دار قطني: 4/ 247، المعجم الاوسط: 3667»
وضاحت: تشریح- اس حدیث میں شراب کو ”ام الخبائث“ کہا گیا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جو بندے کو دنیا کا چھوڑتی ہے نہ آخرت کا، جو بھی اس برائی میں ملوث ہوا وہ ہلاکت کے گڑھے میں جا گرا۔ قرآن مجید میں حرمت شراب پر بڑی واضح آیات ہیں۔ (دیکھئے، سورۃ المائدہ: 90 تا 92) اور احادیث میں بھی اس کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات بھی بیان فرمائے گئے ہیں۔ مثلاً:
① ”جس نے دنیا میں شراب پی اور وہ اس پر دوام کرتے ہوئے توبہ کیے بغیر مرگیا تو وہ آخرت میں شراب نہیں پی سکے گا۔“ (مسلم: 2003)
② ”شراب پینے والا جنت میں نہیں جائے گا۔“ (نسائی: 6755 حسن)
③ ”اللہ نے شراب پینے والے پر جنت حرام کر دی ہے۔“ (احمد: 2/ 29 وسندہ حسن)
4- ”شراب نوشی کا عادی بتوں کے پجاری کی طرح ہے۔“ (ابن ماجہ: 3375وسندہ حسن) ⑤ ”میری امت میں سے جس نے شراب پی اللہ اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں فرمائے گا۔“ (نسائی: 5667، وسند ہ صحیح)
① ”جس نے دنیا میں شراب پی اور وہ اس پر دوام کرتے ہوئے توبہ کیے بغیر مرگیا تو وہ آخرت میں شراب نہیں پی سکے گا۔“ (مسلم: 2003)
② ”شراب پینے والا جنت میں نہیں جائے گا۔“ (نسائی: 6755 حسن)
③ ”اللہ نے شراب پینے والے پر جنت حرام کر دی ہے۔“ (احمد: 2/ 29 وسندہ حسن)
4- ”شراب نوشی کا عادی بتوں کے پجاری کی طرح ہے۔“ (ابن ماجہ: 3375وسندہ حسن) ⑤ ”میری امت میں سے جس نے شراب پی اللہ اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں فرمائے گا۔“ (نسائی: 5667، وسند ہ صحیح)
39. الْحُمَّى رَائِدُ الْمَوْتِ
بخار موت کا پیش خیمہ ہے
حدیث نمبر: 58
58 - أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْقُوبَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ خُرَّزَاذَ النَّجِيرَمِيُّ، أبنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُهَلَّبِيُّ، أبنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ قُتَيْبَةَ، أبنا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنِيهِ ابْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحُمَّى رَائِدُ الْمَوْتِ، وَهِيَ سِجْنُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ يَحْبِسُ بِهَا عَبْدَهُ إِذَا شَاءَ، وَيُرْسِلُهُ إِذَا شَاءَ»
حسن بصری کہتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار موت کا پیش خیمہ ہے اور یہ زمین پر اللہ کا قید خانہ بھی ہے، وہ اس میں جب چاہتا ہے اپنے بندے کو قید کر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے چھوڑ دیتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 58]
تخریج الحدیث: «مرسل، المرض والكفارات لابن ابى الدنيا:73، شعب الايمان:9404» اسے حسن بصری تابعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 59
59 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْكِنْدِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِرَاسٍ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو عَلِيُّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَهُ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ، عَنِ الْمُحَبَّرِ بْنِ هَارُونَ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُرَقِّعِ، قَالَ: افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ وَهُوَ فِي أَلْفٍ وَثَمَانِمِائَةٍ فَقَسَمَ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا، لِكُلِّ مِائَةٍ سَهْمٌ قَالَ: وَهِيَ مَخْضَرَّةٌ مِنَ الْفَوَاكِهِ فَأَكَلُوا فَمَعَكَتْهُمُ الْحُمَّى فَشَكَوْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْحُمَّى رَائِدُ الْمَوْتِ وَسِجْنُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ» مُخْتَصَرٌ
سیدنا عبدالرحمن بن مرقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا اور وہ (صحابہ) اٹھارہ سو تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال غنیمت) اٹھارہ حصوں میں تقسیم کر دیا، ہر سو کے لیے ایک حصہ بنا دیا۔ کہتے ہیں: اور وہ علاقہ پھلوں سے شاداب تھا، انہوں نے وہ کھائے تو بخار غالب آ گیا چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! بے شک بخار موت کا پیش خیمہ ہے اور زمین پر اللہ تعالیٰ کا قید خانہ ہے۔“ یہ حدیث مختصر ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 59]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محبر بن ہارون نامعلوم راوی ہے»
40. الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے
حدیث نمبر: 60
60 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَعْرَابِيُّ، ثنا بَكْرٌ هُوَ ابْنُ سَهْلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مَالِكِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے لہٰذا اسے پانی کے ساتھ ٹھنڈا کرو۔“ یہ حدیث صحیح ہے، اسے بخاری نے مالک بن اسماعیل سے روایت کیا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 60]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه البخاري 3263، مسلم: 2210، ترمذي: 2074، ابن ماجه: 3471»