🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. خَشْيَةُ اللَّهِ رَأْسُ كُلِّ حِكْمَةٍ، وَالْوَرَعُ سَيِّدُ الْعَمَلِ
خشیت الٰہی ہر دانائی کی جڑ اور پرہیزگاری عمل کی سردار ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 41
41 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَطَّارُ الْبَغْدَادِيُّ قَدِمَ عَلَيْنَا، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْخُتُلِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ هَاشِمٍ السِّمْسَارُ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبِي قَالَ: حَدَّثَتْنَا سَعِيدَةُ بِنْتُ حُكَّامَةَ، عَنْ أُمِّهَا، عَنْ أَبِيهَا، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «خَشْيَةُ اللَّهِ رَأْسُ كُلِّ حِكْمَةٍ، وَالْوَرَعُ سَيِّدُ الْعَمَلِ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خشیت الٰہی ہر دانائی کی جڑ اور پرہیزگاری عمل کی سردار ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 41]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، الورع لابن ابى الدنيا: 11، حلية الاولياء: 2/ 277» حکامہ بنت عثمان کی اپنے والد سے روایت باطل ہے۔ الضعفاء للعقیلی: 3/ 936، السلسلة الضعيفة: 1583

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَمَسْأَلَةُ الْغَنِيِّ شَيْنٌ فِي وَجْهِهِ، وَمَسْأَلَةُ الْغَنِيِّ نَارٌ
مالدار کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور مالدار کا بھیک مانگنا اس کے چہرے پر عیب کا باعث ہے اور مالدار کا بھیک مانگنا جہنم کی آگ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 42
42 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْكَاتِبُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الرَّبِيعِ أَبُو حَمْزَةَ الْعَطَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَمَسْأَلَةُ الْغَنِيِّ شَيْنٌ فِي وَجْهِهِ، وَمَسْأَلَةُ الْغَنِيِّ نَارٌ»
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور مالدار کا بھیک مانگنا اس کے چہرے پر عیب کا باعث ہے اور مالدار کا بھیک مانگنا جہنم کی آگ ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 42]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، حسن بن ابی الحسن بصری مدلس کا عنعنہ ہے۔» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 43
43 - وأنا ابْنُ السِّمْسَارِ، ثنا أَبُو زَيْدٍ، ثنا الْفَرَبْرِيُّ، ثنا الْبُخَارِيُّ، نا مُسَدَّدُ، نا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، نا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 43]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2287، 2288، 2400، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1564، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1382، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4692، 4695، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1308، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2628، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2403، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11399، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7454، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1062، والطبراني فى «الصغير» برقم: 646، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 22845»
وضاحت: تشریح- مطلب یہ ہے کہ جو مقروض ادائے قرض کی استطاعت کے باوجود ٹال مٹول سے کام لے وہ ظالم ہے۔ قرض خواہ کو اجازت ہے کہ وہ ایسے ظالم شخص کو ذلیل کرے بلکہ جیل بھی بھجوا سکتا ہے، ہاں اگر مقروض مفلس ہو اور واقعتاً وہ ادائے قرض کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس کا حکم یہ نہیں بلکہ ایسے مقروض کے متعلق قرض خواہ کو رغبت دلائی گئی ہے کہ اگر وہ اسے مہلت دے تو اس کے لیے بڑا ثواب ہے۔ بہر حال ادائے قرض میں بلا وجہ تاخیر مناسب نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقروض کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔ (بخاری: 2289) اور ایک موقع پر آپ نے فرمایا تھا کہ شہید کے سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں سوائے قرض کے۔ آپ نے فرمایا کہ جبریل (ابھی ابھی) مجھے بتا کر گئے ہیں کہ شہید کو قرض کی معافی نہیں۔ (مسلم: 1885)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. التَّحَدُّثُ بِالنَّعَمِ شُكْرٌ
نعمتوں کو بیان کرنا شکر ادا کرنا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 44
44 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، عَنْ أَبِي وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّامِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّحَدُّثُ بِالنَّعَمِ شُكْرٌ»
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی) نعمتوں کو بیان کرنا شکر ادا کرنا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه أحمد فى «مسنده» برقم: 4/ 278، الشكر لابن ابى الدنيا برقم: 63، والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 8698»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 45
45 - أنا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَاغِنْدِيُّ وَالْمَحَامِلِيُّ، قَالَا: نا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ الْعَطَّارُ، نا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَبُو وَكِيعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّهُ خَطَبَ فَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «التَّحَدُّثُ بِنِعَمِ اللَّهِ شُكْرٌ، وَتَرْكَهَا كُفْرٌ»
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے خطبہ دیا تو بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ادا کرنا ہے اور نہ بیان کرنا ناشکری ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 45]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه أحمد فى «مسنده» برقم: 4/ 278، الشكر لابن ابى الدنيا برقم: 63، والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 8698»
وضاحت: تشریح- یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر ہے کہ اور اپنے رب کی نعمت کو خوب بیان کر۔ (الضحى: 11) یعنی شکر ادا کرنے کے لیے اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو، اس کا چرچا کرو کیونکہ تحدیث نعمت ادائے شکر ہی ہے۔ اور ادائے شکر کا فائدہ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: واقعی اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں ضرور ضرور تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر واقعی تم ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب بہت سخت ہے۔(ابراهيم: 7)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. انْتِظَارُ الْفَرَجِ بِالصَّبِرِ عِبَادَةٌ
صبر کے ساتھ کشائش و خوشحالی کا انتظار کرنا بھی عبادت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 46
46 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَاجِّ، أبنا الْفَضْلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ الْمَقْدِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِيَادٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ حُمَيْدٍ الْقَاضِي، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْتِظَارُ الْفَرَجِ بِالصَّبِرِ عِبَادَةٌ»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر کے ساتھ کشائش و خوشحالی کا انتظار کرنا بھی عبادت ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 46]
تخریج الحدیث: «موضوع، وأخرجه البيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 9531» عمرو بن حمید القاضی کذاب ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 47
47 - أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، أبنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَلَوِيُّ، أبنا أَبُو مُوسَى عِيسَى بْنُ مِهْرَانَ، ثنا حَسَنُ بْنُ حُسَيْنٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْمَكِّيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْتِظَارُ الْفَرَجِ بِالصَّبِرِ عِبَادَةٌ»
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر کے ساتھ کشائش و خوشحالی کا انتظار کرنا بھی عبادت ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 47]
تخریج الحدیث: «موضوع،ابوموسی عیسی بن مهران کذاب ہے۔» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. الصَّوْمُ جُنَّةٌ
روزہ ڈھال ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 48
48 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْمُحْسِنُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْكِرَامِ، أبنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّافِقِيُّ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ النَّزَّالِ، يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصَّوْمُ جُنَّةٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے، اسے بخاری نے قعنبی سے روایت کیا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 48]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 214، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2421، 3569، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2228، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2616، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 72، 3973، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17870، والدارقطني فى «سننه» برقم: 900، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22439» عروہ بن نزال کو صرف ابن حبان نے ثقہ کہا ہے، اس میں ایک اور بھی علت ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 49
49 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ، أبنا أَبُو زَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصِّيَامُ جُنَّةٌ» وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے۔ اور یہ (مکمل) حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 49]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1894، 1904، 5927، 7492، 7538، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1151، ومالك فى «الموطأ» برقم: 633، 634، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2215، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2363، والترمذي فى «جامعه» برقم: 764، 766، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1810، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1638، 1691، 3823، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8206، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7295، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1040، 1044»
وضاحت: تشریح -اس حدیث میں روزہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ روزہ ڈھال ہے۔ دنیا میں شیطان کے وار سے بچنے کے لیے اور آخرت میں عذاب جہنم سے بچنے کے لیے روزہ ایک ڈھال ہے جس طرح لڑائی میں ڈھال کے ذریعے دشمن کے وار سے بچا جاتا ہے اسی طرح شیطان مردودکے وار سے بچنے کے لیے روزہ ہے جب وہ بندے پر حملہ آور ہوتا ہے اور اسے مالک کی نافرمانی پر اکساتا ہے تو روزہ ڈھال بن کر اسے مالک کی نافرمانی سے بچالیتا ہے۔ پھر جب وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچا رہا تو آخرت میں عذاب جہنم سے بھی بچ جائے گا، ان شاء اللہ۔ یوں روزہ انسان کے لیے دنیا میں شیطانی وار اور آخرت میں عذاب نار سے بچنے کے لیے ڈھال ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. الزَّعِيمُ غَارِمٌ
ضامن تاوان بھرنے والا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 50
50 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرِو بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَاشِدٍ الْحَدَّادُ الْمُقْرِئُ، أبنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُهَيْلٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا ابْنُ عَيَّاشٍ، ثنا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أَمَامَهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامِ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ، وَالدَّيْنُ مَقْضِيُّ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ»
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں یہ ارشاد فرماتے سنا: ادھار لی ہوئی چیز واپس کی جائے، دودھ کے لیے لیا ہوا جانور بھی واپس کیا جائے، قرض ادا کیا جائے اور ضامن تاوان بھرنے والا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 50]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5094، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5749، 5750، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2870، 3565، والترمذي فى «جامعه» برقم: 670، 1265، 2120، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2398، 2405، 2713، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 427، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7950، والدارقطني فى «سننه» برقم: 2959، 2960، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22725»
وضاحت: تشریح- اس حدیث میں ادھار لی ہوئی چیزوں کی واپسی کا حکم فرمایا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مقروض کی طرف سے ضامن بنے تو مقروض کی عدم ادائیگی کی صورت میں وہ تاوان بھرنے کا ذمہ دار ہے۔ یعنی ضامن پر لازم ہے کہ وہ مقروض کی طرف سے قرض کی عدم ادائیگی کی صورت میں اپنے پاس سے رقم دے کر اس ذمہ داری کو پورا کرے۔ ہاں اگر صاحب حق معاف کر دے تو الگ بات ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں