🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند عمر بن عبد العزيز سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

12. بَابُ بَيَانِ الرِّوَايَةِ مِثْلَ الْحَدِيثِ السَّابِقِ
باب گزشتہ حدیث کے مثل روایت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 38
حَدَّثَنَا بَيَانٌ الْحَضْرَمِيُّ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ہمیں حدیث بیان کی بیان الحضرمی نے، انہوں نے کہا، ہمیں حدیث بیان کی سفیان نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے ہشام سے، انہوں نے یحییٰ سے، انہوں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی مثل روایت کیا۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبدالرحمن/حدیث: 38]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، الاستقراض، رقم: 2402، مسلم، المساقاة، رقم: 1550»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ ذِكْرِ الرِّوَايَةِ مِثْلَ الْحَدِيثِ السَّابِقِ
باب گزشتہ حدیث کے مانند روایت کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 39
حَدَّثَنَا بَيَانٌ الْحَضْرَمِيُّ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ہمیں حدیث بیان کی الحضرمی نے، انہوں نے کہا، ہمیں حدیث بیان کی سفیان نے عمرو سے، انہوں نے یحیٰی بن سعید سے، انہوں نے ابوبکر سے، انہوں نے عمر بن عبدالعزیز سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی مانند روایت کیا۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبدالرحمن/حدیث: 39]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، الاستقراض، رقم: 2402، مسلم، المسافاة، رقم: 1550»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ بَيَانِ الرِّوَايَةِ مِثْلَ الْحَدِيثِ مَعَ السَّنَدِ السَّابِقِ
باب گزشتہ سند کے ساتھ حدیث کے مثل روایت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 40
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، ثَنَا أَنَسُ بْنُ عَيَّاضٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ہمیں حدیث بیان کی ابو موسیٰ انصاری نے، انہوں نے کہا، ہمیں حدیث بیان کی انس بن عیاض نے یحیٰی بن سعید سے، انہوں نے ابو بکر بن محمد سے، انہوں نے عمر بن عبد العزیز سے، انہوں نے ابوبکر بن عبد الرحمن سے، انہوں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی مثل روایت کیا۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبدالرحمن/حدیث: 40]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، الاستقراض، رقم: 2402، مسلم، المساقاة، رقم: 1550»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ بَيَانِ أَنَّ صَاحِبَ الْمَالِ أَحَقُّ بِمَالِهِ عِنْدَ الْمُفْلِسِ
باب مفلس کے پاس اپنا مال پانے والے کے زیادہ حق دار ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 41
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، ثَنَا مُعَنُ بْنُ عِيسَى، ثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ، فَأَدْرَكَ رَجُلٌ مَالَهُ عِنْدَهُ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ.»
سيدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو آدمی مفلس ہو گیا، اور قرض خواہ نے اس کے پاس اپنا مال بعینہ پایا تو وہ اس کا دوسروں سے زیادہ حق دار ہے۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبدالرحمن/حدیث: 41]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، الاستقراض، رقم: 2402، مسلم، المساقاة، رقم: 1550»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ بَيَانِ ذِكْرِ أَوْ عَدَمِ ذِكْرِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي الْحَدِيثِ الْمُتَعَلِّقِ بِمَالِ الْمُفْلِسِ
باب مفلس کے مال سے متعلق حدیث میں عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے واسطے کے ذکر و عدمِ ذکر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 42
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
ہمیں حدیث بیان کی احمد بن عبداللہ نے، انہوں نے کہا، ہمیں حدیث بیان کی عبد الرحمن بن مہدی نے مالک بن انس سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے ابوبکر بن محمد سے، انہوں نے ابو بکر بن عبدالرحمن سے، انہوں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ اور ابو بکر بن محمد نے عمر بن عبد العزیز کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبدالرحمن/حدیث: 42]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، الاستقراض، رقم: 2402، مسلم، المسافاة، رقم: 1550»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ بَيَانِ الرِّوَايَةِ مِثْلَ الْحَدِيثِ السَّابِقِ
باب گزشتہ حدیث کے مثل روایت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 43
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ہمیں حدیث بیان کی ابو طاہر نے، انہوں نے کہا، ہمیں حدیث بیان کی ابن وہب نے، انہوں نے کہا، مجھے خبر دی مالک نے یحیٰی سے، انہوں نے ابو بکر بن محمد سے، انہوں نے عمر بن عبد العزیز سے، انہوں نے ابو بکر بن عبد الرحمن سے، انہوں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی مثل روایت کیا۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبدالرحمن/حدیث: 43]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، الاستقراض، رقم: 2402، مسلم، المساقاة، رقم: 1550»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ بَيَانِ أَنَّ صَاحِبَ الْمَالِ الأَصْلِيِّ أَحَقُّ بِمَالِهِ عِنْدَ الْمُفْلِسِ
باب مفلس کے پاس اصل مال پانے والے کے حق دار ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 44
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِبْرَاهِيمُ ، قَالا: ثنا هُشَيْمٌ ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهِ بِيَدِ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِمَّنْ سِوَاهُ مِنَ الْغُرَمَاءِ" .
سيدنا ابو ہريرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنا مال بعینہ مفلس شخص کے ہاتھ میں پا لیا تو وہ اس کا دوسرے قرض خواہوں سے زیادہ حق دار ہے۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبدالرحمن/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، الاستقراض، رقم: 2402، مسلم، المسافاة، رقم: 1550»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1. بَابُ السُّؤَالِ وَالْوَضْحِ فِي حَقِّ الْمُفْلِسِ فِي الْمَالِ الْمَوْجُودِ
باب مفلس کے پاس موجود سامان کے حق دار ہونے سے متعلق سوال اور اس کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 45
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، قَالَ: سُئِلَ سُفْيَانُ عَنْ رَجُلٍ ابْتَاعَ مَتَاعًا، فَأَفْلَسَ وَهُوَ بِعَيْنِهِ فَلَمْ يَنْقُدْهُ، أَوْ نَقَدَ طَائِفَةً مِنَ الثَّمَنِ، هَلْ يَأْخُذُ مَتَاعَهُ؟ فَحَدَّثَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ ابْتَاعَ سِلْعَةً ثُمَّ أَفْلَسَ صَاحِبُهَا فَوَجَدَهَا، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا دُونَ الْغُرَمَاءِ" .
ہمیں حدیث بیان کی محمد بن عبداللہ بن عمار موصلی نے، انہوں نے کہا، ہمیں حدیث بیان کی زید بن ابو زرقاء نے، انہوں نے کہا: سفیان رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا، ایک آدمی نے سامان خریدا اور مفلس ہو گیا اور وہ اس کے پاس بعینہ ہے اس نے اس کی قیمت ادا نہیں کی جبکہ کچھ لوگوں نے قیمت ادا کر دی کیا اس کا مال قرض خواہ لے لے گا؟ تو انہوں نے حدیث بیان کی یحیٰی بن سعید سے، انہوں نے ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے، انہوں نے عمر بن عبد العزیز سے، انہوں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے سامان خریدا، پھر مفلس ہو گیا، اور قرض خواہ نے اپنے مال کو مفلس کے پاس موجود پایا تو وہ اس کا دوسروں سے زیادہ حق دار ہے۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبدالرحمن/حدیث: 45]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، الاستقراض، رقم: 2402، مسلم، المسافاة، رقم: 1550»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ بَيَانِ أَنَّ صَاحِبَ الْمَالِ أَحَقُّ بِمَالِهِ عِنْدَ الْمُفْلِسِ
باب مفلس کے پاس اپنا سامان پانے والے کے زیادہ حق دار ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 46
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الأَبْطَحِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَ سِلْعَتَهُ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے اپنا سامان مفلس کے پاس پا لیا تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبدالرحمن/حدیث: 46]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، الاستقراض، رقم: 2402، مسلم، المساقاة، رقم: 1550»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1. بَابُ ذِكْرِ أَنَّ الْمَالِكَ أَحَقُّ بِمَالِهِ عِنْدَ الْمُفْلِسِ فِي الْمَالِ الْمَوْجُودِ
باب مفلس کے پاس موجود مال پر مالک کے زیادہ حق دار ہونے کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 47
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، ثنا مُوسَى بْنُ رَبِيعَةَ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا" .
سيدنا الوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس آدمی نے اپنا سامان بعینہ مفلس کے پاس پا لیا تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبدالرحمن/حدیث: 47]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، الاستقراض، رقم: 2402، مسلم، المساقاة، رقم: 1550»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں